مشرف نے استعفیٰ دیدیا،ملک بھر میں جشن،مٹھائیاں تقسیم کی گئیں


اردو تائمز(نیوز) صدر پرویز مشرف تقریباً 9 سال تک برسراقتدار رہنے کے بعد پیر کو صدارتی عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ ان کے مستعفی ہونے کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں جشن کا سماں پیدا ہوگیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، قبل ازیں قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی خاطر یہ عہد ہ چھوڑ رہا ہوں ۔ سیاسی و غیر سیاسی رفقاءجنہوں نے حکومت چلانے میں دور صدارت کے دوران میری مدد کی ، میرا ساتھ دیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا ،پاک فوج کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ تصادم اور محاذ آرائی کی بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دی جائے ۔ اسی کے نتیجے میں ملک و قوم کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ورنہ ہم ملک وقوم کو دھوکہ دیتے رہیںگے اور اسے ٹھیک کرنے میں ناکام رہیںگے۔ 9سالہ پالیسیوں پر فخر ہے ۔ انہیں غلط قرار دینے والے عوام کو فریب دے رہے ہیں ۔ 9 سالوں میں پاکستان کے ہر شعبے کو ترقی دی ہے ۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ اوراسے اہم مقام اور رتبہ حاصل ہوا ۔ پاکستان کی بات سنی جاتی ہے اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت کرے ، سازشوں سے محفوظ رکھے ، عوام کی مشکلات آسان کرے ۔ میری جان ہمیشہ ملک وقوم کے لیے حاضر رہے گی ۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی وناصر اور پاکستان کا خدا حافظ ہو ۔ گزشتہ روز یہاں قوم سے اپنے آخری خطاب میں اپنے استعفی دینے کا اعلان کیا ۔

جو کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو بھجوا دیا گیا ۔ قوم سے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان کو دہشت گرد اور معاشی طورپر ناکام ریاست ہونے سے بچایا ۔ صدر پروےز مشرف نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے قوم آگاہ ہے ۔ مجھے احساس ہے آج فےصلوں کااہم دن ہے ۔ نو سال قبل ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت ملک دہشت گردی کی رےاست اور معاشی لحاظ سے ناکام قرار دےا جانے والا تھا ۔ ملک سے بے پناہ محبت ہے۔ ملک کے لےے تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کےا ۔ بحرانوں کاسامنا ہے نو سالہ جو چےلنج پاکستان کے سامنے آئے کسی اور دور مےں نہےں آئے۔ ملک کو معاشی تباہی ‘ خشک سالی سے بچانے اور 2001 ءمیں بھارت سے محاذ آرائی جس میں جنگ کے بادل پاکستان پر منڈلا رہے تھے۔ان چےلنج کا سامنا کےا۔ نائن الےون کے سانحے کے بعد خطے اور پاکستان کی صورتحال تبدےل ہوئی 2005 ءکے زلزلے کی تباہی سے نمٹا گےا ۔ تمام بحرانوں کا مقابلہ کیا مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان اور عوام کو محفوظ رکھا ۔ ہر کام مےں مےری نےت صاف رہی جو حل دےکھا اس مےں ملک و قوم کے مفاد کو ترجےح دی۔ ذات سے بالا تر ملک و قوم کو ترجےح دی ۔سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دےایہ دکھاوا نہ تھا ۔دل کی آوازتھی مستقبل مےں بھی مےری ےہی آواز رہے گی ۔ ملک کے لےے دوجنگےں لڑےں خون کا نذرانہ دےنے کے لےے تےار رہا ےہی جذبہ اب بھی قائم اور رہے گا ۔ بد قسمتی سے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد سے بالا رکھا جارہا ہے۔ جھوٹے بے بنےاد الزامات لگائے گئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ملکی نقصان کا احساس نہےں کےا گےا ےہ عناصر وہ ہےں جو کہتے ہےں کہ ہماری نو سالہ پالےسی غلط رہی ہے ۔ ےہ ملک کے ساتھ فرےب ہے۔ معےشت کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ دسمبر 2007 ءیعنی آٹھ ماہ قبل معےشت پختہ تھی جی ڈی پی سات فےصد ، معےشت 170ارب ڈالر پر پہنچ گئی زر مبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر جبکہ محاصل اےک ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے تھے ۔ڈالر کی قےمت آٹھ سال تک 60 روپے کے ارد گرد رہی ۔ ےہ معےشت کی طاقت ہے۔ معاشی خوشحالی کے اشارے واضح تھے ۔ اس وجہ سے دنےا کی اےجنسےوں نے ملک کو ناین الےون ممالک مےں قرار دےا ۔ معاشی بحران چھ ماہ قبل شروع ہوا ۔ زر مبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر سے نےچے چلے گئے ۔ ڈالر 77روپے تک پہنچ گےا ہے۔ لوگ سرماےہ کار باہر لے جا رہے ہےں ۔غےر ملکی سرماےہ کاروں نے ہاتھ روک دےا ۔ آٹے دال گھی کی قےمت دگنی ہو گئےں ۔ عوام تکالےف اٹھانے پر مجبور ہےں ۔ معےشت پختہ تھی ۔ اسی لےے عالمی صورتحال کا مقابلہ کےا۔ معاملہ معاشی لحاظ سے ٹھےک تھا ۔ معاشی لحاظ سے تنزلی کی طرف جا رہے ہےں۔ نو سالہ پالےسی کو غلط قرار دےنے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہےں ۔ ہمارے دور میں لوگوں کے پاس پےسے آنے کی وجہ سے بجلی کی ضرورےات مےں اضافہ ہوا۔ لیکن ڈےمانڈ کے مطابق اضافہ نہ کرسکے ۔ تاہم آٹھ نو مےں 3000مےگا واٹ بجلی بھی اضافہ کیا ۔جون 2007 ءمےں ملک میں بجلی کی پیداوار 14000مےگا واٹ تھی ۔ جون 2008 ءمےں 10000بجلی پےدا کررہے ہےں ۔ پےسے نہ فراہم کرنے کی وجہ سے پاور کمپنےوں نے بجلی کی پےداوار مےں کمی کر دی جس پر قوم کو لوڈ شےڈنگ کا سامنا ہے ۔ آٹھ نو سالہ پالیسیاں اس کا ذمہ دار ٹھہرانا قوم کے ساتھ فرےب جھوٹ ہے۔ ےہ مسائل حل ہو سکتے ہےں۔ حکومت کو ان کا حل تلاش کرنا چاہےے ۔مےری دعاہے حکومت مستقبل کی طرف دےکھتے ہوئے مسائل کا حل ڈھونڈے اور پاکستان کو آگے کی طرف لے کر جائے ، میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نو سالوں مےں ہر شعبے مےں پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر گئے ۔ ہم مواصلاتی نظام مےں انقلاب لائے ۔ ساڑھے سات سو کلو مےٹر کوسٹل ہائی ، اےم ون ، اےم تھری ، اسلام آباد تا مری اےکسپرےس ہائی وے کراچی اورلواری ٹنل زےر تعمےر ہے۔ گوادر سے رتو ڈےرو شمالی علاقہ جات کی سڑکےں بنائی گئےں سڑکوں کا جال بچھاےا ۔ مےرانی ، سبک زئی ڈےم تعمےر کئے گئے منگلا ڈےم کی رےزنگ ہو رہی ہے ۔ گومل زام ڈےم کچی کےنال زےر تعمےر ہے۔ ان میں ہسپتال بن رہے ہےں مجموعی طور پر تےن ملےن اےکڑ بنجر زمےن زےر کاشت آجائے گی ۔کھالوں کو 65 ارب روپے کی لاگت سے پختہ کیا جا رہا ہے ۔ گوادر پورٹ بنا دیا گیا ۔ ٹیلی کمیونیکیشں میں انقلاب آ گیا ہے ساڑھے 82 کروڑ موبائل فون ہیں ۔صدر نے کہا کہ ہر طرف انڈسٹری پھیلادیں ۔ نوکریاں مل رہی تھی سرمایہ کاری ہو رہی تھی بیروزگاری اور غربت کم ہو رہی تھی جو 34 فیصد سے 24 فیصد تک رہ گئی ۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کا جال پھیل رہا تھا ۔ اس میں فوج کی معاونت حاصل ہے ۔ نوجوان ہنر سیکھ رہے ہیں اعلیٰ تعلیم میں ترقی یافتہ ممالک کی 9 جامعات پاکستان میں جامعات کھول رہی ہیں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کیا گیا۔ صرف 15سو پی ایچ ڈی ہر سال تھا۔ صحت کے شعبے میں بنیادی سیکنڈری سہولتوں کو ترجیح دی ۔ سیف ڈرکنگ واٹر کا منصوبہ شروع کیا اربوں روپے لگائے گئے ہیں 6 ہزار پلانٹ یونین کونسل کی سطح پر لگانے کا منصوبہ تھا۔ خواتین کی ترقی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ سیاسی معاشی سماجی لحاظ سے خواتین کو بااختیار بنایا ۔ فرسودہ قوانین کو تبدیل کیا ۔ ہر سطح پر خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں ۔ حدود آرڈنینس کو بھی اسلامی نظرئیے کے مطابق بہتر کیا ۔ تاریخی ورثے اور ثقافت کو فروغ دیا اسلام آباد میں لوک ورثہ بنایا اور خوبصورت مانومنٹ بنوایا ۔ملک بھر میں ثقافت کو محفوظ کیا انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کہا جاتا ہے کہ میں فوجی ہوں ، اس سے پہلے جمہوریت کی بات ہوتی تھی مگر حقیقی جمہوریت نہیں تھی مقامی حکومتوں کا نظام دیا ۔ جو اس کے خلاف بولتا ہے یا کارروائی کی بات کرنا چاہتا ہے ایسا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا دوبارہ عام انتخابات کرائے ۔ اقلیتوں کو حقوق دینے ، حقیقی جمہوریت متعارف کرائی ، 1999 ءسے قبل پاکستان کی پہچان نہ تھی کوئی پاکستان کی بات نہیں سنتا تھا ۔ پاکستان کو ابتر دیا پاکستان کی بات سنی جاتی ہے دنیا کے نقشے پر پاکستان کو اہم مقام دلوایا امن وامان کے حوالے سے پوری کوششیں کیں ۔ کامیابی بھی ہوئیں ۔ سیکورٹی فورسز کو مضبوط کیا ۔ جدید آلات سے لیس کیا اسلحے کی نمائش نظر نہ آنا اہم کامیابی ہے ۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کانیا کلچر شروع ہوا ۔ خود کش حملوں سے نمٹنا ہو گا۔ پوری قوم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ساتھ دینا ہو گا۔ ان کامیابیوںپر فخر ہے ۔ ڈونرز کانفرنس میں 80 ممالک میں ساڑھے چھ ارب ڈالر امداد عطیات کے اعلانات ہوئے یہ ہمارا رتبہ تھا۔ موجودہ صورت حال کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی دنگل کے حوالے سے شروع قومی مفاہمت کی فضا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ میرا ذاتی اداروں کی سطح پر میرا رویہ ہے ۔ کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ تین مرحلوں میں اقتدار کی منتقلی کے منصوبے پر عمل کیا ۔ جمہوری عمل کو فروغ دیا ۔ تیسرے مرحلے میں فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑا۔ 18فروری کو صاف شفاف انتخابات ہوئے ۔ خوش اسلوبی سے اقتدار منتقل کیا گیا ۔ مفاہمانہ روئیے کا ثبوت ہے ۔ 18فروری کے انتخابات کے بعد کی امیدیں امنگیں حکومت سے وابستہ ہوئیں ۔ مسائل کا حل ملے ۔ ماضی کو چھوڑ ا جائے۔ مستقبل کی طرف دیکھا جائے ۔ غریب عوام کو ترقی دے کر بے روزگاری کم کی جائے ۔ ریاستی اداروں میں ہم آہنگی لائی جائے اور کشیدگی کم کی جائے یہ عوامی توقعات تھیں بدقسمتی سے مفاہمت کے حوالے سے تمام اپیلیں کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ کچھ عناصر معیشت اور دہشت گردی کے ساتھ سیاسی طور پر کھیل رہے تھے۔ مفاہمت کے بجائے تصادم کی صورت حال شروع ہو گئی الزام عائد کیا گیا کہ ایوان صدر میں سازشیں ہوتی ہیں بے بنیاد الزام ہے ۔حقائق کے برعکس ہے تمام جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا ۔تمام لوگوں کی شمولیت انتخابات میں ممکن بنائی ۔ سازش ہوتی تو صاف شفاف انتخابات کیسے ہو سکتے تھے۔ وزیراعظم بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ یہ کیسے ہوا ۔ مثبت اپوزیشن کی وجہ سے بجٹ خوش اسلوبی سے منظور ہوا ۔ سازشوں میںکیسے ممکن تھا۔ عوامی سطح پر اپنی حمایت کا اعلان کیا اپنے تجربات حکومت کے حوالے کرنے کو تیار ہوں ۔ لیکن حکومت نے مجھے مسئلہ قرار دیا کیا یہ موجودہ اور آئندہ کی غلطیاں چھپانا چاہتے ہیں مواخذے اور چارج شیٹ پارلیمنٹ کا کام ہے اس کا جواب دینا میرا حق ہے ۔ اپنے اوپر یقین اور اللہ پر بھروسہ ہے ۔ کوئی چارج شیٹ ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ میں نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے لئے کیا ۔ غریب عوام کا درد ہمیشہ دل میں رکھا ہر فیصلہ مشاورت سے کیا ۔ ہر فیصلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔ خطرناک پیچیدہ فیصلوں کے بارے میں فریقوں کو اعتماد میں لیا ۔فوج سیاستدانوں کو اعتماد میںلیا ۔ بیورو کریٹس ۔ سول سرونٹ ، سول سوسائٹی کے ارکان علماءکو اعتماد میںلیا۔ چارج شیٹ سے کوئی فکر نہیںہے ۔ کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکتا ۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مواخذے کو ذاتی انا کو مسئلہ بنایا گیا اس کا ملک پر کیا اثر ہو گا۔ مزید عوام استحکام اور غیر یقینی برداشت کر سکتا ، محاذ آرائی کی فضا سہہ سکتا ہے کیا معیشت تباہ وبربادی برداشت کر سکتی ہے ۔ کیا یہ درست ہو گا کہ صدارتی عہدہ جو قومی وحدت کی علامت ہے مواخذے کے عمل سے گزارا جائے ۔ ذاتیات نہیں سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہے ۔ مواخذے میں جیتوں یا ہاروں قوم کی ہر صورت میں شکست ہو گی ۔ ملک کی آبرو ساکھ پر آنچ آئے گی صدر کے عہدے کے وقار پر حرف آئے گا۔پاکستان میرا عشق ہے ملک وقوم کے لیے جان حاضر ہے ۔ 44سال جان کو داﺅ پر لگا کر پاکستان اور قوم کی حفاظت کرتا رہوں گا۔ کچھ اور بھی خیال دماغ میں آتے اور جاتے ہیں میں ان کے حوالے سے چاہتا ہوں کہ کچھ کروں ۔ بحران سے نکالوں ۔ یہ بھی سوچتا ہوں کہ کچھ ایسی چیز نہ لاﺅں کہ غیر یقینی صورت حال میں اضافہ ہو ۔ پارلیمنٹ کو ہارس ٹریڈنگ سے بچانے کا بھی خیال ہے ۔ کیوںکہ اپنے ساتھیوں کو مشکل امتحان میں نہ ڈالوں اس کا بھی خیال ہے ۔ مواخذہ اگر ناکام بھی ہو جائے حکومت کے تعلقات ایوان صدر کے ساتھ کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے بلکہ کشیدگی رہے گی ۔ محاذ آرائی جاری رہے گی ۔ ریاست ستونوں پارلیمنٹ اور عدلیہ میں کشیدگی اور اختلافات کا خدشہ ہے کہیں فوج کو اس میں نہ گھسیٹ لیا جائے صورت حال کا جائزہ لے کر قانونی مشیروں سیاسی حمایتوں سے مشاورت اور ایڈوائس ملک وقوم کی خاطر میں عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ۔ میرا استعفی سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ہے ۔ اپنے مستقبل ملک وقوم کے حوالے کرتا ہوں ۔ اس اطمینان اور تسلی کے ساتھ جا رہا ہوں ملک و قوم کے لیے جو کچھ کر سکا وہ کیا دیانتدار ی اور ایمانداری سے کیا ۔ میں بھی انسان ہوں ہو سکتا کوتاہیاں ہوں قوم کوتاہیوں کو درگزر کرے گی میری نیت ہمیشہ صاف تھی نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ کوئی غیر ارادی طورپر کوتاہی ہوئی ہوگی رنج اور پریشانی ضرور ہے پاکستان تیزی سے نیچے کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے غریب عوام پس رہے ہیں مجھے امید ہے حکومت عوام کو پریشانیوں سے نجات دلائے گی بحرانوں سے ملک وقوم کو چھٹکارا دلائے گی ۔ مکمل میڈیا چھوڑ کر جا رہا ہوں۔میرے ساتھی دوست ، کچھ اور راہ کی طرف کہہ رہے تھے وہ اس فیصلے کو وہ ملک وقوم کی خاطر قبول کرلیں ۔ ذاتی مفاد میں ہوتا تو کچھ اور کرتا سب سے پہلے پاکستان ہمیشہ رہے گا وقت کے تقاضے کے مطابق یہ فیصلہ کیا۔ قوم کے لیے دل رو رہا تھا عوام کی ترقی ہو گی اب ہم کہاں جا رہے ہیں میرے بغیر بھی یہ قوم طاقت کے ساتھ اٹھے گی۔ صدر پرویز مشرف نے اس موقع پر فوج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، اپنے سٹاف ، بیورو کریٹس ، سول سرونٹس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ فوج نے ہمیشہ حب الوطنی اور دلیری سے وطن کو بچایا ہے ۔ لوگوں کی حفاظت اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ افواج پاکستان کو سیلوٹ کرتا ہوں ۔ عوام اور بالخصوص غریبوں نے بے پناہ محبت دی اور احترام دیا ۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ، عوام میں سے ہوں ۔ ان کے دکھ و درد اور مشکل زندگی کا پورا احساس ہے ۔ میرے ساتھ ہمیشہ ماں کی دعائیں رہیں ۔ بیگم اور بچوں کی سپورٹ حاصل رہی ۔ آج بھی یہ سپورٹ حاصل ہے ۔ جو کہ میری طاقت ہے۔ مشرف کے استعفے کے بعد لوگ گھروں سے نکل آئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں نے جلوس نکالے۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News and tagged , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s