گوگل پیج رینک Google Page Rank


گوگل پیج رینک Google Page Rank

پیج رینک ایک الگورتھم یا پروگرام ہے جسے اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں لیری پیج نے تخلیق کیا (اور اسی کے نام پر اس الگورتھم کو ”پیج رینک“ کہا گیا)۔ بعد میں سرگی برن بھی اس تحقیقی منصوبے کا حصہ بنے جو ایک نئی قسم کے سرچ انجن کے بارے میں تھا۔ یہ منصوبہ 1995ءمیں شروع ہوا اور 1998ءمیں ”گوگل“ کے نام سے پیش ہوا۔ بعد ازاں جلد ہی پیج اور برن نے گوگل انکارپوریٹیڈ کی بنیاد ڈالی۔

گوگل سرچ اس وقت تمام سرچ انجن میں سر فہرست ہے۔ مانا جاتا ہے کہ سرچنگ میں گوگل کا حصہ پچاس فیصد ہے یعنی انٹرنیٹ کی دنیا میں تلاش کیا جانے والا ہر دوسرا لفظ گوگل پر لکھا جاتا ہے۔ گوگل سرچ میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں جن میں پیج رینک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پیج رینک گوگل کا ٹریڈ مارک ہے اور اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے نام پر پیٹنٹ ہے۔

پیج رینک کیا ہے؟

پیج رینک ایک عددی قدر ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ایک ویب پیج کتنا اہم ہے۔ اگرچہ اس بارے میں حتمی اور مکمل علم گوگل تک محدود ہے لیکن عام طور سے خیال کیا جاتا ہے کہ اس عمل کے لیے گوگل الگورتھم اسکیل استعمال کرتا ہے۔ ہمیں پیج رینک کے بارے میں تو معلومات ہیں لیکن گوگل کسی ویب پیج کی اہمیت کا تعین اور اس کی مدد سے کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے، یہ گوگل کا تجارتی راز ہے جس سے کوئی واقف نہیں۔

پیج رینک صفر سے دس تک ہوتا ہے، یا یوں کہئے کہ گوگل ہرویب پیج کو ایک عددی قدر الاٹ کرتا ہے جو کہ صفر اور دس کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ عددی قدر ظاہر کرتا ہے کہ گوگل کی نظر میں اس ویب پیج کی کتنی اہمیت ہے۔ اگر کسی ویب پیج کا پیج رینک دس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ صرف یا اس پر موجود مواد بہت اہم اور مفید ہے جبکہ پیج رینک کا صفر ہونا اس کے غیر اہم اور غیر ضروری ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
گوگل ٹول بار استعمال کرنے والے قارئین نے یقینا اس کا پیج رینک فیچر ملاحظہ کیا ہوگا۔ اس فیچر کے تحت گوگل ٹول بار آپ کو ہر دیکھئے گئے ویب پیج کا پیج رینک ایک بار گراف کی شکل میں دکھاتا ہے۔ اکثر ویب پیج کا رینک دو سے چار تک ہوتا ہے جو کہ معمولی بات ہے۔ نئے ویب پیج کا پیج رینک عموماً صفر ہوتا ہے۔ بہت کم ایسی سائٹس ہوتی ہیں جن کے صفحات کا پیج رینک چھ (6) سے نو (9) تک ہو اور دس (10) پیج رینک کے حامل ویب پیجز تو بس گنتی ہی کے ہیں۔ البتہ گوگل نے تقریباً اکیس (21) ویب سائٹس کو دس پیج رینک دیا ہے جن میں ناسا، وائٹ ہاو¿س، ایپل کمپیوٹرز، دی نیو یارک ٹائمز، ایڈوبی سافٹ ویئر اور خود گوگل وغیرہ شامل ہیں۔جبکہ بہت سی مشہور ویب سائٹس ایسی بھی ہیں جن کا رینک 9 یا 8 ہے۔ مائیکروسافٹ ڈاٹ کام اور یاہو ڈاٹ کام بھی دو ایسی ہی ویب سائٹس ہیں جن کا پیج رینک 9 ہے اور سی نیٹ ڈاٹ کام جیسی وسیع اور مشہور ویب سائٹ کا پیج رینک 8 ہے۔ پیج رینک کو PR سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔

پیج رینک کس طرح کام کرتا ہے؟

جب ایک ویب پیج کو دوسرے ویب پیج سے لنک کیا جاتا ہے تو گوگل کے نزدیک یہ ایک طرح سے پہلے ویب پیج کا دوسرے ویب پیج کی افادیت اور اہمیت کے لئے ”ووٹ کاسٹ“ ہوتا ہے۔ ایک ویب پیج کے لیے جتنے ووٹ کاسٹ ہوں گے، اس کا پیج رینک اتنا ہی بڑھے گا۔ مزید گوگل کے نزدیک اس بات کی اہمیت بھی ہوتی ہے کہ جو صفحہ کسی دوسرے صفحہ کے لیے ووٹ کاسٹ کررہا ہے، خود اس کی اہمیت کیا ہے؟ آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ جب آپ کسی ویب پیج کا لنک دیتے ہیں تو عین اسی وقت آپ گوگل سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کو اس صفحے پر بھروسا ہے یا آپ سمجھتے ہیں کہ اس پر اہم/ دلچسپ/ مفید مواد موجود ہے۔ بصورتِ دیگر آپ اسے لنک نہیں کرتے یعنی کہ آپ اس صفحے کو ووٹ دے رہے ہیں۔ لہٰذا لوگوں کی کثیر تعداد کا آپ کی ویب سائٹ کو لنک کرنا (ووٹ دینا) آپ کے لیے زیادہ پیج رینک کے حصول کا سبب بنے گا۔
اس مثال کو اگر حقیقی زندگی میں ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ فرض کریں امجد صاحب محلے کی ہر دل عزیز اور معتبر شخصیت ہیں اور تقریباً سارا محلہ ہی ان سے واقف ہے۔ لیکن خورشید صاحب محلے کی گم نام شخصیت ہیں اور چند ہی لوگ ان سے واقف ہیں۔ اگر آپ کے سامنے امجد صاحب کسی انجان شخص کی تعریف کریں تو آپ امجد صاحب کی بات پر فوراً یقین کرتے ہوئے اس انجان شخص کے اہمیت کے قائل ہوجائیں گے۔ لیکن اگر اسی شخص کی تعریف خورشید صاحب کرتے تو شاید آپ کو ان کی بات کا یقین نہ آتا۔
دوسرے الفاظ میں اسے یوں سمجھیں کہ امجد صاحب کا پیج رینک اپنے قابل بھروسا اور مشہور ہونے کی وجہ سے زیادہ ہے۔ اگر وہ کسی شخص کی تعریف کرتے ہیں تو اپنے پیج رینک کی وجہ سے یہ اس شخص کے پیج رینک میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں خورشید صاحب گم نام ہونے کی وجہ سے کم پیج رینک رکھتے ہیں لہٰذا ان کا تعریف کردہ شخص بھی کم پیج رینک کا حامل ہوگا۔
بالکل یہی عمل گوگل پیج رینک کے ساتھ ہے۔ اگر آپ کو ایک ایسی ویب سائٹ/ ویب پیج لنک کرے جس کا پیج رینک دس (10) ہو تو یہ آپ پر گوگل کے اعتماد میں اضافہ کا سبب ہوگا، مقابلے میں اس کے کہ ایسی سو (100) ویب سائٹس آپ کو لنک کریں جن کا اپنا پیج رینک صفر یا ایک/ دو ہو۔
آپ انٹرنیٹ کی ایک چھوٹی سی دنیا فرض کیجئے جو کہ صرف چار ویب پیج ”الف“، ”ب“، ”ج“ اور ”د“ پر مشتمل ہے اور صفحہ ”الف“ کو صفحات ”ب“، ”ج“ اور ”د“ لنک کرتے ہیں۔ یوں صفحہ ”الف“ کے پیج رینک کی صورتحال یہ ہوگی:
PR (الف) = PR (ب) + PR (ج) + PR (د)
کیا آپ اسے بہت آسان خیال کرتے ہیں؟ نہیں! یہ اتنا آسان نہیں، کچھ حد تک پیچیدہ ہے۔ جیسے میں نے پہلے ذکر کیا کہ اگر صفحہ ”الف“ کو صفحہ ”ب“لنک کررہا ہے تو یہ صفحہ ”الف“ کے پیج رینک کے لیے ایک طرح کا ووٹ کاسٹ کر رہا ہے لیکن دوسری طرف گوگل اس بات کو بھی مدنظر رکھتا ہے کہ خود صفحہ ”ب“ یعنی ووٹ کاسٹ کرنے والے صفحے کا اپنا پیج رینک کیا ہے؟
دو اہم باتیں:
یہاں دو باتوں کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ پہلی بات، شاید یہ سوال سر اُٹھائے کہ اگر صفحہ ”الف“ کو صفحہ ”ب“ بذریعہ لنک ووٹ کرتا ہے تو کیا صفحہ ”ب“ کے اپنے پیج رینک پر کوئی اثر پڑے گا؟ کیا وہ اپنا پیج رینک کھودے گا؟ نہیں! ایسا نہیں ہوتا۔ یہ صرف ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل ہے۔ یہ عمل پیج رینک کو ٹرانسفر نہیں کرتا۔ ہاں البتہ کچھ دوسرے عوامل ضرور ہوتے ہیں جن کے باعث ویب پیج اپنا پیج رینک کھودیتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے اپنی ویب کا ڈھانچہ صحیح رکھا ہے تو ایسا نہیں ہوگا۔ اس بارے میں مزید نکات آگے آئیں گے۔
دوسری بات یہ کہ یقینا ایک اچھے پیج رینک کا حامل ویب پیج آپ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھے گا اگر اس میں آپ کی مطلوبہ تلاش موجود نہ ہو۔ لہٰذا گوگل نے پیج رینک اور ٹیکسٹ میچنگ ٹیکنالوجی کو یکجا کردیا ہے۔ یوں آپ اگر کچھ تلاش کرتے ہیں تو گوگل ٹیکسٹ میچ اور پیج رینک، دونوں کے مشترک عمل سے تلاش کے بعد نتائج دیتا ہے ۔ اور یہی گوگل کی کامیابی کا راز ہے۔ گوگل کے دیکھا دیکھی اب دیگر سرچ انجنز بھی ان ٹیکنالوجیز سے ملتی جلتی ٹیکنالوجیز کو استعمال کررہے ہیں۔

اچھا پیج رینک کیا ہے؟

زیادہ اچھا پیج رینک حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ ابتداءمیں آپ کے بنائے ہوئے ویب پیج کا پیج رینک صفر ہوتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے پھیلاﺅ اور شہرت کی وجہ سے بڑھتا ہے۔ پیج رینک ایک (1) یا دو (2) ہونا معمول کی بات ہے اور ویب پیج بنانے کے کچھ عرصے بعد اگر آپ نے اسے کچھ ویب سائٹ پر مشتہر کیا ہے تو ایک یا دو پیج رینک حاصل ہوہی جاتاہے۔ عموماً ہوم پیج (فرنٹ پیج/ انڈیکس پیج) کا پیج رینک تین (3) ہوتا ہے۔ اگر آپ کا پیج رینک چار ہے تو یہ اچھا ہے اور اگر پانچ ہے تو واقعی اچھا ہے۔ اگر آپ کا پیج رینک پانچ سے بڑھ کر ہے تو یقین کیجئے، آپ اچھا جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر foxnews.com کا پیج رینک سات (7) ہے۔پاکستان کی مشہور ترین ویب سائٹس کا پیج رینک بھی زیادہ سے زیادہ 5دیکھنے میں آیا ہے۔
اچھا پیج رینک کیسے؟

گوگل سے باہر کا کوئی شخص نہیں جانتا کہ پیج رینک کا اصل اسکیل کیا ہے تاہم کئی تحقیقی مقالات میں مختلف دلائل اور شواہد کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ الگورتھم اسکیل ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پیج رینک کا لیول بڑھانے کے لیے ہمیں کئی ووٹ درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ ویب ماسٹر کے لیے اپنے ویب اسٹرکچر کی بنیاد ٹھیک رکھنا بھی اہم ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ووٹ پوری ویب سائٹ کے لیے کاسٹ نہیں ہوتا بلکہ ایک خاص ویب پیج کے لیے کاسٹ ہوتا ہے(یعنی جس پیج سے لنک کیا جاتا ہے، ووٹ صرف اسی پیج کے لیے ہوتا ہے)۔ اگر ہم اپنی حقیقی زندگی والی مثال پر واپس آئیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اگر امجد صاحب نے کسی انجان شخص کی تعریف کی ہے تو یہ صرف اس شخص کے مخصوص ہے۔ ہوسکتا ہے اس شخص کا بھائی کوئی غنڈہ ہو۔
لہٰذا اگر ویب ماسٹر اپنا ویب اسٹرکچر اس طرح رکھے کہ زیادہ سے زیادہ لنک اس کے کسی ایک خاص صفحے (عام طور سے ہوم پیج) کے لیے ہوں تو پیج رینک بڑھانے میں مدد ملے گی۔ لیکن ایسا کیسے ہوگا؟
اچھی بنیاد پر کھڑی مستند ویب سائٹس کو دیکھیں تو ان کا پہلا صفحہ (انڈیکس پیج) زیادہ پیج رینک رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ صفحہ سب سے زیادہ لنک کیا جاتا ہے اور اگر کوئی اس سائٹ کا لنک دیتا ہے تو وہ لنک عموماً اسی انڈیکس پیج (index.html، index.htm، index.php وغیرہ) کا ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ہم ایسا کس طرح کرسکتے ہیں؟
فرض کیجئے کہ آپ کی ویب سائٹ کے تین مدارج ہیں۔ پہلے درجے پر انڈیکس/ فرنٹ پیج ہے۔ اگلے درجے پر تعارف، ہمارے بارے میں، رابطہ، خبریں، اعلانات، مصنوعات وغیرہ کے صفحات ہیں۔ تیسرے اور آخری درجے پر تفصیلی صفحات ہیں۔ ایک اچھے اور بہترین ویب ڈھانچے میں انڈیکس پیج کا تمام بنیادی منیو پیجز سے لنک ہوتا ہے اور پھر وہ منیو پیجز مزید تفصیلی صفحات سے منسلک ہوتے ہیں۔ یوں پہلا صفحہ چھ سے سات تک کا پیج رینک رکھتا ہے، دوسرے درجے کے صفحے چار سے پانچ اور تیسرے درجے کے صفحات دو یا تین پیج رینک رکھتے ہیں۔ یہ ایک اچھی ویب سائٹ کی علامت ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل نکات کا خیال رکھنا بہتر ہوگا:

یقین کرلیں کہ آپ کا بنیادی صفحہ (انڈیکس پیج) آپ کے ثانوی درجے کے صفحات سے لنک ہے۔ یہ بھی یقین کرلیں کہ تمام ثانوی صفحات آپس میں ایک دوسرے سے لنک ہیں۔
ثانوی درجے کے صفحات کو تیسرے درجے کے صفحات سے لنک کردیں۔
تیسرے درجے کے صفحات کو واپس ان ہی ثانوی درجے کے صفحات سے لنک کردیں۔
اس امر کو یقینی بنالیں کہ تیسرے درجے کے صفحات کا آپس میں زیادہ لنک نہ ہو۔
اگر مزید چوتھے درجے کے صفحات بھی ہوں تو ان کے لیے بھی ان ہی اصولوں پر عمل کریں گے۔

“rel=nofollow” کے فوائد:

اپنے ویب پیج کے پیج رینک میں اضافے کے لیے لوگوں نے غلط طریقوں کا استعمال شروع کردیا اور مختلف میسج بورڈز/ فورمز پر پوسٹس میں یا بلاگز پر تبصروں کی صورت میں اپنے ویب پیج کا لنک دینا شروع کردیا اور اسپیم بڑھنے لگے۔ یہ ایک سردرد اور مصیبت کا سبب بنا۔
2005ءکے اوائل میں گوگل نے ایچ ٹی ایم ایل لنکس کے rel ایٹری بیوٹ کے لیے ایک نئی ویلیو ‘nofollow’ متعارف کرائی۔ اس کی مدد سے بلاگرز اور میسج بورڈز/ فورمز کے ایڈمنسٹریٹرز لنکس کو گوگل کے پیج رینک کے لیے غیرفعال کرسکتے ہیں یعنی جس لنک پر rel=”nofollow” کا ایٹری بیوٹ سیٹ ہوگا، گوگل اسے پیج رینک کے لیے نہیں لے گا اور وہ لنک یا ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے۔ یوں ایڈمنسٹریٹرز ایک کوڈ جنریٹ کرسکتے ہیں جو ہر ہائپرلنک پر ‘nofollow’ کی ویلیو اپلائی کردے گا اور اسپیمر اپنے مقاصد میں ناکام ہوں گے۔

گوگل بومب

گوگل پیج رینک کا ذکر چل رہا ہے تو سوچا آپ کو گوگل کی اس کامیابی کے ساتھ تفریح کرنے والے کے بارے میں بھی کچھ معلومات فراہم کی جائے۔ اب تک آپ یہ بات ہضم کرچکے ہیں کہ کسی ”کی ورڈ“ کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے نتائج میں سب سے اوپر وہی ویب پیج ظاہر ہوتا ہے جس کا پیج رینک سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
گوگل بومبنگ میں کسی مخصوص ویب پیج کو ایک خاص کی ورڈ جو کہ اس ویب پیج سے مطابقت بھی نہیں رکھتا، کے حوالے سے اتنی بار مختلف جگہوں پر لنک کیا جاتا ہے کہ اس کا پیج رینک خود بخود بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح جب بھی وہ کی ورڈ گوگل میں تلاش کی جاتا ہے تو وہ ویب پیج سب سے اوپر ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح کی حرکات کا مقصد سیاسی یا صرف تفریح ہوتاہے۔
پہلا گوگل بومب جسے عوامی شہرت حاصل ہوئی وہ مائیکروسافٹ کے متعلق تھا۔ اس عرصے میں جب گوگل پر more evil than Satan himself کے کی ورڈ سے سرچنگ کی جاتی تھی تو جواب میں سب سے پہلا لنک مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ ظاہر ہوتا تھا۔ اس طرح سال پہلے یعنی 29ستمبر 2006ءکو جب گوگل پر miserable failure یا صرف Failureلکھ کر سرچ کیا جاتا تھا تو سب سے اوپر امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی بائیوگرافی کا لنک ظاہر ہوتا تھا۔ اس طرح کے گوگل بومب آئے دن ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ ان سے بچاو¿ کے لئے گوگل نے کئی اقدامات کئے ہیں لیکن اپنے سرچ الگورتھم کی خوبی ہی میں موجود خامی سے مکمل چھٹکارا پانا فی الحال ممکن نہیں۔

اختتامی نکات:

پیج رینک شمار کرنے کا عمل تقریباً مہینے میں ایک بار ہوتا ہے۔
پیج رینک پوری ویب سائٹ کا نہیں بلکہ ہر ویب کا اپنا انفرادی پیج رینک ہوتا ہے۔
پیج رینک جاننے کے لیے کئی ٹول بار موجود ہیں۔لیکن ان کا استعمال گوگل کی نظر میں ممنوع ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے گوگل کہتا ہے کہ گوگل کے سرورز کی کمپیوٹنگ پاور صرف اس کی پراپرٹی ہے جس کے استعمال کا حق صرف گوگل کے پاس ہے۔ تھرڈ پارٹی ٹولز جو پیج رینک جاننے کے لئے استعمال ہوتے ہیں، گوگل کے سرورز کو مختلف مقامات سے نتائج کے لئے Query کرتے ہیں۔ اس دوران کمپیوٹنگ پاور کا ایک بڑا حصہ اس غیر اہم مقصد کے لئے صرف ہوتا ہے۔ لہٰذا گوگل کے مطابق یہ ٹول گوگل کی کمپیوٹنگ پاور پر ڈاکے مارتے ہیں۔
کسی ویب پیج کا اصل پیج رینک صرف گوگل جانتا ہے۔ عام طور سے نظر آنے والے پیج رینک کو 100 فیصد درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔اس میں فرق ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا، گوگل کا نظام بہت پیچیدہ ہے۔ اس نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے دھوکا دینا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اس نظام کی حقیقت ہم سے پوشیدہ ہے۔ لہٰذا عام طور پر ظاہر ہونا والا پیج رینک ہمارے لئے قابل بھروسہ نہیں ہوسکتا۔
اس کی ایک مثال مائیکروسافٹ اور ایڈوبی کی ویب سائٹ کی ہے۔ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ایڈوبی کی ویب سائٹ کا پیج رینک دس اور مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ پیج رینک 9ہے۔ جبکہ یہ بات ہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں کہ ایڈوبی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تعداد میں مائیکروسافٹ کے ویب پیجز کے لنکس دنیا بھر میں اربوں ویب پیجز پر موجود ہیں۔ جبکہ مائیکروسافٹ کی شہرت ایڈوبی سے زیادہ بھی ہے۔

تجارتی مقاصد کی وجہ سے گوگل تین سے چار ماہ پرانا پیج رینک ظاہر کرتا ہے (اسی لیے اگر آپ کی ویب سائٹ نئی ہے تو اس کا پیج رینک اگلے کئی ماہ تک صفر رہ سکتا ہے)۔
پیج رینک میں ترقی اور تنزلی میں دیگر کئی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ان عوامل کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔
یہ تھا پیج رینک کا مختصر سا جائزہ۔ یہ نہ تو بہت زیادہ مشکل ہے اور نہ ہی کچھ آسان۔ اگر اس بارے میں تحقیق کی جائے تو مزید کئی صفحات بھر جائیں، کئی پیچیدہ ریاضیاتی مساوات ہیں جو پیج رینک کا عمل سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں لیکن میرے نزدیک ابتدائی اور بنیادی تعارف کے طور پر یہ نکات کافی ہیں۔

یہ آرٹیکل ماہنامہ کمپیوٹنگ سے شیعر کیا گیا

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Edu, Web and tagged , , , , , , . Bookmark the permalink.

5 Responses to گوگل پیج رینک Google Page Rank

  1. زبردست بھئی۔ مکمل مضمون ہی آپ نے کاپی کر لیا۔ پلیز کمپیوٹنگ کی ویب سائٹ کا لنک بھی دیں اس میں۔ شکریہ

  2. Yasir Imran says:

    جی کیوں نیں – شامل کر دیا ہے۔

  3. Pingback: سرچ انجن آپٹیمائزیشن پر اردو میں ایک کتاب | Yasir Imran Mirza

  4. بہت عمران خوب بھائی

    kash Computing ki web update hoti rahy

  5. Pingback: ویب سائٹ یا بلاگ سے آمدنی | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s