مشرف مستعفي


ملک و قوم کی خاطر‘ مستعفی ہونے کا اعلان: مشرف

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف
’یہ کہنا غلط ہے کہ ملک میں بحران ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ہے‘

پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نےیہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا۔

ناکام اپیلیں
پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں

پرویز مشرف
انہوں نے اپنا استعفیٰ قومی اسمبلی کی سپیکر کو دیا ہے۔ سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو قائم مقام صدر ہوں گے اور آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔

جمہوریت اور عوام کی فتح: رد عمل
تقریر میں کیا نہیں تھا!
نو سالہ دورِ اقتدار کا طائرانہ جائزہ
مشرف کے اقتدار کی ٹائم لائن
مشرف کے استعفے پر عوامی رد عمل

ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘

صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذا جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘

وکلاء نے صدر مشرف کے خلاف تحریک چلائی

انہوں نے کہا کہ وہ بحران سے پاکستان کو نکالنےکی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ صدر مشر ف نے فوج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے کردار کو سراہا اور انہیں سیلوٹ کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی والدہ کی دعائیں، بچوں اور بیگم کی مدد ان کی طاقت ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر سن انیس ننانوے کو بغیر کسی خون خرابے کے فوج کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو حراست میں لے لیا تھا۔

وقت کا تقاضہ
بحران سے پاکستان کو نکالنےکی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے

پرویز مشرف

پیر کو ان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ان کے آٹھ سال دس ماہ اور چھ روزہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صدر مشرف فی الحال پاکستان میں ہی رہیں گے۔

صدر پرویز مشرف اپنے پیشرو فوجی صدر ضیاءالحق کے طویل اقتدار یعنی گیارہ سال حکمرانی کا ریکارڈ توڑ نہیں سکے۔ تاہم دونوں فوجی صدور کے لیے اگست کا مہینہ بھاری پڑا۔

ضیاء الحق سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے جبکہ صدر مشرف نے اٹھارہ اگست کو استعفیٰ دیا۔

صدر کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پی ٹی وی انتظامیہ نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے تقریر ریکارڈ کروائیں جس پر ایوان صدر نے اعتراض کیا اور نجی ٹی وی چینلوں کو براہ راست تقریر کے لیے بلا لیا۔ جس کے بعد پی ٹی وی نے بھی براہ راست تقریر نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرنے کا فیصلہ پی ٹی وی کے نئے ٹاپ مینیجر نے کیا۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News and tagged , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s