مسلم لیگ ن حکمران اتحاد سے علیحدہ


پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حکمران اتحاد سے علیحدگی کا اعلان، جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ،باربار وعدے توڑ کر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی،

Nawaz Sharif in Press Conference

Nawaz Sharif in Press Conference

اپوزیشن بینچز پر بیٹھ کر بھی مثبت کر دار ادا کرینگے، تمام ججز کی بحالی چاہتے ہیں،نواز شریف،صدارتی امیدوار سے متعلق بھی معاہدہ پورا نہیں کیا گیا، سترہویں ترمیم ختم ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی کا اور اس کی موجودگی میں قومی سطح کے غیر جانبدار شخص کو امیدوار بنانے پر اتفاق ہوا تھا، فیصلہ کرنے پر مجبور کیا گیا،پریس کانفرنس:

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25اگست۔2008ء)پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کا اعلان کرتے ہوئے صدارتی انتخابات میں جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے یہ اعلان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے پیر کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔


اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ سعیدالزمان صدیقی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے میاں نواز شریف نے کہاکہ تلخیوں کے لمبے سفر کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے آئین،جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے پہلی بار 1997ء میں تیرہویں ترمیم کی شکل میں ایک دوسرے سے تعاون کیا اور ملکر آٹھویں ترمیم کا خاتمہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ جلا وطنی کے دور ان محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے ان کی ملاقاتیں ہوتی رہیں اور کئی مہینوں کے بعد ہم میثاق جمہوریت کے نام سے ایک دستاویز پر متفق ہوئے پاکستان واپسی کے بعد بھی ہمارے درمیان رابطے قائم رہے ۔انتخابات کے بعد مری میں پیپلز پارٹی اور ہمارے درمیان معاہدہ طے پایا کہ وفاقی حکومت کے قیام کے بعد 30دن کے اندر تمام معزول ججوں کو قومی اسمبلی میں قرار داد اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کر دیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے لئے نہایت مشکل تھا کہ ہمارے وزراء پرویز مشرف سے حلف اٹھاتے لیکن آصف علی زر دار ی کے اصرار پر ہم نے یہ تلخ گھونٹ قبول کر لیا لیکن اعلان مری کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے یہ بیانات آنے لگے کہ ججوں کو ایگزیکٹو آر ڈر کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی پیکج کے ذریعے بحال کیا جائیگا اس دور ان آصف علی زر داری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہاکہ اعلان مری کوئی حدیث نہیں ہے شدید مایوسی کے باوجود ہم نے اس بات کو مسئلہ نہ بنایا لیکن 30دنوں میں ججز کی بحالی کا فیصلہ نہ ہوسکا انہوں نے کہاکہ بعد میں دبئی میں ہونے والے مذاکرات میں بارہ مئی تک جج بحال کر نے کی یقین دہانی کرائی گئی اس کا اعلان میں نے لاہور پہنچ کر پریس کانفرنس میں کر دیا لیکن وعدہ پورا نہ ہوا جس پر ہمارے وزراء کابینہ سے نکل گئے ۔انہوں نے کہاکہ اس عرصہ کے دور ان ہم پر پارٹی کے اندر سے بہت زیادہ دباؤ رہا کہ ہم کس مقاصد کیلئے حکمران اتحاد میں شامل ہیں ہم تمام تلخیوں کو نظر انداز کر کے بے لوث کوششیں کرتے رہے۔زر داری صاحب ہونے والی ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں ۔انہوں نے کہاکہ میں نے جولائی میں آصف علی زر داری کو ایک خط لکھا جس میں ان سے درد مندانہ گزارش کی کہ طے شدہ معاملات پر عملی قدم اٹھائیں لیکن اس کا جواب نہ ملا ۔نواز شریف نے کہاکہ پانچ سے سات اگست تک اسلام آباد میں دونوں جماعتوں کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات ہوئے ۔پانچ اگست کو ہمارے درمیان ایک معاہدہ طے پایا یہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک دستاویز ہے جس کے ہر صفحہ پر میرے اور آصف زر داری کے دستخط ہیں ۔مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بتایا کہ سات اگست کو معاہدے کی مزید تشریح، وضاحت اور ایکشن پلان کیلئے ٹائم لائن کے ساتھ ایک طے شدہ معاہدہ تیار ہوا ۔دو صفحات کے اس معاہدے پر بھی میرے اور آصف زر داری کے دستخط تھے انہوں نے کہاکہ ہمارے درمیان ہونے والے معاہدے میں طے پایا تھا کہ پرویز مشرف کے مواخذے یا استعفیٰ کے فوراً بعد ایک دن کے اندر جج بحال کر دیئے جائیں گے اس طرح اٹھارہ اگست کو پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد 19اگست کو جج بحال ہو جانا چاہیے تھے لیکن آج ایک ہفتہ گزر نے کے باوجود جج بحال نہیں ہوسکے ۔نواز شریف نے کہاکہ اس حوالے سے کہا گیا کہ معاہدے قرآن یا حدیث نہیں ہیں اسلام آباد مذاکرات کے بعد بغیر مشاورت کے آصف علی زر داری کے صدارتی امیدوار ہونے کااعلان کر دیا گیا اور صدارتی شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آئین کی بالا دستی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے ہر ممکن صبر اور برداشت سے کام لیا۔ ہم نے گورنر پنجاب کی تعیناتی کو بھی مسئلہ نہیں بنایا ہماری آرزو تھی اور ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کو مل کر حل کیا جائے جو ناسور بن چکے ہیں۔ ہمارا ملک اقتصادی ترقی کرے اور ہم قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر جی سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمیں چاروں طرف سے ناامیدی سامنے آئی تو دکھی دل کے ساتھ ہم نے حکمران اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کیا بلکہ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ ہمیں اس فیصلے پر مجبور کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ معاہدوں سے بھری پڑی ہے بابائے قوم قائد اعظم  نے جنگ اسی ہتھیار سے لڑی ہے قرآن مجید اور حدیث میں بار بار وعدے پورا کرنے کی تاکید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی اہمیت نہ رہے تو باہمی اعتماد کارشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے اصول اور نظریے کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ہمارے مقاصد واضح ہیں ہم تمام معذول ججز کی بحالی آئین کو 99 ء والی شکل میں واپس لانا اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کا شمار جمہوری ممالک اور عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی چاہتے ہیں انہی مقامصد کے حصول کے لئے ہم 9 سال تک ایک آمر کے ساتھ لڑتے رہے۔ اسی معاہدے کی تحت اتحاد میں شامل ہوئے اور آج اسی معاہدے کے تحت حکمران اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی حکومت کے ہر اچھے اقدام کا ساتھ دیں گے۔ ہم جمہوری قوتوں کے شانہ بشانہ جدوجہد جاری رکھیں گے اور آمریت کے آثار ختم کر کے ہی دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ ن نے جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کو صدارتی انتخاب کے لئے منتخب کیا۔ جب میں نے جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی سے یہ بات کہی تو انہوں نے ہماری یہ پیشکش قبول کر لی۔ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی بہترین پاکستانی ہیں جنہوں نے 2002 ء میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا اور پاکستان کے لئے اپنی بقیہ سروس کو قربان کر دیا۔ ان کا شمار ایسی شخصیات میں سے ہوتا ہے جنہیں سونے میں تولا جائے بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم پاکستان میں اصولی اور نظریاتی سیاست کی روایت ڈال چکے ہیں جسے آگے بڑھائیں گے ہم اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی مثبت کردار ادا کریں گے ۔ ہم کوئی ایسی کوشش میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے جو حکومت گرانے کے لئے ہو۔ نواز شریف نے کہا کہ ہم مرکز میں پیپلز پارٹی کے لئے کوئی مصیبت کھڑی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے صدارتی امیدوار کے لئے مہم چلائیں گے اور تمام جمہوریت پسند عناصر سے اپیل کریں گے کہ وہ اس شخص کی حمایت کریں جو جمہوریت کا علمبردار ، قانونی کی حکمران اور آئین کی بالا دستی کے حق میں ہو۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے 3 دفعہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی انہوں نے میرے اعتماد کو بہت ٹھیس پہنچائی۔

25/08/2008 19:01:01 : وقت اشاعت


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s