ہم پاکستانی کہاں جا رہے ہیں


اسلام دین فطرت ہے، اسکے اصول اور حدودپر عمل ہی انسانیت کی نجات کا واحد راستہ ہیں، سب دینوں میں سے افضل اور مکمل تر جو ساری کائنات کے لیے ایک ضابطہ اخلاق ہے۔ کوئی بھی معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے، اس لیے افراد کا طرز عمل معاشرے کی مجموعی ترقی یا تنزلی پر گہرا اثر رکھتا ہے۔
اسلام میں کسی انسان کی ذات کے لیے قابل اعتبار ہونے کے جو اصول مقرر کیے گئے ہیں، ان میں پرہیز گاری و تقوی، عدل و انصاف، وعدہ پورا کرنا اور حق سچ کی بات کہنا شامل ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بڑے بڑے محدثین گزرے ہیں لیکن صرف ان حضرات کی حدیث کو سند مانا جاتا ہے جو پرہیز گار، متقی اور جھوٹ نہ بولنے والے ہوں، جن حدیث بیان کرنے والوں کی زندگی کے کسی بھی موقع پر ان سے کی زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ بھی ثابت ہو گیا وہ قابل اعتبار نہ ٹھہرے، ان کی بیان کردہ حدیث کو قبول نہیں کیا جاتا اور اسے ضعیف قرار دیا جاتا ہے۔


کسی بھی انسان کی ذات پر اعتبارکرنے کا یہ بہترین پیمانہ ہے کہ اسکے ماضی سے رجوع کیا جائے اگر وہ جھوٹ، بددیانتی سےپاک ہے تو اسکو اچھے انسان کا درجہ دے کر اسکی کہی ہوئی بات پر اعتبار کیا جاسکتاہے۔ لیکن موجودہ دور میں جہاں مسلمان اسلام کی دوسری تعلیمات کو اتنی اہمیت نہیں دیتے وہیں خبر کو سننے اور اس پر یقین کرنے سے قبل یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا اس شخص نے زندگی کے دوسرے مواقع پر آیا حق کا ساتھ دیا، یا اس کے ساتھ کوئی برائی، بددیانتی یا جھوٹ منسوب ہے۔ خبر کراری ہو ، اسے سے آپ کا فائدہ ہو رہا ہو تو فورا اس پر یقین کرلیا جاتا ہے ساتھ ہی بحث و مباحثے میں اسکا حوالہ بھی دیا جانے لگتا ہے۔ اس بات کو پرکھے بغیر کہ کہیں اس بات میں اسکا یا کسی اور کا مفاد تو پوشیدہ نہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ بار بار جھوٹ بولنے، بددیانتی کرنے والے، جھوٹ بولنے والے افراد کو تیز طرار، ذہین، کاروباری دماغ رکھنے والا اور وقت کے ساتھ چلنے والا کا لقب بھی دے دیا جاتا ہے، جب کہ سچ بولنے والے، رشوت نہ لینے والے، دیانت دار افراد کو بھولا بھالا، پرانے خیالات کا اور معصوم وغیرہ کہا جاتا ہے۔مسلمانوں کی ذہنیت کا یہی بگاڑ مسلمانوں کی مجموعی طور پر تنزلی کا باعث ہے۔
آجکل ہمارے ملک میں فوج کے دو ریٹائرڈ افسران برگیڈیر امتیاز اور جنرل نصیر کے کچھ بیانات کی وجہ سے ایک بحث چھڑی ہوئی ہے، جس کا موضوع، ایم کیو ایم، کراچی، ۹۲ کا فوجی آپریشن اور مسلم لیگ نواز ہے۔ ان دو ریٹائرڈ فوجی افسران کا ماضی بے پناہ کرپشن جھوٹ، بددیانتیوں اور دھوکے پر مشتمل ہے، ان افراد پر بہت سے مقدمے اور الزامات ہیں، بیشتر کالم نگار، رپورٹر، ٹی وی پروگراموں کے میزبان حضرات چیخ چیخ کر کہ رہے ہیں کہ یہ افراد ان سے بار بار رابطہ کرکے ٹی وی پروگرامز میں شرکت کے متقاضی ہیں، ان ریٹائیرڈ فوجی افسران کاماضی قابل تحسین بھی نہیں۔ لیکن جن افراد کو اس بحث سے فائدہ پہنچ رہا ہے وہ ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوے زیادہ سے زیادہ ہلچل اور شور مچانے میں مشغول ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئ غرض نہیں کہ بات کرنے والے کون ہے، بس انکی پسندیدہ سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچ رہا ہے اس لیے وہ کسی بھی طرح اس بات کو زیادہ سے زیادہ اچھال رہے ہیں، ہمارا ملک پہلے ہی زیادہ اچھے حالا ت سے نہیں گزر رہا، اسلام دشمنوں کی سازشیں عروج پر ہیں، اور ان کے نظریں ہمارے ایٹمی اثاثہ جات پر جمی ہوئی ہیں، ملک میں زیادہ سے زیادہ پھیلا ہو ا انتشار ان کے فائدہ میں جا رہا ہے۔ بلوچستان کو ہم سے الگ کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں جبکہ بیشتر میڈیا چینلز ز بحث و مباحثے پر مبنی زیادہ سے زیادہ پروگرامز چلا کر عوام کی توجہ اس کی طرف مرکوز کر رہے ہیں۔
ہم پاکستانیوں کے ہمیشہ سے یہ مسلہ رہا ہے کہ ہم نے کبھی بھی دور اندیشی پر مبنی فیصلے نہیں کیے بلکہ بھیڑ چال کی طرح سیاستدان ہمیں جہاں لے گئے ہم اسی طرف جاتے رہے۔ اجتماعی طور پر سوچنے کی بجائے ہم اپنے شہر اپنے علاقے اپنے صوبے کے مفادات کو زیادہ سوچتے ہیں ، بجائے اسکے کہ ہم اپنے ملک کے لیے سوچیں یا کچھ کریں۔ اگر ہمارا یہی حال رہا تو مستقبل میں کوئ روشنی کی کرن نہیں بلکہ اندھیرے ہی ہمارا مقدر بنیں گے۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

4 Responses to ہم پاکستانی کہاں جا رہے ہیں

  1. بہت اچھے ۔ ایسے مضمون کی اشد ضرورت تھی

    کاش کسی کے دل میں اُتر جائے یہ تیری بات

  2. HakimKhalid says:

    اللہ ہمیں غور و فکر کی توفیق عطا کرے آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جزاکم اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. Yasir Imran says:

    افتحار اجمل صاحب
    بہت شکریہ

    حکیم خالد صاحب
    آپکا بھی بہت شکریہ

  4. taaoo75 says:

    بہت درست کہا یاسر۔ لیکن یاروں کو قائد عوام، قائد تحریک، قائد اعظم ثانی وغیرہا سے فرصت ملے گی تو آپ کی باتوں پر سوچیں گے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s