مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ


پاک نیٹ پر شائع ہونے والی یہ خبر انتہائی افسوس ناک ہے۔ خرم ابن شبیر نے اسے اپنے بلاگ پر شائع کیا۔ جس طرح مسلمانوں کے جذبات کو روندا جا رہا اور ہمارے پیارے نبی کی شان میں باقاعدہ منصوبے کے تحت گستاخی کی جا رہی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو کھلم کھلا للکارا جا رہا ہے کہ تم سے جو ہوتا ہے کر لو، آج ہم ایسا کر رہے ہیں کل کو مزید گھٹیا پن کا مظاہرہ بھی کر سکتے ہیں۔ تم بس خواب غفلت میں سوئے رہو اور ہماری مصنوعات استعمال کرتے رہو ، ہم تمھارے پیسے ہڑپ کر کے انہی سے عیش کریں گے اور انہیں تمھارے خلاف استعمال کریں گے۔ تم نے اور تمھارے بڑوں نے تعلیم و تحقیق سے دور رہنے کی جو غلطیاں کی ہیں آج انہیں بھگتنے کا وقت آ چکا ہے، تمھارے سیاستدانوں‌نے ماضی میں امریکہ کی غلامی کرنے کے جو غلط فیصلے کیے کہ انہیں تم نے اور تمھاری مستقبل کی نسلوں نے بھگتنا ہے یہ صرف اسی لیے ہوا کہ تمھارے بڑوں نے اپنے مفادات کو ملکی اور دینی مفادات پر ترجیح دی اور کرپٹ سیاستدانوں کی حمایت کی۔ تم بھی ایسا ہی کرنا جاری رکھو۔ یہ سب تمھاری اپنی ہی غلطیاں ہیں کہ تم مستقبل بعید کے متعلق نہیں‌ سوچتے ۔

ہمیں‌دیکھو ہم آج ہر شعبہ زندگی میں تم سے آگے ہیں، جن راتوں میں تم سو جاتے رہے ہم جاگ جاگ کر مستقبل کے متعلق سوچتے رہے کہ کس طرح ہمیں اپنے آپ کو منظم کرنا ہے، مضبوط کرنا ہے اور آج دیکھو دنیا بھر کا میڈیا اخبارات ٹی وی چینل ہمارے ہیں، ہم ایک پل میں‌تم میں سے کسی محترم بندے کو دہشت گرد ثابت کرنا چاہیں تو چٹکی بجاتے کر سکتے ہیں اور پوری دنیا ہمارے تائید کرے گی۔ تمھارے مخلص لکھنے والے مختلف زاویوں سے لکھ لکھ کر اسلام کو دہشت گردی سے دور کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے لیکن ان کی سنے گا کون۔ تم اپنی ذات کو تھپکیاں دے کر سلاتے رہو۔ یہ جو افلام ہم بناتے ہیں یہ تمھارے مزے کے لیے ہیں۔ ٹام کروز کی پھرتیاں اور کیتھرین زیٹا جونز کی ادائیں تمھیں دکھانے کے لیے ہی تو فلمائی ہیں۔انہیں دیکھتے رہو اور اپنے سیاستدانوں حکومتوں کو بھی تھپیکیاں دیتے رہو۔ یہی تمھارا علاج ہے۔ خواب خرگوش میں جو مزا ہے وہ تلوار اٹھانے میں‌کہاں۔ تمھارہ مؤذن روز صبح چلاتا ہے کہ نماز نیند سے بہتر ہے پر تم میں سے کتنے اس کے پاس پہنچتے ہیں ۔ تم اپنے رب کی بات پر یقین نہیں‌کرتے جو تمھیں محبت سے اپنی طرف بھلا رہا ہوتا ہے تو پھر ہم تمھیں تباہ نہ کریں تو اور کیا کریں ایسی نافرمان قومیں کو کائنات کا خالق ماضی میں تباہ کرتا رہا ہے ، فرق صرف اتنا ہے کہ اب ہم تمھیں تباہ کریں گے۔

میں تو کہتا ہوں کہ مسلمانوں کو جنگ کا اعلان کر دینا چاہیے۔ اور میں اس جنگ میں شامل ہونا چاہوں گا، اگر فیس بک اس اقدام کی حمایت کرتی ہے تو تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ فیس بک کا بائیکاٹ کر دیں اور مسلم حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مستقل طور پر فیس بک کو تمام اسلامی ممالک میں بین کر دیں۔ لیکن اگر فیس بک مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والے قدم کو روکتا ہے تو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

پاک نیٹ پر شائع ہونے والی خبر کا خاکہ

قابل صد احترام پاک نیٹ ممبران اسلام و علیکم ایک ایسی خبر نوٹس میں آئی ہے جسے سن کر دماغ کنٹرول میں نہیں آ رہا ، غصے سے میرا تمام وجود کانپ رہا ہے اور الفاظ ساتھ دیتے نظر نہیں آتے ۔یہ قصہ ہالینڈ ، فرانس اور امریکہ کا ہے ، اور پس پردہ ہاتھ یقینی طور پر یہودیوں کا ۔ ہوا یوں کہ ہالینڈ ، فرانس اور امریکہ میں تمام مسلمانوں کے لیئے انتہائی قابل احترام باعث رحمت دو جہاں حضور پاک  کے خاکے کارٹونوں کے نام سے بنا کر شایع کیئے گئے جس پر تمام دنیا کے مسلمان تڑپ اٹھے تھے اور انتہائی شدید رد عمل سامنے آیا تھا ۔ ان ملکوں کے میڈیا نے اس کو آزادی اظہار کا نام دیتے ہوے آئندہ بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ، جس پر ایک مزاح نگار نے ہولو کاسٹ پر مزاح لکھا اور کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اب یہودی میڈیا کس طرح آزادی اظہار کا ڈھول پیٹتا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں اس صحافی کو ہر جگہ بین کیا گیا حالانکہ وہ بہت اچھا مزاح نگار تھا ۔جن ساتھیوں کو ہولو کاسٹ کا نہیں پتا انہیں بتا دیں کہ ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف ایک تحریک کے انداز میں صفایا مہم چلایہ تھی جس میں فوجوں کو حکم تھا کہ یہودیوں کے بچے بچے کو ہلاک کر دیا جائے ، تاریخ میں یہودیوں کی اس عظیم تر نسل کشی اور قتل عام کو ہولو کاسٹ کہا جاتا ہے ۔اس مزاح نگار کو بین کیئے جانے پر جب اعتراضات شروع ہوے تو یہودیوں نے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیئے ایک اور بے حیائی اور خباثت کا ماظاہرہ کیا ۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر Draw Muhammad Day منانے کا اعلان کیا ہے اس سلسلے میں ایک ویب سائٹ بھی اسی نام سے بنائی گئی ہے ، جس میں باقاعدہ ایک مقابلے کا اعلان کیا گیا ہے اور حضور پاک  کی شان میں گستاخی کے لیئے کارٹون بنانے کی دعوت دی گئی ہے ، ساتھ ہی کچھ انعام وغیرہ اور سپیشل گیلریز کا بھی لالچ دیا گیا ہے ۔یہ دن 20 مئی کو منایا جا رہا ہے ۔ کیا ہم مسلمان گوارہ کر سکتے ہہیں کہ پوری دنیا سے ہمارے پیارے نبی  کی شان میں گستاخی ہو اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں ۔مین ہمیشہ کسی ایسی ہی بات پر کہا کرتا تھا کہ پمیں اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہو گا تا کہ دشمن کو اس قسم کی جرات نہ ہو ، لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے ، میری آپ سب سے گزارش ہے کہ 20 مئی کو ہی ہولو کاسٹ ڈے کے طور پر منایا جائے اور جتنے لوگ کارٹون بنا سکتے ہیں بنائیں ، تا کہ ہمیں ستانے والے یہودی خود بھی اس دن کو انجوائے نہ کر سکیں ۔ہماری حکومت کو سرکاری طور پر اس دن کے خلاف کام کرنا چاہئیے اور بین الاقوامی طور پر اس کی مزمت کی جانی چاہئیے تمام پاک نیٹ ممبران سے اس سلسلے میں بھرپور طریقے سے مزمت اور ہولو کاسٹ ڈے 20 مئی کو منانے کی اپیل کی جاتی ہے ۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Islam, Urdu and tagged , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

7 Responses to مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ

  1. Pingback: Tweets that mention Muslmano ki ghairat ka janaza « Yasir Imran Mirza -- Topsy.com

  2. Pingback: آپکے بلاگ پر تازہ ترین پوسٹ - صفحہ 2 - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز

  3. Mohammad Salim says:

    Yasir brother
    This issue is like our life & death. foreign powers are showing their hate for islam. this is time to get up.

  4. Pingback: FW: مسلمانوں کی غیرت کا جنازہ : 4374

  5. faisal says:

    facebook is involved in this, first thing we should boycott facebook and create our own social site

  6. ہمیں چاہیئے کہ مسلمان ہونے کے ناطے اپنے آپ کو فیس بک سے الگ کر لیں اپنا اکاؤنٹ بند کر لیں

    اپنی دوستی اپنے ان مسلمان بھائیوں کے لئے چھوڑ دیں جو پیغمبر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں
    یا ان لوگوں کے لئے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بھی بے حرمتی نہیں کر سکتے

    ایک حدیث کا مفہوم ہے
    قیامت میں ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس کا ساتھ وہ دنیا میں رکھتا تھا
    کیا ہم ان خبیث لوگوں کے ساتھ اب بھی ہیں
    بس ایونٹ چلا جائے ہم پھر فیس بک پر
    کیا یہی محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے

    ہم اس کے بدلے دوسرے ذرائع کیوں استعمال نہیں کر لیتے
    تا کہ بار بار ایسا عمل کرنے کی نا سوچ سکیں یہ غیر مسلم

    ورنہ ہر سال ایسا ہی ہو گا
    اور ہم 5 سے 10 دن کے لئے فیس بک بند کر کے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دم بھرتے رہیں گے

    کیا ہم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں یا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کے ساتھ؟

  7. Pingback: Facebook in Action again-Burn-Quran-Day (Naauz-billah) | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s