براک اوباما کو امن کا نوبل انعام، مگر کس لیے ؟


بی بی سی کی خبر کے مطابق امریکہ کے صدر براک اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس سال جنوری میں اقتدار سنبھالا تو پوری دنیا کا حال ایسا تھا کہ اسے فیض احمد فیض کے اس شعر میں ہی سمیٹا جا سکتا ہے جس میں رات ڈھلے محبوب کی یاد آنے پر ویرانے میں چپکے سے بہار آتی ہے، صحراؤں میں ہولے سے باد نسیم چلتی ہے اور بیمار کو بے وجہ قرار آ جاتا ہے۔ یقیناً اس کی ایک وجہ تو سابق امریکی صدر جارج بش کا جانا تھا۔ لیکن شاید اس سے کہیں بڑی وجہ براک اوباما کے ارادوں کی گھن گرج تھی جو امریکہ کے مغربی ساحلوں سے لیکر وسطی ایشیا کے کوہ قاف تک گونج رہی تھی۔ عہدہ صدارت سنبھالنے کے نو ماہ بعد امریکی صدر براک اوباما کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے


obama-nobel-prize

لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ اوباما کو یہ اعزاز کس لیے دیا گیا، اوباما کے آنے کے بعد بھی امریکی پالیسیاں ویسے ہی چل رہی ہیں جیسے اوباما سے پہلے چلتی تھیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ، فلسطینیوں کا قتل عام، ڈرون حملے، امریکہ کی بڑی بڑی اسلحہ کی ڈیلز، گوانتا ناموبے جیل میں داڑھی والوں کی چھترول وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر اوباما کو یہ اعزاز دینے کی کیا وجہ ہے، اوباما نے خالی بیانات ہی دیے ہیں، مصر میں مسلمانوں سے خطاب کیا ہے جو کچھ لوگوں کو بہت متاثر کن لگا، لیکن عملی طور پر اوباما نے کیا کیا، ویسے تو یہ اعزاز مغرب کا تخلیق کردہ ہی ہے، اور ہمیں کوئی اعتراض نہیں وہ جسے چاہیں دیں، مگر کیا اعزاز کا فیصلہ کرنے والے اتنے بودھے ہیں کہ انہیں کوئی ایسا بندہ نہیں ملا جس نے واقعی امن کے لیے کوشش کی ہو۔ اس سلسلے میں بی بی سی کی خبر کی آخری لائن بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

بہت سے لوگوں کے ذہن میں اب یہ سوال ابھر رہا ہے کہ براک اوباما کے وعدوں پر اس عرصے میں عمل کتنا ہوا ۔ یعنی ان کی انتخابی جیت پر بیمار کو آنے والے قرار کی کوئی وجہ تھی یا یہ سب شاعری ہی ہے۔


obama

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Urdu and tagged , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

6 Responses to براک اوباما کو امن کا نوبل انعام، مگر کس لیے ؟

  1. ماوراء says:

    اوبامہ بیچارا تو خود پریشان ہے کہ مجھے کس لیے انعام دیا گیا۔ اور یہ کہ وہ اس کا حقدار نہیں ہے۔
    باقی خدا جانے نارویجین نوبل کمیٹی والوں کو کیا سوجھا جو اوبامہ کو یہ انعام دے دیا۔

  2. Yasir Imran says:

    انعام کے ساتھ چودہ لاکھ ڈالر کی رقم بھی ہے، جو اوباما کی ساڑھے تین سال کی تنخواہ کے برابر ہے

  3. اس حوالے سے ایک اخبار میں زبردست کارٹون بھی چھپا تھا جس میں ایک بچہ اوباما کو کہتا ہے “حیران نہ ہوں یہ ایک اسرائیلی وزیراعظم کو بھی مل چکا ہے”۔
    نوبل انعام کی ساکھ اسی طرح کے فیصلوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
    ویسے شکاگو کے لیے اولمپکس کی میزبانی نہ جیتنے کا اوباما کو بڑا غم تھا، بیچارہ میزبانی کے حصول کے لیے چل کر کوپن ہیگن، ڈنمارک گیا، جہاں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا اجلاس تھا لیکن اس کے باوجود میزبانی ریو ڈی جنیرو، برازیل کو مل گئی۔ شاید یہی غم غلط کرنے کے لیے اسے نوبل انعام دیا گیا ہو :) واللہ اعلم

  4. یاسر پہلے تو بلاگ کو مزید خوبصورت بنانے پر مبارک باد ۔ ویسے یہ سمجھ سے باہر ہے کہ اوباما نے ایسا کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ بھی امن کے حوالے سے ۔ ابھی تک تو کہیں امن ہوا نہیں ۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ جہاں وہ رہتا ہے ، آس پاس امن ہو ۔ پہلے اسکے مسلمان ہونے پر بڑا چرچا کیا گیا ۔ کہ یہ مسلمان ہے ،، ااب ہم مسلمانوں کے لیے کئچھ سوچے گا ۔ لیکن کب اب یہ انتظار ہے دعا کرو کہ یہ نوبل انعام پانے کے بعد شاہد تھوڑی شرم اور احساس جاگ جائے ،

  5. بودھے؟۔۔ بلکہ بودے۔۔

    ماوراء نے لکھا ہے۔۔۔باقی خدا جانے نارویجین نوبل کمیٹی والوں کو کیا سوجھا جو اوبامہ کو یہ انعام دے دیا۔۔۔۔ میرے خیال میں یہ نارویجن نہیں بلکہ غالبا سویڈش نوبل فیملی کا پرائز ہے۔

    میں نہیں سمجھتا یہ ام کا پرائز اوباہ کے ہاتھ پاؤں باندھ سکے۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی حکومتوں میں افراد کی وہ اہمیت نہیں ہوتی جو ہمراے ہاں دیسی حکومتوں میں پدرم سلطان بود لوگوں کی ہوتی ہے۔ وہاں حکومتوں کے آنے جانے سے پالیسیز بہت کم بدلی جاتی ہیں۔

    اس سللسے میں محترم ابو شامل صاحب کی رائے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ پرائز تو اسرائیلی وزیر اعظم کو بھی مل چکا ہے۔

  6. talkhaaba says:

    اس موضوع پر انگریزی زبان میں ایک بہترین ارٹیکل ، خصوصی طور پر درج ذیل الفاظ جو لنک سے پہلے دیے جارہے ہیں۔

    When war becomes peace,

    When concepts and realities are turned upside down,

    When fiction becomes truth and truth becomes fiction.

    When a global military agenda is heralded as a humanitarian endeavor,

    When the killing of civilians is upheld as “collateral damage”,

    When those who resist the US-NATO led invasion of their homeland are categorized as “insurgents” or “terrorists”.

    When preemptive nuclear war is upheld as self defense.

    When advanced torture and “interrogation” techniques are routinely used to “protect peacekeeping operations”,

    When tactical nuclear weapons are heralded by the Pentagon as “harmless to the surrounding civilian population”

    When three quarters of US personal federal income tax revenues are allocated to financing what is euphemistically referred to as “national defense”

    When the Commander in Chief of the largest military force on planet earth is presented as a global peace-maker,

    When the Lie becomes the Truth.

    http://www.globalresearch.ca/index.php?context=viewArticle&code=CHO20091010&articleId=15622

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s