گزشتہ دنوں امریکی صدر بارک اوبامہ نے جن برہنہ کیمروں کی تنصیب کا اعلان کیا ہے وہ جلد یا بدیر تمام اسلامی ممالک کے ائیرپورٹس پر نصب کردئیے جائیں گے اور اس کام پر نوے ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یہ کیمرے کپڑوں میں پنہاں جسم کی خطی تصویر ہی مہیا نہیں کریں گے بلکہ یہ زندہ رنگوں میں بھرپور اصل جسم انسانی کی تصاویر اس طرح پیش کریں گے کہ گویا کسی نے کپڑے اتار کر کسی عمدہ کیمرے سے انتہائی تفصیل کے ساتھ جسمانی خدوخال کو قدرتی حالت میں محفوظ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (حزف)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ صفحات اس برہنگی اور بے ہودگی کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ دکھایا جاسکے کہ کس طرح دست یاب نقوش کو بٹن کے ایک ہی کلک نے زندہ انسانی ننگی تصویر میں تبدیل کردیا ہے، صرف یہی نہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔(حزف)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، یہ مشین صحت کے لئے بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ایک مرتبہ اس مشین سے گزرنے میں اتنی شعاعیں پڑتی ہیں جتنی کہ دس ہزار مرتبہ موبائل فون سے کال وصول کرنے پر نہیں پڑتی ہیں ابھی ان کیمروں کے مضر اثرات کا مکمل پتہ نہیں چلا ہے۔ مسلمان ممالک کے مسافروں پر تجربات کے بعد 2010ء کے آخر میں معلوم ہوگا کہ یہ کتنے نقصان دہ ہیں۔ اگر چہ کہ ایسے بھی کیمرے دست یاب ہیں کہ جو جسم کے خدوخال نہ دکھائیں بلکہ جسم پر چسپاں صرف بیرونی چیرزوں کی تصاویر مہیا کریں مگر شوق برہنگی کو کیا کہئے کہ جب تک سارے مسلمان مسافروں کو اندر سے دیکھ نہ لیا جائے!شروع میں کہا گیا کہ یہ کیمرے مردانہ و زنانہ شرمگاہوں کو بہت وضاحت سے نہیں دکھائیں گے
بلکہ ان جگہوں کو ذرا دھندلا دیں گے لیکن اب یہ بات لندن گارجین کے صحافی کی تحقیق کے بعد واضح ہوچکی ہے کہ مردانہ ہوں یا زنانہ، اعضاء بہت وضاحت کے ساتھ، گویا کہ اصلی فوٹوز کی مانند ہوں گے اور ان کیمروں سے اسکرین پر درآمد ہوں گے جنہیں اصل رنگوں میں پرنٹ بھی کیا جاسکے گا۔اکتوبر 2008ء میں جب پہلی مرتبہ ان ننگے کیمروں کو آسٹریلیا کے ملبورن ائیرپورٹ پر نصب کیا گیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ شرمگاہوں کی تصاویر کو دھندلانے کی کوشش میں سیکورٹی متاثر ہورہی تھی چناں چہ دھندلانے کو غیرضروری اور سیکورٹی کے مقاصد کے منافی قرار دے دیا گیا۔اخبارات اور ٹی وی میں آپ کے اور آپ کے بیٹے اور بیٹیوں کے شرمگاہوں کو دھندلانے کی جوبھی باتیں کی جارہی ہیں وہ ایک جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ جب ائیرپورٹس پر آپ ان کیمروں کے سامنے سے گزریں گے تو اور آپ کے بچوں کے جنسی اعضا برابر والے کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے بالکل عیاں ہوں گے۔ جہاں وہ نگاہیں مرکوز کرکے بہت غور سے ان جگہوں میں چھپائی گئی کسی چیز کو تلاش کررہے ہوں گے اور ان نقوش کو صرف ایک بٹن کے کلک سے زندہ برہنہ تصویر میں تبدیل کیا جاسکے گا تاکہ کام کے بوجھ تلے دبے سیکورٹی آفیسر جنسی لطف اندوزی سے ”بہرہ ور“ ہوکر تازہ دم رہا کریں۔ان کا منصوبہ یہ ہے کہ ”برہنہ جسم کیمرے“ تمام مسلم ممالک کے ائیرپورٹس پر نصب کی جائیں اور وہ ہوائی مسافر جو امریکا کے لئے عازم سفر ہوں وہ ان کیمروں سے گزر کر امریکی ایمبسی کے مقرر کردہ ملازمین کے سامنے کپڑے اتارنے کی زحمت کئے بغیر ننگے گزرتے ہوئے اپنی تلاشی دے سکیں اور جلد ہی یہ کیمرے تمام مغربی ممالک کو جانے والے مسافروں پر لاگو ہوجائیں گے۔ اور پھر ممکن ہے کہ واپسی پر آپ کا کوئی رشتہ دار، دوست، ہمسایہ جو ائیرپورٹ پر اس کام پر مامور ہو وہ آپ کی اور آپ کی بیٹی کی برہنہ تصاویر کے ساتھ واپسی پر ملاقات کرے۔ ایک رپورٹ یہ ہے کہ کرسمس کے موقع پر نائیجیریا کے باشندے عبدالمطلب نے جو جہاز کو جلانے کی کوشش کی اور جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ اپنے انڈر وئیر میں کوئی دھماکہ خیز مادے کی شیشی چھپا کے لایا تھا جو محض ایک ڈرامہ تھا تاکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے انڈر وئیر کے اندر جھانکنے بلکہ بغور دیکھنے کا جواز حاصل کیا جاسکے… اور انہیں اس کا حاصل کیا ہے سوائے اس کے کہ وہ ہمیں ہماری ذلت اور رسوائی کا احساس دلائیں اور آتے جاتے مسلم حکمرانوں اور زعماء کی ”عمدہ“ تصاویر بناتے رہیں اور ان سے اپنے کام نکلوانے کے لئے انہیں بلیک میل کرسکیں!
کرنے کے کام
آگاہی پیدا کیجئے کہ اکثر لوگوں کو اس بے ہودہ اسکیم کا علم ہے نہ اس کے عواقب و نتائج کا۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس غیرضروری جسمانی تلاشی اور ذاتی زندگی میں دخل اندازی کے خلاف چارہ جوئی کی جائے اور ایسا کرنے والوں کی مدد کی جائے۔
ان کیمروں کے ذریعے خواتین کے وقار کی پامالی کو موضوع بنایا جائے، عورتوں کے حقوق کی علمبردار تنظیمیں اس پامالی کے بعد کوئی کام نہیں کرسکیں گی۔
اسی طرح بچوں کے حقوق کی علمبردار تنظیمیں بھی میدان میں آئیں اور یورپ اور امریکا میں موجود اور لاگو قوانین (جو بچوں کی برہنگی کے خلاف ہیں) کی مدد سے ان کیمروں کی مذمت کی جائے اور ان کیمروں کو ان قوانین سے مستثنٰی قرار دینے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔
ساری دنیا کے مسلمان علماء کو آمادہ کیا جائے وہ تمام مسلم ممالک کی حکومتوں کو بیک آواز متنبہ کریں کہ وہ اپنے ممالک میں ان برہنہ کیمروں کو نصب نہ ہونے دیں اور ساتھ ہی ہماری حکومتیں باقی ساری دنیا سے بھی احتجاج کریں۔
مسلم عوام اپنی مسلم حکومتوں سے اپنے وقار اور عزت کے تحفظ کا مطالبہ کریں۔
بین المذاہب گروپس بنائے جائیں خاص طور پر اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے مذہبی سربر آوردہ لوگ مل کر بے حیائی کی اس انتہا کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنائیں جو اس اسکیم کے خلاف بلاتفریق مذاہب آواز اٹھائیں۔
تسنیم احمد
روزنامہ جنگ
30جنوری2010
——————–
کیا امریکہ و یورپ میں مستقل رہائش رکھنے والے پاکستانی یا مسلمان خاندان ایسے اقدام کو قبول کریں گے ؟
محترم یاسر صاحب
اگر ہلری کلنٹن یہ کالم پڑھیں تو یہ کہیں گی کہ کسی کو ہم نے دعوت دے کر امریکہ تو نہیں بلایا ۔ جو نہیں آنا چاہتا نہ آئے ۔ یہ ننگا پن تو ہماری تہذیب کا ایک حصہ ہے ۔ آپ انے حساس ہیں تو اپنے اپنے ملکوں میں تشریف رکھیں ۔
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی یہ توانتہائی شرمناک کام ہے۔خدارامسلمانوں اٹھوآپکی غیرتیں کہاں سوگہیں ہیں ہیں جوامریکہ یہ اقدام کررہاہے9/11کےبعدامریکہ نےمسلمانوں کوبدنام کرنےاوررسوا کرنےکےلیےکونساایساکام ہےجوکہ نہیں کیااب توہوش کےناخن لو۔
والسلام
جاویداقبال
کسی مسلمان ملک میں تو ان کیمروں کی تنصیب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ہاں اپنے یہاں ضرور کریں گے لیکن اس کے لئے انہیں حقوق انسانی والوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ویسے یہ بات بھی کبھی سوچی کہ ہر پٹاخہ مسلمان کیوں نکلتا ہے؟
خرم بھائی
گمان تو مجھے بھی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا، تاہم جس طرح کی مسلمان ممالک کے سربراھان کی حرکتیں ہیں ، بدیر ایسا ہونا ناممکن بھی نہیں۔
آپ کا سوال کہ پٹاخہ مسلمان کیوں نکلتا ہے اس کا جواب مجھے تو نہیں پتا، آپ کو پتہ ہے تو بتا دیں۔
فکر انگیز باتیں ہیں بھاءی جان کچھ کرو بھٹی صاحب