بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانے میں سر گرم


پنجاب کے علاقے گوجرہ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے ایک گروپ کے درمیان فسادات پاکستان کے خلاف بیرونی سازشوں کی ایک کڑی ہے۔ جس میں براہ راست طور پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی “را” اسرائیلی “موساد” اور امریکی سی آئی اے ملوث ہو سکتی ہیں۔گزشتہ دنوں ایسے ہی فسادات چین کے ایک صوبے میں بھی ہوے، چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فسادات بھی بیرون ملک سے کنٹرول کیے جا رہے ہیں، ایسے فسادات کا مقصد ملکوں میں انتشار پھیلانا، حکومت کی توجہ ترقیاتی کاموں سے ہٹا کر مجرموں کو پکڑنے میں ضائع کرنا، اور ملک کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کرنا شامل ہیں۔ کچھ ماہ قبل سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو بھی بین الاقوامی میڈیا میں اچھالی گئی جس کا مقصد اسلام کے خلاف نفرت میں اضافہ کرنا اور پاکستان کی ایک منفی تصویر پیش کرنا ہے۔ آئی جی پنجاب کے مطابق پاکستان میں ہونے والے فسادات میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں۔ پنجاب کابینہ کے ایک وزیر کا بیان بھی اسی حقیقت کو تقویت دیتا ہے۔

Christian-Muslim-Fights-Pakistan

Christian-Muslim-Fights-Pakistan

گوجرہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2اگست۔2009ء) سینئر وزیر پنجاب راجہ ریاض نے کہا ہے کہ گوجرہ میں فسادات کرانے شر پسند عناصر مذہبی فسادات کرانے کی سازش ہے ، اگر انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو حالات اتنے سنگینی اختیار نہ کرتے- مکمل خبر

پاکستانی میڈیا، اخبارات ٹی وی چینلز کو چاہیے کے اس سازش کو بے نقاب کریں اور حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد ان فسادات پر قابو پا کر امن بحال کرے۔

Christian-Muslim-Fights-Pakistan

Christian-Muslim-Fights-Pakistan


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

7 Responses to بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانے میں سر گرم

  1. میرے بھائی چین تو پاکستان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا ہے یا ربیعہ قدیر کو جو امریکہ جلا وطن ہے۔ کیا چین کے بیرونی سے یہی مراد ہے آپ کی؟ چین کے فسادات مذہبی سے زیادہ اقتصادی اور نسلی نوعیت کے تھے اس کا موازنہ مسیحی اور مسلمان فسادات کے مطابق درست نہیں۔

  2. Yasir Imran says:

    جی نہیں، یہ فسادات مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے تھے، جن میں مسلمان اکثریت شہید ہوئی اور میں آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ یہ فسادات چینی فسادات سے مختلف ہیں، یہ فسادات بھارت کی کارستانی ہے۔

  3. جو ہوا ، وہ نہائیت قابل افسوس ہے۔ اس واقعے نے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دئیے ہیں اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کی بات درست ہو اور پاکستان کی مسییحی برادری کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے میں کچھ بیرونی عناصر بھی شامل ہوں جنہوں نے پاکستان کے مقامی ایجینٹوں کو یہ مزھبی فسادات کا ٹارگٹ دے رکھا ہو تانکہ بھارت میں بہت تیزی سے بڑھتے مزھبی اور نسلی منافرت سے دوسری قوموں کی توجہ ہٹائی جاسکے ۔ یا کم از کم پاکستان میں ان شرمناک فسادات کے نتیجے میں مارے جانے والے بے گناہ لوگوں کا حوالہ دے کر بھارت نسلی منافرت یا مزھہی اکٹلاف کو پورے خطے کا المیہ قرار دینا چاہ رہا ہو مگر زندہ انسانوں کو آگ لگانے میں پاکستانی اور مقامی مسلمان بھی شامل تھے، یہ درست ہے کہ اشتعال دلانے پہ اور مسلمانوں کے غم و غصہ سے نکالے گئے جلوس پہ فائرنگ کی گئی ۔ اور ہجوم بے قابو ہو گیا مگر ہم مسلمان ہیں اگر ہم جو لوگوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے انسانیت کا درس دیتے ہیں ۔ ہم اگر یوں کریں گے تو دنیا میں ہمارا کیا اعتبار باقی رہ جائے گا۔؟

    مگر مارے جانے والے اس بات سے قطع نظر کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کرسچئن ہیں۔ وہ پاکستانی ہیں اور ان کی جانیں انسانی جانیں تھیں ۔ جن کاے مارے جانے کا اور زندہ جلائے جانے کا کوئی جواز نہیں بناتا تھا۔ اگر انہوں نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی بھی تو اس کی یہ سزا نہیں ۔ ہم مسلمانوں کو اسلام نے انسانیت اسکھائی ہے۔ توہین کے لئیے پاکستان میں عدالتیں قائم ہیں یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ کیا واقعی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تھا اور اگر آیا یے تو مجرموں کو قرار واقعی سزا دیں مگر یہ طریقہ کار انتہائی غلط اور افسوسناک ہے ،

    راشد کامران کی اس بات سے ہمیں رتی بھر اتفاق نہیں کہ چین میں مزہبی فسادات اقتصادی اور یا نسلی تھے ۔ آپ کے اپنے الفاظ اس کی نفی کر رہے ہیں اگر یہ یوں ہوتا تو چین کو پاکستان کو مشکوک نظروں سے دیکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

    چینی مسلمان صوبے میں مسلمانوں کی نسل ہمیشہ سے آباد ہے ۔ اور چین کے دوسرے علاقوں سے آئے چینی مسلمان صوبے پہ رفتہ رفتہ قبضہ بھی کیے جارہے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے علاوہ نسلی طور پہ بھی چینیوں سے مختلف پس منظر رکھتے ہییں مگر فسادات کی بڑی وجہ مذہبی تھی ۔ جسطرح عراق میں عراقی مسلمان اور امریکن کرسچئینز کے درمیان جنگ کو یا افغانی اور امریکہ کی جنگ کو نسلی نہیں کہا جا سکتا اسلئیے محض سنکیناگ صوبے کے مسلمانوں کا خاص کسی ایک نسل سے تعلق ہونے ہونے کی وجہ سے اان فسادات کو نسلی نہیں کہا جاسکتا۔

  4. مسئلہ یہ ہے میرے بھائی کہ ہان چینی اور ویگر چینی لوگوں کا جھگڑا وہی ہے جو سندھ میں مہاجر اور سندھیوں کے درمیان رہا ہے اور ویگر جو مقامی باشندے ہیں وہ نئے آباد کار ہان چینی جو اب معاشی اور سیاسی طور پر زیادہ مضبوط ہیں کو اپنے معاشی حقوق کا غاضب سمجھتے ہیں۔۔ آپ کے اتفاق کرنے یا نہ کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی لیکن ہماری ایک قومی مزاج بن گیا ہے کہ جہاں‌ مسلمان کا نام آئے اسے فوری طور پر مذہبی جھگڑے کا رنگ دے دو۔

  5. Yasir Imran says:

    راشد صاحب، معذرت کے ساتھ کہوں گا، اگر میری کی ہوئی بات حقیقت نہیں ہے تو آپ کی بات بھی کس طرح تسلیم کر لی جائے، آپ چائنا گئے نہ آپ نے اس واقعے کو قریب سے دیکھا ہے، آپ نے بھی میری طرح یہ ساری معلومات کسی نیوز سورس سے حاصل کی ہیں، آپ کا سورس بھی غلط ہو سکتا ہے میرا بھی،
    خیر،یہ ہمارا موضوع نہیں، پاکستان کی بات کرتے ہیں،
    مجھے جاوید صاحب کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ جو کچھ بھی ہوا وہ برا ہوا، مرنے والے چاہے عیسائی تھے لیکن پاکستانی تھے، ان کے مرنے کا ہمیں افسوس ہے، پاکستان میں رہنے والی عیسائی برادری ایک پر امن برادری ہے، ان لوگوں نے پاکستان کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا، اور یہ پاکستان کے غم وخوشی میں ساتھ ساتھ ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ قران جلائے جانے کا واقع ایک افواہ تھی، جسکا مقصد فسادات کروانا تھا اور اگر یہ سچ بھی ہے تو جن اوباش نوجوانوں نے قرآن کی بے حرمتی کی بھی ہے سزا بھی ان کو ملتی بذریعہ عدالت ، دوسرے معصوم افراد کے گھر جلانے کی کیا ضرورت تھی۔
    پاکستانیوں میں دینی حوالے سے برداشت نہ کرنے کا مسلہ جاہل مولویوں کا پیدا کردہ ہے، اور یہ ذہنیت نہ تو تعلیمی نظام سے بدلی جا سکتی ہے نہ حکومتی کوششوں سے، اس سلسلے میں علما کو ہی رواداری کی ترغیب دینی ہو گی۔
    پاکستان کا دشمن دینی معاملے میں برداشت نہ کرنے سے واقف ہے اسلیے مجھے پختیہ یقین ہے کہ یہ واقعہ کروایا گیا ہے۔

  6. پاکستان کا دشمن دینی معاملے میں برداشت نہ کرنے سے واقف ہے اسلیے مجھے پختیہ یقین ہے کہ یہ واقعہ کروایا گیا ہے۔

    یاسر عمراں مرازا صاحب!
    میں آپ کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں ۔ ہمارے دشمن یا دشمنوں کو پتہ ہے کہ ہم نا صرف مذہبی بلکی لسانی نسلی صوبائی بلکہ ہر معاملے میں عدم برداشت اور عدم تحمل کا شکار ہیں ۔ یہ مزاج برصغیر کا خاصہ ہے۔ مگر اسے تعلیم اور حکومتی سطحوں سے درست کیا جاسکتا ہے۔ عوام عدم برداشت اور عدم تحمل کا شکار اس لئیے بھی ہیں ۔ کہ یکے بعد دیگرے ملک پہ قابض غیر نمائییندہ اور چو لوگوں نے عوام کے لئیے کچھ نہیں کیا اور اس دوران تیسری نسل جوان ہوچکی ہے ۔ جو رفتہ رفتہ معاشرے کے اسٹک ہولڈرز اعتماد کھوتے ہوئے اب اپنے معامعلات پہ ان کا کردار بھی برداشت کرنے کو تیار نہیِں اور اپنے معاملات خود حل کرنا چاہتے ہیں اور یہ ایک خطرناک روش ہے۔ اگر ادارے بحال ہوں وہاں اے لوگوں کو انصاف ملتا ہو )انصاف میں معاشی اقتصادی عدالتی ہر قسم کا انصاف شامل ہے۔ تو لوگ بھی اپنے معاملات ادروں اور انکے اہلکاروں پہ چھوڑ دیں جیسے مہذب معاشروں میں ہوتا ہے۔

    ہچھلے ساٹھ سالوں میں حکومت اور اسکے ادروں کی اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجہ سے پوری سوسائٹی ہی متعفن ہو چکی ہے ۔
    عدلیہ سے امید کی ایک کرن بندھی ہے کہ جو کام پچھلے ساٹھ سالوں میں نہیں ہوسکا ۔ ااسکی ابتداء ہو جائے۔۔

  7. ملک پہ قابض غیر نمائییندہ اور چور لوگوں نے عوام کے لئیے کچھ نہیں کیا اور اس دوران تیسری نسل جوان ہوچکی ہے ۔ جو رفتہ رفتہ معاشرے کے اسٹک ہولڈرز پہ اعتماد کھوتے ہوئے اب اپنے معامعلات پہ ان کا کردار بھی برداشت کرنے کو تیار نہیِں
    مندرجہ بالا عبارت میں عجلت کے باعث کی بورڈ کو درست نہ دبانے کی وجہ سے دو لفظ رہ گئے تھے اوپر درست کر دئیے ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s