ایم کیو ایم کا خوف میڈیا پر بھی چھا گیا


11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کراچی میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ لگتی ہے اور ڈھائی سو سے زائد لوگ زندہ جل کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس وقعہ کے فوراً بعد صدر زرداری، وزیراعظم راجہ پرویزاشرف، وزیراعلی سندھ اور گورنر کی طرف سے افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ حکومت جوڈیشل انکوائری کا اعلان کرتی ہے۔ جسٹس زاہد علوی کی سربراہی میں کمیشن بنتا ہے اور کچھ دن بعد رپورٹ جاری کرتا ہے جس کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ اور انتظامی غفلت کو قرار دیا جاتا ہے۔ رپورٹ داخل دفتر ہوتی ہے اور ہر کوئی اپنی زندگی میں مگن ہوجاتا ہے۔

آج سے کچھ عرصہ پہلے کراچی میں ایک ملزم گرفتار ہوتا ہے۔ تفتیش کے دوران وہ ملزم بہت سے حیران کن جرائم کا اعتراف کرتا ہے، ان جرائم میں سے ایک بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں کیمیکل کے ذریعے آگ لگانا بھی شامل ہوتا ہے۔ مزید تفتیش کےبعد وہ ملزم اقرار کرتا ہے کہ آگ لگانے کی بنیادی وجہ بھتہ تھی۔ ایم کیو ایم نے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ مانگا تھا، انکار پر یا شاید دیر کرنے پر ایم کیو ایم نے انہیں سزا دینے کی خاطر فیکٹری کو آگ لگادی جس میں ڈھائی سو سے زائد لوگ زندہ جل گئے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انڈسٹریل حادثہ بن گیا۔
آج سے دو ہفتے قبل کراچی میں ایم کیو ایم کی اپیل پر ہڑتال کی گئی اور کچھ تاجر گروپوں نے کاروبار جاری رکھا۔ رابطہ کمیٹی نے پریس کانفرنس کی اور ساری دنیا نے سنا کہ انہوں نے ان تاجروں کی لسٹیں بنانے کا حکم دیا تھا جنہوں نے ہڑتال میں شرکت نہیں کی اور کراچی کو ان کے گند سے پاک کرنے کا عندیہ دیا۔

آج پورے میڈیا میں بلدیہ ٹاؤن واقع کی تفتیش اور ملزم کے اقرار جرم کی رپورٹس شائع ہوئی ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ہر اخبار اور ٹی وی چینل نے بجائے ایم کیو ایم کا نام لینے کہ، صرف “ایک سیاسی جماعت” کہنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ یہ میڈیا جو نہ امریکہ سے ڈرتا ہے نہ طالبان سے۔ نہ ہی یہ شریف برادران سے ڈرتا ہے اور نہ زرداری اور عمران خان سے۔ اور یہ میڈیا نہ ہی بیوروکریسی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی فوج اور ایجنسیوں سے، اگر یہ میڈیا ڈرتا ہے تو صرف اور صرف ایم کیو ایم سے، اسی لئے ان کے خلاف آج تک کچھ لکھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ ہماری فوج اور ایجنسیوں نے “ستو ” تو 65 جنگ کے بعد ہی پی لئے تھے لیکن لگتا ہے اب باقاعدہ اپنا آپریشن کروا کر ہیجڑا بن چکی ہیں ورنہ کم از کم آج ایم کیو ایم کی دہشت ان سے زیادہ نہ ہوتی۔

ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ایجنسیاں الطاف بھائی کے خلاف کاروائی کریں، ہم بس یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چائنہ سے ایک جعلی “پھلترو” ہی لگوا لیں۔ حقیقت میں نہ سہی، کم از کم دکھانے کی حد تک تو لگے کہ ایجنسیوں میں مرد بیٹھے ہیں!!! بقلم خود باباکوڈا https://www.facebook.com/babakodda


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s