مستقبل کے شاہدولہ پیر کے چوہے

چند امریکی طلبا کا انٹرویو، جس میں آزمائش کے طور پر ان سے جنرل نالج کے چند سوال کیے جا رہے ہیں جو سیاست اور تاریخ پر مبنی ہیں، یہ طلبا ان سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہیں لیکن جب ان سے شوبز کی ایک اداکارہ کے حالیہ شوہر اور سابقہ شوہروں کے نام پوچھے گئے تو وہ ان سب کو پتہ تھے، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میڈیا کو آج کل دنیا بھر میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے عوام کی عام ذہانت اور سیاسی سوجھ بوجھ کو ختم کر کے انہیں ایک ڈمب اور جاہل شخص بنایا جا رہا ہے جس کو برٹنی سپئر، انجلینا جولی، جسٹن بیبر، ایکس فیکٹر، ڈزنی موویز اور کیٹی پیری کا تو پتہ ہو گا لیکن ان کا معاشرتی اور تاریخی علم صفر ہو گا۔ یہ لوگ وہی کچھ جانتے ہیں جو یہ ٹی وی پر انٹرنیٹ پر یوٹیوب پر اور اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں، مستقبل میں جب اس طرح کی نسلیں تیار ہو جائیں گی تو میڈیا اپنی مرضی کا پروپیگنڈا کر کے بڑے بڑے مقاصد حاصل کر سکے گا

مثلا میڈیا جب بھی انہیں بتائے گا کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور اسلامی تعلیمیات ظلم پر مبنی ہیں تو وہ فورا مان لیں گے، مستقبل کی یہ نسلیں گانا بجانا اور ناچنا جانتی ہوں گی، ان لوگوں سے ہم جنس پرستی پر سوال کیا جائے گا تو وہ اسے درست قرار دیں گے اور جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسا گدھا صدارتی الیکشن کی مہم چلائے گا تو یہ اسے ہی ووٹ دیں گے اور جب اسرائیل اپنے چند فوجیوں کی لاشیں دکھائے گا تو وہ اسے مظلوم اور فلسطین کو دہشت گرد ہی سمجیھں گے، جب بڑے بڑے بینک میڈیا کے ذریعے ان سے کہلوائیں گے کہ سود لینا اور دینا درست ہے تو وہ چپ چاپ سود ادا کریں گے، جب ان سے کہا جائے گا کہ کیش اور سونا بینکوں کے پاس رکھوا کر فقط کریڈٹ کارڈ استعمال کریں تو یہ بہ خوشی مان جائیں گے، جب ان کے جسم میں ایک الیکٹرانکس چپ لگا کر کہا جائے گا کہ یہ آپ کے فائدے کے لیے ہے تو یہ بہ خوشی لگوا لیں گے، جب کہ درحقیقت اس چپ سے انہیں جیل کے ایک قیدی کے طرح ٹریک کیا جا سکے گا۔ جب ان سے کہا جائے گا کہ چند فرانسیسی شہریوں کے مرنے پر ڈی پی بدل لینا درست فعل ہے اور ہزاروں شامی شہریوں، عراقی شہریوں پاکستانی شہریوں اور ہزاروں کشمیریوں کی موت پر خاموش رہنا درست عمل ہے تو یہ لوگ ایسا ہی کریں گے۔

یہ سب کام آج کے دور میں ہو رہے ہیں اور مستقبل میں ایسے مزید کام ہوں گے جس سے ایک عام انسان مزید پابندیوں کا شکار ہونا خوشی سے قبول کرے گا کیوں کہ میڈیا ان کے دماغوں کو بھی محدود کر کے فقط شاہدولہ پیر کے چوہے جتنا بنا رہا ہے۔
اگر آپکو یہ ویڈیو نظر نہ آئے تو اس لنک پر جا کر دیکھ سکتے ہیں

Video Link

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , | Leave a comment

کھٹمل سے کیسے نجات پائیں

پاکستان بھر میں اور خاص طور پر عرب ممالک میں رہنے والے دوستوں کے لیے یہ ایک مفید ٹوٹکہ ثابت ہو سکتا ہے کہ کھٹمل تقریباً ہر گھر کا مسلہ ہے۔ کھٹمل عام طور پر صفائی کا اچھی طرح خیال نہ رکھنے کی بنیاد پر بستر اور قالین میں کسی دوسرے کھٹمل زدہ تکیے چادر یا انسانی لباس کے ذریعے منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ نہ صرف انسان کی نیند اور سکون برباد کر دیتے ہیں بلکہ صحت کے مسائل بھی پیدا کر تے ہیں۔ اگر انسان دن بھر کے کام کاج کے بعدرات کو اچھی طرح نیند حاصل نہ کر سکے تو اسکا سکون برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ درج ذیل آپکو کھٹمل کا سد باب کرنے کے چند تجاویز دی جا رہی ہیں امید ہے یہ آپکے کام آئیں گی۔

نمبر 1 – جس پلنگ – چارپائی – یا بستر میں کھٹمل ناچ رہے ہو – عیاشی کر رہے ہوں تو آپ گندھک کی دھونی دیں تو کھٹمل ختم ہو جائے گے ۔ تاہم گندھک حاصل کرنا بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس لیے آپ اگلی تجویز ملاحظہ کر لیں۔

نمبر 2 – سرخ مرچ پانی میں ملا کے چارپائی پر ڈال دیں تب بھی کھٹمل نہیں رہیں گے۔

نمبر 3 – اجوائن لیں اور اِسے پیس لیں، پھر اس کو تیز گرم پانی میں ملا کے سپرے کریں، کھٹمل ختم

نمبر 4 – پلنگ یا چارپائی کے کونوں میں پودینے کے پتے ٹھونس دیے جائے تب بھی کھٹمل ختم ہو جائیں گے۔

نمبر 5 – نیم کے پتے چارپائی یا پلنگ کے اوپر رکھیں یا گرم پانی میں ابال کر نیم کے پتوں کو اس کا سپرے کریں تب بھی کھٹمل نہیں رہیں گے۔

لیں جناب ، ان تجاویز میں سے جو بھی آپکو آسان لگے اس پر عمل کریں، کھٹمل سے نجات پائیں اور آرام کی نیند سو ئیں۔ کھٹملوں کی ایسی کی تیسی۔ اگر یہ نسخے آپکو موثر لگیں تو اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی آرام کی نیند سو سکیں۔

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , | 1 Comment

پاکستانی مدر ٹریسا

Dr Ruth Katherina Martha Pfau

یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔ سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی۔ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے۔ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے۔ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں۔ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔

پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے۔ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا۔ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں۔ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں۔ لوگ آنکھ۔ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے۔ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے۔ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے۔ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے۔ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔

یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھی۔ زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن اس نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا۔یہ جرمنی سے کراچی آئی اور اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا۔ اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئی۔ اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک اپنی جوانی اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا۔ کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا۔ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔

چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے۔ ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا۔ انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی۔ یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا۔ اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا۔ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی۔

ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔ یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔ان ہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا۔ ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے۔ یہ واپس جرمنی گئی اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئی۔ جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔ وہ پاکستان میںجزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی۔ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔ یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔

ان کی کوششوں سے سندھ۔ پنجاب۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ۔۔لپریسی کنٹرولڈ۔۔ ملک قرار دے دیا۔ پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا۔ یہ لوگ اب قبائلی علاقے اور ہزارہ میں جزام کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جزام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے۔ حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔ اسے ہلال پاکستان۔ ستارہ قائداعظم۔ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات۔ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ۔۔ڈیزرو۔۔ کرتی ہے۔ جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا
بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے۔

جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں۔ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ھے۔ ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی کمال ہے ۔ ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ خاتون۔ اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے۔ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔
یہ لوگ ہمارے محسن ہیں چنانچہ ہمیں ان کی ایوارڈز سے بڑھ کر تکریم کرنا ہو گی۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Ruth_Pfau

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , | 2 Comments

ایم کیو ایم کا خوف میڈیا پر بھی چھا گیا

11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کراچی میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ لگتی ہے اور ڈھائی سو سے زائد لوگ زندہ جل کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس وقعہ کے فوراً بعد صدر زرداری، وزیراعظم راجہ پرویزاشرف، وزیراعلی سندھ اور گورنر کی طرف سے افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم 3 روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ حکومت جوڈیشل انکوائری کا اعلان کرتی ہے۔ جسٹس زاہد علوی کی سربراہی میں کمیشن بنتا ہے اور کچھ دن بعد رپورٹ جاری کرتا ہے جس کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ اور انتظامی غفلت کو قرار دیا جاتا ہے۔ رپورٹ داخل دفتر ہوتی ہے اور ہر کوئی اپنی زندگی میں مگن ہوجاتا ہے۔

آج سے کچھ عرصہ پہلے کراچی میں ایک ملزم گرفتار ہوتا ہے۔ تفتیش کے دوران وہ ملزم بہت سے حیران کن جرائم کا اعتراف کرتا ہے، ان جرائم میں سے ایک بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں کیمیکل کے ذریعے آگ لگانا بھی شامل ہوتا ہے۔ مزید تفتیش کےبعد وہ ملزم اقرار کرتا ہے کہ آگ لگانے کی بنیادی وجہ بھتہ تھی۔ ایم کیو ایم نے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ مانگا تھا، انکار پر یا شاید دیر کرنے پر ایم کیو ایم نے انہیں سزا دینے کی خاطر فیکٹری کو آگ لگادی جس میں ڈھائی سو سے زائد لوگ زندہ جل گئے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انڈسٹریل حادثہ بن گیا۔
آج سے دو ہفتے قبل کراچی میں ایم کیو ایم کی اپیل پر ہڑتال کی گئی اور کچھ تاجر گروپوں نے کاروبار جاری رکھا۔ رابطہ کمیٹی نے پریس کانفرنس کی اور ساری دنیا نے سنا کہ انہوں نے ان تاجروں کی لسٹیں بنانے کا حکم دیا تھا جنہوں نے ہڑتال میں شرکت نہیں کی اور کراچی کو ان کے گند سے پاک کرنے کا عندیہ دیا۔

آج پورے میڈیا میں بلدیہ ٹاؤن واقع کی تفتیش اور ملزم کے اقرار جرم کی رپورٹس شائع ہوئی ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ہر اخبار اور ٹی وی چینل نے بجائے ایم کیو ایم کا نام لینے کہ، صرف “ایک سیاسی جماعت” کہنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ یہ میڈیا جو نہ امریکہ سے ڈرتا ہے نہ طالبان سے۔ نہ ہی یہ شریف برادران سے ڈرتا ہے اور نہ زرداری اور عمران خان سے۔ اور یہ میڈیا نہ ہی بیوروکریسی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی فوج اور ایجنسیوں سے، اگر یہ میڈیا ڈرتا ہے تو صرف اور صرف ایم کیو ایم سے، اسی لئے ان کے خلاف آج تک کچھ لکھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ ہماری فوج اور ایجنسیوں نے “ستو ” تو 65 جنگ کے بعد ہی پی لئے تھے لیکن لگتا ہے اب باقاعدہ اپنا آپریشن کروا کر ہیجڑا بن چکی ہیں ورنہ کم از کم آج ایم کیو ایم کی دہشت ان سے زیادہ نہ ہوتی۔

ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ایجنسیاں الطاف بھائی کے خلاف کاروائی کریں، ہم بس یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چائنہ سے ایک جعلی “پھلترو” ہی لگوا لیں۔ حقیقت میں نہ سہی، کم از کم دکھانے کی حد تک تو لگے کہ ایجنسیوں میں مرد بیٹھے ہیں!!! بقلم خود باباکوڈا https://www.facebook.com/babakodda

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Leave a comment

انسانی ہاتھوں سے بنی کائنات کی سب سے مہنگی چیز

کیا آپ نے کبھی سوچا… کہ انسانی ہاتھوں سے بنی کائنات کی سب سے مہنگی چیز کیا ہے؟

جی ہاں یہ ہے عالمی خلائی اسٹیشن۔ جسے 1998 میں ناسا نے لاؤنچ کیا اور اس پر ایک سو ساٹھ ارب ڈالر سے زائد لاگت آئی. عالمی خلائی اسٹیشن کا وزن: 450,000 کلوگرام ہے اور اسکی زمین کے گرد گردش کی اوسط رفتار: 27,600 کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی ساڑھے سات کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ خلائی اسٹیشن زمین کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 93 منٹوں میں مکمل کرتا ہے اور یہ اب تک زمین کے گرد 92,700 چکر لگا چکا ہے۔ عالمی خلائی اسٹیشن کی زمین اونچائی 370 تا 460 کلومیٹر ہوتی ہے موسم صاف ہو تو اسے برہنہ آنکھ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ایک وقت میں چھ سائنسدان سپیس اسٹیشن میں موجود ہوتے ہیں، اس وقت کون کون سپیس اسٹیشن میں کتنے دنوں سے ہے جاننے کے لیے یہ لنک دیکھیں۔ http://www.howmanypeopleareinspacerightnow.com

اکثر تصاویر میں آپ نے خلا سے زمین کے مناظر دیکھے ہوں گے ایسی تصاویر خلائی اسٹیشن ہی سے بنائی جاتی ہیں ۔ حال ہی میں خلائی اسٹیشن پر جدید کیمرے نصب کر دئے گئے ہیں جن کے ذریعے اب آپ ہر وقت خلائی اسٹیشن سے زمین کے مناظر براہ راست دیکھ سکیں گے۔
خلا سے زمین کا منظر اس لنک پر دیکھیں
http://www.ustream.tv/channel/iss-hdev-payload
http://www.ustream.tv/channel/live-iss-stream

خلائی اسٹیشن اس وقت کس ملک کے اوپر سے کس رفتار سے گزر رہا ہے جاننے کے لیے یہ لنکس
http://livefromspace.com
http://iss.astroviewer.net/

خلائی اسٹیشن سے رات کے وقت زمین کا خوبصورت نظارہ کیجئے:

تحقیق و ترتیب: عزیر سالار https://www.facebook.com/uzairsalar

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , | 1 Comment

تیل کی قیمتوں کا بڑھنا کسی بین الاقوامی پلان کا پیش خیمہ

دنیا میں تیل کے سب سے بڑے خریدار امریکہ نے اچانک تیل خریدنا بند کر کے فروخت کرنا شروع کر دیا۔ جسکی وجہ سے تیل کی قیمتیں خوفناک رفتار سے نیچے آرہی ہیں ۔ جلد انکے اس سطح پر پہنچنے کا امکان ہے جہاں انکی پیدواری لاگت ان کی قیمت سے بڑھ جائیگی ۔

امریکہ کے زیر کنٹرول کام کرنے والی داعش نے فرانس اور جرمنی میں حملے کیے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں کافی عرصے بعد یورپی یونین دوبارہ ” اسلامی دہشت گردوں ” سے نمٹنے کے لیے پرعظم ہوئی اور فرانس نے داعش کے خلاف خلیج میں اپنا بحری بیڑہ تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ۔

کچھ عرصہ پہلے امریکہ نے اعلان کیا کہ داعش کے ہاتھ یورینیم اور راکٹ لگ چکے ہیں ۔ اس کے کچھ عرصہ بعد پھر اعلان کیا کہ انکے ہاتھ جنگی طیارے لگ چکے ہیں اور وہ انکی تربیت حاصل کر رہے ہیں ( شاید زیر زمین طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کر رہے ہوں گے تب ہی انکے خلاف کچھ کیا نہیں جا سکتا ۔!

مجھے یوں لگتا ہے کہ ۔۔۔تیل کی قیمتیں ایک حد سے نیچے آنے کے بعد تیل پر انحصار کرنے والے دو اہم اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کی معیشت جواب دینے لگے گی ۔
اسی وقت داعش کے ذریعے بیک وقت سعودی عرب اور ایران دونوں کے خلاف ایک بے ترتیب سی گوریلا جنگ شروع کر دی جائے گی ۔ یقیناً داعش کو اپنے جنگی جہاز اور راکٹ بھی استعمال کرنے کا پورا موقع دیا جائیگا ۔ تیل کی آمدن سے محروم سعودی عرب اور ایران کو یہ غیر روائیتی جنگ جلد ہی انکی فوجی طاقت کے بھی بڑے حصے سے محروم کر دے گی ۔ ” دونوں کو ممکن حد تک نرم کر دیا جائیگا ” ۔

اسی دوران شائد ہمیں 9/11 سے ملتا جلتا کوئی اور ڈرامہ دیکھنے کو ملے ۔ جو پورے یورپ اور امریکہ کو ایک بار پھر اپنی پوری جنگی طاقت کے ساتھ پہلے سے زیادہ جوش و خروش سے اکاپ کر کے خلیج کے آس پاس لے آئےگا ۔

یہ وہ مناسب ترین وقت ہوگا جب اس سارے معاملے کی ڈوریاں ہلانے والا اسرائیل عراق و شام میں ” اسلامی دہشت گردوں کے اجتماع سے ” خود کو خطرے میں گھرنے کا ڈھنڈورا پیٹنے لگے گا ۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے وہ وحشیانہ طاقت کے ساتھ اپنی سرحدوں سے نکلے گا ۔ تب اسکی مدد کے لیے پورا مغرب اپنی تمام تر صلیبی طاقت کے ساتھ وہیں موجود ہوگا۔ اسرائیل کے اس خروج کو داعش کے ظلم سے خوفزدہ بہت سے مسلمان غنیمت سمجھیں گے اور اسکو روکنے والا کوئی نہ ہوگا ۔

دجال کی قدموں کی دھمک مکے اور مدینے کے آس پاس سنائی دے گی !!!
پاکستان نامی خطرے سے نمٹنے کے لیے انڈیا کو مسلسل آمادہ کیا جا رہا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں پاکستان ایٹم بم استعمال نہیں کرے گا ۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ جنگ ہونی ہے جسکا ذکر حدیثوں میں ہے ۔ اس صورت میں پاکستان بھی اسرائیل کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا ۔

غیب کا علم اللہ کے پاس ہے ۔ لیکن گمان غالب ہے کہ اس سے کچھ ملتی جلتی صورت حال درپیش ہوگی ۔ جس سے نمٹنے کے لیے اب بھی پاکستان کردار ادا کر سکتا ہے ۔ کچھ تیز رفتار اور سخت فیصلے کرنے ہونگے ۔ وقت کم ہے
تحریر شاہدخان

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 1 Comment

نماز کے فوائد میڈیکل سائنس کے حوالے سے

namaz-ki-hikmat

یہ تحریر فیس بک سے شئر کی جا رہی ہے، تحریر کے اصل مصنف کا تو علم نہیں تاہم اس میں بیان کیے گئے دلائل یقینا پڑھنے کے لائق ہیں۔

ایک دفعہ واشنگٹن میں ایک ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی وہ کہتا تھا کہ میرا دل کرتا ہے کہ سارے ملک میں نماز کو لاگو کر دوں۔ میں نے پوچھا ! کیوں؟ کہنے لگا : اس کے اندر اتنی حکمتیں ہیں کہ کوئی حد نہیں ہے ۔ وہ جلد کا اسپیشلسٹ تھا۔ کہنے لگا اس کی حکمت آپ تو (انجینئر ہیں) سمجھ لیں گے۔ میں نے کہا: اچھا جی بتائیں۔

کہنے لگا کہ اگر انسان کے جسم کو مادی نظرسے دیکھا جائے۔ تو انسان کا دل پمپ کی مانند اس کا ان پٹ بھی ہے اور آؤٹ پٹ بھی۔ سارے جسم میں تازہ خون جا رہا ہوتا ہے اور دوسرا واپس آ رہا ہوتا ہے۔

کہ جب انسان بیٹھا ہوتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے تو جسم کے جو حصے نیچے ہوتے ہیں ان میں پریشر نسبتا زیادہ ہوتا ہے اور جو حصے اوپر ہوتے ہیں ان میں پریشر نسبتا کم ہوتا ہے۔مثلا تین منزلہ عمارت ہو اور نیچے پمپ لگا ہوا ہو تو نیچے پانی زیادہ ہو گا اور دوسری منزل پر بھی کچھ پانی پہنچ جائے گا جبکہ تیسری منزل پر تو بلکل نہیں پہنچے گا۔ حالانکہ وہ ہی پمپ ہے ۔ لیکن نیچے پورا پانی دے رہا ہے اس سے اوپر والی منزل میں کچھ پانی دے رہا ہے ۔ اور سب سے اوپر والی منزل پر تو بلکل پانی نہیں جا رہا۔ اس مثال کو اگر سامنے رکھتے ہوئے سوچیں تو انسان کا دل خون کو پمپ کر رہا ہوتا ہے اور یہ خون نیچے کے اعضاء میں بلکل پہنچ رہا ہوتا ہے ۔ لیکن اوپر کے اعضاء میں اتنا نہیں پہنچ رہا ہوتا۔ جب کوئی ایسی صورت آتی ہے کہ انسان کا سر نیچے ہوتا ہے اور دل اوپر ہوتا ہے تو خون سر کے اندر بھی اچھی طرح پہنچ جاتا ہے ۔ مثلا جب انسان نماز کے سجدے میں جاتا ہےتو محسوس ہوتا ہے جیسے گویا پورے جسم میں خون پھر گیا ہے۔ آدمی سجدہ تھوڑا لمبا کر لے تو محسوس ہوتا ہے کہ چہرے کی جو باریک باریک شریانیں ہیں ان میں بھی خون پہنچ گیا ہے۔

عام طور پر انسان بیٹھا، لیٹا یا کھڑا ہوتا ہے۔ بیٹھنے ، کھڑے ہونے اور لیٹنے سے انسان کا دل نیچے ہوتا ہےجبکہ سر اوپر ہوتا ہے۔ ایک ہی صورت ایسی ہے کہ نماز میں جب انسان سجدے میں جاتا ہے تو اس کا دل اوپر ہوتا ہےاور سر نیچے ہوتا ہے۔ لہذا خون اچھی طرح چہرے کی جلد میں پہنچ جاتا ہے۔
اس کی یہ باتیں سن کر میرے منہ سے بے اختیار سبحان اللہ نکلا اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے کتنا پیارا دین دیا ہے جس کے ایک ایک عمل کی تعریف آج کی سائنس اور علم جدید بھی کرتا ہے۔

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , | Leave a comment

ڈاکو ہونے سے بہتر ہے بندہ بیوروکریٹ ہوجائے

چائنہ کے ایک بینک میں ڈاکو گھس آئے ۔ چلا کر کہنے لگے “سارے نیچے لیٹ جاو ، پیسے تو حکومت کے ہیں جان تمہاری اپنی ہے” اور سب نیچے لیٹ گئے۔ ایک خاتون کے لیٹنے کا انداز ذرا میعوب تھا جس پر ایک ڈاکو نے چلا کر کہا “تمیز سے لیٹو ڈکٹتی ہورہی ہے عصمت دری نہیں “۔

ڈکیتی کے بعد جب ڈاکو واپس لوٹے تو چھوٹے والے ڈاکو نے جو کہ انتہائی پڑھا لکھا ہوا تھا بڑے ڈاکو سے جو کہ صرف چھ جماعتیں پاس تھا پوچھا” کتنا مال ہاتھ آٰیا؟” بڑے ڈاکو نے کہا “تم بڑے ہی بیوقوف ہو اتنی زیادہ رقم ہے ہم کیسے گن سکتےہیں ،ٹی وی کی خبروں سے خود ہی پتہ چل جائے گا کہ کتنی رقم ہے ”

ڈاکووں کے جانے کے بعد بینک مینجر ، بینک سپروائزر کو کہا کہ پولیس کو جلدی سے فون کرو !! سپروائزر بولا “انتظار کریں ،پہلے اپنے لیے 10 ملین ڈالر نکال لیں اور پھر جو پچھلا ہم نے 70 ملین ڈالر کا غبن مارا ہے اس کو بھی کل ڈکیتی شدہ رقم میں ڈال لیں” یہ اچھی بات ہے اگر بینک میں ہروز ڈکیتی ہو ۔

اگلے دن میڈیا پر خبر چلی کہ بینک میں 100 ملین ڈالر کی ڈکیتی ہوئی ہے ۔ اصل ڈاکووں نے رقم گننی شروع کی ،بار بار گنی لیکن وہ صرف 20 ملین ڈالر نکلی ۔ ڈاکو اپنا سر پیٹنے لگے کہ ہم نے اپنی جان موت کے خطرے میں ڈالی اور ہمارے ہاتھ صرف بیس ملین اور بینک مینجر صرف انگلی کے اشارے سے 80 ملین لے گیا !! ڈاکو ہونے سے تو بہتر تھا کہ ہم پڑھ لکھ جاتے !!

چائنہ کے لیے تو ایک لطیفہ ہے پاکستان کے لیے ایک حقیقت ۔ یہ ایک بڑا سا بینک ہے جس میں ہر پانچ سال بعد کچھ ڈاکو گھس آتے ہیں ، لوگوں کو نیچے لیٹنے پر مجبور کردیتے ہیں ، اور لوٹنے کے ساتھ ساتھ جھوٹی اخلاقیات و شرم و حیا کا درس دیتے رہتے ہیں ! جب تک یہ لوٹتے رہتے ہیں دوسرے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں ، ان کا دور ختم ہوتا ہے پڑھے لکھے ڈاکووں کا بیورو کریسی ،ٹیکنو کریسی ، حقہ کریسی ، خوشامد کریسی اور نہ جانے کون کون سی کریسی کے ناموں تلے کا دور شروع ہوتا ہے اگلے پانچ سال والوں کو یہ حساب دینا ہوتا ہے کہ خزانے میں لوٹنے کے لیے کتنا مال پڑا ہے یہ مناسب موقع جان کر اپنی لوٹ مار بھی اسی میں شامل کردیتے ہیں !! جانے والے پریشان ہوتے ہیں کہ ہم تو اتنا نہیں لوٹا یہ مال کہاں چلا گیا !! اور آنے والا اس انتظار میں لگ جاتا ہے کہ چلو تھوڑا سا وقت گزر جانے دو پھر ہم لوٹتے ہیں ، نئے آنے والے اپنے پڑھے لکھے بٹھاتے ہیں تاکہ ان کی لوٹ مار کا علم نہ ہوسکے ۔ ان کی لوٹ مار کا تو علم ہوجاتا ہے لیکن یہ پڑھے لکھے ان کے پردے میں جو لوٹ مار کرتے ہیں اس کا علم ان ڈاکووں کو بھی نہیں ہوتا !!!

ڈاکو ہونے سے بہتر ہے بندہ بیوروکریٹ ہوجائے

ویسے یہ لطیفہ “جیونیوز” اپنے علم پھیلانے کی مہم میں بھی شامل کرسکتا ہے ۔ علم کے فائدے کے عنوان سے ۔ کیونکہ جو علم وہ پھیلانا چاہتا ہے اس سے بیورو کریٹ ، ٹیکنو کریٹ ، پیپسی کریٹ ،حقہ کریٹ اور ڈاکو ہی جنم لیتے ہیں !!!

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 1 Comment