گڑیا کو قتل کس نے کیا؟


who killed the doll

who killed the doll


“پشاور کے مینا بازار میں
گڑیا کو قتل کس نے کیا؟
وہ گڑیا جس نے
پہنے تھے سفید کپڑے
جو سرخ ہو گئے
اپنی سہیلی کے خؤن میں!
وہ گڑیا جس کے سونے جیسے بال
جل کر راکھ ہوئے
وہ راکھ جو اُڑتی رہی
اس شہر میں’جہاں دھماکے کے بعد
آہیں آسمان کو چھوتی رہییں
اور پوچھتی رہیں
“گڑیا کو قتل کس نے کیا؟”
کیا جواب ہے کسی وزیر کے پاس
اس شہر کے کسی امیر کے پاس
جس شہر کی غریب گڑیا
قتل ہوئی “کس جرم میں؟”
کیا جرم ہے گڑیا ہونا؟
“رنگ اور روشنی کی پڑیا ہونا!”
کیا میں بھی اس گڑیا کی طرح
“قتل ہو جاؤں گی کسی روز؟”
درد بھری انگلیوں سے
پکڑے ہوئے قلم کی معرفت
اس نے پوچھا اپنے آپ سے!
اس نے لکھا نہیں
مگر لکھنا چاہا
اگر کسی روز میں بھی قتل کی جاؤں
اس گڑیا کی طرح
تو میری قبر کے کتبے پر لکھوانا
“لکڑی جلی کوئلہ بھئی، کوئلہ جلا بھئیو راکھ
میں برہن ایسی جلی نہ کوئلہ نہ بھئی راکھ”
(لکڑی جلتی ہے تو کوئلہ کہلاتی ہے اور اور کوئلہ جل جائے تو راکھ کہلاتا ہے۔ لیکن میں تو ایسی جلی ہوں کہ نہ کوئلہ کہلا سکتی ہوں نہ راکھ)


بشکریہ روزنامہ امت کراچی


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Poetry, Urdu and tagged , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

7 Responses to گڑیا کو قتل کس نے کیا؟

  1. اللہ ان لوگوں کو عقل رحم اور سمجھ عطا کرے
    اور گر یہ قابل اصلاح نہیں تو ان کو نیست و نابود کر دے

  2. Yasir Imran says:

    طارق صاحب
    آمین، اور اللہ تعالی ہم سب پاکستانیوں کو سیدھا راستہ دکھائے اور ہماری منزل کا تعین کرنے میں ہماری مدد فرمائے۔ ثم آمین

  3. شازل says:

    اس گڑیا کے قاتل وہ لوگ ہیں جو مذہب کی آڑ میں قتل کرتے پھر رہے ہیں

  4. اس گڑیا کے قاتل وہ ہیں جو پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔

  5. Yasir Imran says:

    شازل صاحب اور میرا پاکستان

    کیا ضروری ہے کہ قتل کرنے والا ہی قاتل ہو ؟ قتل کے لیے منظوری دینے والا قاتل نہیں؟ قتل کے لیے اسلحہ دینے والا قاتل نہیں؟ قاتل کو ڈالروں کے عوض خریدنے والا قاتل نہیں؟ وہ سپاہی قاتل نہیں جس نے ناکے سے قاتل کو گزرنے دیا؟ وہ سیاستدان قاتل نہیں جس نے ڈالر قبول کر کے قتل پر خاموشی اختیار کر لی؟ وہ فوجی جرنیل قاتل نہیں جس نے اس ملک سے وفاداری کا حلف لیا، مگر ڈرون کے حملے پر چپ سادھ لی

    کہیں یہ وہی سب تو نہیں جنہیں ہم آپ نے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا، ان کے پاس اختیار ہے لیکن یہ چپ ہیں ، کیا یہ قاتل نہیں ؟

  6. شازل says:

    بے شک سب برابر کے شریک ہیں
    آج کے دھماکے میں سنا ہےکہ بینک کے باہر حملہ آور نے جب لوگ تنخواہیں نکلوا رہے تھے خود کو آڑا لیا۔
    کیا اب آرمی کے پاس یہ آپشن نہیں کہ وہ بھی اس شخص کے قبیلے کے لوگوں پر بے دریخ بمباری کرے،

  7. Pingback: مقصد علامہ اقبال یکسر مر گیا | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s