سوائن فلو وائرس ایک خوفناک عفریت


ارشادربانی ہے کہ” آپ کہہ دیجئے کہ جوکچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کیلئے جو اس کو کھائے ‘ مگر یہ کہ وہ مردارہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہوکیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو تو واقعی آپ کا رب غفور ورحیم ہے” (سورہ انعام 146)
جدیدسائنس نے اسلامی شریعت میں ممنوعہ چیزوں کے بعض اسباب جاننے کی کوشش کی جس کو متبعین شریعت نے خورد بینوں کے انکشاف سے پہلے صدیوں تک عمل کیا ہے۔ ترتیب کے ساتھ مردار اور خون اس سے جراثیم پروان چڑھتے ہیںنیز خون سے تیزی اور کثرت کیساتھ بڑھتے ہیں اور خنزیر(سور)جس کے بدن میں تمام جہاں کی بیماریاں اور گندگیاں جمع ہیں ‘ اور کسی بھی طرح کی صفائی ستھرائی ان کو دور نہیں کر سکتی خنزیرکے اندر کیڑے ‘بیکٹیریا اور ایسے وائرس ہوتے ہیںجن کو وہ انسان اور جانوروں میں منتقل کرتا ہے ۔ او ر کم از کم 70خطرناک مختلف الاقسام امراض کا باعث بنتا ہے سور کے اندر انفلوانزا کا مخصوص وائرس ہوتاہے جو کہ خنزیر پالنے والوں اور ان سے میل جول رکھنے والوں کے اندر وبائی مرض کی شکل میں ظاھرہوتا ہے۔ اور یہ مرض مصنوعی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں جہاں خنزیر پالے جاتے ہیں ‘زیادہ ہوتا ہے ۔عام طور پر اس بیماری کی علامت طبی نقطہ نظر کے حوالے سے موسمی نزلہ زکام سے مشابہہ ہیں تاہم کلینیکل رپورٹ کے مطابق یہ بیماری شروع ہونے کے بعد تیزی سے تبدیل ہوتی ہے اور موت تک ایک شدید نوعیت کے نمونیا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ جرمنی، فرانس ، فلپائن اور وینژویلا وغیرہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے جدید ٹیکنیکس بروئے کار لاکرخنزیر کے گوشت کی نجاستوں اور خباستوں کو دور کر دیا ہے لیکن ان ممالک کے مخصوص سرٹیفائڈ فارموں کا مذکورہ گوشت کھانے والے بیشمار افرادمیںبھی Trichinellosisکا مرض لگ جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے معدے سے آواز نکلنے لگتی ہے اور کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں جن کی تعدادکم ازکم دس ہزار ہوتی ہے پھر یہ کیڑے خون کے راستہ سے انسان کے پٹھوں میں منتقل ہوجاتے ہیں اور پھر مزیدمہلک امراض کی شکل اختبار کر لیتے ہیں ۔اسی طرح Spiralisکا مرض بیمارخنزیر کا گوشت کھانے سے لگتا ہے ۔ اس مرض میں بھی انسان کی آنتوں کے اندر کیڑا پروان چڑھنے لگتا ہے جس کی لمبائی کبھی کبھی سات میٹر سے بھی لمبی ہوتی ہے جس کا کانٹے دار سر آنتوں کی دیواروں کے اندر فضلے اوردوران خون کی دشواری کا سبب بنتا ہے اسکی چار چو سنے والی چونچیں اور ایک گردن ہوتی ہے جس سے مزید چونچ دار کیڑے وجود میں آتے ہیں جن کا ایک مستقل وجود ھوتا ہے اور تعدادہزار تک ہوتی ہے ، اور ہر بارہزار انڈے پیدا ہوتے ہیںاور انڈوں سے ملوث کھانا کھانے کی صورت میں Taenia Soliumکا مرض لگ جاتا ہے ۔ٹائینا سولیئم کے انڈے(Ova)خون کی گردش میں شامل ہو کرجسم کے کسی بھی حصے میں پہنچ جاتے ہیں اگر یہ دماغ تک جاپہنچیںتو یادداشت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیںاگر یہ دل میں داخل ہو جائیںتو دل کے دورے کی وجہ بن سکتے ہیں۔آنکھ میںجاپہنچنے پر نابینا پن ہو سکتا ہے۔جگر میں داخل ہو جائیں تو پورے جگر کا ستیاناس کر ڈالتے ہیںغرض اس ایک مرض سے جسم کے کم و بیش تمام اعضاغارت ہو سکتے ہیں۔سور کے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اسے 70ڈگری پر پکانے سے اس کے بیشتر جراثیم مر جاتے ہیں جو کہ صرف اپنی پراڈکٹس بیچنے کا پراپیگنڈہ ہے۔امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس گوشت کے استعمال سے لگنے والے خطر ناک طفیلئے ٹرائی کیوراسے متاثرہ چوبیس افراد میں سے بیس ایسے تھے جنہوں نے 70ڈگری سے زائد پر پکا ہواسئور کا گوشت کھایا تھااس سے اخذ کیا گیا کہ مخصوص درجہ حرارت پر پکانے سے بھی ایسے جراثیم کسی طور نہیں مرتے۔اس گوشت کے کھانے والے میں بے غیرتی کے جراثیم بھی داخل ہو جاتے ہیںیعنی اپنی ازدواجی زندگی میں دیگر مرد حضرات کی شراکت اچھی لگنے لگتی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنی بیویاں ایک دوسرے سے بدلنے والے سور کے گوشت کے رسیا ہوتے ہیں لہذا مسلمان تو مسلمان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے یالادین افراد کوبھی اپنی صحت اور متوازن انسانی طرز زندگی کی خاطراس کے استعمال سے لازمی بچنا چاہئے۔یہ وہ معلومات ہیں جوکہ پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت کی طرف سے سور کے گوشت کے استعمال کے حوالے سے آنے والی خبروں کے بعد ایلیٹ سوسائٹی کے اراکین تک پہنچانے کی کوشش کر چکا ہوں۔تاکہ ان خبروں سے اس نجس گوشت کے استعمال کی ترغیب نہ ہونے پائے۔جبکہ وطن عزیز میں سب سے پہلے اس خدشے کا اظہار بھی راقم ہی نے کیا تھا کہ پاکستان میں مرغیوں کوسور کی چربی سے بنی فیڈاستعمال کروانے سے برڈ فلو کے کیسز زیادہ سامنے آرہے ہیں لہذا اس پر پابندی عائد کی جائے۔پاکستان کی عدلیہ نے بھی اس کی توثیق کی اور سورکی چربی ملی مرغیوں کی فیڈ پر پابندی عائد ہوئی۔
سوائن فلو یا خنزیر میں ہونے والے انفلوائنزا وائرس سے متعلقہ خبریں تو مارچ کے اواخر سے ہی سور کا گوشت استعمال کرنے والے ممالک کے حوالے سے سامنے آرہی تھیںلہذا اتنی فکرلاحق نہ ہوئی لیکن جب اپریل کے اواخر تک سوائن فلو عالمی وباکی شکل اختیار کرنے لگا تو ماتھاٹنکااور اس سلسلے میں معلومات کے حصول کیلئے تگ ودو شروع کی ‘اب تک جو معلومات حاصل ہوئیں وہ نذرقارئین ہے۔


سوائن فلو کی وبا نے دنیا کے بیسیوںممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یورپ میں اسپین اور برطانیہ کے بعد جرمنی میں بھی سوائن فلو کے کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے۔ سوائن فلو کی وبا کا آغازمارچ میں میکسیکو سے ہوا’ جہاں اب تک سینکڑوںافراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔سوائن فلو کے مشتبہ مریضوں کی تعدادہزاروںسے تجاوز کرچکی ہے ۔ تادم تحریرمیکسیکو میں مشتبہ مریضوں کی تعداد دو ہزار چار سو اٹھانوے ہے ۔امریکا میں ریاست کیلیفورنیا میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے نیو یارک میں ایک سکول کے سینکڑوں طالبعلم اس وائرس کی زد میں ہیں ۔امریکہ کے صدر باراک اوباما نے اس وائرس کے خلاف اقدامات کے لئے کانگریس سے ڈیڑھ بلین ڈالر کا تقاضا کیا ہے۔ کینیڈا ،نیوزی لینڈ ، کوسٹاریکا ، اسکاٹ لینڈ، اسپین ، اسرائیل، جرمنی ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا،چلی، کولمبیا، ڈنمارک، فرانس، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، نیوزی لینڈ،آئرلینڈ، ہالینڈ، پولینڈ جنوبی کوریا، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور تھائی لینڈ میں مہلک سوائن فلو کے مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔میکسیکو میں تمام اسکولوں کو جبکہ امریکا میں متاثرہ ریاستوں کے اسکول بند کردیئے گئے ہیں ۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے ایئرپورٹس اور داخلی راستوں پر مسافروں کی اسکیننگ شروع کردی ہے۔ عالمی سطح پر ہیجان اور تشویش کا باعث بننے والا سوائن وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔میکسیکو کے شہری گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔سکولوں سے لے کر ہوٹلوں تک ہر جگہ بند ہے۔ اس وائرس کے پھیلا کی وجہ سے ملکی سیاحت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے اور صرف میکسیکو سٹی کو روزانہ 57ملین ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔آٹھ ممالک نے، جن میں فرانس، برطانیہ، کیوبا اور ارجنٹائن شامل ہیں ، میکسیکو کے لئے اپنی پروازوں کا سلسلہ معطل کر دیا ہے اور اپنے شہریوں سے اس ملک کا سفر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔وائرس کے پھیلا ؤکی تشویش کی وجہ سے فرانس سے تھائی لینڈ تک بہت سے افراد کو جن پر اس وائرس میں مبتلا ہونے کا شبہ ہے طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس مرحلے پر مرض پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔ دنیا بھر میں کوئی جگہ اس وائرس سے محفوظ نہیں مزید یہ کہ ادارے نے ہنگامی صورتحال میں مزید اقدامات کا اضافہ کردیا ہے۔
سوائن فلو ہے کیا؟
سوائن فلو کی موجودہ وباء خنزیروں میں موجود ایک وائرسinfluenza A virus subtype H1N1کی وجہ سے دنیا کی تباہی کا دوبارہ پیغام لے کر آئی ہے۔ یہ سب ٹائپ فلو،جانورں اور انسانی فلو وائرس کے مختلف اجزا سے مرکب ہے۔ اس کی ابتدا کیسے ہوئی، اس کا اب تک پتہ نہیں چلایا جا سکا لیکن سب سے پہلے کب ہوئی یہ معلومات مجھے جین برونڈی کی کتاب فلو فائٹر کے مطالعہ سے معلوم ہوئی سوائن وائرس کا سب سے پہلے انکشاف 1918 میںہواجسے اس وقت سپینش فلو کا نام دیا گیااس فلو سے امریکہ میں پچاس ہزار سے زائد جبکہ دنیا بھر میں بیس ملین ہلاکتیں ہوئیں یہ 1957تک ہسپانوی آبادی میں موجود رہا۔اس کے علاوہ 1930میںاس کا انکشاف سانس کی خطرناک بیماری میں مبتلا سوروں میں ہوا۔
سوائن فلو ‘زکام سے مشابہہ متعددی مرض ہے مگر اس کا طریقہ کار مخفی ہے۔ ابھی تک یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ کھانسنے ، چھینکنے اور متاثرہ شخص کو چھونے سے یہ مرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔خصوصا انسانی تنفس سے دوسرے انسان کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت WHOکے مطابق میکسیکو میں ہلاکتوں کا سبب بننے والا وائرس A/H1N1وائرس ہے۔ یہ وائرس انسان سے انسان کو منتقل ہوتا ہے اور انسانوں، سوروں اور پرندوں کے فلو وائرس کے اجتماع سے سامنے آتا ہے۔
علامات
طبی ماہرین کے مطابق سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی اہم علامات میں اچانک 104درجے کا بخار شدیدزکام، کھانسی ،سردرد ،جوڑوں کا درد اور بھوک کا ختم ہو جانا ہیں۔اگر بروقت علاج نہ ہوسکے اور مدافعتی نظام ناکارہ ہوجائے تو مریض نمونیا کا شکار ہو کر دم توڑ جاتا ہے۔چونکہ سوائن فلو کی بیماری واضح علامات ظاہر نہیں کرتی اور عام معمولی فلو کے مریض کی طرح کی ہی علامات سامنے آتی ہیںجس کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا انسانوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
خدشات
٭…طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس بیمار سوروں کے قریب رہنے والے انسانوں میں آسانی کے ساتھ منتقل ہو جاتا ہے اور پھر یہ انسانوں میں تیزی سے پھیل کر وبائی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین نے اسے HINIٹائپ فلو وائرس کا نام دیا ہے۔ اس وائرس کے انسانوں کیلئے انتہائی خطرناک ہونے کا اندازہ عالمی ادارہ صحت کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برڈ فلو کے ایچ 5ایف آئی وائرس سے 2003 سے اب تک دنیا بھرمیں 250انسانوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا اس کے برعکس سوائن فلو وائرس صرف چند دنوں میں میکسیکو کے دو سو افراد کو نگل چکا ہے اور میکسیکو سے باہر ہلاک ہونے والوں کی تعدادمیں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔
٭…طبی ماہرین کے مطابق یہ انفلوائنزا وائرس کی ایک نئی قسم ہے ، جس کے خلاف ابھی تک کوئی مدافعتی نظام انسانی جسم میں موجود نہیں اور ابھی تک کسی قسم کی کوئی ویکسین بھی دریافت نہیں کی جاسکی ہے۔
٭…جن لوگوں کا خنزیروں سے دور کابھی واسطہ نہیں وہ بھی پہلے سے متاثرہ کسی فرد سے سوائن فلو کا شکار ہو سکتے ہیں۔
٭…اس بیماری کے ایک شخص سے دوسرے میں انتقال کی رفتار ، اور دوسرے عوامل جو اس بیماری کی نوعیت متعین کرتے ہیں، واضح نہیں ہیں۔ حتی کہ ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ موجودہ دافع انفلوئنزا دوائیں اس کہ خلاف کارگر ہونگی کہ نہیں۔
علاج
٭…غالب طریق علاج (ایلوپیتھک)کے ماہرین کے مطابق فلو کی اکثر اقسام لاعلاج ہیںاور ان کی ویکسین بھی موجود نہیں’ ان فلووائرسزمیں جینیاتی تبدیلی آتی رہتی ہے بعض دفعہ اچانک تبدیلیاں جنم لیتی ہیں جنہیں جین مخالف تبدیلی یاAntigenic Shiftکہتے ہیںاس طرح کی تبدیلیوں کے نتیجے میںپوری کی پوری آبادیاں فلو میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور عالمگیر وبا پھوٹ پڑتی ہے جب ان میں ٹائپ اے فلو وائرسز ملوث ہوںتو یہ انتہائی مہلک ثابت ہوتی ہیں’ان امراض کا اپنا دورانیہ ہوتاہے اور مکمل علاج دستیاب ہونے تک (جس میں بعض دفعہ سالوں لگ سکتے ہیں)صرف اور صرف علامتی علاج ہی کیا جا سکتا ہے۔سنگین پچیدگیوں کے زبردست خطرے میںزیاد سے زیادہ چند اینٹی وائرل ادویات استعمال کروائی جا تی ہیں۔
٭…تغیر پذیروائرل ڈیزیزز میں ہربل یعنی طب یونانی (اسلامی) کی ادویات اور دیگر گھریلو علاج کی اثرپذیری کو کسی طوررد نہیں کیا جا سکتا لیکن وسائل اور تحقیق کے مواقعوں کی عدم دستیابی سے سائنسی طور پر اسے ثابت کرنا بھی مشکل امر ہے۔مثلاً گذشتہ کئی سالوں سے ڈینگی وائر س کے کامیاب علاج کے حوالے سے پپیتے کے پتوں کے رس کو انتہائی موثر پایا ہے اور ہزاروں مریض میری وساطت سے شفا یاب ہوچکے ہیںجن میں کئی ایم ڈی امریکن ڈاکٹرز’ بیوروکریٹس اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔لیکن اس شفایابی کی سائنسی توضیحات دینے سے قاصر ہوں ظاہر ہے یہ فرد واحد کاکام نہیں ادارے کا کام ہے جوحکومت کی سرپرستی کے بغیر کیسے ممکن العمل ہو سکتا ہے۔
٭…فلو کسی بھی وائرس سے ہو ادرک اورمیتھی کے بیج یعنی میتھرے کی ہربل ٹی کو میں نے انتہائی فائدہ مند پایا ہے کئی غیرملکی احباب بھی اس کی افادیت کے قائل ہیںاس کے تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ میتھرے ایک کھانے کا چمچ ایک گلاس پانی میں جوش دیںجب پانی ایک تہائی رہ جائے اتار کر چھان لیں اب اس میںتازہ ادرک کا رس ایک چمچ (چائے والا) اور شہد ایک بڑاچمچ شامل کرلیں یہ ہربل ٹی پینے سے خوب پسینہ آتا ہے’ بخار ٹوٹ جاتا ہے اور فلو میں افاقہ ہو جاتا ہے۔
٭…ورزش اور لمبی واک سے ہمارا مدافعتی نظام خود کو منظم کرکے نئی قوت حاصل کرتا ہے اور کسی بھی مرض میں زیادہ موثر مزاحمت کرتا ہے۔جبکہ نماز’مراقبہ’استغراق یا ذہنی ارتکازسے بھی اعصابی تناؤاور ذہنی دباؤ دور کر کے مدافعتی نظام کوصحتمند و متحرک کیا جا سکتا ہے۔
٭…ہرقسم کے فلو کے مریض کو شراب’تمباکونوشی’محفوظ کیا ہوا گوشت’ڈبہ بند غذائیں’چاول ‘آلو’اچار وغیرہ اور تمام ٹھوس غذاؤں سے حتی الامکان پرہیز لازم ہے۔پھلوں کے جوسز’سبزیوںکے سوپ اور دیگر سیال غذائیںو دوائیں جوشاندہ وغیرہ زیادہ مفید ہیں۔
احتیاطی تدابیر
٭…احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا درج ذیل احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لا کر اس مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
٭…کسی بھی قسم کی انفیکشن خصوصاً وائرل انفیکشن کے تدارک اور داخلی مزاحمت و مدافعت بڑھانے کیلئے ‘کسی بھی قسم کی گوبھی ‘لہسن’پیاز’ترش پھل’لیموں’مالٹا’سنگترہ وغیرہ’ٹماٹر’ادرک ‘کالی مرچ’زنک والی غذائیںمثلاًگندم ‘مچھلی اور گوشت وغیرہ کو اپنی روز مرہ خوراک میں شامل کریں۔
٭…اپنے ہاتھوں کو باقاعدہ کسی صابن سے دھوئیں۔لیکویڈ سوپ کا استعمال وائرس کو پھیلنے سے بچانے کا اچھا طریقہ ہے۔ اگر آپ ایسے علاقے میں ہیں جہاں اس وباء کے پھیلنے کے امکانات ہیں، یا ایسے لوگ ہیں جو حال ہی میں بیرون ملک کا سفر کر کے لوٹے ہیں تو پھر احتیاطی تدابیرپر عمل کرنا مزید ضروری ہے۔جہاں وباء پھیلی ہو وہاں پرڈسپوزایبل ماسک کا استعمال بھی فائدہ مند ہے ۔
٭…چھینکتے یا کھانستے وقت کسی رومال یا ٹشو پیپر کو استعمال کریں اور استعمال کے فورا بعد اسے ضائع کر دیںاور ہاتھوں کو فورا ً لیکویڈصابن سے دھو لیں۔
٭…اگر آپ گھر سے باہر ہیں اور صابن سے ہاتھ نہیں دھو پائے ہیں تو اس دوران خصوصا ًاور ویسے بھی اپنے منہ، آنکھوں اور ناک کو ہاتھ یا انگلیاں لگانے سے پرہیز کریں کیونکہ ان جگہوں سے وائرس کے جسم میں داخلے کا امکان زیادہ ہے۔
٭…زیادہ تر غیرملکی سفر میں رہنے اور اکثرپبلک ٹیلیفون استعمال کرنے والے افرادکو وائرل انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اس سلسلے میں شدید ضرورت ہو تواپنے پاس wipesضرور رکھنا چاہئے اور وائپز سے رسیور صاف کر کے استعمال کرنا چاہئے۔
٭…اس خطرناک وائرس کو پاکستان پہنچنے سے روکنے کیلئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس مقصد کیلئے وائرس سے متاثرہ ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کی ہوائی اڈوں پر خصوصی سکریننگ کی جانی چاہئے اور وائرس سے متاثرہ مسافروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے یا انتہائی نگہداشت اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ فوری طور پراس سلسلے میں مخصوص ہسپتال کے آئیسولیٹڈ وارڈ میں داخل کرا دینا چاہئے۔ صرف اسی اقدام سے ہی پاکستان کو اس تباہ کن وائرس سے بچایا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں احتیاطی تدابیر
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو سوائن فلو کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔دنیا بھر میں سوائن فلو کو پھیلنے اور اس کو وبائی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ بیشتر حکومتوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ میکسیکو کے سفر سے گریز کریں جہاں اس مہلک مرض سے مرنے والے افراد کی تعدادسینکڑوں اور متاثرین ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔
امریکا نے سوائن فلو ایچ 1این 1 سے ٹیکساس میں ایک تئیس ماہ کے بچے کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔میکسیکو سے باہر سوائن فلو سے یہ پہلی ہلاکت ہے ۔
کینیڈا ،نیوزی لینڈ ، کوسٹاریکا ، اسکاٹ لینڈ، اسپین ، اسرائیل، جرمنی ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا،چلی، کولمبیا، ڈنمارک، فرانس، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، نیوزی لینڈ،آئرلینڈ، ہالینڈ، پولینڈ جنوبی کوریا، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور تھائی لینڈ میں مہلک سوائن فلو کے سینکڑوںمشتبہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔
لیکن دنیا بھرمیں صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ جس تیزی سے صورت حال تبدیل ہورہی ہے ،اس کے پیش نظر تعداد کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی اور ڈاکٹرحضرات اور طبی عملہ کے ارکان نظام تنفس کے حوالے سے کسی مسئلہ کا شکار لوگوں کے ٹیسٹ کررہے ہیں ۔
میکسیکو نے ملک بھر میں تمام آرکیالوجیکل مقامات کو اگلے نوٹس تک بند کردیا ہے جس کے بعد ٹورآپریٹر بھی ملک سے چلے گئے ہیں۔حکومت کے ان اقدامات سے ملک کی سیاحت کی صنعت خطرات سے دوچار ہوگئی ہے۔
میکسیکوشہر میں سوائن فلو پھیلنے کے بعد لوگوں اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور حکام نے اسکول،سینما گھر،اسٹیڈیم،ریستوران حتی کہ گرجا گھر بھی بند کردئیے ہیں۔
آسٹریلیا میں حکام کو سوائن فلو سے متاثرہ کسی بھی مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کے اختیارات سونپ دئیے گئے ہیں۔
سور کے گوشت کے کاروبار کوسنبھالا دینے کیلئے کہا جا رہا ہے کہ سوائن فلوکا وائرس سور کے گوشت یا اس سے بنی مصنوعات کے کھانے سے پیدا نہیں ہوتااور یہ وائرس 70درجے پر سور کے گوشت کو پکانے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔لیکن روس اور چین سمیت بعض ممالک نے اس ہدایت کی سنی ان سنی کرتے ہوئے امریکا سے سور کے گوشت کی درآمد پر پابندی لگادی ہے۔
سوائن وائرس اب ایشیا میں بھی پہنچ چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوائن فلو کی وبا لاکھوں افراد کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے لہذا دنیا بھر کے ممالک کو اس سے بچا ؤکیلئے حفاظتی اقدامات کرنے چاہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس خطرناک ترین وائرس کے انسداد کی ویکسین تیار کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
سوائن وائرس اورپاکستان
وزرات صحت حکومت پاکستان کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ملک میں ابھی تک سوائن وائرس کا کوئی بھی مشتبہ مریض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس وبا کے پھوٹنے کے فوری امکانات ہیں تاہم ان کے مطابق پاکستان کو سوائن وائرس سے اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کسی بھی دوسرے ملک کو۔ وفاقی سیکرٹری برائے صحت رشید جمعہ اور قومی ادارہ ِ صحت کے ماہرین نے کہا کہ کیونکہ سوائن وائرس جانوروں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچتا ہے لہذا اس کے امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا ۔
وفاقی سیکرٹری برائے صحت رشید جمعہ کا کہنا ہے کہ وزارت صحت نے میکسیکو ،امریکہ، کینڈا اور یورپ کے بعض حصوں میں سوائن وائرس کے انسانی صحت پر اثرات اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کے پیش نظر پاکستان میں اس وبا کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھا رکھے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک پاکستان کی سرحد سے ملحقہ یا خطے کے دیگر ملکوں میں کہیں بھی سوائن فلو وائرس H1N1کا کوئی انفیکشن رپورٹ نہیں ہوا تاہم ملکی آبادی کو اس بیماری کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے تما م بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سے آنے والے افراد کی خصوصی سکریننگ کی جارہی ہے تمام ہوائی اڈوں پر باہر سے آنے والے افراد کو فارم دے کر ان کی سفری معلومات حاصل کی جارہی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی متاثرہ شخص متاثرہ ملک سے وائرس لے کر پاکستان میں داخل نہ ہونیز ایئر لائینز کے عملے سے کہا گیا ہے کہ وہ آنے والے مسافروں پر نظر رکھیں اور اگر کسی بھی مسافر میں مشتبہ فلو کی علامات ظاہر ہوں تو فورا ایئر پورٹ ہیلتھ اتھارٹی کو اطلاع دیں۔ وفاقی سیکرٹری کے مطابق پاکستان میں سمندر یا زمین کے راستے سے داخل ہونے والے افراد کی بھی سکریننگ کی جارہی ہے جب کہ ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ والدین کو فلو سے متاثرہ اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجنے کا مشورہ دیں۔
یہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان کی تمام حکومتوں کے دعووں کے برعکس صحت کے شعبے میں کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہوئی ۔نصف صدی سے زائد گذرنے کے باوجود ہمارا صحت کا شعبہ ابھی بھی ترقی پذیربلکہ انحطاط پذیر ہے۔مبہم صحت پالیسیاں بنانے کا کیا فائدہ جب ان پر عمل درآمد کے لئے کوئی طریق کار ہی وضع نہ کیا گیا ہو؟؟؟
پاکستان میں جدید وبائی امراض سے نپٹنے کیلئے کوئی موثرسسٹم موجود نہیںجوکہ باعث تشویش ہے۔ وائرل ڈیزیزز کے حوالے سے صحت سے متعلقہ وفاقی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پرفوری وعملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
پچھلے سال ڈینگی وائرس نے جس طرح تباہی مچائی وہ سب کے سامنے ہے۔بروقت معلومات اورمحکمانہ خرابیوں کے حوالے سے ”نوائے وقت” میں چھپنے والی میری ایک خصوصی تحریر ”ڈینگی’ ایک خونی وائرس ”پراگرچہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ڈینگی وائرس اور اس کے مضمرات کے بچاؤ سے متعلق ہنگامی بنیادوںپر اہم اقدامات کئے ۔لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی جبکہ اس سال ڈینگی وائرس کے حوالے سے پنجاب میں بہت پہلے سے اہم اقدامات کئے جارہے ہیں جو نہ صرف قابل تحسین ہیں بلکہ دیگر صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنا چاہئے۔###

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

یہ مضمون اردو محفل سے نقل کیا گیا ، ربط یہ ہے

http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=21529

مصادر و ماخذ:۔
http://www.deutsche-welle.de/popups/…210144,00.html
http://en.wikipedia.org/wiki/Swine_flu
http://en.wikipedia.org/wiki/Influen…s_subtype_H1N1
http://www.oie.int/eng/press/en_090427.htm
http://www.who.int/mediacentre/news/…/en/index.html
http://www.cdc.gov/swineflu/swineflu_you.htm
http://en.wikipedia.org/wiki/2009_swine_flu_outbreak
http://www.sanpedrosun.net/09-174.html
http://www.cdc.gov/swineflu/general_info.htm
فلو فائٹر:جین برونڈی’اور دیگرالیکٹرانک و پرنٹ میڈیا
(http://www.hakimkhalid.uk.to)


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Islam, News, Urdu and tagged , , , . Bookmark the permalink.

14 Responses to سوائن فلو وائرس ایک خوفناک عفریت

  1. اتنی ساری برائیوں کے باوجود سور کا گوشت یورپ میں صدیوں سے کھایا جا رہا ہے اور یہی لوگ اس وقت دنیا کے صحت مند لوگ ہیں اور دنیا کے ہر کھیل میں چھائے ہوئےہیں۔ کیوں؟ یہ ایک ایسا ٹیڑھا سوال ہے جس کا جواب مذہب کو بیچ میں لائے بغیر ڈھونڈنا مشکل نظر آتا ہے۔

  2. HAKIM KHALID says:

    مغرب میں صحت عامہ کےلیے جی پی سسٹم وضع کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر یورپ کے صحت مند نظر آنے والے اور سور خور افراد کی ہسٹری ملاحظہ کرنے کا آپ کو اتفاق ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو افضل بھائی آپ ایسی بات نہ کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بظاہر صحت مند نظر آنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدائے بزرگ و برتر کے نافرمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اندر سے بہت کھوکھلے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہےاور دیگر الہامی مذاہب بھی زندگی گذارنے کے قوانین ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا ہر بات کا مذہب سے ٹیلی کرنا فطری امر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی طور بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیرمناسب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افضل بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کون سے پاکستان میں رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

  3. حکیم صاحب
    آپ تو ناراض ہو گئے ہم خود مسلمان ہیں اور جستجو میں رہتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اولمپک کے مقابلے زیادہ تر سور کھانے والے جیتتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ سائنس کی ترقی میں عروج پر پہنچنے والے سور خور ہیں۔ ہمیں نے خود کبھی سور نہیں کھایا اور اسے حرام سمجھتےہیں مگر جب نے آپ نے سور کی اتنی برائیاں گنوائیں تو پھر ہم سوچنے لگے کہ بیمار گوشت کھانے والے کیسے تندرست ہو سکتے ہیں۔ بس یہی ایک خلش تھی دل میں جس نے الٹا سوال کرنے پر اکسایا۔

  4. خاور says:

    میرا پاکستان کی بات ٹھیک هے
    لیکن اس کی وجه یه ہے که انہوں نے ورزش کے نظام کو سمجھ لیا هے جس کی وجه سے
    سور کے گوشت کے برے اثرات جوانی میں ظاهر نهیں هوتے هیں
    آپ تو جانتے هی هیں که جوانی میں ویسے بھی بیماریاں کم هی حاوی هوتی هیں
    میں ورزش کرتا رھا هوں اور جانتا هوں که ورزش سے جسم طاقتور هوتا ہے
    کوئی اگر ان دنوں مجھے پٹخ کر بھی پھینک دیتا تھا تو میں سپرنگ کی طرح اٹھ جایا کرتا تھا
    تو جی عمران مرزا صاحب کی بات بھی اپنی جگه لیکن میرا پاکستان کا مشاھدھ بھی جھٹلایا نهیوں جاسکتا
    اس کا جواب مذھب سو زیادھ دلیل سے دینے کی ضرورت ہے
    کینکه هم لوگ جو باھر کے ممالک میں رھتے هیں ان کو سور کھانے والوں سے واسطه پڑتا رھتا ہے
    اور ان کو سوالوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے
    مرزا صاحب کی اس پوسٹ سے بڑا علم میں اضافه هوا هے

  5. Rehan Mirza says:

    Jo Jahan ki MEdecine or Steroids ye angreez use karte hey sprorts me or bhi bada kuch

  6. Swine flu ek khaternak haqeeqat banta ja raha hay aur qul aalam may phailta ja raha hay, bhala hum becharon ka kya kasoor jo ua napak janwar ka gosht nahi khatay? humaray yahan tuo yeh flu nahi ana chahiye na?

  7. افضل اور حکیم خالد صاحبان
    میں دین کو بیچ میں لائے بغیر اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بات کروں گا ۔ میں درجن سے زیادہ غیر مسلم قومیتوں کے غیر مسلم صحت مندوں کے ساتھ سالوں رہا ہوں ۔ بظاہر صحتمند لگنے والے ضروری نہیں ہوتا کہ صحت مند ہوں ۔ یہ لوگ بڑی احتاط کرتے ہیں جب کسی بھی مسلمان ملک میں احتیاط نام کی کوئی چیز سوائے حرام نہ کھانے کے نہیں پائی جاتی ۔ اس کے باوجود جب بھی یورپ یا امریکہ میں کوئی بیماری اُٹھتی ہے تو چند دنوں میں درجنوں مر جاتے خواہ خسرہ ہو ۔ یا فلُو کی کوئی قسم یا کوئی اور بیماری ۔ ذیابیطس اور فشارِ خُون بھی جتنا اُن مُلکوں میں ہے اتنا کسی مسلمان ملک میں نہیں اور اب جو مسلمان ملکوں میں بڑھا ہے تو امریکہ اور یورپ والوں کی نقالی کرنے کی وجہ سے ۔
    اصل بات یہ ہے کہ حرام شۓ کھانے سے قوتِ مدافت مجروع ہوتی رہتی ہے اور بظاہر صحتمند آدمی اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے ۔ دو جرمن اور ایک بیلجیک انجیئروں سے کسی زمانہ میں میری دوستی رہی وہ نہ شراب پیتے تھے نہ لحم الخنزیر کھاتے تھے اور نہ سگریٹ پیتے تھے ۔وہ سرخ و سفید نہیں تھے لیکن بہت طاقتور اور لمبے اوقات کام کر کے نہ تھکنے والے تھے ۔ ان تینوں سے میری ملاقات مُختلف ادوار میں رہی ۔ میں نے اُن سے اس پرہیز کی وجہ پوچھی تو ایک نے بتا کہ وہ نیوی میں تھا اور دوسری جنگ عظیم میں برما میں رہا تھا ۔ وہاں کے لوگ بہت صحت مند تھے تو میں نے اُن سے سیکھا ۔ دو نے سیدھا کہا کہ اسلام کو ہم نہیں مانتے لیکن اس کچھ باتیں بہت اچھی ہیں جو ہم نے اپنی صحت کی خاطر اپنائی ہیں ۔ ان دو میں سے ایک یہودی تھا اور اُس نے مسلمانوں کی طرح داڑھی رکھی تھی اور موچھیں صاف ۔

  8. Yasir Imran says:

    میرے خیال میں اولمپکس میں جیتنے کی وجہ سور کھانا نہیں ہے بلکہ محنت اور مشقت ہے، میرے خیال میں یہ لوگ گوشت جیسی مضر صحت اشیا کم ہی کھاتے ہوں گے اور اگر کھاتے بھی ہوں گے تو کسی خاص طریقے سے پکا کر، اور اولمپکس میں پاکستانیوں نے بھی تمغے لیے ہوے ہیں اور بہت سے اوروں نے بھی، بنا سور کھائے

    افضل صاحب، اولمپکس میں بہتر کار کردگی دکھانے کی وجہ بہترین سہولیات اور اچھے سکھانے والے اور انعام کا لالچ ہے,،پاکستان میں نوجوانوں کو اولمپکس جیسے کھیلوں کی طرف لانے کے لیے کوئی ترغیب نہیں دی جاتی، اگر کوئی تن سازی کرتا ہے تو اس کے لیے بہت ساری خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، اگر چھوٹے پیمانے پر ہونے والے کھیلوں پر حکومت کی طرف سے کوئی انعام بھی نہیں ، نہ کوئی سرپرستی کرنے والا ہے، تو پھر نوجوان کیسے ان کھیلوں کی طرف آئیں ؟
    پاکستان میں پہلوانی کا کھیل ڈوب گیا کیوں کے اس کھیل میں پیسہ نہیں ہے، کوئی بھی اس شعبہ میں کمال حاصل کر لے مگر وہ گھر کی دال روٹی کیسے چلائے گا
    جب کہ امریکہ میں پہلوانی سے ملتا جلتا کھیل ، ریسلنگ عروج پر پہنچ چکا ہے، دنیا بھر میں اس کھیل کے دیکھنے والے ہیں، اور کھیلوں میں پہلوانوں کو بہت بڑا بڑا انعام ملتا ہے
    لہذا کھیلوں میں ترقی کی وجہ سپانسر شپ اور حکومتی سرپرستی کہہ سکتے ہیں مگر سور کھانا نہیں اور سب لوگوں کا شکریہ جنہوں نے رائے دی ،اور میرے خیال میں افتحار صاحب کی بات سے افضل صاحب کی غلط فہمی ختم ہو چکی ہوگی

  9. Pingback: » سور مغرب اور مشرق میں میرا پاکستان:

  10. Pingback: » سور مغرب اور مشرق میں میرا پاکستان:

  11. sports may un ki kamyabi ki waja wahan kay aala mayar kay gyms aur coaching clubs hain. dosra un ki mehnat bhi hay. aur sab say berh kay yeh kay wahan talent ko agay anay ka moka milta ho ga, yahan Pakistan ki terha sirf zaati taluq ya pasand na pasand ki bina pay team say nahi nikaltay hoon gay meray bhai. :p

  12. Ahmed says:

    this comments were for my pakistan blog. but it is for people r talking about schwein virus and pig
    زمانہ ہوتا ہے جب ہم نے تبصرہ چھوڑ دیا مگر گاہے بگاہے پڑھتے رہتے ہیں

    ایک بات ہم نے نوٹ کی ہے کہ “بلا تھیلے سے باہر آرہا ہے“ جیسا کہ یاسر نے کہا بات یہ ہے کہ اکثر جو باہر نکلا وہ دنیا کمانے نکلا اس کے دل کے سارے گوشوں میں دنیا چھائی ہے اب اگر اللہ پاک کسی پر رحم فرما کر وہاں بھی دین دے دیں تو نعمت ہے

    مجھے یقین ہے کہ ایسے لوگ عنقریب اپنا الگ قرآن بھی لانے والے ہیں، ان کے مربی شیعہ لوگ تو قرآن کا ٹھیک ہونا مانتے نہیں تو انکو بنا بنایا پلیٹ فارم بھی دستیاب ہے

    ایک جرمن ڈاکٹر کی ایک کتاب ہے سور کا گوشت اور صحت وہ مسلمان بھی نہیں ہے
    اس نے کیمیائی تجزیہ اور بحث کے بعد لکھا ہے کہ صحت مند رہنے کا ایک ہی طرقہ ہے کہ مکمل طور سے سور سے اجتناب کرنا ہوگا
    اس نے لکھا ھے کہ سور پر تحقیق کرنے کا خیال مسلمانوں اور یہوڈ کو دوسروں سے زیادہ صحت مند دیکھ کر آیا تھا

    آپس کی بات ہے ، لوگوں کو اللہ اور اسکے رسول کی بات کا پورا یقین نہیں ہے مگر یہ بات کرتے ڈرتے ہیں اور حیلے بہانوں سے کہ بھی دیتے ہیں، ایسے لوگوں کی نسلیں وہ کہ دیں گی جو انکے اماابا نہ کہ سکے

  13. Ahmed says:

    Ajmal sahib ne bilkul 100 % theek baat ki hai agar ab bhi sahib ko samajh na aaey tu Dr se check karwana paray ga.
    pakistan ke logon ko ya her deen dar ko bahir rehne walon ko daikh ker rishta dena ya lena chaiye kisi ka koi pata naheen wo kab se islam se out hai. aur istarah wo nikkah hi naheen hoga.
    jawaid sahib ne theek kaha hai keh islam ka matlab hai saamannan aamanan . jisne inkaar kia chahe kitne koi khoobsurat alfaz main wo bahir hai. yeh rishta wali baat main aaisey hi naheen keh raha , itnay saaray mulkon main logon ko dekha bhala hai

  14. اور کھاو سور

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s