November 15, 2009 at 10:56 am (Personal)
Tags: Pakistan, Saudi Arabia, چھٹی, یاسر عمران, پاکستان, پرواز, پردیسی, vacation, Yasir Imran, اپنے دیس, اپنا ملک, سعودی عرب
جی ابھی نہیں، کل اسی وقت شاید، میں سعودی عرب کی تپتی ریگستانی ہواؤں کو چھوڑ کر اپنے دیس کی ٹھنڈی ہواؤں کی جانب ایک اڑن کھٹولے پر بیٹھا ہوا جا رہا ہوں گا۔ لیکن لگتا ہے اپنے دیس کی ٹھنڈی ہوائیں اب بارود کی بو سے آلودہ ہو چکی ہیں اور وہی پاکستان کی دھرتی جو پردیسیوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی تھی اب ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ سیاستدانوں کے محلوں، گاڑیوں اور ان کی جائیدادوں کے سوا کچھ محفوظ نہیں۔ عوام کا سڑک پر نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔ ڈالر ہوا میںپھینکے جا رہے ہیں اور لوٹنے والے اپنے ہی بھائی بہنوں اور بچوں کی زندگیوں عوض ڈالر لوٹ رہے ہیں، یہ نہیں پتہ کہ وہ جس حیات کے لیے سرمایہ جمع کر رہے ہیں اس کی ایک ساعت کی ضمانت بھی نہیں۔ کب باری تعالی اس سانس کی ڈوری کو کھینچ لیں اور ڈالر دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ بڑے بڑے محل، یورپ کے کاروبار، سوئس بنکوں کے اکاؤنٹ، اسلام آباد کے پلاٹ سب وہیں کے وہیں رہ جائیں۔ لیکن خوف خدا تو جیسے ان افراد کے دلوں سے عرصہ ہوا بھاگ چکا ہے بس خوف امریکہ باقی ہے۔
میرے جیسے بہت سے کڑھتے رہیں گے اور وہ جیسے تانیہ رحمان کہتی ہیں صفحے کالے کر رہے ہیں بس وہیسی ہی بات ہے کہ ہمارے یہ سب الفاظ ، طعنے اور نصیحتیں بے اثر ہو گئی ہیں۔ ہم بھی کیسے بھولے ہیں کہ ان افراد کوشرم دلانا چاہ رہے ہیں جنہوں نے پہلے ہی اپنی غیرت بیچ دی۔ غور کریں تو شاید ہم سبھی پاکستانی قصوروار ہیں اس لیے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو سدھرنے کی ہمت دے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔
چونکہ میں محدود عرصہ کے لیے چھٹیوں پر جا رہا ہوں اس لیے بلاگ پر زیادہ تر غیر حاضر ہی رہوں گا۔ سب پڑھنے والوں کا بہت بہت شکریہ، دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ والسلام
یاسر عمران مرزا
3 Comments
October 29, 2009 at 1:42 am (Personal, Regional)
Tags: Expatriates, Immigration, Law, Pakistan, Pakistani, Rules, Saudi Arab, قوانین, ملازمت, نوکری, کام, پاکستان, پاکستانی, Work visa, سعودی عرب
پچھلے کچھ دنوں میں بے حد ذہنی کوفت اور تکلیف اٹھانی پڑی۔ کمپنی والوں سے چھٹی کی درخواست کی جس پرکافی بحث و مباحثہ تکرار اور لڑائی کرنی پڑی اور لکھنے لکھانے کو بھی وقت نہ دے سکا۔ یوں تو لمبے عرصے سے پردیس میں ہوں اور ہر گزرتے لمحے سے پردیس کی ان مشکلات کا احساس ہوتا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے۔ ایک وہم جو میرے دماغ میں تھا کہ کچھ ادارے یا کاروبار کے مالکان اپنے ملازمین کی بہتری کا کوئی پہلو بھی سوچتے ہیں وہ ختم ہو گیا۔ کاروباری افراد چاہے پاکستان کے ہوں یا سعودی عرب کے وہ اپنے ایک سینٹ، ایک ہلالے یا ایک پیسے تک کے لیے ملازمین کے مفاد کو لات مار دیتے ہیں۔ شوگر ملوں کے مالکان پاکستانی ہوں یا سعودی سب ہی عوام کی کھال اتارنے میں لگے ہوے ہیں، اللہ تعالی دولت ، حیثیت یا اقتدار تو بہت سے افراد کو دے دیتے ہیں لیکن ظرف کسی کسی کو دیتے ہیں۔ ایسے بہت سے صاحبان ہیں جو یہ نعمتیں حاصل کرنے کے بعد غرور میںمبتلا ہو جاتے ہیں، حالانکہ زیادہ نعمتیں حاصل کر لینے کے بعد تو عاجزی سے انسان کو اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے پر وہ اکڑ میں آ جاتا ہے۔
Read the rest of this entry »
6 Comments
October 27, 2009 at 6:46 pm (Features)
Tags: Al Qaida, Islam, Pakistan, Taliban, پاکستان, War, القاعدہ, جنگ, دہشت گردی, طالبان
طالبان کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص مکتبہ فکر کےمدارس سے تعلق رکھتے ہیں جوکہ افغانستان اور روس کی جنگ کے سلسہ میں افغانستان گئے۔ وہاں ان لوگوںنے کتنا جہاد کیا اور کتنا فساد کیا یہ میرا موضوع نہیں۔وہاں کے مقامی لوگ جو کہ طالبان کے ساتھ ملے وہ افغانی طالبان اور پاکستان سے گئے ہوئے لوگ پاکستانی طالبان کہلانے لگے۔افغان جنگ کے بعد آپس کے لڑائیوں کے بعدطالبان نے افغانستان پر اقتدار سنبھالا، اور وہاںپر اپنے من پسن اسلامی قوانین کے نفاذ کااعلان کر دیا۔ جس سے ساری دنیا میں یہ لوگ اسلامی لہذا شدت پسند ” اسلام پر سختی سے عمل کرنے والے ” کہلانے لگے۔ Read the rest of this entry »
5 Comments
October 12, 2009 at 8:14 pm (Entertainment)
Tags: begging, Cricket, Friends of Pakistan, India, loan, Pakistan, PPP, Taliban, Terrorist, فرینڈز آف پاکستان, قرضے, لشکر طیبہ, کیری لوگر, کرکٹ, کشکول, پیپلز پارٹی, پاکستان, پاکستانی عوام, Zardari, بھارت, دہشت گرد, ذرداری, طالبان
6 Comments
October 9, 2009 at 4:13 pm (Features, Islam)
Tags: Corruption, hard work, Honesty, Islam, muslim, Pakistan, Responsibility, Society, محنت, مشترکہ ذمہ داریاں, معاشرہ, کرپشن, پاکستان, پاکستانی قوم, پاکستانی عوام, ایمانداری, ترقی, جھوٹ
پاکستانی معاشرے میں بگاڑ عروج پر ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن جھوٹ فریب دغا شامل ہے۔ بلاشبہ ہمیں ہی پاکستان کو سنبھالنا ہے، ہم سب پاکستانی مل کر وہ کر سکتے ہیں جو کوئی اور نہیں کر سکتا، اس لیے ہمیں سب سے پہلے وفا کی شروعات کرنی ہو گی اس ملک کے ساتھ، ہمیں اپنا مفاد پیچھے چھوڑنا ہو گا، اس کا مفاد آگے رکھنا ہو گا۔ اس کے لیے اگر ہم میں سے ہر کوئی آج سے اپنی زندگی میں ایمانداری، سچ اور اچھے اخلاق کی شروعات کر دے تو یقین مانیے پاکستان بچانے کی طرف ہمارے سفر کا آغاز ہو جائے گا۔ہم نے لڑ مر کر جج آزاد کرائے، انصاف کے لیے، لیکن انصاف ابھی ملنا شروع نہیں ہوا۔ زندگی کے ہر شعبے میں بدعنوانی موجود ہے۔ اگر ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں تو ہم سب کے اندر ایک ایک جج بیٹھا ہوا ہے۔ Read the rest of this entry »
4 Comments
September 8, 2009 at 10:18 pm (Features)
Tags: Corruption, Pakistan, PPP, قرضہ, وزیر اعظم, یوسف رضا گیلانی, کرپشن, پیپلز پارٹی, پاکستان, Yousuf Raza Gilani, اقتصادیات, الہ دین کا چراغ, حکومت, زرداری, عوام, عوامی مسائل, عبداللہ طارق سہیل, عشرت العباد
کالم نگار اور دوسرے مبصرین و دانشور حقائق بیان کر کر کے عوام کو اور ارباب اختیار کو جھنجھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ، مگر کسی چیخ و پکار کا اثر پاکستانی عوام کے قسمت پر نہیں ہو رہا اور وہ ڈوبتی ہی جا رہی ہے، ملاحظہ فرمائیے عبداللہ طارق سہیل کے کام سےاقتباس، جو 7 ستمبر کو شائع ہوا۔
پاکستان کی حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کرتیں، ان میں اضافہ کرتی ہیں اور شکایت کی جائے تو عذر کرتی ہیں کہ ہمیںالہ دین کا چراغ نہیںملا۔
مشرف کو پورے آٹھ سال تک یہ چراغ نہیں ملا، اب نئے وزیر اعظم نے بھی ڈیڑھ سالہ عرصہ گزارنے کے بعد اعلان کر دیا کہ ان کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہے اس لیے وہ عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔
کراچی میں گورنر سندھ کے افطار ڈنر میں خطاب کرتے ہوے انہوں نے یہ انکشاف کیا۔ان کے میزبان عشرت العباد تھے جو زمانہ قدیم یعنی زمانہ قبل از 18 فروری سے گورنر چلے آرہے ہیں، ان سے پوچھ لیتے، شاید انہیں الہ دین کا چراغ مل گیا ہو، جتنے عرصے سے وہ گورنر ہیں چراغ ڈھونڈنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ الہ دین کا نہ سہی، مشرف دین کا ہی سہی، کوئی نہ کوئی چراغ تو ان کے پاس ہو گا، مشرف دور عبوری دور اور پھر جمہوری دور، تینوں میںوہی اکیلے ہیں جو اپنی جگہ سے نہیں ہلے۔
ویسے وزیر اعظم کے پاس الہ دین کا چراغ تو ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس کا مصرف کچھ اور ہو، الہ دین کا چراغ نہ ہوتا تو وہ کارنامے کیسے ممکن تھے جو پاکستان کی کسی پچھلی حکومت ، بلکہ دنیا کی کسی حکومت کے حصے میںنہیں آئے۔ لیکن موجودہ حکومت نے کر دکھائے
الہ دین کا چراغ گھمایا۔ عالمی منڈی میں سستا تیل یہاں مہنگا ترین ہو گیا
الہ دین کا چراغ گھمایا۔ لوڈ شیڈنگ کا سورج سوا نیزے پر پہنچ گیا
الہ دین کا چراغ گھمایا۔ رینٹل پاور ہاوسز میں اڑھائی کھرب کا منافع کما لیا
الہ دین کا چراغ گھمایا۔ ، مشرف کو زیرو سے ہیرو بنا دیا
الہ دین کا چراغ گھمایا۔ جو چاہا کر دکھایا
یہ الہ دین کا چراغ بڑے کمال کا ہے، ایک اور کمال ملاحظہ ہو
مشرف آیا تو پاکستان 32 ارب ڈالر کا مقروض تھا، جب وہ گیا تو 38 ارب ڈالر کا مقروض تھا گویا فی سال پون ارب ڈالر قرضہ بڑھا دیا، لیکن جیسا کہ حکومت کے حامی کہتے ہیں، ہماری سرکار سب پر بھاری
چنانچہ اس سرکار نے ڈیڑھ برس میں غیر ملکی قرضوں کی مالیت 38 ارب سے بڑھا کر 50 ارب ڈالر کر دی، گویا ڈیڑھ سال میں 12 ارب ڈالر کا اضافہ، مزید گویا ایک سال میں 8 ارب ڈالر کا اضافہ
بھاری سرکار اتنا بھاری کارنامہ ، الہ دین کا چراغ نہ ہوتا تو کیسے کر سکتی تھی
چنانچہ ثابت ہوا کہ حکومت کے پاس الہ دین کا چراغ ہے، لیکن اس چراغ کی ایک ہی کل ہے جو بھاری سرکار کے لیے گھومتی ہے، عوام کے فائدے کا معاملہ ہو تو یہ چراغ بے حس و حرکت ہو جاتا ہے، اس لیے وزیر اعظم صاحب یہ مت فرمائیے کہ آپ کے پاس الہ دین کا چراغ نہیںہے، یہ فرمائیے کہ چراغ تو ہے لیکن۔۔۔۔۔۔
8 Comments
September 3, 2009 at 1:25 am (News, Pictures)
Tags: Flour, Pakistan, poority, Ramadan, Ramzan, پٹائی, پاکستان, حکمرانوں کے رویے, رمضان, سستا آٹا, غربت
تصویر ہی بہت کچھ کہہ رہی ہے، میں کیا کہوں اس پر، کیا جمہوری حکمرانوں کا یہ رویہ ہوتا ہے کبھی وزیر تھپڑ مارتے ہیں کبھی پولیس والے

سستا آٹا
Read the rest of this entry »
10 Comments
August 25, 2009 at 11:01 pm (Features)
Tags: Aftaari, food, Fruit-chat, health, Pakistan, Ramadan, Ramzan, فروٹ چاٹ, پھل, پاکستان, افطار, رمضان, صحت بخش خوراک
معذرت چاہتا ہوں کہ کچھ دن کی علالت کے باعث میں مقررہ وقت پر تحاریر نہ لکھ سکا۔ویسے تو مجھے اچھی طرح کھانا پکانا نہیں آتا تھا، لیکن پردیس میں رہنے کے بعد آہستہ آہستہ کچھ چیزیں سیکھ لیں۔ ان میں سے کئی چیزیں عام سی ہیں ، جیسے چاول پکانا، سبزی پکانا، کچھ اقسام کی دالیں پکانا جو کہ اکثر حضرات اور بیشتر خواتین کو آتا ہی ہو گا۔ اس لیے میں اپنی پسند کی چیز کی ترکیب بتاتا ہوں،
رمضان المبارک میں ہم پاکستانی چٹ پٹی چیزیں کھانے لگتے ہیں جبکہ صحت کے لیے اچھی چیزیں جیسے فروٹ ، دستر خوان پر موجودگی کے باوجود کم مقدار میں کھایا جاتا ہے، ایسے میں اگر فروٹ کو یا تو بہت خوبصورت انداز سے پیش کیا جائے یا پھر اسکی کوئی ڈش بنا دی جائے تو یقینن سب فروٹ کی کچھ مقدار بھی کھا سکیں گے۔
Read the rest of this entry »
7 Comments
August 20, 2009 at 2:02 pm (Features)
Tags: Pakistan, Urdu, Urdu Blogging, ہفتہ بلاگستان, ہندی, قومی زبان, پاکستان, اردو, اردو بلاگنگ, برصغیر, تحریر, تعلیم
اردو ہماری قومی زبان ہے، جو کہ کم وبیش تمام علاقوں میں رہنے والے پاکستانی سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ بنیادی تعلیم کے بعد والی تعلیم کا زیادہ تر حصہ انگریزی زبان میں ہے، اس لیے تعلیم یافتہ افراد میٹرک کے بعد اردو زبان سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خود میرا یہ حال ہے کہ مجھے اکثر اردو الفاظ کے ہجے تک بھول گئے ہیں۔ حالانکہ اردو زبان سے مجھے بہت محبت ہے اور میں زیادہ تر تحقیق، کتب، خبریں اور تجزیے وغیرہ اردو میں پڑھنے کو ترجیج دیتا ہوں۔ اسکی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ اردو سمجھنے کے لیے مجھے ذرا سا بھی سرکھپانا نہیں پڑتا، جبکہ انگریزی زبان جاننے، بولنے اور پڑھنے کے باوجود مجھے انگریزی تحریر پڑھنے اور سمجھنے میں اردو سے زیادہ وقت لگتا ہے، دوسری وجہ اردو سے محبت کیوں کہ اردو ہماری اپنی زبان ہے۔
Read the rest of this entry »
5 Comments
August 18, 2009 at 6:07 pm (Education, Features)
Tags: BCS, college, Computer Science, Education, Higer Education, lahore, Pakistan, Private institutes, university, ہائر ایجوکیشن, لاہور, نظام تعلیم, ڈگری, کمپیوٹر, پاکستان, پرائیویٹ ادراے, بی سی ایس, تعلیم
ارے دوسر دن تعلیم کے لیے ہے، لیکن پہلے دن بھی تو تعلیم کے متعلق لکھا، خیر وہاں اگر پرائمری سکول کا لکھا تو یہاں کالج میں تعلیم کے متعلق ایک واقعہ سنادیتا ہوں،انٹرمیڈیٹ میں والد صاحب کی بیماری کی وجہ سے میں تعلیم اور امتحانات پر توجہ نہ دے سکا پھر بھی درمیانے درجے کے نمبر لینے میں کامیاب ہو گیا، میرا ارادہ تو ٹیکنکل کالج رسول سے درافٹسمین ڈپلومہ یا تین سال کا سول انجینئر کا ڈپلومہ کرنے کا تھا لیکن بڑے بھائی کی تجویز پر کمپیوٹر سائنس میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے لاہور چلا گیا، میرے شہر کے کچھ لڑکے لاہور میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، جن میں سے کچھ آئی ایل ایم نامی انسٹیٹیوٹ میں ، کچھ منہاج القرآن یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے، خیر معلومات حاصل کرنے کے بعد منہاج القرآن مناسب لگا، اس وقت بی سی ایس کی تین سال کی فیس ڈھائی لاکھ تھی، کچھ ہوسٹل یا پرائیویٹ فلیٹ کے اخراجات، وہ بھی کافی زیادہ تھے، والد صاحب اس بات کے لیے راضی نہ ہوے کیوں کہ وہ خود بیمار تھے لیکن میرے بڑے بھائی جو کہ سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے ، انہوں نے اصرار کر کے والد صاحب کو منا لیا۔
Read the rest of this entry »
16 Comments
« Older entries