شعیب اختر کی ناقص بولنگ ،پاکستان کو کینیڈا ٹونٹی کپ کے فائنل میں شکست


Pakistan lost the finals of 2020

Pakistan lost the finals of 2020

کینیڈا ٹونٹی ٹونٹی کپ کے فائنل میں سری لنکا نے مضبوط حریف پاکستان کو پانچ وکٹوں میں شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کرلیا ہے۔کنگزسٹی میں کھیلے جانیوالے فائنل معرکے میں پاکستان نے حریف ٹیم کو جیت کیلئے133رنز کا ہدف دیا جس کے حصول کیلئے سری لنکن ٹیم کو کافی مشکلات کاسامنا کرناپڑا تاہم سپیڈسٹار فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی ناقص بولنگ سے آئی لینڈر ٹیم 19اوورز میں ٹارگٹ پوراکرنے میں کامیاب ہوگئی۔شعیب اختر نے پہلے سیپل کے2اوورز میں 22رنز کھائے اور میچ کے انتہائی اہم موڑ پر انہیں 16واں اوور دیا گیا جس میں انہوں نے تیزبالیں پھینکنے کی کوشش میں18رنز دے ڈالے۔شعیب کے اسی ناقص اوورسے قومی ٹیم جیت ہوئی بازی ہار بیٹھی۔حالانکہ اس سے قبل راؤنڈ میچ میں پاکستان نے سری لنکن ٹیم کو شکست دی تھی لیکن اس بار نہ توہمارے بیٹسمین چلے اور نہ ہی بولرر نے بیٹسمینوں کی ناکامی پر پردہ ڈالا۔


کینیڈا ٹونٹی ٹونٹی کپ میں قومی ٹیم سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں جو کہ پوری نہیں ہوسکیں حالانکہ ایک طویل عرصے بعد قومی ٹیم بہترین فاسٹ باؤلرز سے لیس تھی لیکن غیرذمہ دارانہ کھیل کی وجہ سے ایک بہترین موقع گنوادیا گیا۔جہاں قومی ٹیم کو فائنل میں شکست کا سامنا کرناپڑا وہیں یہ شکست ٹیم سے جڑے بہت سے لوگوں کیلئے منظرسے اوجھل ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ تبدیل ہوچکی ہے اور نئے چیئرمین اعجاز بٹ اپنے عہدے کا چارج سنبھال چکے ہیں اور انہوں نے پہلی پریس کانفرنس میں غیرملکی آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کی چھٹی کرائے جانے کاعندیہ دیا اور اب کینیڈا ٹونٹی کپ کے فائنل میں شکست سے لاسن کی چھٹی یقینی ہوگئی ہے۔اعجاز بٹ جو کہ نسیم اشرف کے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کے رکن تھے اور گورننگ باڈی ایک طویل عرصے سے لاسن کی چھٹی کرانے کا مطالبہ کررہی تھی تاہم نسیم اشرف لاسن کو مزید کام کرنے کا مسلسل موقع دیتے چلے آرہے تھے اب جبکہ نسیم اشرف خود بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ کر امریکہ مزے لوٹنے چلے گئے ہیں ان حالات میں لاسن کیلئے کافی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں اور ممکن ہے اگلے ایک دوروز میں یا تو لاسن ختم مستعفی ہونے کا اعلان کرسکتے ہیں یا پھر اعجاز بٹ روایتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے انہیں کام سے روک سکتے ہیں۔جیف لاسن کو واٹمور پر ترجیح دیکر پاکستانی ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا حالانکہ پاکستان میں بھی اس وقت بے شمار ایسے کوالیفائیڈلوگ موجود ہیں جو ٹیم کی کوچنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان میں جاوید میانداد اور عاقب جاوید نمایاں ہیں اور لاسن کے بعد ان دونوں میں سے کسی ایک کو یہ ذمہ داری ملنے کا امکان بھی ہے۔جہاں اعجاز بٹ جیف لاسن کی پکی چھٹی کرانے کا اصولی فیصلہ کرچکے ہیں وہیں قومی ٹیم نوجوان کپتان شعیب ملک کیلئے بھی فضا درست نہیں لگ رہی کیونکہ شعیب ملک کو نسیم اشرف نے بہت سے سینئر کھلاڑیوں پر ترجیح کر ٹیم کا کپتان مقرر کیا تھا اور تاحال اس فیصلے پر ناقدین کی تنقید جاری ہے اور شعیب ملک نے اپنے دورکپتانی میں قومی ٹیم کو کوئی بڑی فتح بھی نہیں دلائی تاہم ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے فائنل تک وہ اپنی ٹیم کو لیجانے میں کامیاب ضرور ہوئے تھے۔اگر کرکٹ بورڈ شعیب ملک کو کپتانی سے ہٹا دیتا ہے تو ایک نیا ایشو کھڑا ہوجائیگاکہ ٹیم کا اگلا کپتان کون ہونا چاہیے۔ابھی کچھ پہلے کی بات ہے جب غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے انکارکرچکی تھیں اور کھیلنے کیلئے قومی ٹیم کے پاس کرکٹ نہیں تھی تو میڈیا میں یہ واویلا شروع ہوگیا جہاں بہت سے سینئر کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ میں ٹیم کا کپتان بننا چاہتا ہوں۔یونس خان صاحب کہتے ہیں کہ انہیں مکمل اختیار دیکر کپتان بنایا جائے تو وہ کپتانی کرنے کو تیار ہیں۔محمد یوسف کی خود کارکردگی کافی ڈاؤن ہوچکی ہے اس لیے وہ سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وقت خاموش ہیں۔شاہد آفریدی کا موقف ہے کہ پورے ملک میں میں واحد کھلاڑی ہوں کپتانی کا اہل ہوں۔مجھے کپتان بنا دیا جائے تو شکست پاکستان کرکٹ کے دردروازے بھول جائے گی۔ایک مصباح الحق ایسا کھلاڑی ہے جس کے دل میں شاید کپتانی کرنے کی خواہش نہیں ہے اور وہ کپتان بننے کے اہل بھی ہیں۔چلیں مان لیتے ہیں کہ یونس خان بڑا کھلاڑی ہے اور وہ کپتان بننے کا اہل بھی ہے مگر شاہدآفریدی نجانے کس خوش فہمی میں مبتلا ہوکر یہ کہہ رہا ہے کہ اسے کپتان بنایا جائے۔محترم آفریدی صاحب شاید یہ نہیں جانتے کہ ایک طویل عرصہ ہوگیا ہے انہوں نے غلطی سے کوئی فیفٹی سکور نہیں کی ۔اور نہ ہی آفریدی نے پاکستان کو گزشتہ کئی میچز میں فتح سے ہمکنار کرایا ہے ،موصوف کی اپنی کارکردگی اس قدر خراب ہے کہ شاید نئی آنیوالی سلیکشن کمیٹی انہیں باہر ہی نہ بٹھا دے ۔پہلے ہی موجودہ کپتان کی کارکردگی ناقص ہے اور اس کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی اوپرسے آفریدی جیسا کھلاڑی جسے خود پر اعتبار نہیں ہے کیسے وہ پوری ٹیم کی باگ ڈور سنبھال سکتا ہے۔کینیڈا ٹونٹی ٹونٹی کپ میں ایک فائنل میچ ہی تھا جس میں شعیب اختر اور شاہد آفریدی کو کارکردگی دکھانے کی ضرورت تھی اور دونوں فائنل میچ میں ناکام ثابت ہوئے۔آفریدی کو زمبابوے کے خلاف اوپنر بھیجا گیا تواس نے بمشکل چھ گیندیں کھیل کر 5رنز بنائے اور اپنی روایتی شارٹ کھیل کر واپس لوٹ آیا۔فائنل میں ایک بار پھر ٹیم مینجمنٹ نے رسک لیتے ہوئے اسے ون ڈاؤن پوزیشن پر بھیجا تو خیبر ایجنسی کا یہ پٹھان 14رنزسے آگے نہ بڑھ سکا۔شعیب اختر ایک سال بعد ٹیم میں آئے لیکن وہ اہم میچ میں بجائے اپنی ٹیم کیلئے کچھ کرتے حریف ٹیم کیلئے آسانی پیدا کرنے لگے اور جونیئر پلیئرز سے چوکے کھا کر میچ سری لنکا کی جھولی میں ڈال دیا۔بڑے کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بڑے میچز میں ذمہ داری سے کھیل پیش کریں لیکن ہمارے بڑے کھلاڑیوں نے ہمیشہ لاپرواہی سے کرکٹ کھیلی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کی دنیا میں بہت پیچھے رہ گیا ہے اور دوبارہ بام عروج پر جانے کیلئے ہمیں” نام کے بڑے نہیں “کام کے بڑے “کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔

اعجاز وسیم باکھری :from: Urdupoint.com


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Sports, Urdu and tagged , , , , , , . Bookmark the permalink.

2 Responses to شعیب اختر کی ناقص بولنگ ،پاکستان کو کینیڈا ٹونٹی کپ کے فائنل میں شکست

  1. ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں۔ لگتا ہے شعیب نے شاید اپنا جرمانہ پی سی بی کو ادا کرنے کیلیے سٹے بازوں سے سودہ کر لیا ہو گا۔

  2. Sharp says:

    Shoaib Akhter is a fired cartridge.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s