جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟


ہم کچھ دور آگے چلے تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک آدمی اپنا سر ہاتھوں میں لیے چلا آ رہا ہے ۔ اس کی دونوں ٹانگیں تو سلامت تھیں ، مگر دھڑ کی جگہ گوشت کے لوتھڑ ے لٹک رہے تھے ۔ یہ آدمی ایک عجیب الخلقت بد وضع سی مخلوق محسوس ہوتا تھا۔ مجھے اسے دیکھ کر سخت کراہیت ہوئی۔ صالح نے اس عجیب الخلقت مکروہ وجود کو دیکھا تو مجھے بتایا:

’’یہ تمھارے زمانے کی چیز ہے ۔ یہ ایک خود کش حملہ آور ہے ۔ اس کی وجہ سے کئی معصوم اور بے گناہ مسلمان شہری مارے گئے تھے ۔ تمھارے زمانے کے مسلمان اخلاقی اور علمی طور پر پست ترین مقام پر تھے ۔ مگر ان کے لیڈر ان کی خامیاں دور کرنے کے بجائے ان کی مغلوبیت کا سارا الزام غیر مسلم طاقتوں پر ڈال دینے کے عادی تھے ۔ حالانکہ غیر مسلموں کا تسلط تواللہ تعالیٰ کی مسلط کردہ ایک سزا تھی۔ مسلمانوں کا اصل کام غیر مسلموں تک دین کی دعوت پہنچانا تھا، مگر جب مسلمان اس ذمہ داری سے غافل ہوئے تو خدا نے سزا کے طور پر غیر مسلموں کو ان پر غلبہ دے دیا۔ بجائے اس کے کہ مسلمان توبہ کرتے اور ایمان و اخلاق، دعوت و انذار اور علم اور اصلاح کا راستہ اختیار کرتے ، وہ غیر مسلموں کی فوجی کاروائیوں کے ردعمل میں ان سے ایک مستقل جنگ چھیڑ بیٹھے ۔ ظاہر ہے کہ شکست تو علمی اور اخلاقی طور پر پست قوم کا مقدر ہوتی ہی ہے ۔ چنانچہ یہی تم لوگوں کے ساتھ ہوا۔ مگر اس کے بعد بھی تمھاری قوم نے توبہ نہیں کی بلکہ خود کش حملہ آور پہلے غیر مسلموں کو نشانہ بنانے لگے ۔ پھر بے گناہ مسلمانوں ، معصوم انسانوں اور اس کے ساتھ ان علما کو جو ان خود کش حملوں کو برا کہتے تھے ، ان بدبختوں نے انھیں مسجدوں اور ان کے گھروں میں گھس کر نشانہ بنانا شروع کر دیا اور اس کے بعد۔ ۔ ۔ ‘‘

میں نے صالح کے ان سخت کلمات پر اس کی بات کاٹ کر کہا:

’’مگر یہ لوگ تو جو کچھ کر رہے تھے ، اخلاص نیت سے اور اللہ تعالیٰ کے لیے کر رہے تھے ۔ یہ بہرحال اجر کے مستحق تو ہیں۔‘‘

’’غلط فیصلے پر نیت کا اجر اجتہادی معاملات میں ہوتا ہے ۔ مگر جہاں پروردگار عالم اور اس کے رسول نے اپنا منشا صاف ترین الفاظ میں واضح کر دیا ہو، وہاں محض اپنے جذبات میں آ کر جرائم کا ارتکاب کرنا انسان کو خدا کے احتساب سے نہیں بچا سکتا۔ کسی انسان یا مسلمان کا قتل اور خودکشی کی سزا تو خود قرآن و حدیث میں بیان ہوگئی تھی۔

کیا ان لوگوں نے قرآن مجید میں نہیں پڑ ھا تھا کہ جس نے کسی انسان کو قتل کیا بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا ملک میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اس نے سب کو قتل کیا، اور جس نے اس کو بچایا تو گویا سب کو بچایا۔ اور یہ کہ کسی مؤمن کے لیے روا نہیں کہ وہ کسی مؤمن کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کو عمداً قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے ایک عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے ۔

اور رسول اللہ کا یہ فرمان بھی کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ جس نے اپنے آپ کو کسی لوہے سے قتل کیا تو وہ لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا کہ (بطور سزا) جہنم کی آگ میں اس سے اپنے پیٹ کو مارے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو زہر پی کر قتل کیا تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا کہ (بطورِ سزا) جہنم کی آگ میں اس کے گھونٹ بھرے ۔‘‘

’’یہ سب ٹھیک ہے مگر پھر بھی یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی۔ کیونکہ یہ لوگ جن مسلمان سپاہیوں ، عوام اور علما کو مارتے تھے انہیں کافر اور دشمن حق سمجھ کر مارتے تھے ۔ ان کی نیت تو ٹھیک تھی۔‘‘

’’تم عجیب باتیں کر رہے ہو۔ بالفرض اگر کوئی شخص مجرم بھی ہے تب بھی خدا کی شریعت میں یہ طے ہے کہ مجرم کو سزا صرف عدالتی کاروائی کے ذریعے ہی سے دی جا سکتی ہے ۔ اس سزا پر عمل صرف حکومت وقت کرسکتی ہے ۔ عدالت اور حکومت بھی یہ سب صرف اپنے ہی مسلمہ دائرہ عملداری میں کرسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اگر کسی اور نے یہ سزا کسی کو سنانے اور نافذ کرنے کی کوشش کی تو پھر یہ فساد فی الارض تھا، جس کی سخت ترین سزا قرآن پاک میں بیان ہوئی تھی۔‘‘

صالح کی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ وہ خود کش حملہ آور قریب آ گیا اور صالح سے بولا:

’’کیا تم مجھے اس شخص کا پتہ بتا سکتے ہو جس نے مجھے اس حال میں پہنچایا؟‘‘

صالح نے ایک سمت اشارہ کر کے کہا:

’’دیکھو وہ رہا وہ شخص جس نے تمھیں اس کام پر تیار کیا تھا۔ جس نے تمھیں دھوکہ دیا۔ تم سے بے گناہ انسانوں اور مسلمانوں کے قتل کا بدترین جرم کرایا۔‘‘

یہ سنتے ہی یہ خود کش حملہ آور بھاگتا ہوا اس آدمی کی سمت گیا۔ اس کے قریب پہنچ کر اس نے اپنا سر ایک طرف پھینکا اور دونوں ہاتھوں سے اس کا گلا پکڑ کر دبانے لگا۔ ساتھ ہی اس کے قریب پڑ ے سر سے آواز بلند ہورہی تھی۔ بدبخت تو نے مجھے بھی برباد کیا خود بھی برباد ہوا۔ میں تجھے نہیں چھوڑ وں گا۔ میں تجھے نہیں چھوڑ وں گا۔ زمین میں گرا شخص اذیت سے تڑ پ رہا تھا، مگر وہ خود کو اس حملہ آور کی گرفت سے چھڑ انے میں کامیاب نہیں ہورہا تھا۔ دوسرے لوگ اپنی پریشانی وقتی طور پر بھول کر یہ تماشہ دیکھنے کے لیے کھڑ ے ہوگئے ۔

صالح نے اس صورتحال پر تبصرہ کیا:

’’ایسے تماشے اس وقت میدان حشر میں جگہ جگہ ہورہے ہیں ۔ پیروکار اپنے لیڈروں کو، اصاغرین اپنے اکابرین کو، عقیدت مند اپنے علما اور درویشوں کو اسی طرح پیٹ رہے ہیں ۔ اپنا غصہ نکال رہے ہیں ۔ مگر اب کیا فائدہ! ہاں ، مگر اس عمل میں پریشان اور افسردہ حال لوگوں کو ایک طرح کا تماشہ ضرور دیکھنے کو مل جاتا ہے ۔‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس تماشے نے کچھ دیر کے لیے ہماری توجہ بھی اپنی طرف مبذول کرالی، مگر پھر صالح مجھے لے کر آگے بڑ ھنے لگا۔ راستے میں میں نے صالح سے کہا:

’’میں تو یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ دنیا میں کچھ دیر کی لوڈ شیڈنگ اور گرمی سے ہماری حالت انتہائی ابتر ہوجاتی تھی۔ اور یہاں تو اتنا طویل عرصہ ہو چکا ہے مگر لوگوں کو اس مصیبت سے نجات نہیں مل رہی۔ تمھارے ساتھ کی وجہ سے مجھے تو یہاں کے مصائب و شدائد بالکل محسوس نہیں ہورہے ، مگرجو لوگ یہاں ہیں ان کے ساتھ تو واقعی بہت برا معاملہ ہورہا ہے ۔‘‘

’’اپنے الفاظ کی تصحیح کر لو۔ برا نہیں ہورہا عدل ہورہا ہے ۔ ہاں معاملہ بلاشبہ شدید ہے اور اسی وجہ سے ساری مخلوقات نے اختیار اور اقتدار کے اس بارِ امانت کو اٹھانے اور سزا جزا کے اس کڑ ے امتحان میں کھڑ ے ہونے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘

’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عام لوگوں کے ساتھ اتنی مشکل ہے تو جن لوگوں نے سارے انسانوں کی طرف سے اقتدار اور اختیار کا بار اٹھایا ان کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔ میرا اشارہ ظالم حکمرانوں اور بددیانت اہلکاروں کی طرف تھا۔‘‘

’’دیکھنا چاہتے ہو کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے ؟‘‘

میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔ صالح ایک سمت بڑ ھتے ہوئے بولا:

’’ ابھی تک ہم صرف اس علاقے میں گھوم رہے تھے ، جہاں وہ لوگ تھے جن کا حساب کتاب ہونا ہے ۔ جس طرح سابقین کا معاملہ ہے کہ وہ عرش کے نیجے خدا کے انعامات میں کھڑ ے ہیں اور ان کا حساب کتاب نہیں ہونا صرف رسمی طور پر ان کی کامیابی کا اعلان ہونا ہے ، اسی طرح کچھ بدبخت ہیں جن کی بد اعمالیوں کی بنا پر ان کی جہنم کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے ۔ہم انہی کی سمت چل رہے ہیں ۔‘‘

ہم جیسے جیسے آگے بڑ ھ رہے تھے گرمی کی حدت اور شدت بہت تیزی سے بڑ ھتی جا رہی تھی۔ مجھے اس کا اندازہ اس بڑ ھتے ہوئے پسینے سے ہوا جو لوگوں کے جسم سے بہہ رہا تھا۔ لوگوں کے جسموں سے پسینہ قطروں کی صورت میں نہیں بلکہ دھار کی شکل میں بہہ رہا تھا، مگر زمین اتنی گرم تھی کہ یہ پسینہ تپتی زمین پر گرتے ہی اس میں جذب ہوجاتا۔ پیاس کے مارے لوگوں کے ہونٹ باہر نکل آئے تھے اور وہ کسی تونس زدہ اور پیاسے اونٹ کی طرح ہانپ رہے تھے ، مگر پانی کا یہاں کیا سوال؟

ان کے چہروں پر پریشانی سے کہیں زیادہ خوف کے سائے تھے ۔ یہ خوف کس چیز کا تھا یہ بھی تھوڑ ی ہی دیر میں معلوم ہو گیا۔ اچانک لوگوں کے درمیان ایک عجیب ہلچل مچ گئی۔ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے ۔ مجمع چھٹا تو دیکھا کہ ایک آدمی کے پیچھے دو فرشتے دوڑ رہے ہیں ۔ یہ ویسے ہی فرشتے تھے جیسے عرش کے سائے کی طرف جاتے ہوئے ہمیں نظر آئے تھے ۔ ایک کے ہاتھ میں آگ کا کوڑ ا تھا اور دوسرے کے ہاتھ میں ایسا کوڑ ا تھا جس میں کیلیں نکلی ہوئی تھیں ۔

وہ آدمی ان سے بچنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا تھا، مگر یہ فرشتے اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے ۔ مجھے محسوس ہوا کہ فرشتے جان بوجھ کر اسے تھکا رہے ہیں ۔ وہ اس کے قریب پہنچ کر اسے ایک کوڑ ا مارتے اور کہتے جا رہے تھے کہ اے حکمران اٹھ اور اپنی مملکت میں چل۔ کوڑ ا پڑ تے ہی وہ شخص چیختا چلاتا گرتا پڑ تا بھاگنے لگتا۔ پھر وہ فرشتے اس کے پیچھے دوڑ نے لگتے ۔

مجھے ان موصوف کا تعارف حاصل کرنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑ ا۔ صالح نے خود ہی بتادیا:

’’یہ تمھارے ملک کے سربراہ مملکت ہیں ۔‘‘

کچھ ہی دیر میں سربراہ مملکت آگ اور کیلوں والے کوڑ ے کھا کر زمین بوس ہو چکے تھے ۔ جس کے بعد فرشتوں نے انہیں ایک لمبی زنجیر میں باندھنا شروع کیا جس کی کڑ یاں آگ میں دہکا کر سرخ کی گئی تھیں ۔ سربراہ مملکت بے بسی سے تڑ پ رہے اور رحم کی فریاد کر رہے تھے ، مگر ان فرشتوں کو کیا معلوم تھا کہ رحم کیا ہوتا ہے ۔ وہ بے دردی سے انہیں باندھتے رہے ۔ جب ان کا پورا جسم زنجیروں سے جکڑ گیا تو اتنے میں کچھ اور فرشتے آ گئے ۔ پہلے فرشتے ان سے بولے :

’’ہم نے سربراہ مملکت کو پکڑ لیا ہے ۔ تم جاؤ اور ان کے سارے حواریوں ، درباریوں ، خوشامدیوں اور ساتھیوں کو پکڑ لاؤ جو اس بدبخت کے ظلم اور بدعنوانی میں شریک تھے ۔‘‘

چنانچہ مجمع میں بڑ ے پیمانے پر وہی ہلچل، بھاگ دوڑ اور مارا پیٹی شروع ہوگئی۔ تھوڑ ی ہی دیر میں ایک گروہ کثیر جس میں وزرا، مشیر، بیوروکریٹ، وڈیرے ، جاگیردار، سرمایہ دار اور ہر طرح کے ظالم جمع تھے ، گرفتار ہو گئے ۔ اس کے بعد ان فرشتوں نے سب کو سر کے بالوں سے پکڑ کر چہرے کے بل گھسیٹنا شروع کر دیا۔ وہ ہمارے قریب سے گزرے تو ان کی کھالوں کے جلنے کی بدبو ہر طرف فضا میں بکھری ہوئی محسوس ہوئی۔ اس بدبو کا احساس ہوتے ہی صالح نے میری کمر پر ہاتھ رکھا تو میری جان میں جان آئی۔ وہ ان کو ہمارے سامنے سے کھینچتے ہوئے مزید بائیں جانب لے گئے ۔ میں ان کے گھسیٹے جانے کے سبب بن جانے والی لکیروں اور ان پر پڑ ے خون کے ان دھبوں کو دیکھتا رہا جو ان کے جسموں سے رس رہا تھا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ عبرت ناک منظر دیکھ کر بے اختیار میرے لبوں سے ایک آہ نکلی۔ میں نے دل میں سوچا:

’’کہاں گیا ان کا اقتدار؟ کہاں گئے وہ عیش و عشرت کے دن؟ کہاں گئے وہ عالیشان محل، مہنگے ترین کپڑ ے ، بیرونی دورے ، شاندار گاڑ یاں ، عظمت و کروفر اور شان و شوکت؟ آہ! کہ ان لوگوں نے کتنے معمولی اور عارضی مزوں کے لیے کیسا برا انجام چن لیا۔‘‘

صالح بولا:

’’یہ سب ظالم، کرپٹ اور عیاش لوگ تھے جن کی ہلاکت کا فیصلہ دنیا ہی میں ہو چکا تھا۔ تاہم یہ ان کی اصل سزا نہیں ۔ اصل سزا تو جہنم میں ملے گی۔ جس طرف فرشتے انہیں لے جا رہے ہیں وہاں سے جہنم بالکل قریب ہے ۔ اسی مقام سے انہیں حساب کتاب کے لیے لے جایا جائے گا جہاں ان کی دائمی ذلت اور عذاب کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ پھر انھیں دوبارہ بائیں طرف لایا جائے گا۔ جہاں سے گروہ در گروہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘

حساب کتاب کے ذکر سے مجھے بے اختیار وقت کا خیال آیا تو میں صالح سے پوچھا:

’’صالح! رسول اللہ کی دعا کو قبول ہوئے طویل عرصہ گزرگیا ہے ۔ مگر اب تک یہ حساب کتاب کیوں نہیں شروع ہوا؟‘‘

’’یہ تم سمجھتے ہو کہ طویل عرصہ ہوا ہے ۔ میدان حشر میں وقت بہت آہستگی کے ساتھ گزر رہا ہے ۔ جس کی بنا پر یہ طویل عرصہ لگتا ہے ۔ مگر عرش تلے بہت ہی کم وقت گزرا ہے ۔ تم جاننا چاہتے ہو کہ اتنا وقت بھی بہرحال کیوں لگ رہا ہے ؟‘‘

’’تم نے بتایا تھا کہ جن لوگوں کو معاف کیا جانا ہے اس سختی کو ان کی معافی کا ایک عذر بنادیا جائے ۔‘‘

’’ہاں یہ ایک وجہ ہے ۔ مگر دوسری وجہ لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ یہاں سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ بات یہ ہے عبد اللہ! انسانوں نے اپنے کریم اور مہربان آقا کی قدر نہیں کی۔ آج وہ آقا لوگوں کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ انسان کس درجے میں اس کے محتاج اور اس کے سامنے بے وقعت ہیں ۔

اس کی طاقت و عظمت کا پہلا اظہار قیامت کا دن تھا جب انسانوں کی دنیا برباد ہوگئی اور ان کا سب کچھ تباہ ہو گیا تھا۔ انسان کی ساری طاقت اسے قیامت کے ہولناک حادثے سے نہیں بچا سکی۔ دوسرا موقع آج حشر کا دن ہے جب سب کو معلوم ہو چکا ہے کہ خدا کے سامنے کسی کی کوئی وقعت نہیں ہے ۔ تیسرا موقع اب آ رہا ہے یعنی حساب کتاب کا جب اللہ تعالیٰ براہ راست آسمانوں اور زمین کا کنڑ ول اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ۔‘‘

’’تو کیا ابھی تک ایسا نہیں ہوا؟‘‘

’’نہیں ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ ابھی تک نظام کائنات بظاہر فرشتے چلا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ صرف ان کو احکامات دے رہے ہیں ۔ تھوڑ ی ہی دیر میں وہ سارے معاملات براہِ راست خود سنبھال لیں گے ۔ تاکہ جنوں ، انسانوں اور فرشتوں سمیت ہر مخلوق جان لے کہ سارا اختیار اور اقتدار صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ سردست سارے آسمانوں میں بکھری ہوئی کائنات جو انگنت فاصلوں پر پھیلی ہوئی تھی، اس کو سمیٹا جا رہا ہے ۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ پچھلی دنیا میں یہ کائنات لمحہ بہ لمحہ پھیل رہی تھی۔ اب اللہ کے حکم پر فاصلے سمٹ رہے ہیں اور یہ بے شمار کہکشائیں ، ستارے اور سیارے جو پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں ، دوبارہ قریب آ رہے ہیں ۔‘‘

’’ایسا کیوں ہے ؟‘‘، میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اہل جنت میں بطور انعام تقسیم کر دیں گے ۔ پھر ان جگہوں پر اللہ کے انعام یافتہ بندوں کی بادشاہی اور اقتدار قائم ہوجائے گا۔ کائنات کو واپس سمیٹنے کا عمل ہی وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے آسمانوں کو خدا کے داہنے ہاتھ پر لپیٹ لینے سے تعبیر کیا ہے ۔‘‘

پھر صالح نے آسمان کی طرف نظر کی۔ اس کی پیروی میں میں نے بھی اوپر دیکھا۔

سورج بدستور دہک رہا تھا۔ میں نے پہلی دفعہ یہ بات نوٹ کی کہ چاند بھی سورج کے قریب موجود تھا، مگر وہ بے نور ہو چکا تھا اور بہت آہستگی کے ساتھ سورج کی طرف بڑ ھ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر صالح نے کہا:

’’آج آسمان و زمین بدل کر کچھ سے کچھ ہو چکے ہیں ۔ زمین پھول کر بہت بڑ ی ہو چکی ہے اور یوں اس کے رقبے میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔‘‘

’’مجھے یاد ہے کہ زمین کا قطر پچیس ہزار کلو میٹر تھا۔‘‘

’’مگر اب اس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔ ساتھ ہی یہ زمین اب اس سے کہیں زیادہ حسین اور خوبصورت ہے جتنی پہلے تھی۔ اسرافیل نے دو دفعہ صور پھونکا تھا۔ پہلی دفعہ سب کچھ تباہ ہو گیا تھا جبکہ دوسرے صور پر انسانوں کو زندہ کر دیا گیا۔ ان دونوں کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین بڑ ی ہوئی اور فرشتوں نے اس پر اہل جنت کے لیے اعلیٰ ترین گھر، محلات، باغات اور ان کے سکون و تفریح کے لیے بہترین چیزیں اور تمھارے لیے ناقابل تصور حد تک حسین ایک نئی دنیا بنادی ہے ۔ ہر جنتی کو اس کا گھر اسی زمین میں دیا جائے گا اور اسے رہنے بسنے کے لیے بڑ ے بڑ ے رقبے دیے جائیں گے ۔ زمین کے وسط میں دہکتے ہوئے آتش فشاؤں اور کھولتے پانی کے چشموں کے درمیان میں اہل جہنم کا ٹھکانہ ہو گا۔‘‘

میں نے اس کی بات کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا:

’’تم نے جو کچھ کہا ہے قرآن کریم کے بیانات سے مجھے اس کا پہلے ہی اندازہ تھا۔ قرآن کریم کے بیانات سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ زمین کے وارث خدا کے نیک بندے ہوں گے اور سطح زمین جنت میں بدل دی جائے گی جہاں اہل جنت کا ٹھکانہ ہو گا۔ زمین کے بیچ میں اہل جہنم ہوں گے ۔ جبکہ آسمانوں میں موجود ستارے اور کہکشائیں بطور انعام و بادشاہی اہل جنت میں تقسیم ہوں گے ۔ ویسے ان میں کیا ہو گا؟‘‘

’’اس کی تفصیل دربار والے دن سامنے آئے گی۔ دربار والی بات یاد ہے نا؟‘‘

’’ہاں تم نے بتایا تھا کہ حساب کتاب کے بعد اہل جنت کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو نشست ہو گی اس کا نام دربار ہے ۔ اس نشست میں تمام اہل جنت کو ان کے مناصب اور مقامات رسمی طور پر تفویض کیے جائیں گے ۔ یہ لوگوں کی ان کے رب کے ساتھ ملاقات بھی ہو گی اور مقربین کی عزت افزائی کا موقع بھی ہو گا۔‘‘

’’ہاں اس روز انعام بھی دیا جائے گا اور کام بھی بتایا جائے گا۔‘‘

اتنی دیر میں بے نور چاند سورج میں ضم ہو چکا تھا۔ یہ دیکھ کر صالح بولا:

’’آسمان پر موجود نشانیاں بدل رہی ہیں ۔ چاند کا سورج میں ضم ہوجانا اسی کی ایک علامت ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے آسمان سمیٹ لیے گئے ہیں ۔ اب کسی بھی لمحے پروردگار عالم کا ظہور ہو گا اور وہ عدالت شروع ہوجائے گی جس کا انتظار تھا۔ اس وقت تمھیں اور ساری دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ جل جلالہ کس عظیم و اعلیٰ ہستی کا نام ہے ۔‘‘

ابھی صالح کا جملہ ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ سب لوگ لرز کر رہ گئے ۔ آواز چونکہ آسمان کی جانب سے آئی تھی اس لیے ہر نگاہ اوپر کی طرف اٹھ گئی۔

میں اور صالح بھی لوگوں کے ساتھ اوپر دیکھنے لگے ۔ ایک حیرت انگیز منظر سامنے تھا۔ آسمان میں شگاف پڑ چکا تھا اور تھوڑ ی ہی دیر میں وہ بادلوں کی طرح پھٹ کر ٹکڑ ے ٹکڑ ے ہو گیا۔ ان شگافوں کو دیکھ کر ایسا لگا کہ آسمان میں دروازے ہی دروازے بن گئے ہیں ۔ ہر شگاف سے فرشتوں کی فوج در فوج زمین کی طرف اترنے لگی۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ کسی قسم کی گنتی اور اندازہ محال تھا۔ فرشتوں کے مختلف گروہ تھے اور ہر گروہ کا انداز اور لباس بالکل مختلف تھا۔ وہ فرشتے میدان حشر کے وسط میں ایک جگہ پر اترنے لگے اور انہوں نے درمیان میں موجود ایک بڑ ی اور بلند خالی جگہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

فرشتے آسمان سے اترتے جاتے اور دائرہ در دائرہ ہاتھ باندھ کر مؤدب انداز میں کھڑ ے ہوتے جاتے ۔ ہر لمحہ ان کی تعداد بڑ ھتی جا رہی تھی۔ اس دوران میں لوگوں کی چیخ و پکار بھی تھم چکی تھی۔ ہر شخص پھٹی آنکھوں سے ٹکٹکی باندھ کر اسی سمت دیکھے جا رہا تھا۔ اب فضا میں بس کچھ سرگوشیوں کی سرسراہٹ ہی باقی رہ گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر شخص اپنے برابر والے سے پوچھ رہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟

مجھے قدرے اندازہ تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے ، لیکن پھر بھی میں نے صالح سے وضاحت چاہی۔ اس نے حسب توقع جواب دیا:

’’حساب کتاب شروع ہورہا ہے ۔ بارگاہِ احدیت کا دربار سجایا جا رہا ہے ۔ یہ اس کا پہلا مرحلہ ہے ۔ فرشتے مسلسل اتر رہے ہیں اور کافی دیر تک اترتے رہیں گے ۔ اس کے بعد سب سے آخر میں حاملین عرش اتریں گے ۔ تم تو ان سے مل چکے ہو۔ وہ اُس وقت چار تھے ۔ اب چار مزید ان میں شامل ہوجائیں گے ۔ کل آٹھ فرشتے عرش الٰہی کے ساتھ نازل ہوں گے۔‘‘

عرش الٰہی‘۔ میں نے زیر لب ان الفاظ کو دہرایا۔ صالح نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا:

’’تم تو سمجھ سکتے ہو، اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھتے نہیں ہیں ۔ وہ اس طرح کے تمام انسانی تصورات سے پاک ہیں ۔ یہ عرش اصل میں مخلوق کے رجوع کرنے کی جگہ ہے ۔ جیسے دنیا میں بیت اللہ ہوا کرتا تھا بطور قبلہ۔ اللہ کے گھر کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ وہاں رہتے تھے ۔ لیکن انسان اس کی طرف جب رخ کرتا تھا تو اس کے لیے وہ ایک مقامِ رجوع بن جاتا تھا۔ اسی طرح آج عرش الٰہی کے ذریعے سے لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ کریں گے ۔‘‘

میں نے پوچھا:

’’گویا لوگ اللہ تعالیٰ کی بات سنیں گے ؟‘‘

صالح نے کہا:

’’ہاں ، ویسے ہی جیسے حضرت موسیٰ نے طور کی وادی میں ایک درخت کے اندر سے اللہ تعالیٰ کی آواز آتے ہوئے سنی تھی۔ اور ہاں عبداللہ ایک بہت خاص بات بھی سن لو۔‘‘

میں پوری طرح متوجہ تو تھا ہی لیکن اب یکسوئی سے اسے دیکھنے لگا۔

’’حاملینِ عرش کے نزول کے ساتھ ہی عرش نور الٰہی کی تجلی سے جگمگا اٹھے گا۔ جس کے ساتھ پوری زمین پر اس نور کا اثر پھیل جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوجائے گی اور معاملات اب براہِ راست اللہ تعالیٰ کی اپنی نگرانی میں انجام پانا شروع ہوجائیں گے ۔ یہ مطلب ہے قرآن کریم کی اس بات کا کہ زمین کو خدا اپنی مٹھی میں لے لے گا۔ اس وقت پہلا حکم یہ دیا جائے گا کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں گرجائے ۔ عبد اللہ! اس وقت بہت عبرت ناک منظر سامنے آئے گا۔ تم دیکھو گے کہ سارے فرشتے سجدے میں ہوں گے ۔ عرش کے داہنے ہاتھ کی طرف عرشِ الٰہی کے مامون سائے میں موجود سارے انبیا، صدیق، شہدا اور صالحین، سب سجدے میں ہوں گے ۔‘‘

میں نے بے اختیار پوچھا:

’’اور یہاں حشر کے میدان میں موجود لوگ؟‘‘

’’اہم اور عبرت ناک بات یہی ہے ۔ یہاں موجود کوئی کافر، منافق، خدا کا نافرمان اور مجرم سجدے میں نہیں جا سکے گا۔ یہ لوگ لاکھ کوشش کریں گے کہ سجدے میں گرجائیں ، مگر ان کی کمر اور گردن تختہ ہوجائے گی۔ زمین انہیں اپنی طرف آنے سے روک دے گی۔‘‘

’’اور باقی لوگ؟‘‘، میں نے پوچھا۔

صالح بولا:

’’وہ لوگ جن کے اعمال ملے جلے اور گناہ کم ہوں گے وہ سجدے میں چلے جائیں گے ۔ اور اسی وجہ سے ان سب کو فوراً حساب کتاب کے لیے بلالیا جائے گا۔ باقی جس کا ایمان جتنا پختہ اور اعمال جتنے اچھے ہوں گے وہ اتنا ہی جھک سکے گا۔ کوئی رکوع میں ہو گا، کوئی آدھا جھکا ہو گا۔ کوئی بس گردن ہی جھکا سکے گا۔ جو جتنا کم جھکے گا وہ اتنا ہی خوار ہو گا۔‘‘

میں بات سمجھتے ہوئے سر ہلا کر بولا:

’’اچھا اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو اس وقت اپنے مستقبل کا کسی قدر اندازہ ہوجائے گا۔‘‘ صالح نے کہا:

’’نہیں ، تمھیں یہ باتیں میں بتا رہا ہوں ، انہیں یہ اندازہ نہیں ہو گا۔ البتہ سجدہ نہ کرنے پر ذلت کا احساس اور کرنے پر ایک نوعیت کا اطمینان ہوجائے گا۔ البتہ لوگ یہ اچھی طرح جان لیں گے کہ خدا کون ہے ؟ جس ہستی کو بھلا کر زندگی گزاری تھی وہ کون ہے ؟ آج لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ بادشا ہوں کا بادشاہ کون ہے ؟ شہنشا ہوں کا شہنشاہ کون ہے؟ کون معبود برحق ہے ؟ کون ہے جس کا اقتدار اس کائنات پر قائم ہے ؟ کون ہے جس کے ہاتھ میں کل بھلائی اور تمام خیر ہے ؟ کون ہے جس کے اشارے سے تقدیر بن اور بگڑ سکتی ہے ؟ کون ہے جو ہر شخص سے ہر عمل کے بارے میں پوچھ سکتا ہے مگر اُس سے اس کے کسی فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جا سکتا؟ کون ہے جو ہر حمد، ہر شکر، ہر قیام، ہر رکوع، ہر سجدے ، ہر نیاز، ہر عاجزی، ہر محبت، ہر تسبیح اور ہر ہر تکبیر کا مستحق ہے ؟ تعالیٰ شانہ۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔‘‘

یہ الفاظ کہتے ہوئے صالح کے جسم پر ایک لرزہ طاری ہو گیا اور آخری اللہ اکبر کہتے ہوئے وہ سجدے میں گرگیا۔ اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ زمین پر ایک خاص نوعیت کی روشنی پھیل چکی ہے ۔ ماحول ایک خاص قسم کے نور سے جگمگا اٹھا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کانوں میں فرشتوں کی تسبیح و تہلیل، حمد و شکر اور تمجید و تکبیر کی صدائیں آنے لگیں ۔

مجھے اندازہ ہو گیا کہ عرش الٰہی کی تجلیات سے ماحول منور ہو چکا ہے ۔ مگر میں اس پورے عمل میں نظر جھکا کر کھڑ ا رہا تھا۔ ڈر کے مارے میں نے عرش کی طرف دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔

کچھ دیر نہ گزری تھی کہ میرے کانوں نے جبریل امین کی مانوس مگر انتہائی بارعب آواز بلند ہوتی سنی:

’’لمن الملک الیوم (آج کے دن بادشاہی کس کی ہے ؟)۔‘‘

جواب میں سارے فرشتے پکار اٹھے :

’’للہ الواحد القہار (تنہا غالب رہنے والے اللہ کی)۔‘‘

جبریل امین یہ سوال بار بار دہراتے اور ہر بار فرشتے باآواز بلند یہی جواب دیتے ۔ اس عمل نے میدان حشرمیں ایسا حشر برپا کر دیا کہ دل لرزنے لگے ۔ آخر کار ایک صدا بلند ہوئی:

’’الرحمن کے بندے کہاں ہیں ؟ پروردگار عالم کے غلام کہاں ہیں ؟ اللہ جل جلالہ کو اپنا معبود، اپنا بادشاہ اور اپنا رب ماننے والے کہاں ہیں ؟ وہ جہاں بھی ہیں خداوند سارے جہان کے رب کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں ۔۔۔‘‘

یہ سننا تھا کہ میں کچھ دیکھنے کی کوشش کیے بغیر ہی صالح کے برابر میں سجدہ ریز ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میدان حشر میں یک دم خاموشی چھا گئی۔ ایسا سناٹا تھا کہ سوئی بھی زمین پر گرے تو اس کی آواز بھی سب سن لیں ۔ میں نے سجدے کے عالم میں جتنی عافیت اس لمحے محسوس کی زندگی میں کبھی محسوس نہ کی تھی۔ دوسروں کا تو نہیں معلوم کہ وہ سجدے میں کیا کہہ رہے تھے ، مگر میں اس لمحے زار و قطار اللہ تعالیٰ سے درگزر اور معافی کی درخواست کر رہا تھا۔

نہ جانے کتنی دیر تک ہُو کا یہ عالم طاری رہا۔ اس کے بعد اچانک ایک صدا بلند ہوئی:

’’ھو اللہ لا الہ الا ھو۔‘‘

مجھے پہلے بھی اس کا تجربہ تھا کہ حاملینِ عرش کے اس اعلان کا مطلب مخاطبین کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ اب صاحبِ عرش کلام کر رہا ہے ۔ آواز آئی:

’’میں اللہ ہوں ۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘

یہ الفاظ وہی تھے جو میں نے عرش کے قریب سجدے میں پہلی دفعہ سنے تھے ، مگر یہ آواز اُس آواز سے قطعاً مختلف تھی۔ اِس آواز میں جو جلال، تحکم اور سختی تھی وہ اچھے اچھوں کا پتہ پانی کرنے کے لیے بہت تھی۔ لمحہ بھر کے لیے ایک وقفہ آیا جو چار سو پھیلے ہوئے مہیب سناٹے سے لبریز تھا۔ اس کے بعد بادلوں کی کڑ ک جیسی انتہائی سخت اور گرجدار آواز بلند ہوئی:

’’انا الملک این الجبارون؟ این المتکبرون؟ این الملوک الارض؟‘‘

’’میں ہوں بادشاہ۔ کہاں ہیں سرکش؟ کہاں ہیں متکبر؟ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟‘‘

یہ الفاظ بجلی بن کر کوندے ۔ لوگوں نے اس بات کا جواب تو کیا دینا تھا ہر طرف رونا پیٹنا مچ گیا۔ اس آواز میں جو سختی، رعب اور ہیبت تھی اس کے نتیجے میں مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ مجھے زندگی کا ہر وہ لمحہ یاد آ گیا جب میں خود کو طاقتور، بڑ ا اور اپنے گھر ہی میں سہی، خود کو سربراہ سمجھتا تھا۔ اس لمحے میری شدید ترین خواہش تھی کہ زمین پھٹے اور میں اس میں سماجاؤں ۔ میں کسی طرح خدا کے قہر کے سامنے سے ہٹ جاؤں ۔ انتہائی بے بسی کے عالم میں میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے :

’’کاش میری ماں نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔‘‘

اس کے ساتھ ہی میرے دل و دماغ نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میں بے ہوش ہو کر زمین پر گرگیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جا ری ہے
مصنف: ابو یحیی

جب زندگی شروع ہو گی دراصل ایک ناول ہے جو آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ ناوال ابویحیی صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ جس میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں محشر کے دن کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ واقعات کس انداز میں رونما ہوں گے۔ حساب کتاب کا عمل کس انداز سے ہو گا اور نیک و کار اور گناہ گاروں کے ساتھ کس قسم کا معاملہ کیا جائے گا۔ ناول کا تعارف ابویحییٰ کی زبانی جاننے کے لیے سب سے پہلے باب کا مطالعہ کیجیے جو کہ یاسر عمران مرزا کے بلاگ پر موجود ہے۔ نیچے تمام حصوں کے روابط دیے گئے ہیں۔ والسلام

جب زندگی شروع ہو گی کے تمام ابواب

جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت
جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں
جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر
جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ
جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں
جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟
جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

10 Responses to جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟

  1. Yasir Imran says:

    ہم کون ہیں۔ ہماری اوقات ایک تنکے جتنی بھی نہیں۔ ہم زمین پر اکڑ کر چلتے ہیں۔ ہٹ دھرمی سے گناہ پر گناہ کرتے جاتے ہیں۔ اس عظیم مالک کو اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر چکے ہیں۔ اے اللہ ہمیں معاف کر دے۔

  2. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی | Yasir Imran Mirza

  3. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت | Yasir Imran Mirza

  4. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں | Yasir Imran Mirza

  5. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر | Yasir Imran Mirza

  6. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں | Yasir Imran Mirza

  7. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ | Yasir Imran Mirza

  8. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی آٹھواں باب: حوض کوثر پر | Yasir Imran Mirza

  9. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی نواں باب: قوم نوح اور دین بدلنے والے | Yasir Imran Mirza

  10. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی دسواں باب: حساب کتاب اور اہل جہنم | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s