مسلم لیگ ن بمقابلہ تحریک انصاف – ایک سیاسی تجزیہ


 nawaz-sharif

ملک ارشد اعوان جو کہ فیس بک پر میرے احباب میں سے ایک ہیں، ملکی سیاست پر کچھ ایسا نقطہ نظر رکھتے ہیں  انہوں نے پارٹی کی مقبولیت یا صلاحیت سے ان کو نمبرشمار بھی دے دیا ہے، ان کے مطابق ن لیگ پہلے، پی پی پی دوسرے اور فضل الرحمن کی پارٹی تیسرے نمبر پر رہے گی، پہلے اسے پڑھیے پھر نیچے میں اپنا نقطہ نظر پیش کروں گا۔

جمہوریت بدنام ہوئی زارداری تیرے لیے

اج اگر پاکستان میں جمہوریت قائم و دائم ہے تو اس کے پیچھے پاکستان مسلم لیگ ن کے سربرا ہ نواز شریف کا بھی بہت بڑا کردار ہے گو کہ اس راہ میں ان پر نوراکشتی فرینڈلی اپوزیشن اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگے مگر وہ ثابت قدم رہے اور کسی تنقید کی پرواہ نہیں کی وہ دراصل جمہوریت کو تو سپورٹ کر ہی رہے تھے مگر فائدہ زرداری اٹھاتا رہا نواز شریف نے ایسا کیوں کیا اس کی کئ وجوہات ہو سکتی ہیں مگر جو سب سے بڑی وجہ سمجھ میں اتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری ادروں کے ساتھ جو سلوک ملٹری ڈکٹیٹر کرتے رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے اور نواز شریف نے جلاوطنی سے بہت کچھ سیکھا تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو پھر جمہوریت کے طعنے سہنہ پڑتے اور ان کو دوبارملٹری کے اتحادی کا طعنہ دیا جاتا بہر حال ائی ار ائی کے تازہ سروے نے لوگوں نے ان کےاس موقف پر مہر تصدیق ثب کردی ہے اب وہ کہہ سکتے ہیں عمران تو حمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی خاطر ان پر تنقعید کرتا تھا. جس کے موقف کو لوگ اب اہستہ اہستہ مسترد کرنے لگے ہیں وہ سمجھتے ہیں عمران دراصل یہ ساری گیم زرداری کو فایدہ پہچحانے کی خاطر کر رہاتھا تاکہ زرداری اگلے پانچ سال بھی حکومت میں رہ سکے ۔ بہرحال اب اس بات میں ابہام اب ختم ہو گیا ہے کہ اگر زرداری کو اگلے پانچ حکومت میں انے روکنا ہے تو نوازشریف کا ساتھ دینا ہوگا یعنی لوگ اب عمران کے بجاے ن لیگ کو زرداری کا اصل حریف سمجھتے ہیں اسکی کئ وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ عمران کی دوغلی سیاست ہے اور اس کے بعد نوازشریف کی زات پر اٹیک کرنا اور بد تمیزی سے لوگوں کے نام لینا جیسے ڈینگی برادران گنجے وغیرہ لوگ ایسی جیزیں پسند نہیں کرتے الٹا اگلے بندے سے ہمدردی کے جزبات میں اضافہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے تحریک انصاف کے کئ سپورٹر نے ن لیگ کی حمایت کا فیصلہ کیا اور عمران کی سیاست سے نفرت کا اظہار کیا ہے عمران کو اب ان سروے کے مندرجات کو غور سے پڑھ کر ایک ایک چیز کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہے اور ایسے لوگوں کو پارٹی پالیسی سے دور رکھنا چاہیے جو اس کی پالیسوں کو الٹا کر کے لاگو کرتے ہیں عمران کو چاہے کہ وہ نواز شریف پر تنقید کے بجاے زرداری کو اپنے نشانے پر رکھ لے تو پھر کچھ بہتری اسکتی ہے اور اگر اپ پاکستان کی سیاست کو سمجھتے ہوں تو اپ کو ایک بار پھر بتا دوں کہ اگلے الیکشن میں عمران کی تحریک انصاف شاید 2سے4 قومی کی سیٹیں لے سکے وہ بھی سرادار آصف احمد علی کے جیسے لوگوں کی صورت میں اس وقت تحریک انصاف کے پاس صرف 10کےقریب الیکٹ ایبلز ہیں ان میں شاہ محمود قریشی اور عمران تو اپنی سیٹیں ہار سکتے ہیں اگر کسی کو شک ہو تو ان کے حلقوں میں جا کر لوگوں سے پوچھ سکتا ہے وہ اس دفعہ ن لیگ پورے ملک سے اکثریت لیکر اقتدار میں ا سکتی ہے اور اپوزیشن پھر پی پی کے پاس اجاے گی اور تیسرا نمبر مولوی فضل الرحمان کا ہو گا تحریک انصاف تو ق لیگ سے پہلے ہی ہو سکتی ہے۔

ملک ارشد اعوان

imran-khan-pti (8)

پیسے کی طاقت یا اللہ کی طاقت

ہم زرداری پر بات نہیں کر سکتے،  کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، سبھی جانتے ہیں کہ وہ کس طرح منتخب ہوا، اور کس طرح ہر کسی کو کرپشن کی کھلی چھوٹ دے کر، اور مجرمین کے سیاسی مقدمات ختم کرا کر اس نے اپنی حکومت جاری رکھی، وہ عوام دوستی کا دعوی کرتا ہی نہیں، اس کی تقریر کا موضوع بھی شہید بی بی، پارٹی جیالے اور مظلوم سندھی وڈیرے ہی ہوتے ہیں، تاہم نواز شریف جسے عوام نے اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے منتخب کیا اس نے جمہوریت بچاتے بچاتے عوام کا کباڑا کر دیا، نواز نے زرداری کو جمہوریت بچانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی باری کے لیے سپورٹ کیا، نواز شریف کی طاقت ، پیسے سے خریدے جانے والے وہ افراد ہیں جو اپنے علاقے میں اثر و رسوخ کی وجہ سے ہمیشہ الیکشن جیت جاتے ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا، پیسے کے لیے یہ لوگ کسی بھی وقت بک جاتے ہیں، بلاشبہ پاکستانی ووٹر کی ذہنیت کے مطابق ایسے لوگ ہی جیتیں گے، لیکن ان کے جیتنے سے ان کے حلقے کے لوگوں کو کبھی فائدہ نہیں ہو گا، بلکہ یہ لوگ لٹیرے ہی رہیں گے، اور مستقبل میں یہ نواز شریف کو بھی چھوڑ کر جا سکتے ہیں، نواز شریف کو انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے ہر وقت ہڈی کھلاتے رہنا پڑے گا، ان کی کرپشن کو اگنور کر کے مزید کرپشن کے لیے فری ہینڈ دینا پڑے گا، نتیجہ کیا ہو گا ؟ مزید کرپشن، مزید تاریکی، ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف کی مقبولیت پاکستان میں دس فیصد سے زیادہ نہیں، نواز شریف ان خریدے ہوے اثر و رسوخ والے بندوں کے بغیر کچھ بھی نہیں، انہیں لوگوں کا زیادہ ریٹ لگا کر کل پی پی پی بھی انہیں خرید سکتی ہے، ایم کیو ایم بھی خرید سکتی ہے، نواز شریف پیسے سے خریدے ہوے سارے ممبر ایک طرف رکھ دے تو وہ اس قابل بھی نہیں رہ جائے گا کہ قومی اسمبلی کی پانچ سیٹیں جیت سکے۔

حقیقت پسندی یہی ہے ، نواز شریف کے لیے بھی اور عمران خان کے لیے بھی، اس ملک کے باشندے سوچ سمجھ کر ووٹ نہیں دیتے بلکہ اپنے اپنے علاقے کے طاقتور افراد کو ووٹ دیتے ہیں، جن سے یہ چند چھوٹے چھوٹے فائدے حاصل کر سکیں، مثلا اپنا بندہ پولیس یا کسی دوسرے سرکاری محکمے میں لگوا لیا، کسی ناجائز قبضے کو جائز میں بدل لیا، اور اپنے کم میرٹ والے بیٹے کو اچھے کالج میں داخل کروا لیا، ان چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لیے عوام اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں، اجتماعی فائدے کی بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں، نواز شریف پاکستانی ووٹر کی ذہنیت سمجھ چکا ہے اس لیے وہ دھڑا دھڑ طاقتور اور بارسوخ الیکٹ ایبل افراد خرید رہا ہے، عمران خان بے ایمانی اور دھوکے سے شدید نفرت کرتا ہے، وہ سیدھے رستے پر چل کر کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے پیسے کی طاقت پر یقین کی بجائے اللہ کی طاقت پر یقین ہے، اور اب اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس نے پاکستانی قوم کے لیے کیا منتخب کر رکھا ہے ، بہتری یا وہی پرانا طرز زندگی، اس کا انتخاب عوام نے خود کرنا ہے، ایک اصول پسند اور سچا انسان، ایک بے اصول شیر سے کئی گنا طاقتور ہوتا ہے۔

یاسر عمران مرزا


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s