حرمت والے مقامات کی تعظیم


حرم مکہ میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد جب میں واپسی کے لیے باہر آنے لگا تو اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری پیٹھ کعبہ کی طرف ہے اور میں باہر نکل رہا ہوں، پہلے تو مجھے لگا کہ کہیں یہ گستاخی تو نہیں، پھر میں نے دیکھا کے بقیہ سبھی لوگ بھی کعبہ کی مخالف سمت میں منہ کر کے ہی باہر جا رہے ہیں، اور اس سے قبل ہر دفعہ ہم اسی ڈائریکشن میں باہر نکلتے ہیں، پھر مجھے انٹرنیٹ کی ایک ویڈیو یاد آئی جس میں کسی پاکستانی علاقے کے کئی لوگ گھٹنوں کے بل پیچھے کو چلتے ہوے ایک پیر کے مزار سے باہر نکل رہے ہیں، ان کا منہ بدستور مزار کی طرف ہی رہتا ہے اور ان کے نزدیک اگر مزار کی طرف پیٹھ ہو گئی تو یہ مزار کی بے حرمتی ہو گی، پھر میں سوچنے لگ گیا اگر اللہ تعالی نے اپنے گھر کی تعظیم کے لیے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تو پاکستان میں ایسا کونسا مزار پیدا ہو گیا جس کی حرمت نعوذ بااللہ ، اللہ کے گھر سے بھی زیادہ ہے ؟

کئی مزاروں پر جاہلانہ عمل ہو رہے ہیں جن کو دین کے لبادے میں لپیٹ کر کچھ لوگوں نے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے

میں نے اپنے علاقے سے قریب ایک گائوں میں بھی یہ منظر دیکھا ہے کہ لوگ مزار پر موجود قبر کے پتھروں کو ہاتھ لگا کر برکت حاصل کر رہے ہیں، پتھروں کو ہونٹوں سے لگا رہے ہیں ،آنکھوں سے لگا رہے ہیں، اور بعد میں وہاں موجود گدی نشین کو سو کا نوٹ دیتے ہیں جو وہ اپنے ٹاٹ کے نیچے رکھ لیتا ہے، اسی طرح شہدولہ پیر کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں لوگ اپنی اولادوں کو دان کر لیتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ یہ اولاد اللہ تعالی نے نہیں دی بلکہ اس میں شہدولہ پیر کا کوئی کمال ہے، اور دربار پر ان بچوں سے بھیک منگوانے کا کام لیا جاتا ہے، یہ سب اسی لیے ہوا، کہ ایک یا دو بندوں کی عقیدت کے لیے دین میں ایک اضافہ ایجاد کیا گیا اور رفتہ رفتہ یہ اضافہ ایک انمٹ روایت میں بدل گیا، سوال تو یہ ہے کہ ان نقلی پیروں اور اللہ تعالی کے نیک برگزیدہ بندوں میں فرق کیسے کیا جائے اور یہ فرق عوام کو کس طرح بتایا جائے ؟؟؟

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندہ گر کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

اقبال


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s