پاک نیٹ سے کچھ خوبصورت اقتباسات

یہ تحاریر مجھے اتنی اچھی لگیں کہ بے اختیار جی چاہا اپنے بلاگ کا حصہ بنا لوں
—————————————————————–
اب تو یہ بات کنفرم ہوچکی ہے کہ یہ دہشت گرد جو پاکستانی طالبان کے نام سے کام کررہے ہیں اصل میں سی آئی اے کے تربیت یافتہ اور ان کے کارکن ہیں اور ابھی تک ہم اسی بحث میں لگے ہوئے کہ یہ خودکش حملہ آور جہاد کررہے ہین یا نہیں
اب تو اس قوم کو کچھ عقل کے ناخن لینے چاہیے ۔
امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا مل کر ہم کو صفحہ ہستی کے مٹانے کے در پر ہیں اور ہماری بحث ہی ختم نہیں ہورہی ہے کہ یہ جہاد ہے یا نہیں
میری سمجھ نہیں آتا فوج کے پاس امریکہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں کہ وہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کرارہی ہے یہ تو کھلم کھلا اعلان جنگ ہے پاکستان کے خلاف
تو کیوں یہ قوم اور ہماری فوج چوڑیاں پہن کر بہن کر بیٹھ گئی ہے ۔ Read the rest of this entry »

گڑیا کو قتل کس نے کیا؟

who killed the doll

who killed the doll


“پشاور کے مینا بازار میں
گڑیا کو قتل کس نے کیا؟
وہ گڑیا جس نے
پہنے تھے سفید کپڑے
جو سرخ ہو گئے
اپنی سہیلی کے خؤن میں!
وہ گڑیا جس کے سونے جیسے بال
جل کر راکھ ہوئے
وہ راکھ جو اُڑتی رہی Read the rest of this entry »

سعودی عرب کے پاکستانی

پچھلے کچھ دنوں میں بے حد ذہنی کوفت اور تکلیف اٹھانی پڑی۔ کمپنی والوں سے چھٹی کی درخواست کی جس پرکافی بحث و مباحثہ تکرار اور لڑائی کرنی پڑی اور لکھنے لکھانے کو بھی وقت نہ دے سکا۔ یوں تو لمبے عرصے سے پردیس میں ہوں اور ہر گزرتے لمحے سے پردیس کی ان مشکلات کا احساس ہوتا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے۔ ایک وہم جو میرے دماغ میں تھا کہ کچھ ادارے یا کاروبار کے مالکان اپنے ملازمین کی بہتری کا کوئی پہلو بھی سوچتے ہیں وہ ختم ہو گیا۔ کاروباری افراد چاہے پاکستان کے ہوں یا سعودی عرب کے وہ اپنے ایک سینٹ، ایک ہلالے یا ایک پیسے تک کے لیے ملازمین کے مفاد کو لات مار دیتے ہیں۔ شوگر ملوں کے مالکان پاکستانی ہوں یا سعودی سب ہی عوام کی کھال اتارنے میں لگے ہوے ہیں، اللہ تعالی دولت ، حیثیت یا اقتدار تو بہت سے افراد کو دے دیتے ہیں لیکن ظرف کسی کسی کو دیتے ہیں۔ ایسے بہت سے صاحبان ہیں جو یہ نعمتیں حاصل کرنے کے بعد غرور میں‌مبتلا ہو جاتے ہیں، حالانکہ زیادہ نعمتیں حاصل کر لینے کے بعد تو عاجزی سے انسان کو اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے پر وہ اکڑ میں آ جاتا ہے۔

Read the rest of this entry »

دہشت گردی، طالبان، القاعدہ سازشیں اور پاکستان، حقیقت کیا؟

طالبان کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص مکتبہ فکر کےمدارس سے تعلق رکھتے ہیں جوکہ افغانستان اور روس کی جنگ کے سلسہ میں افغانستان گئے۔ وہاں ان لوگوں‌نے کتنا جہاد کیا اور کتنا فساد کیا یہ میرا موضوع نہیں۔وہاں کے مقامی لوگ جو کہ طالبان کے ساتھ ملے وہ افغانی طالبان اور پاکستان سے گئے ہوئے لوگ پاکستانی طالبان کہلانے لگے۔افغان جنگ کے بعد آپس کے لڑائیوں کے بعدطالبان نے افغانستان پر اقتدار سنبھالا، اور وہاں‌پر اپنے من پسن اسلامی قوانین کے نفاذ کااعلان کر دیا۔ جس سے ساری دنیا میں یہ لوگ اسلامی لہذا شدت پسند ” اسلام پر سختی سے عمل کرنے والے ” کہلانے لگے۔ Read the rest of this entry »

محمد بلال صاحب کا اردو کتابچہ


mbilal-logo

mbilal-logo

بلال بھائی ہمارے بہترین اردو بلاگرز میں سے ایک ہیں، جو تھوڑا تھوڑا لکھتے ہیں مگر عمدہ لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیشتر مضامین جو کے ٹیوٹریلز کی شکل میں تھے کو اکٹھا کر کے ایک کتابچے کی شکل دی ہے۔ جو ان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتابچے میں اردو کی بورڈ، کمپیوٹر میں اردو کی تنصیب اور دیگر معلوماتی روابط اکٹھے کر دیے ہیں۔ یہ کتابچہ تقریبا تمام افراد کے لیے بہترین ہے۔ میں نے سوچا کیوں نا اس کتابچے کو اپنے بلاگ پر بھی ڈاؤن لوڈ کے لیے مہیا کر دوں تا کہ میرے بلاگ کے کچھ ایسے صارفین جو بلال بھائی کے بلاگ پر نہیں جاتے اس سے استفادہ کر سکیں۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کا ربط یہ رہا۔اگر پہلا ربط کام نہ کرے تو نیچے دیے گئے دوسرے ربط سے ڈاؤن لوڈ کر لیں، میں نے احتیاطاً اسے اپنے بلاگ پر بھی محفوظ کر لیا ہے۔

http://www.paksign.com/downloads/urdu-and-computer.pdf

http://yasirimran.files.wordpress.com/2009/10/urdu-and-computer.pdf

محمد مبشر نذیرسے ایک تعارف اور ملاقات

آج کل سبھی بلاگرز ایک دوسرے سے ملنے ملانے میں‌مصروف ہیں، اسی سلسلے میں میں بھی اپنی ایک صاحب سے ملاقات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ جو اردو بلاگر تو نہیں لیکن انٹرنیٹ پر اردو اور اسلام کو پھیلانے میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

محمد مبشر نذیر سعودی عرب میں رہنے والے ایک پاکستانی ہیں اور میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ مبشر صاحب انٹرنیٹ پر ایک بہت اچھی اردو ویب سائٹ چلا رہے ہیں جہاں اسلامی مسائل پر بہت اچھا مواد دستیاب ہے جو کہ مبشر صاحب کی ذاتی کاوش اور اپنی تعلیم کی بنیاد پر بیان کیا گیا نقطہ نظر ہے۔ اس کے علاوہ اسی ویب سائٹ پر پرسنیلیٹی ڈیویلپ منٹ، رسک مینجمینٹ اور سیروسیاحت پر مبنی کچھ مواد بھی رکھا گیا ہے۔ مبشر صاحب سے جان پہچان کچھ عرصہ قبل اس وقت ہوئی جب میں نے گوگل پر اسلامی معلومات سے متعلقہ کسی تلاش کے نتیجے میں ان کی ویب سائٹ دریافت کی۔ ان کے کچھ سفر نامے پڑھ کر یہ اندازہ ہوا کہ وہ کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور حالیہ دنوں میں‌سعودی عرب میں ملازمت و رہائش اختیار کیے ہوے ہیں۔

Read the rest of this entry »

کچھ ہلکا پھلکا

یہ کارٹون مجھے ای میل میں موصول ہوے، سوچا آپ سے شیئر کر دوں، کچھ مسکراہٹوں کے لیے۔

Halka-Phulka-cartoon6 Read the rest of this entry »

براک اوباما کو امن کا نوبل انعام، مگر کس لیے ؟

بی بی سی کی خبر کے مطابق امریکہ کے صدر براک اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس سال جنوری میں اقتدار سنبھالا تو پوری دنیا کا حال ایسا تھا کہ اسے فیض احمد فیض کے اس شعر میں ہی سمیٹا جا سکتا ہے جس میں رات ڈھلے محبوب کی یاد آنے پر ویرانے میں چپکے سے بہار آتی ہے، صحراؤں میں ہولے سے باد نسیم چلتی ہے اور بیمار کو بے وجہ قرار آ جاتا ہے۔ یقیناً اس کی ایک وجہ تو سابق امریکی صدر جارج بش کا جانا تھا۔ لیکن شاید اس سے کہیں بڑی وجہ براک اوباما کے ارادوں کی گھن گرج تھی جو امریکہ کے مغربی ساحلوں سے لیکر وسطی ایشیا کے کوہ قاف تک گونج رہی تھی۔ عہدہ صدارت سنبھالنے کے نو ماہ بعد امریکی صدر براک اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے

Read the rest of this entry »

بہترمعاشرہ قائم کرنے کے لیے پاکستانیوں کی ذمہ داریاں

پاکستانی معاشرے میں بگاڑ عروج پر ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن جھوٹ فریب دغا شامل ہے۔ بلاشبہ ہمیں ہی پاکستان کو سنبھالنا ہے، ہم سب پاکستانی مل کر وہ کر سکتے ہیں جو کوئی اور نہیں کر سکتا، اس لیے ہمیں سب سے پہلے وفا کی شروعات کرنی ہو گی اس ملک کے ساتھ، ہمیں اپنا مفاد پیچھے چھوڑنا ہو گا، اس کا مفاد آگے رکھنا ہو گا۔ اس کے لیے اگر ہم میں سے ہر کوئی آج سے اپنی زندگی میں ایمانداری، سچ اور اچھے اخلاق کی شروعات کر دے تو یقین مانیے پاکستان بچانے کی طرف ہمارے سفر کا آغاز ہو جائے گا۔ہم نے لڑ مر کر جج آزاد کرائے، انصاف کے لیے، لیکن انصاف ابھی ملنا شروع نہیں ہوا۔ زندگی کے ہر شعبے میں بدعنوانی موجود ہے۔ اگر ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں تو ہم سب کے اندر ایک ایک جج بیٹھا ہوا ہے۔ Read the rest of this entry »

گاڑی کے ٹائر نہیں ہوتے

سعید صاحب اپنی نہ ماننے والی عادت کی وجہ سے بہت مشہور تھے، کوئی بھی کتنی دلیل سے ، سمجھا کے ، ثبوت کے ساتھ بات کرتا پر انہوں نے کبھی ایسی بات کا اقرار نہ کیا جس پر وہ اٹکے ہوتے، ایک دفعہ ان کے ایک دوست حامد صاحب نے دل میں عہد کیا کہ وہ ان کی یہ عادت تڑوا کر ہی رہیں گے، چنانچہ حامد صاحب نے سعید صاحب سے کہا جناب آپ کو معلوم ہے گاڑی کیسے چلتی ہے
سعید صاحب نے جواب دیا، نہیں
حامد صاحب : گاڑی پر جو پہیے اور ٹائر لگے ہوتے ہیں نہ ان سے چلتی ہے Read the rest of this entry »

« Older entries