الحمدللہ میرا بلاگ بحال ہو گیا

میں سالانہ چھٹیوں پر پاکستان گیا تو گھریلو مصروفیات کی وجہ سے انٹرنیٹ اور بالخصوص بلاگ کہ وقت نہ دے سکا، اسی دوران کچھ تکنیکی مشکلات کی وجہ سے میرا بلاگ بلاک کر دیا گیا۔ چھٹیوں کے دوران مجھے اس بات کا علم ہو چکا تھا لیکن پاکستان میں انٹرنیٹ تک اچھی رسائی نہ ملنے کی وجہ سے میں ان مشکلات کو دور نہ کر سکا لیکن سعودی عرب پہنچ کر میں نے سب سے پہلے ان مشکلات کو دور کیا اور نتیجہ یہ کہ میرا بلاگ جس کے مکمل طور پر ختم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا بحال ہو گیا، اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ میں جلد ہی اپنے بلاگ پر مزید مضامین لکھوں گا۔ بہت شکریہ

محو پرواز ہوں میں اپنے دیس کی ہواؤں کی طرف

جی ابھی نہیں، کل اسی وقت شاید، میں سعودی عرب کی تپتی ریگستانی ہواؤں کو چھوڑ کر اپنے دیس کی ٹھنڈی ہواؤں کی جانب ایک اڑن کھٹولے پر بیٹھا ہوا جا رہا ہوں گا۔ لیکن لگتا ہے اپنے دیس کی ٹھنڈی ہوائیں اب بارود کی بو سے آلودہ ہو چکی ہیں اور وہی پاکستان کی دھرتی جو پردیسیوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی تھی اب ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ سیاستدانوں کے محلوں، گاڑیوں اور ان کی جائیدادوں کے سوا کچھ محفوظ نہیں۔ عوام کا سڑک پر نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔ ڈالر ہوا میں‌پھینکے جا رہے ہیں اور لوٹنے والے اپنے ہی بھائی بہنوں اور بچوں کی زندگیوں عوض ڈالر لوٹ رہے ہیں، یہ نہیں پتہ کہ وہ جس حیات کے لیے سرمایہ جمع کر رہے ہیں اس کی ایک ساعت کی ضمانت بھی نہیں۔ کب باری تعالی اس سانس کی ڈوری کو کھینچ لیں اور ڈالر دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ بڑے بڑے محل، یورپ کے کاروبار، سوئس بنکوں کے اکاؤنٹ، اسلام آباد کے پلاٹ سب وہیں کے وہیں رہ جائیں۔ لیکن خوف خدا تو جیسے ان افراد کے دلوں سے عرصہ ہوا بھاگ چکا ہے بس خوف امریکہ باقی ہے۔

میرے جیسے بہت سے کڑھتے رہیں گے اور وہ جیسے تانیہ رحمان کہتی ہیں صفحے کالے کر رہے ہیں بس وہیسی ہی بات ہے کہ ہمارے یہ سب الفاظ ، طعنے اور نصیحتیں بے اثر ہو گئی ہیں۔ ہم بھی کیسے بھولے ہیں کہ ان افراد کوشرم دلانا چاہ رہے ہیں جنہوں نے پہلے ہی اپنی غیرت بیچ دی۔ غور کریں تو شاید ہم سبھی پاکستانی قصوروار ہیں اس لیے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو سدھرنے کی ہمت دے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔

چونکہ میں محدود عرصہ کے لیے چھٹیوں پر جا رہا ہوں اس لیے بلاگ پر زیادہ تر غیر حاضر ہی رہوں گا۔ سب پڑھنے والوں کا بہت بہت شکریہ، دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ والسلام
یاسر عمران مرزا

علامہ اقبال کا یوم ولادت

Allama-Iqbal-picture

Allama Mohammad Iqbal


خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظام ِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف

آج شاعر مشرق اور نظریہ پاکستان کے خالق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یوم ولادت ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اردو کے عظیم شاعر کے یوم ولادت کو اقبال ڈے پکارا جا رہا ہے

پاک نیٹ سے کچھ خوبصورت اقتباسات

یہ تحاریر مجھے اتنی اچھی لگیں کہ بے اختیار جی چاہا اپنے بلاگ کا حصہ بنا لوں
—————————————————————–
اب تو یہ بات کنفرم ہوچکی ہے کہ یہ دہشت گرد جو پاکستانی طالبان کے نام سے کام کررہے ہیں اصل میں سی آئی اے کے تربیت یافتہ اور ان کے کارکن ہیں اور ابھی تک ہم اسی بحث میں لگے ہوئے کہ یہ خودکش حملہ آور جہاد کررہے ہین یا نہیں
اب تو اس قوم کو کچھ عقل کے ناخن لینے چاہیے ۔
امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا مل کر ہم کو صفحہ ہستی کے مٹانے کے در پر ہیں اور ہماری بحث ہی ختم نہیں ہورہی ہے کہ یہ جہاد ہے یا نہیں
میری سمجھ نہیں آتا فوج کے پاس امریکہ کے خلاف ثبوت موجود ہیں کہ وہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کرارہی ہے یہ تو کھلم کھلا اعلان جنگ ہے پاکستان کے خلاف
تو کیوں یہ قوم اور ہماری فوج چوڑیاں پہن کر بہن کر بیٹھ گئی ہے ۔ Read the rest of this entry »

گڑیا کو قتل کس نے کیا؟

who killed the doll

who killed the doll


“پشاور کے مینا بازار میں
گڑیا کو قتل کس نے کیا؟
وہ گڑیا جس نے
پہنے تھے سفید کپڑے
جو سرخ ہو گئے
اپنی سہیلی کے خؤن میں!
وہ گڑیا جس کے سونے جیسے بال
جل کر راکھ ہوئے
وہ راکھ جو اُڑتی رہی Read the rest of this entry »

سعودی عرب کے پاکستانی

پچھلے کچھ دنوں میں بے حد ذہنی کوفت اور تکلیف اٹھانی پڑی۔ کمپنی والوں سے چھٹی کی درخواست کی جس پرکافی بحث و مباحثہ تکرار اور لڑائی کرنی پڑی اور لکھنے لکھانے کو بھی وقت نہ دے سکا۔ یوں تو لمبے عرصے سے پردیس میں ہوں اور ہر گزرتے لمحے سے پردیس کی ان مشکلات کا احساس ہوتا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے۔ ایک وہم جو میرے دماغ میں تھا کہ کچھ ادارے یا کاروبار کے مالکان اپنے ملازمین کی بہتری کا کوئی پہلو بھی سوچتے ہیں وہ ختم ہو گیا۔ کاروباری افراد چاہے پاکستان کے ہوں یا سعودی عرب کے وہ اپنے ایک سینٹ، ایک ہلالے یا ایک پیسے تک کے لیے ملازمین کے مفاد کو لات مار دیتے ہیں۔ شوگر ملوں کے مالکان پاکستانی ہوں یا سعودی سب ہی عوام کی کھال اتارنے میں لگے ہوے ہیں، اللہ تعالی دولت ، حیثیت یا اقتدار تو بہت سے افراد کو دے دیتے ہیں لیکن ظرف کسی کسی کو دیتے ہیں۔ ایسے بہت سے صاحبان ہیں جو یہ نعمتیں حاصل کرنے کے بعد غرور میں‌مبتلا ہو جاتے ہیں، حالانکہ زیادہ نعمتیں حاصل کر لینے کے بعد تو عاجزی سے انسان کو اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے پر وہ اکڑ میں آ جاتا ہے۔

Read the rest of this entry »

دہشت گردی، طالبان، القاعدہ سازشیں اور پاکستان، حقیقت کیا؟

طالبان کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص مکتبہ فکر کےمدارس سے تعلق رکھتے ہیں جوکہ افغانستان اور روس کی جنگ کے سلسہ میں افغانستان گئے۔ وہاں ان لوگوں‌نے کتنا جہاد کیا اور کتنا فساد کیا یہ میرا موضوع نہیں۔وہاں کے مقامی لوگ جو کہ طالبان کے ساتھ ملے وہ افغانی طالبان اور پاکستان سے گئے ہوئے لوگ پاکستانی طالبان کہلانے لگے۔افغان جنگ کے بعد آپس کے لڑائیوں کے بعدطالبان نے افغانستان پر اقتدار سنبھالا، اور وہاں‌پر اپنے من پسن اسلامی قوانین کے نفاذ کااعلان کر دیا۔ جس سے ساری دنیا میں یہ لوگ اسلامی لہذا شدت پسند ” اسلام پر سختی سے عمل کرنے والے ” کہلانے لگے۔ Read the rest of this entry »

محمد بلال صاحب کا اردو کتابچہ


mbilal-logo

mbilal-logo

بلال بھائی ہمارے بہترین اردو بلاگرز میں سے ایک ہیں، جو تھوڑا تھوڑا لکھتے ہیں مگر عمدہ لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیشتر مضامین جو کے ٹیوٹریلز کی شکل میں تھے کو اکٹھا کر کے ایک کتابچے کی شکل دی ہے۔ جو ان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اس کتابچے میں اردو کی بورڈ، کمپیوٹر میں اردو کی تنصیب اور دیگر معلوماتی روابط اکٹھے کر دیے ہیں۔ یہ کتابچہ تقریبا تمام افراد کے لیے بہترین ہے۔ میں نے سوچا کیوں نا اس کتابچے کو اپنے بلاگ پر بھی ڈاؤن لوڈ کے لیے مہیا کر دوں تا کہ میرے بلاگ کے کچھ ایسے صارفین جو بلال بھائی کے بلاگ پر نہیں جاتے اس سے استفادہ کر سکیں۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کا ربط یہ رہا۔اگر پہلا ربط کام نہ کرے تو نیچے دیے گئے دوسرے ربط سے ڈاؤن لوڈ کر لیں، میں نے احتیاطاً اسے اپنے بلاگ پر بھی محفوظ کر لیا ہے۔

http://www.paksign.com/downloads/urdu-and-computer.pdf

http://yasirimran.files.wordpress.com/2009/10/urdu-and-computer.pdf

محمد مبشر نذیرسے ایک تعارف اور ملاقات

آج کل سبھی بلاگرز ایک دوسرے سے ملنے ملانے میں‌مصروف ہیں، اسی سلسلے میں میں بھی اپنی ایک صاحب سے ملاقات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ جو اردو بلاگر تو نہیں لیکن انٹرنیٹ پر اردو اور اسلام کو پھیلانے میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

محمد مبشر نذیر سعودی عرب میں رہنے والے ایک پاکستانی ہیں اور میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ مبشر صاحب انٹرنیٹ پر ایک بہت اچھی اردو ویب سائٹ چلا رہے ہیں جہاں اسلامی مسائل پر بہت اچھا مواد دستیاب ہے جو کہ مبشر صاحب کی ذاتی کاوش اور اپنی تعلیم کی بنیاد پر بیان کیا گیا نقطہ نظر ہے۔ اس کے علاوہ اسی ویب سائٹ پر پرسنیلیٹی ڈیویلپ منٹ، رسک مینجمینٹ اور سیروسیاحت پر مبنی کچھ مواد بھی رکھا گیا ہے۔ مبشر صاحب سے جان پہچان کچھ عرصہ قبل اس وقت ہوئی جب میں نے گوگل پر اسلامی معلومات سے متعلقہ کسی تلاش کے نتیجے میں ان کی ویب سائٹ دریافت کی۔ ان کے کچھ سفر نامے پڑھ کر یہ اندازہ ہوا کہ وہ کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور حالیہ دنوں میں‌سعودی عرب میں ملازمت و رہائش اختیار کیے ہوے ہیں۔

Read the rest of this entry »

کچھ ہلکا پھلکا

یہ کارٹون مجھے ای میل میں موصول ہوے، سوچا آپ سے شیئر کر دوں، کچھ مسکراہٹوں کے لیے۔

Halka-Phulka-cartoon6 Read the rest of this entry »

« Older entries