یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو؟


جین مائیکل کارا دیش فرانس کا ایک معروف صحافی ہے۔ اس نے حال ہی میں پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا فرنچ زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ چھوٹی سی کتاب دو سال قبل پشتو میں شائع ہوئی تھی اور پھر اس کا فارسی ترجمہ بھی شائع ہوا۔ جین کا خیال ہے کہ بظاہر یہ کتاب ملا عبدالسلام ضعیف کی بگرام، قندھار اور گوانتا ناموبے جیل میں گزری یادوں پر مشتمل ہے لیکن یہ صرف ایک قیدی کی یادیں نہیں بلکہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث افغانستان میں طالبان کی مزاحمت ختم ہونے میں نہیں آرہی ۔ جین نے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا ترجمہ محض اس لئے کیا ہے کہ مغرب میں رہنے والے عام لوگوں کو پتہ چلے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ ان سے شدید نفرت کیوں کرتا ہے۔ گوانتا ناموبے جیل کے قیدی نمبر تین سو چھ کی یاداشتیں پڑھ کر ہر سچے پاکستانی کا سرشرم سے جھک جاتا ہے کیونکہ ملا عبدالسلام ضعیف کی تذلیل بگرام سے نہیں بلکہ اسلام آباد اور پشاور سے شروع ہوئی تھی۔


ملا عبدالسلام ضعیف نے اپنی کتاب کا آغاز ایک خواب سے کیا ہے۔ پاکستان میں گرفتاری سے چھ دن قبل انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کا بڑا بھائی ہاتھ میں چھری تھامے آیا اور انہیں کہا کہ وہ ذبح ہونے کیلئے تیار ہوجائیں۔ ضعیف نے بھائی کو بہت سمجھایا لیکن بھائی انہیں ذبح کرنے پر بضد تھا۔ آخر کار ضعیف اس خیال سے زمین پر لیٹ گئے کہ بھائی کے دل میں رحم آجائے گا لیکن بھائی نے ان کے گلے پر چھری پھیر دی، اس خواب نے ضعیف کو پریشان کردیا۔ چھ دن کے بعد 2جنوری 2002 کو ملا عبدالسلام ضعیف کو اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا۔ سیاہ رنگت والے ایک بھاری بھرکم فوجی افسر نے ضعیف سے کہا کہ امریکہ ایک بہت بڑی طاقت ہے، کوئی اس کا حکم ماننے سے انکار نہیں کرسکتا۔ امریکہ کو پوچھ گچھ کیلئے آپ کی ضرورت ہے لہٰذا آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ ضعیف نے اس سیاہ رنگ شخص سے بحث شروع کردی لیکن اس ”فہیم“ شخص سے بحث کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ضعیف کو گرفتار کرکے پشاور لے جایا گیا۔ تین دن کے بعد انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایئرپورٹ لے جایا گیا جہاں ایک ہیلی کاپٹر تیار کھڑا تھا۔ پاکستانی حکام نے اپنے قیدی کو جیسے ہی امریکیوں کے حوالے کیا تو انہوں نے ملا عبدالسلام ضعیف پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔ پھر چاقوؤں سے اس باریش قیدی کے تمام کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور زمین پر الٹا لٹا کر مارا گیا۔ تشدد کے دوران ضعیف کی آنکھوں پر بندھی پٹی اتر گئی تو انہیں نظر آیا کہ ایک طرف قطار میں پاکستانی فوجی اور ان کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور دوسری طرف امریکی انہیں بے لباس کرکے مار رہے تھے۔ ضعیف لکھتے ہیں کہ ”ان لمحات کو میں قبر تک نہیں بھول سکوں گا۔“
پشاور سے بگرام لے جاکر ملا عبدالسلام ضعیف کو بغیر کپڑوں کے برف پر پھینک دیا گیا اور امریکہ کی فوجی خواتین ایک بے لباس مسلمان کے سامنے کھڑے ہو کر تین گھنٹے تک گانے گاتی رہیں۔ بگرام میں کئی دن کی مار پیٹ کے بعد ضعیف کو قندھار بھجوایا گیا۔ قندھار میں ایک دفعہ پھرضعیف اور دیگر قیدیوں کو ننگا کرکے سب کی تصاویر لی گئیں۔ایک دن قندھار جیل میں ضعیف نماز فجر کی امامت کروا رہے تھے جیسے ہی وہ سجدے میں گئے تو ایک امریکی فوجی ان کے سر پر بیٹھ گیا۔ یہ نماز ضعیف کو دوبارہ پڑھنی پڑی۔ اپنی کتاب میں ملا عبدالسلام ضعیف لکھتے ہیں کہ امریکیوں کو جلد ہی معلوم ہوگیا کہ ہم ہر قسم کا تشدد برداشت کرلیتے ہیں لیکن قرآن مجید کی توہین برداشت نہیں کرتے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قندھار جیل میں امریکی فوجی (نعوذباللہ) قرآن مجید پر پیشاب کرکے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے تھے اور قیدی یہ منظر دیکھ کر روتے تھے۔ آخر کار قیدیوں نے اپنے تمام قرآن اکٹھے کرکے ہلال احمر کو دے دیئے تاکہ ان کی توہین نہ ہو۔ عبدالسلام ضعیف نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ قندھار جیل سے انہیں گوانتا ناموبے جیل منتقل کیا گیا اور بد قسمتی سے یہاں بھی قرآن مجید کی توہین کا سلسلہ جاری رہا۔ اس امریکی جیل میں ساڑھے تین سالہ قید کے دوران کم از کم دس مرتبہ قرآن مجید کی توہین ہوئی۔ ضعیف کے بقول ”امریکی قرآن کی بے حرمتی کرکے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ تم ہمارے غلام اور تمہارا دین و قرآن ہمارے لئے قابل احترام نہیں۔“
گوانتا ناموبے جیل میں امریکی فوجیوں کے ظلم و زیادتی کے خلاف ملا عبدالسلام ضعیف نے کئی مرتبہ بھوک ہڑتالیں کیں۔ ایک سے زائد مرتبہ کرزئی حکومت کے نمائندے انہیں ملنے جیل آئے اور مشروط رہائی کی پیشکش کی، ضعیف انکار کرتے رہے۔ آخر کار انہوں نے خود ایک تحریر لکھی… ”میں مجرم نہیں ہوں، میں نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، ایک مظلوم مسلمان ہوں جس کے ساتھ پاکستان اور امریکہ نے ظلم کیا اور چار سال قید میں رکھا میں یقین دلاتا ہوں کہ امریکہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ نہیں لوں گا۔“ اس تحریر کے بعد انہیں رہا کرکے کابل بھیج دیا گیا اور ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس تک محدود کردیا گیا۔ یہاں ملا عبدالسلام ضعیف نے خفیہ طور پر اپنی یاداشتیں سپرد قلم کیں اور ایک دوست کی مدد سے کتابی صورت میں شائع کروا دیں۔ آج افغان طالبان اس کتاب کے اقتباسات خود شائع کرکے اپنے ہم وطنوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ انہیں باور کرایا جا سکے طالبان اور امریکہ کی اصل جنگ کیا ہے؟ سات سال سے یہ جنگ جاری ہے اور سات سال کے بعد افغان صدر حامد کرزئی کی کوشش ہے کہ ملا عبدالسلام ضعیف، وکیل احمد متوکل اور فضل ہادی شنواری کے ذریعے ملا محمد عمر سے مذاکرات کریں۔ اب کرزئی کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے امن قائم نہیں ہوگا۔ پاکستانیوں کو اب یہ سوچنا ہے کہ اگر امریکی فوج افغانستان سے واپس چلی گئی تو کیا پاکستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ ہمیں وہ وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن کے باعث افغانستان میں لگنے والی آگ ہمارے گھر میں بھی داخل ہوگئی۔ ہم نے اپنا گھر بچانے کیلئے ایک ملا عبدالسلام ضعیف نہیں بلکہ سیکڑوں مسلمان امریکہ کے حوالے کئے لیکن امریکہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس تسلی کیلئے اسلام آباد کی لال مسجد پر راکٹ برسائے گے۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے قتل میں تیزی لال مسجد آپریشن کے بعد آئی۔ افغان طالبان امریکہ کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کیلئے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب سے حوالے دیتے ہیں اورپاکستانی عسکریت پسند اپنی ہی فوج کے خلاف لڑائی کیلئے لال مسجد آپریشن کو جواز بناتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم خود کش حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ ان غلطیوں کا اعتراف بھی کریں جن کے باعث ہم نے اپنے گھر کو خود ہی آگ لگائی۔
ہماری قیادت کو اعتراف کرنا چاہئے کہ ملا عبدالسلام ضعیف کو پشاور میں بے لباس کرکے امریکہ کے حوالے کرنا ایک غلطی تھی، وزارت داخلہ کو بے خبر رکھ کر لال مسجد میں آپریشن ایک غلطی تھی اور قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران معصوم عورتوں اور بچوں کا مارا جانا افسوسناک تھا۔ ان تمام غلطیوں کے ذمہ دار اشخاص خواہ آج حکومت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کے بغیر پاکستان میں نفرتوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنا بہت مشکل ہوگا۔

کالم ۔۔ حامد میر

بشکریہ روزنامہ جنگ


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Islam, Urdu and tagged , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

2 Responses to یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو؟

  1. یہ آگ اس دن ٹھنڈی ہو گی جس دن بیرونی جمہوری طاقتیں اس کو ایندھن مہیا کرنا بند کر دیں گی یا اپنے اس کو آکسیجن دینی بند کر دیں گے۔
    ہماری نظر میں ساری بیماریوں کی جڑ ناخواندگی ہے۔ جس دن لوگ پڑھ لکھ گئے سب امریکی شہریوں کی طرح سوچنا شروع کر دیں گے۔
    سب بیماریوں کا ایک ہی حل
    تعلیم کر حاصل، تعلیم کر حاصل

  2. Yasir Imran says:

    جی ہاں درست فرمایا آپ نے – بڑے ہاتھیوں کی لڑاءی میں چھوٹے ملک رگڑے جا رہے ہیں

    لیکن تعلیم تو تب آے گی جب کوی اس ملک پاکستان کے لیے سوچے گا
    فی لحال تو سب کو اپنی پڑی ہے
    میرے بلاگ پے آنے کا شکریہ – آتے جاتے رہیں🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s