میرے پرائمری سکول کے دن – ہفتہ بلاگستان


السلام علیکم، ہفتہ بلاگستان کے لیےپہلی تحریر پیش خدمت ہے، یہ تحریر میرے بچپن کا ایک واقعہ ہے۔
بات کچھ یوں ہے کے میں پرائمری سکول کے دنوں میں کافی بھولا بھالا اور معصوم تھا، سکول میں میرا دھیان شرارتوں کی بجائے کتب، اساتذہ، ہوم ورک اور امتحانات پر ہوتا۔اسی لیے اساتذہ اور امی ابو بھی مجھ سے خوش رہتے، میرے پرائمری سکول میں تین ہی استاد تھے ،جب میں چوتھی جماعت میں تھا تو ہمارے سکول کے ایک استاد تبدیل ہو گئے اور ایک نئے استاد ان کی جگہ تشریف لے آئے ان کا نام امجد صاحب تھا، وہ جوان آدمی تھے ، ان کا قد خوب لمبا اور جسم ورزشی قسم کا تھا، چہرہ بھی کچھ کرخت سا تھا، اپنے پہلے ہی دن میں انہوں نے کچھ لڑکوں کی اس سخت انداز سے پٹائی کی کہ میرے دل میں ان کا ڈربیٹھ گیا، ڈر کی بجائے اگر اسے دہشت کہیں تو زیادہ موزوں ہو گا۔ چونکہ میں ایک پسماندہ گاؤں نما شہر سے تعلق رکھتا ہوں اس لیے میرے سکول میں اساتذہ کا پٹائی کرنا عام سی بات تھی، خود میں نے بھی کئی دفعہ مار کھائی، مگر پہلے اساتذہ میں سے کوئی شدید قسم کی پٹائی نہیں کرتا تھا۔ امجد صاحب کے آنے کے ساتھ ہی میری تعلیمی کارکردگی گرنی شروع ہو گئی،



بلکہ دوسرے مضامین کی نسبت امجد صاحب کے مضامین میں کچھ زیادہ ہی کم ہو گئی، یوں میں نے بھی ان سے دو تین بار پٹائی کروائی، امجد صاحب کا سزا دینے کا انداز بہت ظالمانہ تھا، وہ کسی بھی لڑکے کو اوپر اٹھا کر اسے چھت پر لگے شہتیر کو پکڑنے کو کہتے جو کہ بہت زیادہ اونچا نہیں ہوتا تھا ، جب لڑکا پکڑ لیتا تو خود چھوڑ دیتے ، اب بچے کے بازو کتنے مضبوط ہو سکتے ہیں، تھوڑی دیر بعد وہ لڑکا ہاتھ چھوٹ جانے سے نیچے گر پڑتا پھر امجدصاحب اسکو ڈنڈے لگاتے، اچھی طرح ڈنڈے لگانے کے بعد یہ سزا ختم ہوتی۔

شاید میرے دل میں ڈر کی وجہ سے میں مسلسل دو تین دن امجد صاحب کا دیا گیا ہوم ورک نہیں کر سکا تو مجھے کچھ اور نہیں سوجھا تو میں قلم لینے کے بہانے سکول سے باہر چلا گیا اور واپس نہیں آیا، سکول سے چھٹی ہونے کے بعد میں واپس آیا اور اپنا بستہ لے کر گھر چلا گیا، پھر یہ سلسلہ شروع ہو گیا اور میں روز سکول سے بھاگنا شروع ہو گیا۔ صج میں گھر سے سکول کے لیے نکلتا مگر رستے میں ادھر ادھر گھومتا رہتا، بستہ بھی میرے ساتھ ہوتا، اکثر لوگ اور دکاندار مجھے دیکھتے اور انہیں معلوم ہو جاتا کہ میں طالبعلم ہوں اور سکول کے وقت پر باہر گھوم رہا ہوں۔ تین چار دن بعد میرے اساتذہ نے میرے والدین سے میری شکایت کی، جس پر مجھے ابو سے بھی ڈانٹ اور بعد میں مار پڑی، مگر اب میں آزادی کا عادی ہو گیا تھا،اور میرا دل مستقل سکول سے اچاٹ ہو گیا، اور میں کوئی مضمون بھی پڑھنے کو تیار نہیں تھا۔ پھر والد صاحب خود مجھے سکول چھوڑنے آتے یا بھائی کو کہتے تو وہ مجھے سائیکل پر سکول چھوڑ آتا، اب تمام مضامین میں میرا شمار نالائق ترین طالبعلموں میں ہوتا، پھر بھی میں سکول سے بھاگنے کی ہر ممکن کوشش کرتا، کبھی سلیٹی لینے کا بہانہ کر کے، کبھی قلم یا دوات کا۔ یوں تمام اساتذہ اور سکول کے تمام طالبعلموں کو میرے بھاگنے کا علم ہو گیا، اب مجھے سکول سے باہر جانے کی اجازت بھی نہ دی جاتی، مجھے یہ بڑی بے عزتی والی بات لگتی، پھر بھی میں پڑھائی کی طرف مائل ہونے کو تیار نہیں تھا، پھر سالانہ امتحانات ہوے اور میں ان دنوں بھی سکول سے بھاگتا رہا، خیر جی، امتحانات ختم ہوے، میرے ہم جماعت جو کہ چوتھی جماعت میں تھے، پانچویں میں چلے گئے، اور میں چوتھی میں ہی اٹکا رہ گیا، ان دنوں میں نے ابو سے زندگی کی سب سے زیادہ سخت مار کھائی، والدہ صاحبہ بھی ابو کو روکتی رہیں لیکن وہ نہ رکے،کیوں کہ میرے کسی بھائی یا کزن نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔
پھر شاید اللہ تعالی کو مجھ پر رحم آگیا اور والد صاحب کے سکول کی انتظامیہ سے بات کرنے پر مجھے مار فری قرار دے دیا گیا، تمام اساتذہ نے وعدہ کیا کہ چاہے کوئی بھی غلطی کروں مجھ پر سختی نہیں کی جائے گی، اور مجھے امجد صاحب کی جماعت میں نہیں بٹھایا جائے گا۔ پھر میں نے پڑھائی میں ایک بار پھر سے دل لگایا، محنت کی ، اور کچھ عرصہ بعد امجد صاحب کا تبادلہ ہو گیا اور وہ دوسرے سکول میں چلے گئے، اگلے سالانہ امتحانات میں میری دوسری پوزیشن آئی اور میں پانچویں جماعت منتقل ہو گیا۔ بس میرا ایک سال ضائع ہونا مقصود تھا اللہ تعالی کو، شاید اس میں کوئی بھید تھا، لیکن میں وہ بھید نہیں جان سکا۔

اس کے بعد سے میرے تعلیم سلسلے میں کبھی رکاوٹ نہیں آئی ، ہمارے تمام عزیز اور بیشتر جاننے والے اس واقعے کو جانتےتھے اور اس بات کے دو تین سال گزر جانے کے بعد بھی جو کوئی مہمان آتا وہ یہ ضرور پوچھتا کہ اب آپکا بچہ سکول باقاعدگی سے جاتا ہے نا؟

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Edu, Personal, Urdu and tagged , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

12 Responses to میرے پرائمری سکول کے دن – ہفتہ بلاگستان

  1. شکر ہے اساتذہ اور گھر والوں کو آپ کے مسئلے کی سمجھ آ گئی وگرنہ آپ اب تک چوتھی جماعت میں ہی پھنسے ہوتے۔
    ییہ حقیقت ہے کہ کچھ اساتذاہ واقعی بے رحمی سے مارا کرتے تھے۔ ہمارے ایک استاد جب کسی طالعلم کو پانے حریف استاد کے ہاں ٹویشن پڑھتے دیکھ لیتے تو پھر کلاس میں اس کی شامت آ جایا کرتی تھی۔

  2. Yasir Imran says:

    ہاں جی ، ٹیوشن والا معاملہ بھی آجکل زورں پر ہے، بعض اساتذہ ٹیوشن کے لیے اس قدر اصرار کرتے ہیں کہ اپنے طالبعلموں کو آپ آپ کر کے بلانے لگتے ہیں، پھر اگر طالبعلم ٹیوشن پڑھنے لگ جائے تب بھی اسکی خوب عزت کرتے ہیں کہ کہیں وہ بھاگ ہی نہ جائے اور اگر کوئی طالبعلم کسی دوسرے ٹیوشن سینٹر میں چلا جائے پھر اس پر سختی، اسکے کام میں کیڑے نکالنا وغیرہ وغیرہ
    میرے ساتھ بھی ایسا کئی بار ہوا، کہ استاد بہت احترام سے بلاتے، تو مجھے ایسے اساتذہ سے گھن آنے لگتی

  3. سزا دینے کے ظالمانہ طریقے واقعی کئی بچوں‌کا اسکول سے دل اچاٹ کردیتے ہیں۔۔ شکر ہے کہ آپ کے کیس میں‌یہ صورتحال ایک سال کے ضائع ہونے پر قابو میں آگئی۔

  4. Rehan says:

    عمران صاحب

    ٹیچر چاہیں جیسے بھی ہو ۔۔ ٹیچر ، تیچر ہوتے ہیں ۔۔ گھٍن کرنا آپ کے لیے ایک اچھا فیل ہوگا کرنے کے لیے سو آپ کرتے رہو ۔ بندے کو اپنے خود کے کردار کی سمجھ زیادہ رکھنی چاہیے ۔۔ گر میں ایک ٹیچر کے پاس تعلیم لینے کے غرض سے آیا ہو تو مجھے تعلیم سے غرض رکھنی چاہیے ۔۔ پر آپ کی تو اپنی مرضی ہے ۔۔ استاد سے گھن جہاں کی جائے وہاں کے حالات ایسے ہی رہنے ہیں ۔

  5. Yasir Imran says:

    راشد صاحب
    بہت شکریہ رائے دینے کا

    ریحان صاحب
    آپ بلاوجہ بدگمانی میں مبتلا ہو رہے ہیں، میں صرف ان اساتذہ کی بات کر رہا ہوں جو طالبعلموں کے ٹیوشن کی طرف مائل کرنے کے لیے خوشامد کرنے سے بھی باز نہیں آتے، ٹیچر ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ انسان سے بھی کوئی اوپر کی چیز ہو گئے ہیں اس لیے چاہے آپ اچھا کریں یا برا، آپ کا عزت و احترام ہی کیا جائے۔ اب ان اساتذہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو بچوں کو مار مار کے ان کا دل پڑھائی سے اچاٹ کر دیتے ہیں یا وہ اساتذہ جو سکول میں تو طالبعلموں کو اپنے گھر بھیج کر گھر کے کام کرواتے ہیں اور بعد میں ٹیوشن رکھنے کے لیے اصرار کرتے ہیں ، کیوں کہ کورس پورا نہیں ہو پاتا سکول میں۔

  6. Rehan says:

    عمران بھائی ۔۔ کوئی غلطی ہوئی ہو تو معافی ارادہ بدگمان ہونے کا نہیں تھا ۔

    میرے لیے استاد وہی ہے جو کے استاد ہوں ۔۔ آپ جو فیچرز لکھ رہے ہو وہ استاد کے نہیں ہیں ۔۔ مطلب میرے مطابق استاد نہیں وہ جو بچوں سے کام کرواتے ہیں گھر کے یا وہ جو جو آپ نے لکھا مارنا بچوں کو ۔۔ استاد کا کام نہیں ۔

    کچھ سال پہلے کی بات ہے میں جس پرائیویٹ انسٹیٹیوٹ میں پڑھ رہا تھا وہاں ہمارے ایک خطاطی کے استاد تھے ۔۔ ان کی عمر کوئی تھیس سال ہوگی ۔۔ دیکھنے میں ایک دم ہینڈسم پرسنیلٹی کے مالک تھے ۔۔ کلاس کے دوران ہر پل ان سے کچھ سیکھنے کو جی چاہتا تھا ۔۔ بات کر کے دل خوش ہوجاتا تھا ۔۔ اور میں پھر یہ جان کر کافی حیراں ہوا کے وہ انسٹیٹیوٹ چائینا کے سائیکل پر آتے تھے ۔۔۔ ان سر نے کبھی بھی کسی سٹوڈنٹ سے تو کر کے بات نہیں کی ۔۔ ہمیشہ آپ آپ کہتے تھے ۔۔ اور مسکراتے تھے ہمیشہ ۔۔ اٍس انداز میں رہتے تھے کہ پریشانی ٹینشن یہ سب جیسے ان کے لیے وجود ہی نا رکھتی ہوں ۔

    عمران بھائی ۔۔ گھن آنا میرے مطابق ایک ایسا فیل ہے کہ کوئی انسان چاہے وہ ظالم ہی کیوں نا ہو اس کا حق دار نہیں ۔۔ گھن آنا تو ایسا ہے نا کہ پھر اس شے کے پاس آنے کو بھی جی نا چاہے ۔۔ یہاں کچھ دوستوں کو سیاست سے گھن آتی ہے ۔۔ تو بتائے اچھے لوگ سیاست کے پاس نہیں آئینگے تو یہی حال رہے گا ۔۔۔ برائی کی وجوہات سے گھن آنی چاہیے ۔

  7. Yasir Imran says:

    جی ریحان بھائی
    میں آپ کا مطلب سمجھ گیا ہوں لیکن میں بھی اپنے اساتذہ کا بہت احترام کرتا ہوں۔
    ایسے افراد جو صرف نام کے استاد ہیں ، میں بس انہی کی بات کر رہا ہوں۔
    بہت شکریہ

  8. میں تو استاد اسی کو تسلیم کرتا ہوں جو بچوں کو پڑھا سکے۔ اور اپنی عزت کروا سکے
    ویسے ڈنڈا تو سب کا پیر ہوتا ہے
    میں اپنی کلاس میں ریاضی کا ماہر تھا 8 کلاس تک تو میں ریاضی میں (صرف ریاضی میں باقی کسی مضمون میں ن ہیں) پہلے نمبر پر آتا رہا نوی میں ہمارے ٹیچر تبدیل ہو گے۔ اور ریاضی کا نصاب بھی تبدیل ہو گیا۔ میرے مطابق جو ٹیچر 9 کلاس میں ہمیں ملے تھے ان کو ریاضی خود بھی نہیں آتی تھی وہ حلاصے سے سوال تیار کر کے آتے تھے۔ میری عادت تھی جہاں سمجھ نا آئے وہاں سوال کرتا اور ٹیچر صاحب کو یہ اچھا نہیں لگتا تھا اس لیے میری پٹائی شروع کر دی جاتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا میٹرک میں میرے علاوہ ریاضی میں کوئی پاس نا ہوا ساری کلاس ریاضی میں فیل اور میں بھی 33 نمبر لےکر پاس ہوا تھا

  9. اسی رویہ کی وجہ سے ہماری تعلیمی حالت کافی پتلی ہے اس ظالم طریقہ کار کو جو بچہ جھیل گیا وہ کچھ پڑھ گیا اور جو کمزور تھے وہ شاید آج ان پڑھوں میں شامل ہیں ۔

  10. Yasir Imran says:

    جی کامی صاحب ، صحیح فرما رہے ہیں آپ

  11. amina says:

    app sab ne galat kaha
    kabhi b twishion nahi leni chahiye chahe kuch b ho
    her insaan main koi na koi telent zaroor hota hai .or app sab main b telent hai.quran main allah talala fermate hain k tum loog eik insaan ki just galtiyan mat dekho tum loog uss main khobi b dekho k khuda ne her kisi main jahan galti rakhi hai wahan khoobi b rakhi hai.or teachers kabhi b bina baat k nahi marte.bacoon ko ziyada experiance nahi hota jab k teachers ko bachoon se ziyada tajarba hota hai.jab bache galti karain gay toh saza toh mile gi.yasir sahib app ne b galti ki toh app ko b saza mili but app ne uss ka ret galat liya.
    m sorry agar kuch bura laga toh
    allah hafiz

  12. یار ورڈپریس کے بلاگ میرے پاس اوپن نہیں ہو رہے تھے اس لءے دیر سے وزٹ کرنے کی معذرت
    اب بھی ایک ورچوئل براؤزر کے زریعے بلاگ پڑھ رہا ہوں
    میں نے جب پرائمری کے نعد سرکاری سکول میں داخلہ لینا تھا تو جس کلاس میں میں ٹیست دینے سے پہلے بیٹھا تھا وہاں کے استاد کی گالیاں اور مار دیکھ کر میں نے کہہ دیا میں نا ٹیسٹ دیتا ہوں اور نا یں نے اس سکول میں آنا ہے
    اس لئے مجھے دوسرے سرکاری سکوول میں ڈال دیا گیا
    لیکن وہ بھی کسی طور پہلے والے سے کم نا تھا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s