ہندو معاشرہ


ہندو معاشرہ یوں تو تعلیمی طور پر بہت خواندہ ہونے کا اعلان کرتا پھرتا ہے،لیکن آج کے دور میں بھی ہندو معاشرے میں ایسی قبیح اور فضول رسمیں موجود ہیں جو مکمل جہالت کی نمائندگی کرتی ہیں، جیسےلڑکی کو شادی کے بعد آفات سے محفوظ کرنے کے لیے شادی سے قبل ہی درخت، گھڑے یا کتے سے اسکی عارضی شادی کروانا، بیٹی کو پیدا ہونے کے فورا بعد قتل کر دینا، لمبے چوڑے جہیز کا مطالبہ کرنا، ذات پات کا چکر، اور لڑکے کے والدین کا شادی کے موقع پر لڑکی والوں سے رقم کا تقاضا کرنا شامل ہیں۔

گزشتہ کچھ دنوں سے ایک ہندوستانی ٹی وی چینل پرایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں ملک کا ایک مشہور بزنس مین مڈل کلاس خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ۱۷ لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کاانتخاب ٹی وی پر براہ راست کرتا ہے۔یہ سارا سلسلہ ایک پروگرام کی کچھ اقساط کی صورت میں ریکارڈ کیا گیا، ہر اگلی قسط میں ایک ایک لڑکی کم ہوتی جاتی ہے اور آخری چند اقساط میں صرف تین لڑکیاں باقی رہ جاتی ہیں جن میں سے کسی ایک نے دلہن منتخب ہونا ہوتا ہے پھر یہ لڑکیاں اکٹھے کچھ دن لڑکے کے ساتھ گھومنے پھرنے میں گزارتی ہیں۔ اور تمام وہ رسمیں ہوتی ہیں جو شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے خاندان کے درمیان انجام پاتی ہیں،

حتی کے بارات کے دن تک تینوں لڑکیاں دلہن بن کر شادی ہال میں موجود ہوتی ہیں، اور ان تینوں کے خاندان بارات کا استقبال بھی کرتے ہیں، جب سب مہمان آ جاتے ہیں تو تینوں دلہنوں کو سٹیج پر بلایا جاتا ہے، ان کے ماں باپ بھی ایک تقریب میں موجود ہوتے ہیں، اب ان تینوں دلہنوں میں سے ایک کو لڑکا مالا پہنا کر اپنی دلہن کے طور پر منتخب کرتا ہے جب کہ دوسری دو روتی ہوئی سٹیج سے اتر جاتی ہیں۔ اس رسم کو ہندو سوئمبر کا نام دیتے ہیں۔
انڈیا میں آجکل رئیلٹی شوز کا طوفان آیا ہوا ہے،ہر کوئی مختلف قسم کا خیال پیش کر کے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں ہے۔ لیکن ان رئیلٹی شوز کی آڑ میں انسانی جذبات سے کھیلنا، یا لڑکیوں کو بکریوں کی طرح سجا کر لڑکے کے سامنے پیش کرنا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو منتخب کر لے، مجھے تو یہ طریقہ کار انتہائی غیر اخلاقی محسوس ہوا۔عام طور پر اگر کسی لڑکے یا لڑکی کا رشتہ ریجیکٹ ہو جائے تو یہ بات اسے بہت بے عزتی محسوس ہوتی ہے، لیکن ایک لڑکی کو دلہن کا لباس پہنا کر سب کے سامنے اسے ریجیکٹ کرنا کیا ایک قابل تعریف امر ہو گا؟
لیکن شاید یہ رویے ہندو لڑکیوں کے لیے ایک عام سی بات ہوں کیوں کہ وہ بچپن سے ہی ایسے رویوں کی عادی ہوتی ہے، یقینن اسلام ایک دین فطرت ہے جو عورت کو سب سے زیادہ عزت اور حقوق دیتا ہے۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

4 Responses to ہندو معاشرہ

  1. السلام علیکم ورحمۃ وبرکتہ،
    یاسربھائی، آپ نےبہت اہم پوائنٹ کی طرف توجہ دلائي ہےلیکن ہم لوگوں میں انڈیاکاگھلیمبراتناسرپرچڑھ گیاہےکہ ہم بھی اس سےمزےلیتےہیں بلکہ اس کےخلاف توآوازبلندکرنی چاہیےجیسےکہ آپ نےکی ہے۔اللہ تعالی آپ کاحامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  2. Yasir Imran says:

    وعلیکم السلام جاوید بھائی
    صحیح فرما رہے ہیں، اصل میں ملک میں دیگر مسائل کو اس قدر بڑھا دیا گیا ہے کہ متعلقہ افراد اس طرح کے مسائل کی بجائے، آٹا، دال، بجلی اور پانی کے چکر میں الجھے ہیں۔
    بہت شکریہ میرے بلاگ پر آنے اور کمنٹ دینے کا

  3. Pingback: ہندو مت چار ذاتیں اور ہم | Yasir Imran Mirza

  4. Pingback: سٹار پلس ڈرامے ہمارے معاشرے کےلیے کیوں موزوں نہیں؟ | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s