ہماری الیکٹرانک ذمہ داریاں


گزشتہ دنوں ایک ویب سائٹ پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں ہمارے پیارے نبی صلی علیہ والہ وسلم کی شخصیت کے بارے  نازیبا الفاظ لکھے گئے تھے - وہ دیکھ کر بہت برا محسوس ھوا- چونکہ وہ ایک ورڈپریس بلاگ تھا اس لیے اس کی شکایت ہم نےورڈپریس ڈاٹ کام والوں کو جمع کرا دی

مگر ظاہر ہے ورڈپریس ڈاٹ کام  والے بھی ایک شکایت پر کیا ایکشن لے سکتے ہیں - ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جو ایسی گھٹیا تحریرں شائع کر کے اپنے گھٹیا مقاصد کے لیے کام کر رھے ہیں - انٹرنٹ ایک بہت بڑا اور اہم میڈیا بن چکا ہے اور بہت ساری کمیونٹی سائٹس کی وجہ سے یہ ممکن ھو گیا ہے کہ ہر کوئی اپنی آواز دنیا کو سنا سکتا ہے۔ - پاکستان میں بہت سارے ٹی وی چینلز بھی بن چکے ہیں مگر پھر بھی افسوس والی بات یہ ہے کوئی بھی چینل ٹھیک طرح سے پاکستان، پاکستانی عوام اور اسلام کو سمٹتی ہوئی تیز رفتار دنیا میں  پروموٹ نہں کر رہا

جبکہ غیر مسلم میڈیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف روز بروز جھوٹ اور بدنیتی پے مبنی مواد اگل رہا ہے- ہم سب کو یہ سمجھنا ہو گا ک میڈیا ایک طاقت ہے جسکا صیحح استعمال کر کے ہی ہم جھوٹے الزامات اور نفرت سے بچ سکتے ہیں- یہ ہم سب کی الیکٹرانک ذمہ داریاں ہیں کہ ہم اپنے ملک اور اپنے مذھب کو بچائیں دوسرے الفاظ میں ہم اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کے تبلیغ اسلام الکیٹرانک میڈیا پر

اس سلسلے میں ہم کیسے شروعات کر سکتے ہیں

ہمارے پاس جو بھی تصدیق شدہ اسلامی آرٹیکل ہیں انھیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے بلاگ پر پوسٹ کریں-  مناسب ٹیگ لگا کر اسے سرچ انجن کی رسائی کے قابل بنائیں، 
اگر کوئی ویب سائٹ یا بلاگ غلط اسلامی معلومات  یا اسلام کے خلاف نفرت پر مبنی مواد چھاپ رہا ہو تو اس کی جہاں بھی ممکن ہو شکایت کریں اور اپنے جاننے والوں کو اس کے متعلق تنبیۃ کر دیں
اگر کسی بلاگ پر غلط اسلامی معلومات  یا اسلام کے خلاف نفرت پر مبنی مواد پوسٹ نظر آئے تو اسی بلاگ کا زمرہ اور ٹیگ لے کر اپنے بلاگ پر ایک تصیحح شدہ پوسٹ شامل کر دیں، اس سے یہ ہو گا ک جب بھی کوئی سرچ انجن اس پوسٹ تک جائے گا تو وہ آپکی پوسٹ کو بھی اپنے ریکارڈ میں شامل کر لے گا، یوں سرچ کرنے والوں کو دونوں پوسٹس نظر آییں گی
اگر یوٹیوب پر کوئی اسلام کے مخالف ویڈیو نظر آئے تو اسے فلیگ کریں (شکایت کریں)
فیس بک پر اسلامک نوٹس، لنکس (روابط) شامل کریں
فیس بک پر اسلامک صفحات، شخصیات اور مقامات کے فینز (پسند کرنے والے) بنیں اور اپنے فیس بک  کے جاننے والوں کو شمولیت کی دعوت بیجھیں
اگر آپ کے پاس مقدس مقامات کی تصاویر یا کوئی دعائوں یا آیات کی تصاویر ہیں تو ان کو فلکر پر داخل کریں – مناسب ٹیگ لگا کر اور تفصیل لکھ کر اسے سرچ انجن کی رسائی کے قابل بنائیں
یو ٹیوب پر اپنے پاس موجود نعتیں اور اسلامی معلوماتی ویڈیوز شامل کریں
اپنے دوستوں کو اچھے اچھٰے برقی رقعے( ای میل) بھیجیں

یہ سب ہماری الکٹرانک ذما داریاں ہیں،ہم سب اپنے دفاتر یا گھروں میں اپنی زندگیاں جی رہے ہیں اس بات سے قطع نظر کے ہمارے دین کے متعلق دنیا کیا سوچ رہی ہے، ہم کسی تبلیغی عمل  کا حصہ نیں ہیں- لیکں جہاں ہمارا بس چلتا ہو وہ کچھ تو ہمیں کرنا چاہیے نا۔ میری اس پوسٹ کا لب لباب یہ ہے کی سب سے بڑے الکٹرانک میڈیا یعنی انٹرنٹ پر جب بھی کوئی اسلام اور پاکستان سے اجنبی بندہ سرچ کرے تو اسے تصیحح شدہ اسلامی مواد کثیر تعداد میں دستیاب ہو- ہو سکتا ہے آپ کی ایک پوسٹ سے کوئی بھٹکتا ہو  راہ راست پر آ جائے- یہ سب آپ ک دین کو آپ کے ملک کو کچھ فائدہ پینچا سکتا ہے اور ہو سکتا ہے آپ کے نامہ اعمال میں بھی کچھ اچھا اضافہ ہو جائے

اپنی رائے ضرور دیں

یہ پوسٹ خاص طور پر بلاگر حضرات اور ویب ماسٹرز (ویب مالکان) کے لیے ہے


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

10 Responses to ہماری الیکٹرانک ذمہ داریاں

  1. سلام
    آپ نے بہت اچھی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ۔ ۔ یہ واقعی ہماری الیکٹرانک ذمہ داریاں ہیں کہ ہم اپنے مذہب اور ملک کا دفاع کریں اور شک و شبہات کو ختم کرنے میں اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتے رہیں۔

  2. یہ واقعی درست ہے کہ مسلمانوں نے بحیثیت قوم میڈیا کو اچھے طریقے سے استعمال نہیں کیا۔ عربوں کے پاس اربوں ڈالر ہونے کے باوجود وہ کوئی بین الاقوامی چینل شروع نہیں کر سکے۔ اسی طرح دوسرے مسلمان ملک بھی اس بارے میں خاموش ہیں۔

    • Yasir Imran says:

      افضال انکل
      جی ہاں، مسلمانوں نے میڈیا اور تعلیم و ریسرچ دونوں کو جیسے بھلا دیا ہے
      اسی لے آج مسلمان پس رھے ہیں اور ترقی کی دوڑ میں سب سے پیچھے ہیں
      بہت شکریہ

  3. Ghazala Khan says:

    Interview Request:

    Hello Dear and Respected,
    I hope you are fine and carrying on the great work you have been doing for the Pakistani side of Internet. I am Ghazala Khan from The Pakistani Spectator (TPS), We at TPS throw a candid look on everything happening in and for Pakistan. We are trying to contribute our humble share in the blogistan.

    We at TPS are carrying out a new series of interviews with the notable Pakistani bloggers, writers and web masters. In that regard, We would like to interview you, if you please take some time out of your busy schedule. Please send me your approval for your interview at ghazala.khi at gmail.com, so that I could send you the questions. We would be extremely grateful. We have done many interviews with many bloggers from Pakistan like Dr. Awab, Kashif Aziz, Fahd Mirza, Unaiza Nasim, Omer Alvi and host of others. We have also interviewed prominent figures like renowned writer Dr. Ayesha Siddiqa Agha, Dawn Columnist Urdsher Cowasjee and plethora of others.

    regards.

    Ghazala Khan
    The Pakistani Spectator
    http://www.pakspectator.com

  4. فیصل says:

    آپ نے اچھی باتیں لکھی ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ چونکہ ایسی سائٹس لاکھوں میں ہونگی، ہم ہر کسی کا جواب نہیں دے سکتے۔
    اس کا توڑ یوں ہوسکتا تھا کہ انسان اجتماعی اور انفرادی طور پر دینی و دنیاوی لحاظ سے قابل تقلید ہوتے۔
    لیکن بہر حال آپکی تجاویز اچھی ہیں اور کوشش تو کی جا سکتی ہے۔

    • Yasir Imran says:

      فیصل بھائی
      پہت شکریہ میری تحریر کو پسند کرنے کا ،آپ کا کہنا درست ہے واقعی ایسی لاکھوں ویب سائٹس ہوں گی لیکن تاریخ گواہ ہے کے ۳۱۳ مجاھدین ۱۰۰۰ مشرکین پر حاوی رھے
      مجھے امید ہے ک ہمارے معیاری کام سے اسلام کے خلاف لکھنے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے، نہ بھی ہوے تو کم از کم ان کی تحاریر سے بھٹکنے والوں کی تعداد تو کم ہو جائے گی
      اور کچھ بھی نہ ہوا تو ہمارا ضمیر تو مطمئن ہو گا کہ ہم نے کوشش کی
      حوصلہ افزائی جاری رکھیے

  5. Pingback: ہماری الیکٹرانک ذمہ داریاں - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز

  6. Pingback: پاکستانی میڈیا کا منفی کردار | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s