لڑکپن میں اپنا ویاہ چاہتا ہوں


لڑکپن میں اپنا ویاہ چاہتا ہوں

لڑکپن میں اپنا ویاہ چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

یہ موٹر یہ کاریں میں کب مانگوں ابا؟
ہاں گوری سے میں بس نکاح چاہتا ہوں

بہت جرم تنہائی کے کر لیے ہیں
میں اب “ زوج“ کی ہی سزا چاہتا ہوں

نہیں غرض مجھکو فرائض شرعی کی
نکاحوں کی سنت ادا چاہتا ہوں

کتابوں کے پڑھنے کی حاجت ہے کس کو
میں ویزہ کسی ملک کا چاہتا ہوں

ہوں مسجد بھی جاتا اور بھُونڈی بھی کرتا
میری دو رُخی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں

(سنجیدہ)

رضا ہو اثر کیسے میری دعا میں
عمل سے ہوں عاری ، جزا چاہتا ہوں


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Poetry, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

5 Responses to لڑکپن میں اپنا ویاہ چاہتا ہوں

  1. بہت اعلا بھئی۔۔۔ ہاہاہا

  2. Yasir Imran says:

    خوش آمدید عمار
    پسند کرنے کا شکریہ۔

  3. خاور says:

    بہت اعلٰی 😀

  4. عمران بھائی
    اگر طبع زاد ہے تو آپ کی طبع موزوں ہے ۔ اس پر مزید طبع آزمائی بھی کرتے تو خوب تھا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s