اسلامی علوم کے متعلق معاشرے کا رویہ


خرم بھائی نے اپنے بلاگ پر عیسائیوں پر ہونے والے ظلم اور دو آئمہ کا ذکر کیا، ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ ہمارے آئمہ ایسے رویے کے مالک کیوں ہیں۔ آخر کیوں بار بار سادہ لوح عوام کو مشتعل کر کے کسی ایک فرد یا گروہ پر ظلم کروایا جاتا ہے۔ میں نے اپنا نقطہ نظر کچھ حد تک وہاں تبصرے میں بیان کیا، باقی یہاں بیان کرتا ہوں۔

ہمارے معاشرے کےاسلامی تعلیم سے متعلق رویوں نے کچھ ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ مدرسوں سے فارغ ہونے والے زیادہ تر طلبا کند ذہن اور نالائقوں کا گروہ ہوتے ہیں، اور ان میں سے جو کوئی تیز طرار ہو وہ اسلامی تعلیم تو حاصل کر لیتا ہے مگر عملی زندگی میں اپنا تعلق اسلامی علوم سے وابستہ نہیں رکھتا۔
لوگوں کا رویہ کچھ ایسا ہے جو بچہ سکول میں پڑھ نہیں پاتا یا کسی طرح سے جسمانی نقص والا ہوتا ہے ہم اسے حافظ قران بنانے کے لیے مدرسہ میں ڈال دیتے ہیں، ہمارے ملک کی کریم یعنی بہترین ذہن رکھنے والے طلبا پہلے انگلش میڈیم سکولوں میں جاتے ہیں جہاں آکسفورڈ کا سیلبس رائج ہوتا ہے، جس میں اسلامی علوم برائے نام ہوتے ہیں اور بیشتر واقعات کو ایسے متعصبانہ انداز سے لکھا جاتا ہے کہ طلبا ان واقعات کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہوسکتے۔ سکولوں سے فارغ ہونے کے بعد یہ کریم فاسٹ اور لمز جیسے انسٹیٹیوٹس میں جاتی ہے، پھر وہاں سے امریکہ یا لندن جا کر اپنے ملک کو بھول جاتی ہے۔ یہ ربط دیکھیے، کس طرح آکسفورڈ کے نصاب میں اسلامی واقعات میں تبدیلی اور ابہام پیدا کیا جارہا ہے
جب ہم یونیورسٹی جاتے ہیں تو پروفیشنل تعلیم کی طرف راغب ہوتے ہیں جبکہ ایم اے اسلامیات ہماری نظر میں کسی کام کا نہیں ہوتا۔ہم ڈاکٹر اورانجنئیر کو تو عزت دیتے ہیں مگر مولوی صاحب کو دو کوڑی کا نہیں سمجھتے۔
ہم شکایت کرتے ہیں کہ اسلامی تعلیم والے مدرسوں میں پڑھانے کا طریقہ کار سختی پر مبنی ہے،کیا ہمارے ملک کا بہترین ٹیلنٹ اسلامی علوم کی طرف آتا ہے ؟ جو ہم توقع کریں کے مدرسوں میں اعلی درجے کے اساتذہ ہوں۔ جب ہم اسلامی علوم میں کچھ اچھا انویسٹ نہیں کریں گے تو ہمیں اچھی آؤٹ پٹ کیسے ملے گی۔ انویسٹ منٹ سے مراد اچھے ذہنوں کی انویسٹ منٹ ہے نہ کہ روپے پیسے کی۔ عوام تو اپنی جگہ، حکومت بھی اسلامی تعلیم کو کم سے کم کرنے پر مصر ہے، اسلامیات کا نصاب، قرانی آیات کم کی جارہی ہیں۔
ہمارے امام مسجد معمولی تنخواہ پر ملازم ہوتے ہیں، محکمہ اوقاف کے بڑے افسران تمام فنڈز کھا جاتے ہیں، زیادہ تر امام مسجد کو تنخواہ بھی نہیں ملتی بلکہ انہیں محلے والوں کے فنڈ پر گزارا کرنا پڑتا ہے، ۔ امام مسجد کی بیٹی کا رشتہ کوئی نہیں لیتا۔ امام صاحب کے گھرکبھی کسی کے گھر سے کھانا جاتا ہے کبھی کسی کے گھر سے کھیر اور حلوہ، اور جو امام صاحب اور ان کے بچے ترسے ہوتے ہیں کچھ اچھا کھانے کو،جب ہم انہیں رغبت سے کھاتے دیکھتے ہیں تو ہم یہ مشہور کر دیتے ہیں کہ مولوی تو حلوہ کھانے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ حلوہ کھانے کے لیے فتوی تک جاری کر سکتے ہیں ۔جب تک ہم امام مسجد اور مولویوں کو معاشرے میں ایک مقام نہیں دیں گےتب تک وہ واقعی حلوے کے شوقین رہیں گے۔
ملک میں ایسے خوفناک حادثات کوروکنے کےلیے قانون پر عمل درامد کروانا حکومتی ذمہ داری ہے اور اسکا سدباب کرنے کے لیے بہتر قانون سازی کرنا بھی، لاوڈ سپیکر کا غلط استعمال ایسی اندھی عوامی تحریکوں اور بے وقوفیوں کو جنم دیتا ہے،یہاں سعودی عرب میں اس مسئلے کا بہت اچھے طریقے سے حل کیا گیا ہے۔ علما کو اپنے ذاتی بیانات اور خیالات بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ محکمہ اوقاف ایک تحریری خطبہ ہر جمعہ کے موقع پر ہر مسجد میں فیکس کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ لاوڈ سپیکر کو استعمال نہیں کیا جاتا۔ اگر پاکستان میں بھی ایسا نظام بنا دیا جائے تو یقیناً بہت سارے غیر اخلاقی واقعات نہیں ہوں گے۔
بعض لوگ صرف نیک نامی حاصل کرنے کے لیے داڑھی رکھ لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد ان کا شمار بھی دینی لحاظ سے اچھے ناموں میں ہونے لگتا ہے، ایسے افراد جب کوئی غلط کام کرتے ہیں تو بدنامی دین کی ہوتی ہے، اگر برقعہ پہن کر چور چوری کرنے لگ جائے تو بدنامی برقعہ پہننے والی تمام عورتوں کی ہو گی۔ انسانوں کا کوئی طبقہ بھی سوائے انبیا کے معصوم نہیں، میری اس تحریر کا یہ مقصد نہیں کا تمام مولوی حضرات معصوم ہیں اور تمام مدارس بہترین طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں، یقینن ہمارے بیشتر علما اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے نہیں نبھا رہے، لیکن وہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور بل واسطہ یا بلاواسطہ ہمارا معاشرہ ہی ان مشکلات اور بے ترتیبیوں کا ذمہ دار ہے


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Islam, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

8 Responses to اسلامی علوم کے متعلق معاشرے کا رویہ

  1. خرم says:

    بھائی ۔ دین کی تعلیم آپ اپنی عاقبت اور دُنیا سنوارنے کے لئے حاصل کرتے ہو نہ کہ دُنیا سنوارنے کے لئے۔ اگر کسی کو معاوضہ پر امام یا مؤذن رکھا جاتا ہےتو اس کا معاوضہ یقیناً باقاعدگی سے ادا کرنا چاہئے اور بطریقِ احسن۔ لیکن دینی تعلیم کا اگر مقصد معاشرہ میں اعلٰی مقصد حاصل کرنا ہے تو پھر یہ تو پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی۔ پھر تو جہاں دنیاوی مقصد نظر آئے گا وہیں دین کو موڑ توڑ دیا جائے گا۔ رہی بات سعودی عرب کی تو وہاں تو اسلام کا ایک خاص ورژن ہی “جائز” ہے اور خطبہ اس لئے فیکس کیا جاتا ہے کہ تمام “علمائے کرام” اپنی ااوقات میں رہیں اور جوش خطابت میں کہیں “ظل الٰہیوں” کے خلاف کچھ نہ بول دیں۔ آخر کو جس معاہدہ کے تحت سعودی عرب میں صرف ایک فرقہ کا اسلام پھیلانے کی اجازت ہے اسی معاہدہ کے تحت سعود خاندان کی بادشاہت کے خلاف بولنا بھی منع ہے۔ دین کو دنیا کے لئے استعمال کرنے کی اس سے بڑی مثال امت مسلمہ میں اس وقت موجود نہیں۔

  2. خرم says:

    پہلا جملہ تھا “دین کی تعلیم آپ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے حاصل کرتے ہو نہ کہ دُنیا سنوارنے کے لئے””

  3. Yasir Imran says:

    خرم بھائی
    جب ہم کہتے ہیں کہ معاشرے کے ہر پہلو میں اصلاحات متعارف کرانی چاہیں، جیسے آرٹ، کھیل، ثقافت
    ان شعبوں میں اصلاحات کے لیے حکومتی سرپرستی یا منسلک افراد کے لیے مالی فوائد بہت ضروری ہیں
    کیا دین کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان کو اپنا پیٹ کاٹ کر پھینک دینا چاہیے ؟
    یا اپنے بیوی بچوں کی کفالت کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے اس سے، جب ایک بندہ مالی طور پر آسودہ نہ ہو، جب اس کے بچے اچھے رزق کے لیے ترس رہے ہوں وہ دنیا اور دین پر کیسے توجہ دے سکتا ہے۔ یہی المیہ ہے ہمارے معاشرے کا
    ————————————————
    پھر تو جہاں دنیاوی مقصد نظر آئے گا وہیں دین کو موڑ توڑ دیا جائے گا
    ————————————————
    یہ بات اس صورت حال میں بھی وقوع پذیر ہو سکتی ہے، جب پیٹ میں کچھ نہ ہو، تو مالی فائدے کے لیے کوئی بھی کسی قسم کا فتوی مانگے ساتھ میں بابا جی کی تصویر دکھائے تو کچھ مشکل کام نہیں ہو گا، لیکن اگر ہم ان افراد کو معاشرے میں ایک اچھا مقام دے دیں تو یقینن ایسے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔

    رہی بات سعودی عرب والی
    سعودی عرب دینی لحاظ سے درست سمت میں نہیں، اس بات میں مجھے کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہوا ہے، وہ ہمارے معاشرے میں انتشار پھیلانے والے واقعات میں کمی لا سکتا ہے۔ میرا مقصد سعودی عرب کی بادشاہت، یا فرقہ ورانہ دین، یا تبلیغ نہیں۔

  4. mai yasir bhai ki bat se motafiq hon
    hum sab ko future mai pese kamany ka soch rakha hota hia
    bachy ko Dr banain ge engr ya pailet
    achi post dilain ge
    bara ho kr khoob pese kamay ga

    koi islamic madaris mai dakhil hi nai krwata
    hifz b krwany se pehle socha jata hia khandan wale kia kahin ge

    or ab to madaris ko hi tanziya goftogo ka ahem joz samjha jane llaga hai

    kiisi ne islami matain shoro kin on ko MOLLA ka naam de dia

    bhai janazy k liye b wohi molla bolay jaty hain
    ab is qabil to hum rahy nai k khod hi janazy parhane lagain

    bachon ko zarori nai k MOLLA banaya jay pr
    deen ka nisab aalim banana or Islamic scholar banany k liye aaj maashre se larna parta hai
    na sirf khod bhagty hain balke on ko bora b kaha jata hai

    is mai ghalti awam ki b hai or siasi MOLLAON ki b
    jin hon ne siyasat mai islam ko mazaq bana rakha hai naam nehad mazhabi olmaon ki bina pr aj sab islam se door ho rahy hain

    or jane kia kuch kaha ja raha hai
    hum apne aany wale kal ko kia de rahy hain

    aisy olma k jo deen ko bas jihad ki taleem de rahe hain
    Zaroorat is amar ki hai k hum apna qibla dorst kryn or jahan deen ki taleem dete hain apne nisab mia mazhab ka b hissa rakhain

    jitna ho saky deen ki taleem b madaris mia achy tareeqa se dilain

    wrna kal ko jihad mazhab ka dora naam kehlay ga

    or is k zimmadar hum hi hon ge
    k hum ne jan kr mazhab ki jhanda on k hath mai dia k jo is qabil hi na the
    or jo qabil the wo roshan khayal hain :)

  5. ہمارے ہاں صحیح دینی تعلیم کے لئے جدید تعلیم یافتہ طبقے میں بہت زبردست ڈیمانڈ موجود ہے۔ دینی کتب لے کر مذہبی چینلز تک مذہبی علم کے حصول کی کوششیں جدید نسل میں موجود ہیں۔ اس سے میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صحیح مذہبی تعلیم کو عام کر دیا جائے تو جہالت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے میری کوشش یہ ہے کہ صحیح مذہبی علوم کو آن لائن کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہے، جس کے لئے میں نے کوشش شروع کی ہے۔ اس پراجیکٹ کی تفصیلات اس لنک پر دستیاب ہیں:

    http://www.mubashirnazir.org/Courses/IS001-00-Studiesurdu.htm

    بعض کورسز آن لائن ہو چکے ہیں اور بعض پر کام کر رہا ہوں۔ قارئین سے دعاؤں اور تاثرات کی درخواست ہے۔

  6. السلام علیکم
    آپنے بھی تقریباً اسی مسئلے کی نشاندہی کی ہے جو میں نے اپنی پوسٹ میں کی تھی۔ ساری بات ہی معاشرتی رویوں کی ہے، جس سے ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے خواہ وہ مذہب ہو یا سیاست یا مذہبی سیاست۔

  7. Yasir Imran says:

    بھائی طارق راحیل
    بہت شکریہ آپ نے معاشرے کے تلخ حقائق کو اچھی طرح بیان کیا
    بلاگ پر آتے جاتے رہیے، شکریہ

    مبشر بھائی
    آپ دین کی ترویج کے لیے بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، شکریہ

    عین لام میم بھائی
    شکریہ، میں نے آپ کی پوسٹ بھی پڑھی اور آپ نے بھی بہت اچھی طرح اس مسلے کو بیان کیا۔ بلاگ پر چکر لگاتے رہیں، شکریہ

  8. پاکستان کے ہر شہری کو بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم دلوانا بھی حکومت پاکستان کا فریضہ ہے
    ورنہ دنیاوی تعلم بھی نہ دلوائی جائے
    کیوں کہ میرا ماننا ہے دین و دنیا الگ نہیں
    کسی مسلمان کے لئے
    اگر سو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s