سافٹ وئر کمپنیوں کے انسانی حقوق کے منافی قوانین


دنیا بھر میں سافٹ وئر بنانے والی بڑی کمپنیاں اس بنیادی رقم سے سینکڑوں گنا زیادہ منافع کما چکی ہیں جتنی ان کے بنائے گئے سافٹ وئر کی لاگت ہے۔ حتی کہ کمپنی سے منسلک افراد جن میں پروگرامر، سافٹ وئر انجینئر، کوڈر، سافٹ وئر کوالٹی کنٹرول انجینئر، تشہیر کرنے والے اور اداراتی ملازمین شامل ہیں کو بڑی بڑی تنخواہیں دینے کے بعد بھی اربوں ڈالرز کی مالک ہیں۔ ان کمپنیوں میں مائیکروسافٹ، سن سسٹمز، اوریکل کارپوریشن اور ایڈوبی سسٹمز وغیرہ شامل ہیں۔اتنا بڑا منافع کمانے کے بعد بھی ان کمپنیوں کی حوس کم نہیں ہوئی اور نہ ان کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئی بلکہ یہ کمپنیاں نئے بننے والے سافٹ وئر کی قیمتیں مزید بڑھاتی جا رہی ہیں ، تیار شدہ سافٹ وئر کو زیادہ سے زیادہ صارفین کو بیچنےکے لیے ایک دوسرے سے معاہدے کر رہی ہیں، مثلا سافٹ وئر بنانے والی کمپنی لیپ ٹاپ بیچنے والی کمپنی سے معاہدہ کرتی ہے کہ ہر کمپیوٹرکے بازار میں جانے سے پہلے اس میں سافٹ وئرمنتقل کیا جائے اور کمپیوٹر کی قیمت میں سافٹ وئر کی قیمت بھی شامل کی جائے تا کہ خریدار سافٹ وئر کی قیمت دینے پر بھی مجبورہو۔



اگر ہم اسلامی نظام کے مطابق یہ مانتے ہیں کہ پائریٹیڈ سافٹ وئر حرام ہے تو دوسری طرف ہمیں اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اسلام میں ناجائز منافع خوری جائز نہیں۔
چنانچہ صارفین کی نمائندہ تنظیموں یا حکومت کوایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ سافٹ وئرکمپنیاں سافٹ وئر کی فروخت پرایک جائز مقررہ حد سے زیادہ منافع نہ لے پائیں۔
جیسا کہ راشد کامران صاحب نے اپنی تحریر سافٹ ویر پائیریسی سے بچاؤ۔ ایک ممکنہ حل میں فرمایا کہ سافٹ ویر پرائس ماڈل دوسری مصنوعات کے پرائس ماڈل سے الگ ہے، ایک سافٹ وئر کی فروخت سے سافٹ وئر کی لاگت پوری نہیں کی جا سکتی ،لیکن سینکڑوں نسخے فروخت ہو جانے کے بعد اگر منافع لاگت سے بڑھ جائے اور وہ بھی غیر موزوں حدتک تو؟
سافٹ وئر پرائس ماڈل کے اس طریقہ کار کو اگر کچھ یوں طے کیا جائے۔۔۔
اگر سافٹ وئر بنانے والی کمپنیاں ایک مقررہ حد تک منافع کما چکی ہیں تو حکومت مزید منافع لینے پر پابندی عائد کردے، اور سافٹ وئر کی لاگت اور منافع کی رقم کو سافٹ وئر کی بکنے والے تمام نسخوں کی تعداد پرتقسیم کر کے اس کی نئی قیمت مقرر کی جائے اور جو لوگ پہلے سافٹ وئر مہنگا خرید چکے ہیں یا تو ان کو ان کی زیادہ رقم واپس لوٹائی جائے یا مستقبل میں ان کو نئے آنے والے سافٹ وئر پر رعایت دی جائے۔ اسی طرح اگر سافٹ وئر سالانہ بنیادوں پر تجدید کیا جاتا ہے تو ہر سال سافٹ وئر کے لائسنس کی قیمت نئے سرے سے متعین کی جائے۔
لیکن میرا دیا گیا یہ طریقہ کار بہت پیچیدہ معلوم ہو رہا ہے کیوں کہ میں معاشیات کا ماہر نہیں ہوں، لیکن چند ماہرین معاشیات چند علما کے ساتھ مل بیٹھ کر اس نظریے کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔حکومت وقت کا یہ فرض ہے، کہ وہ تمام کاروباری حضرات سے اس بات کی پڑتال کرے کے وہ اپنی مصنوعات پر کس قدر منافع لے رہے ہیں، ناجائز منافع خوری کی ایک اور مثال دینا چاہوں گا جو سافٹ وئر سےنہیں بلکہ ہارڈوئر سے متعلقہ ہے۔
آپ ایک پرنٹر خریدتے ہیں جسکی قیمت ۱۰۰۰ روپے ہے، اس قیمت میں پرنٹر مشین اور اس میں استعمال ہونے والی سیاہی دونوں دستیاب ہوتی ہیں، لیکن جب آپ سیاہی ختم ہو جانے کے بعد نئی سیاہی خریدتے ہیں تو آپ کو پھر ۱۰۰۰ روپیہ دینا پڑتا ہے۔ زیادہ تر کمپنیوں کی طرف سے سیاہی کی قیمت وہی مقرر کی گئی ہوتی ہے جو پرنٹر کی ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہےکہ پرنٹر کی قیمت تو صارف ایک ہی بار ادا کر دیتا ہے مگر سیاہی ایسی چیز ہے جس کی بار بار ضرورت پڑتی ہے اس لیے خریدار کو مجبورکر کے ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے، حالانکہ اگر سیاہی کی انہی ڈبیوں کو بھروا لیا جائے تو اسکی لاگت نئی سیاہی کی ڈبیوں کی لاگت کا صرف ۱۰ فیصد ہوتی ہے۔
کیا امریکن اور یورپین حکومتوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ ان کمپنوں سے پوچ گچھ کریں کہ ایسی اشیا پر اس قدر ناجائز منافع کیوں لیا جا رہا ہے۔
ایسے اندھیرے اور انسانی حقوق کے منافی قوانین پر حکومت کا خاموشی اختیار کرنا، صارف تنظیموں کا بھی اس معاملے میں چپ سادھ لینا ،اسکی وجوہات یہی ہو سکتی ہیں، کہ سافٹ وئر کمپنوں کے مالکان حکومتی اراکین کے ساتھ تعلقات کی بنا پر حکومت کو ایسے اقدامات سے روکتے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں اور سیاستدانوں کو کمیشن اور دوسری سہولیات دی جاتی ہیں۔
دوسری طرف امریکی حکومت کو ادا کیے جانے والے ٹیکس سراسر یہودی لابی کے مفاد میں ہیں، اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی، بڑی بڑی امداد اور دوسرے فنڈز اسی طرح کمائی گئی آمدنی سے دیے جاتے ہیں۔ پھر ہم ان انسانیت کے منافی قوانین کی پاسداری کیوں کریں۔
کتب کے مسئلہ پر ابھی مزید اظہار خیال کی ضرورت ہے، انشا اللہ پھر سہی۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Edu, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

7 Responses to سافٹ وئر کمپنیوں کے انسانی حقوق کے منافی قوانین

  1. دوست says:

    بجا فرمایا آپ نے اس سب کو ریگولیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
    لیکن ہمارے لیے اس سے بھی بڑے مسائل موجود ہیں جیسے الیکشن لڑنے کے لیے بی اے کی شرط۔
    پس موضوع آپ نے ہوس کو ح سے لکھ رکھا ہے تصحیح فرما لیں۔

  2. Zack says:

    مائکروسافٹ کا پرافٹ مارجن 25 فیصد کے قریب ہے۔ کیا یہ آپ کے نزدیک ظالمانہ ہے؟ کیوں؟ آپ کے خیال میں کتنا منافع جائز ہے؟

  3. Yasir Imran says:

    جناب زیک صاحب
    بلاگ پر آنے کا شکریہ، مائیکرو سافٹ کے گاہکوں کی تعداد کے حساب سے اگر ایک فیصد منافع بھی لیا جائے تو وہ کروڑوں ڈالرز سے تجاوز کر جائے گا، اس لیے مائیکروسافٹ کے منافع کی شرح اس سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے

  4. عمر says:

    بلا شبہ مائیکروسوفٹ کا منافع مجموعی طور پر کاقی زیادہ ہے۔ مگر اس کی وجہ اس کے منافع کی شرع غیرمناسب حد تک زیادہ ہونہ نہیں بلکہ اس کی مصنوعات کی تعداد ہے۔ سوفٹ وير کوئی ایسی چیز نہیں کہ بیچ دیا اور کام ختم۔ اس کی سپورٹ اور مینٹینینس کافی مہنگی چیز ہے۔ مثال کے طور پر ونڈوز کے سروس پیک اور آپڈیٹ جو کہ بالکل مفت فراہم کیے جاتے ہیں جو کہ مفت میں نہیں بنتے۔ اکثر اورقات سوفٹ وير بنانے کی لاگت اس کی سپورٹ اور مینٹینینس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ ا گر سوفٹ وير بنانے کا کاروبار اتنے زیادہ منافع کا حامل ہو جتنا سمجھا جاتا ہے تو تمام سوفٹ ویرکمپنیاں انتہائی امیر ہوتیں، اور ہر کوئی ایک سوفٹ وير بنا کر بیچنا شروع کر دے اور وارے نیارے کرے۔

  5. Zack says:

    کیا آپ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ کسی بھی چیز پر ایک فیصد سے زیادہ منافع نہیں لیں گے؟ کیا کوئ بزنس ہے جو ایک فیصد سے بھی کم منافع پر چلتا رہتا ہے؟

  6. Yasir Imran says:

    جناب زیک صاحب
    یہ بڑی بڑی کمپنیاں زیادہ منافع لے کے ہی تو اتنے بڑے اساسہ جات کی مالک بن چکی ہیں،مائیکروسافٹ60 بلین ڈالر سے زیادہ کی مالک ہے، یقیننا اس میں کام کرنے والے پروگرامر، ڈائریکٹرز، سافٹ ویر انجنیئرز بڑی بڑی ذاتی جائیدادیں رکھتے ہیں جو ان ساٹھ بلین ڈالر کے علاوہ ہے۔
    کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی مائیکرو سافٹ کو ۲۵ فیصد سے زیادہ منافع لینا چاہیے ؟
    پچیس فیصد منافع کا مطلب دو سال میں ۱۰۰ ڈالر سے 245 ڈالر کمانا
    کیا یہ جائز ہے ؟

    جناب عمر صاحب
    جب آپ مائیکروسافٹ وینڈوز خریدتے ہیں پھر اپنے کمپیوٹر میں اپنی پرسنل تصاویر اور کاغذات رکھتے ہیں، اور انٹرنیٹ سے کنکٹ ہوتے ہیں، مائیکروسافٹ وینڈوز میں کسی سیکورٹی چور دروازے کی وجہ سے کوئی ھیکر آپ کا پرسنل ڈیٹا لے اڑتا ہے، تو آپ پر کیا گزرے گی؟
    آپ نے وینڈوز او ایس پیسے دے کر خریدا اس لیے کہ وہ آپ کے ڈیٹا کی حفاظت کر سکے، ایسی صورت میں ذمہ دار تو مائیکرو سافٹ والے ہی ہیں نا
    سروس پیک اور پیٹچیز فراہم کرنا مائیکروسافٹ کی ہی ذمہ داری ہے نا، اور ایسا وہ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے بنائے گئے سسٹم میں خامیاں ہیں، جنہں وہ نکالنے کے لیے سروس پیک بناتے ہیں۔

    دونوں حضرات کو اپنے بلاگ پر خوش آمدید بھی کہتا ہوں اور دونوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس بحث میں حصہ لیا

  7. Mutant says:

    Nice concept raised!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s