پاکستانیوں کے نظریاتی کمزوری اور نااتفاقی


محمد علی جناح نے جس ایک مضبوط نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا تھا اور قوم کو ایک نظریے پر اکٹھا کیا تھا آج وہی قوم نظریاتی طور پر شدید ٹوٹ پھوٹ اور اختلافات کا شکار بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ نا اہل لوگوں کو اس قوم پر حکمرانی کا موقع ملتا ہے، نہ صرف موقع بلکہ نا اہل حکومت چلتی بھی رہتی ہے، پاکستان کے بڑھتے ہوے مسائل کا سبب جہاں حکمران ہیں وہیں عوام بھی برابر ذمہ دار ہے، نظریاتی اختلاف، نفرتیں اور اتفاق رائے کی کمی جہاں نااہل لوگوں کو مسند اقتدار پر قبضے کا موقع فراہم کرتی ہے وہیں ہر شعبے، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی، دریائوں کے پانی کی تقسیم اور انتظامی امور کی پسماندگی کا باعث بھی بنتی ہے، ہمارے ملک کے یہ سب شعبے اسی لیے ترقی نہیں کر پائے کیوں کہ ہماری قوم نظریاتی طور پر کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پر آپ پاکستانی معاشرے کا کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں آپ کو اختلافات کی ایک جنگ ملے گی۔ سیاست ، مذہب، ادب، حکومتی ادارے، عدالتیں، وکلا، صحافی، ٹی وی چینلز، کسی بھی شعبے میں آپ کو نظریے کی بنیاد پر یک جہتی نظر نہیں آئے گی۔ اسی نا اتفاقی کا فائدہ ہر دشمن اٹھا رہا ہے۔ یہ میری ایک سوچ ہے، سوشل سٹڈیز کے ماہرین اس پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Pakistani Politics, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s