شہداء لال مسجد کے نام فیض احمد فیض کی یہ اشعار


جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ھے تو نجات دہندہ پریہ لازم ہوجاتا ہے کہ وہ آجاے- اور کہتے ہیں کہ خدا نے ہر فرعون کیلیے ایک موسی پیدا کیا ھے۔ اب تو ہرآنکھ اس کی منتظر ھے کہ کب وہ نجات دہندہ آۓ اور اس وقت کے فرعون سے ہمیں نجات دلاے۔ نجانے اور کتنی لال مساجد اور مدارس اس روشن خیالی کی بھینٹ چڑھیں گے۔

شہداء لال مسجد کے نام فیض احمد فیض کی یہ اشعار

ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

ہم دیکھیں گے………….

جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Poetry and tagged , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s