مقصد علامہ اقبال یکسر مر گیا


سیالکوٹ میں ہونے والے دو بھائیوں کے قتل کے بیہمانہ قتل کی مناسبت سے جوہر عباس صاحب نے یہ نظم لکھی ہے۔ قتل کی یہ واردات انسانیت کے منہ پر تمانچہ ہے۔ وزیر اعلی نے ایک ہفتے میں انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس ظلم کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دے۔ اور مرنے والوں کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور دونوں بھائیوں کو جنت میں جگہ دے۔ آمین۔

لال یہ کس کا لہو میں لال ہو کر مر گیا
کون پھر س بے بسی کی بھینٹ چڑھ کر مر گیا

کاش اے دنیا تری چشم تماشا پھوٹ جائے
سامنے مرتے برادر کے برادر مر گیا

کیا بتائیں ہم تجھے اے حافظ قرآن کی ماں
کس شقی کے ظلم سے تیر گل تر مر گیا

واسطہ انسانیت کا ہے تجھے اے اولاد شمر
بخش دے میت کو،چھوڑ،بس کر، مر گیا

دل جسے کہتے تھے ہم لگتا ہے یہ شاید کہ وہ
حضرت انسان کے سینے کے اندر مر گیا

کیوں نہیں پھٹتی زمیں انسانیت کے بین سے
جانے یہ سیلاب کا پانی کہاں پر مر گیا

کاش یہ فقرہ فقط ہذیان کی اواز ہو
مقصد علامہ اقبال یکسر مر گیا

جوہر عباس

اس سے ملتی جلتی تحاریر

علامہ اقبال کا یوم ولادت
گڑیا کو قتل کس نے کیا؟
اقبال کا خواب پاکستان از صوفی تبسّم


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Poetry, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

9 Responses to مقصد علامہ اقبال یکسر مر گیا

  1. Pingback: مقصد علامہ اقبال یکسر مر گیا - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز

  2. اب ایک نئی رائے سامنے لائی جا رہی ہے کہ وہ دونوں لڑکے واقعی ڈاکو تھے اور اہلِ علاقہ ان کی وارداتوں سے تنگ تھے۔۔۔۔۔ کس چینل کی کس بات کو مانا جائے۔۔۔۔؟
    لیکن بہرحال بحیثیت قوم اس بات کا سد باب ضروری ہے کہ لوگ اشتعال کے نام پہ قانون ہاتھ میں کیوں لیتے ہیں۔۔۔ کون انہیں ایسا کرنے کی شہہ دیتا ہے۔۔۔ پولیس پاس کھڑی ہو کر کیوں دیکھتی ہے۔۔۔۔ کیا اس کا یہی کام رہ گیا ہے۔۔۔؟

    • Yasir Imran says:

      عین لام میم بھائی
      وہ دونوں لڑکے چاہے دہشت گرد بھی ہوں لیکن ایسی سزا کوئی مذیب اور کوئی قانون تجویز نہیں کرتا۔
      اگر لوگوں کو زیادہ ہی غصہ تھا تو ڈنڈے مار مار کر بے ہوش کر دیتے لیکن جو کچھ لوگوں نے کیا، ہم جیسوں کو تو دیکھنے سے ہی اتنی تکلیف ہو رہی ہے، کیوں ان لوگوں کو رحم نہیں آیا۔ اور حکومت پولیس کو کس بات کی تنخواہ دیتے ہے، محکمہ قانون، عدالتیں کس لیے بنائی گئی ہیں؟
      لاشوں کی بے حرمتی کی کون سا مذہب اجازت دیتا ہے۔ اور جس طرح لوگ اس خاندان کی شرافت کی گواہی دے رہے ہیں مجھے نہیں لگتا یہ لڑکے ڈاکو ہوں۔
      بھائی سوچنے کی بات ہے، ایک ۱۵ سالہ لڑکے وارداتوں سے لوگ اگر تنگ ہیں تو یقینن اسے ڈاکے ڈالتے تین چار سال گزر چکے ہوں گے ۔ تو یہ ثابت ہوا ، ڈکیتی کرنا اس نے 11،12سال کی عمر میں شروع کیا۔ تو اللہ تعالی نے ہمیں دماغ دے رکھا ہے، کیا اتنی عمر کا بچہ ڈکیتی کر سکتا ہے ؟ خیر یہ سب تو بعد میں آتا ہے۔ پہلے جو نقطہ پہلے بیان کیا وہ اکیلا ہی اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

  3. آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔۔۔
    لوگ اس بات پہ صرف اس لئے افسوس کر رہے ہیں کہ یہ پتا چلا کہ وہ بے گناہ تھے۔۔۔ ورنہ تو اس سے پہلے کتنے ہی واقعات میں لوگوں کو زندہ جلا یا جا چکا ہے۔۔۔۔ہم بس ایک نظر دیکھتے ہیں اور آگے نکل جاتے ہیں۔۔۔
    لوگ قوانین اور ان کے نافذ کرنے والے اداروں سے کبھی بھی مطمئن نہیں رہے، یہ سب ہماری نیچر میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔۔

    • Yasir Imran says:

      جی ہاں ۔ ہم کچھ دن کے لیے احتجاج کرتے ہیں پھر ایسے واقعات کو بھول جاتے ہیں۔ اصل میں یہی انسانی فطرت ہے۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جا سکتا۔ انسان کو زندگی میں واپس آنا ہوتا ہے۔
      لوگوں کے افسوس کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے جو اس قسم کے واقعات ہوے، ان کی اس قدر واضح ویڈیو بھی سامنے نہیں آئی، کراچی میں ہونے والی قتل و غارت، یا دو ڈاکووں کو جلا دینے کا واقعہ تصاویر میں تو آیا، لیکن وہ تشدد ویڈیو میں نہیں آیا۔ دوسری بات ان ڈاکووں کے مرنے کے بعد شاید ان کی لاشوں کی بے حرمتی نہیں کی گئی، جب کہ ان کو تو الٹا لٹکایا گیا۔ اور تیسری بات یہ کہ اس واقعے میں پولیس کے پہنچنے سے پہلے یہ سب کرا دیا گیا۔ جب کہ اس واقعے میں پولیس پہلے سے موجود تھی۔

  4. darveish says:

    انسان جب انسانیت سے گر جاے تو حیوان کہلاتا ہے اور اگر حیوان اپنی حیوانیت سے بھی گزر جاے تو شیطان ہو جاتا ہے۔ اور انسانوں کے روپ میں شیطانیت کا ناچ، ظلم و بربریت کی انتہا کہ جس کی مثال آج تلک اس معاشرے میں دیکھنے کو نہیں ملی وہ شہر اقبال سیالکوٹ نے دکھا دی۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ چند ثانیے کو آنکھیں بند کرو تو تشدد کے مناظر امڈ آتے ہیں۔ اے کاش کہ ایسا نہ ہوا ہوتا یا اس انتہا درجے کی جہالت کو ویڈیو کی شکل میں دیکھا نہ ہوتا۔ کیا ہم اس قدر بے حس، بے رحم، بے غیرت اور درندے ہو چکے ہیں۔
    More at

    • Yasir Imran says:

      جو کچھ بھی ہوا، عجیب سا منظر تھا، کبھی لگتا شاید یہ کربلا کا مقام ہے جہاں پر مشرکین اکٹھے ہو گئے ہیں اور مومنوں کو مار رہے ہیں، کبھی لگتا امریکہ پاکستان پر قابض ہو چکا ہے اور یہ اسکے بندے پاکستانیوں کو مار رہے ہیں۔ کبھی ایسا لگتا جیسے کوئی قربان گاہ ہے جہاں بکروں کی بجائے انسان ذبع کیے جانے والے ہیں۔ ابھی تک آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا کہ یہ واقعی پاکستان کا منظر ہے۔ سچ مانیے میں تو بھارت میں بھی ایسا منظر دیکھنے کا سوچ نہیں سکتا۔ اور دل کا دکھ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ جب میں اس سفید کپڑوں والے آدمی کو ڈنڈے برساتا دیکھتا ہوں تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔دل چاہتاہے کاش میں وہاں ہوتا اور اس آدمی کے ہاتھ توڑ دیتا۔۔۔۔۔۔۔

  5. اگر وہ بچے ڈاکو ہی تھے تو کیا امر مانع ھے کہ ہم بحثیت انسان اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی حرکت کی مذمت نہ کریں۔
    دکھ اس بات کا ھے کہ وہاں پر موجود بڑے تو بڑے بچے بھی یہ غلاظت ہوتی دیکھ رہے تھے۔
    کسی انسان نامی جانور سے اتنا نہ ہوسکا کہ اس غلیظ کام کو روکنے کی کوشش کرتا۔
    وہاں پر موجود بچوں سے ایک اچھا انسان بننے کی امید کی جاسکتی ھے؟

    • Yasir Imran says:

      سب سے بڑی قصوروار پولیس ہے۔ جس نے نہ صرف اس بہیمانہ واردات کو خاموشی سے ہوتے دیکھا اور کوئی ایکشن نہیں لیا۔ بلکہ اپنی نگرانی میں یہ کام کروایا اور احتجاج کرنے والوں کو بھی اس واردات کو روکنے نہیں دیا۔
      میں نے اے آر وائی کی ایک اور ویڈیو دیکھی جس میں ایک دیہاتی کہہ رہا ہے کہ پولیس والے کہہ رہے تھے، ان کو ختم کر دو۔ صاف ظاہر ہے پولیس کو کسی غنڈے یا کسی اوپر کے آدمی کی طرف سے ان بچوں کو ختم کرنے کا آرڈر تھا۔ لیکن حوالات میں قتل کرنے کی بجائے انہوں نے اس کام کو کوئی اور رنگ دینا چاہا۔ اور ایک مجمع لگایا گیا، جس کے لیے 20،30 جاہلین خریدے گئے اور انہیں دائرہ لگا کر کھڑے ہونے اور عام شہریوں کو وہاں تک آنے سے روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پولیس اس کام میں‌ساتھ ساتھ رہی، اور لاشوں کو شہر میں گھمانے تک اس نے یہ ذمہ داری نبھائی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s