ملك كا سكون تباه كرنے کے بعد مشرف گھروالوں کے ساتھ آرام کر نا چاہتا ہے


ملک چھوڑ کر نہیں جاؤنگا ، گھروالوں کے ساتھ آرام کر نا چاہتا ہوں ۔ پرویز مشرف ۔۔۔آزاد عدلیہ جمہوریت کی علامت ہوتی ہے ۔ جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام ججز کو بحال کیا جائے ۔ مسلم لیگ (ق)کا مطالبہ:

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین20اگست2008 ) سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے ، پاکستان میں رہ کر ہی اپنے گھروالوں کے ساتھ آرام کر نا چاہتا ہوں ، مسلم لیگ (ق)اور حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھونگا آخری وقت میں جو کچھ کیا وہ ملک وقوم کے مفاد میں کیا جبکہ مسلم لیگ (ق)نے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد عدلیہ جمہوریت کی علامت ہوتی ہے

معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام ججز کو بحال کیا جائے ۔ پرویزمشرف مسلم لیگ (ق) کے 40رکنی وفد سے گفتگو کررہے تھے جنہوں نے چوہدری شجاعت حسین کی قیادت کی بدھ کو یہاں ان سے ملاقات کی ۔ سابق صدرپرویز مشرف نے کہاکہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جارہے ہیں پاکستان میں ہی رہ کر اپنے گھروالوں کے ساتھ آرام کر نا چاہتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ق)اور حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھونگا ملاقات کے بعد نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ حکمران اتحاد اپنے وعدے کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کو بحال کرے  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ملک میں مہنگائی  بے روز گاری سمیت دیگر دعوے عوام سے کئے گئے تھے۔


لیکن ابھی تک کسی پر عملدر آمد نہیں ہوا ۔ایک سوال کے جواب میں چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ پرویز مشرف ملک کے مفاد میں استعفیٰ دیا ہے اگر وہ چاہتے تو سپریم کورٹ چلے جاتے اور معاملہ لٹک جاتا لیکن انہوں نے ایسا نہیں سوچا ۔ صدر کے خلاف مقدمہ چلانے پر اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں دائر رٹ کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ اس سے حوالے ہماری پرویز مشرف سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔ایسی درخواستیں عدالتوں میں دائر ہوتی رہتی ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ق)کے صدر نے کہاکہ اگر پرویز مشرف نے غلط قدم اٹھایا ہوتا تو وہ ڈیل کرلیتے ۔انہوں نے کوئی ڈیل نہیں کی خود استعفیٰ دیا ہے اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ۔مسلم لیگ (ق)کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہاکہ پرویز مشرف سے آج اور ماضی کی ملاقاتوں میں بہت فرق ہے پہلے صدر اور جنرل پرویز مشرف سے ملاقاتیں ہوتی تھیں اور اقتدار کے ٹھاٹھ کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی تھیں لیکن آج ماحول مختلف تھا کھلا ڈلا ماحول تھا اور خوب گپ شپ ہوئی ۔مشاہد حسین سید نے کہاکہ ہم نے پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ آپ گھر والوں کے ساتھ آرام کریں  گانے وغیرہ سنیں۔ گانے وغیرہ کی سی ڈیز اور کتابیں انہیں دینگے ہم نے کہاکہ بہت سیاست ہوگئی آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بریج کھیلیں مشاہد حسین نے کہاکہ پرویز مشرف نے بتایا کہ میں نے کافی دنوں سے ٹینس کھیلی ہے ہمارے لئے اور ان کیلئے سیاست کا ایک باب بند ہو گیا ہے وہ ایک عام شہری ہیں اور ہم اپنی سیاست کرینگے حزب اختلاف کا کر دار ادا کریں گے بہت سے ایشو ہیں مشاہد حسین سید نے کہاکہ پہلے کہا جاتا تھا کہ مہنگائی ہے مشرف کی غلطی ہے  بارش نہیں ہورہی مشرف کی غلطی ہے جج بحال نہیں ہورہے مشرف کی غلطی ہے اب وہ بات ختم ہوگئی ہے۔
مشاہد حسین سید نے کہاکہ آزاد عدلیہ جمہوریت کی علامت ہے حکمران اتحاد اپنے وعدے کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کو بحال کرے  حکمران کیوں عدلیہ بحال نہیں کرتے ؟کیا رکاوٹیں ہیں؟اگر جج بحال نہ ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے ۔مشاہد حسین سید نے کہاکہ اگر حکمران اتحاد کی نیت ٹھیک نہیں ہے تو انہوں نے جھوٹے وعدے کیوں کئے؟وہ عوام سے معافی مانگیں ۔ اگر بحال نہیں کرسکتے تو حکمران اتحاد نئی کمیٹیاں نہ بنائے اور قوم سے مزید جھوٹے وعدے نہ کرے میاں نواز شریف نے اپنے لوگوں سے ججز بحالی کا حلف لیا تھا لیکن ابھی جج بحال نہیں ہوئے انہوں نے اپنے وزیر تو بحال کر والئے  لوگوں کئے گئے وعدے پورے کریں ایک سوال کے جوا ب میں مشاہد حسین نے کہاکہ سیاست پرویز مشرف کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اب ان کا تعلق ہونا چاہیے وہ اپنا کر دار ادا کر چکے ہیں ۔ہم ملک سے بھاگنے والے نہیں ہیں ہم نے پہلے ملک سے نہیں بھاگے اور آئندہ بھی نہیں جائیں گے ہم نے پرویز مشرف کے سامنے دو آپشن رکھتے تھے استعفیٰ دو یا ڈٹ جاؤ ۔انہوں نے ایک آپشن استعمال کیا اور استعفیٰ دے کر چلے گئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہم نے پرویز مشرف سے پوچھا کہ آپ نے استعفیٰ کا فیصلہ کب کیا تو انہوں نے بتایا کہ رات کو استعفیٰ کا فیصلہ کیا اپنے خاندان سے مشاورت کی اس کے بعد دن کو دے دیا ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک آدمی عزت کے ساتھ گیا ہے یہ معاملہ قانون  آئینی اور جمہوری طریقے سے حل ہوا ہے ۔انہوں نے تقریر میں اپنا دفاع کیا اور اپناا ستعفیٰ دیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا فوج نے بھی اس معاملہ پر اپنا آئینی کر دار ادا کیا ۔مشاہد حسین سید نے کہاکہ حکمران پہلے لندن اور دبئی میں فیصلے کرتے تھے ایک سوال کے جوا ب مشاہد حسین سید نے کہاکہ صدر وفاق کی علامت ہوتا ہے ایسا صدرہونا چاہیے جو سب کو قابل قبول ہو کسی گھر کا فرد نہیں ۔ہم نے اپنا کر دار ادا کر دیا اب حکومتی سیاستدانوں نے کر دار ادا کر نا ہے


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s