55 dead in Orak-zai blast


اورکزئی ایجنسی ،خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 55 ہوگئی ،کئی زخمیوں کی حالت نازک۔54 کی شناخت ہوگئی ، مرنیوالوں میں سے13 افراد کا تعلق ایک ہی علاقہ ڈیری سے ہے:

اورکزئی ایجنسی (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین11 اکتوبر2008 )اورکزئی ایجنسی میں جمعہ کو ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 55 ہوگئی ہے تاہم مزید کئی زخمیو ں حالت نازک ہے ۔ذرائع کے مطابق اورکزئی ایجنسی کے علاقے غلجو کے گاوٴں حادی زئی میں گزشتہ روز جرگے پر ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 55 ہوگئی ہے ۔جبکہ مزید کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے ۔جان بحق افراد میں سے 54 کی شناخت ہوگئی ہے جنہیں مختلف علاقوں میں دفنایا جا رہا ہے ۔ 13 افراد کا تعلق ایک ہی علاقہ ڈیری سے ہے ۔ایک لاش کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ۔۔جاں بحق پونے والے افراد کو مختلف علاقوں میں سپرد خاک کیا جا رہا ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق 40 افراد جائے وقوعہ اور حادی زئی ہسپتال میں جاں بحق ہوئے ۔جبکہ پندرہ افراد کوہاٹ اور ہنگو ہسپتال کے علاوہ راستے میں دم توڑ گئے ۔جرگہ ممبرانار گل نے بتایا کہ جرگہ میں طالبان کے خلاف لشکر کشی کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جارہا تھا کہ خود کش حملہ آور نے اپنی گاڑی کو جس جگہ جر گہ منعقد کیاگیا تھا خود کودھماکہ سے اڑادیا۔جرگے میں شرکت کے لیے آئے ایک قبائلی بزرگ قیمت خان اورکزئی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہم اس وقت طالبان کو علاقے سے نکالنے کے لیے ایک لشکر تیار کر رہے تھے کہ عین اس وقت حملہ ہو گیا۔ زخمیوں کے ساتھ ہنگو ہسپتال آنے والے ایک عینی شاہد مالم شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے کے دوران ایک پک اپ تیزی سے آئی۔ ابھی لوگ خود کو سنبھال ہی رہے تھے کہ گاڑی ایک زوردار دھماکے سے پھٹ گئی۔ ان کے مطابق وہ زمین پر لیٹ گئے اور اس دوران انہیں بارود کے کالے بادلوں کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب دھواں چھٹ گیا تو ہر طرف لوگوں کے کراہنے کی آوازیں آتی رہیں تو کہیں پر جسم کے لوتھڑے پڑے ہوئے تھے۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ کتنے لوگ ہلاک و زخمی ہوئے ہیں ہم نے لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانا شروع کیا مگر تعداد اتنی زیادہ تھی کہ سب ہی جلدی اٹھانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔ ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا زوردار دھماکہ اور بڑی تباہی نہیں دیکھی۔ میں نے کبھی انسانوں کو لوتھڑوں کی شکل میں دیکھنے کا تصور نہیں کیا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر مجھے خود پر بھی زندہ ہونے کا یقین نہیں آ رہا۔فوری طور پر کسی نے اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی

11/10/2008 14:27:08 : وقت اشاعت

From : Urdupoint.com


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News and tagged , , , . Bookmark the permalink.

One Response to 55 dead in Orak-zai blast

  1. ڈفر says:

    اب پچھتاے کیا ہوت، جب چڑیاں چک گییں کھیت
    جو بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا
    ہمیں بھی اور انہیں بھی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s