رمضان میں درنبی پر حاضری

سعودی عرب میں روزگار کے لیے رہنے والوں کے لیے ایک سعادت کی بات یہ ہے کہ وہ جب چاہیں، حرمین شریفین کی زیارت کے لیے جا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے اکثر شہروں سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے کے لیے بسیں دستیاب ہیں، تاہم بسوں سے بھی زیادہ تیز رفتار سفر ٹیکسی سے ممکن ہے، لیکن وہ کچھ حد تک خطرناک بھی ضرور ہوتا ہے کیوں کہ ڈرائیور حضرات ۱۸۰ سے لے کر ۲۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلاتے ہیں۔ سعودی حکومت نے کافی عرصہ سے مکہ جدہ اور مدینہ کو ملانے کے لیے ریلوے لائن کے منصوبے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم اس پر ابھی تک عمل درامد نہیں ہو سکا۔ یقینن اگر ایسا منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو زائرین کو مزید سفری آسانیاں میسر ہوں گی۔
Read the rest of this entry »

مسلمانوں کے نام پر دھبہ

ٓآمنے سامنے کی جنگ میں دونوں فریقین میں سے وہی جیتتا ہے جو تعداد میں بڑا ہوتا ہے یا جوجوش وخروش اور جذبے سے لڑائی کرتا ہے۔تاہم اگر فریق مخالف کے چند کمزور ترین سپاہی بھی آپ کی صفوں میں گھس جائیں یا اپنی ہی فوج کے چند افراد دشمن کے لیے کام کرنے لگ جائیں تو ہار کو آپ کا مقدر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، دوسرے لفظوں میں ان افراد کو گھر کا بھیدی بھی کہہ سکتے ہیں، یا پھر سیدھے لفظوں میں کہنا چاہیں تو غدار کہہ لیں ، باغی کہہ لیں۔ نام سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ان میں سے جو بھی ہو وہ آپ کے مقصد کی کمر توڑ کے رکھ سکتا ہے۔ اسلام ایک کامل دین ہے،یہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہونے کے اصول کو نہیں مانتا، اور جنگ و جندل کے بھی قوانین وضع کرتا ہے، کسی مظلوم پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، دھوکہ دہی نہ کی جائے ، جو آپ کی پناہ میں آجائے اس کی جان بخشی کا جائے اور جھوٹ بول کر کسی پر غلبہ نہ پایا جائے، اس لیے مسلمان دوسرے اقوام کے خلاف سازشوں، الٹی سیدھی چالوں سے پرہیز کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اقوام اور ادیان کے ماننے والے اپنے دشمن کو کسی طرح بھی نقصان پہنچانے کو جائز اور حق بجانب خیال کرتے ہیں۔
Read the rest of this entry »

بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانے میں سر گرم

پنجاب کے علاقے گوجرہ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے ایک گروپ کے درمیان فسادات پاکستان کے خلاف بیرونی سازشوں کی ایک کڑی ہے۔ جس میں براہ راست طور پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی “را” اسرائیلی “موساد” اور امریکی سی آئی اے ملوث ہو سکتی ہیں۔گزشتہ دنوں ایسے ہی فسادات چین کے ایک صوبے میں بھی ہوے، چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فسادات بھی بیرون ملک سے کنٹرول کیے جا رہے ہیں، ایسے فسادات کا مقصد ملکوں میں انتشار پھیلانا، حکومت کی توجہ ترقیاتی کاموں سے ہٹا کر مجرموں کو پکڑنے میں ضائع کرنا، اور ملک کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کرنا شامل ہیں۔ کچھ ماہ قبل سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو بھی بین الاقوامی میڈیا میں اچھالی گئی جس کا مقصد اسلام کے خلاف نفرت میں اضافہ کرنا اور پاکستان کی ایک منفی تصویر پیش کرنا ہے۔ آئی جی پنجاب کے مطابق پاکستان میں ہونے والے فسادات میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں۔ پنجاب کابینہ کے ایک وزیر کا بیان بھی اسی حقیقت کو تقویت دیتا ہے۔

Christian-Muslim-Fights-Pakistan

Christian-Muslim-Fights-Pakistan

گوجرہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2اگست۔2009ء) سینئر وزیر پنجاب راجہ ریاض نے کہا ہے کہ گوجرہ میں فسادات کرانے شر پسند عناصر مذہبی فسادات کرانے کی سازش ہے ، اگر انتظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو حالات اتنے سنگینی اختیار نہ کرتے- مکمل خبر

پاکستانی میڈیا، اخبارات ٹی وی چینلز کو چاہیے کے اس سازش کو بے نقاب کریں اور حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد ان فسادات پر قابو پا کر امن بحال کرے۔

Christian-Muslim-Fights-Pakistan

Christian-Muslim-Fights-Pakistan

کیا ایک لڑکی پر تشدد ہزاروں اموات سے بڑھ کر ہے ؟

عالمی میڈیا اور تمام ایسے لوگ جن کو طالبان کے خلاف زہر اگلنے کا موقع چاہیے ایک ایسی ویڈیو کو بھرپور انداز میں اچھال رہے ہیں جس میں ایک لڑکی کو طالبان کے ہاتھوں کوڑے مارتے ہوے دکھایا گیا ہے جبکہ آج کی ہی خبر میں امریکی طیاروں کے ڈارون حملے میں ۳۲ افراد کی جاں بحق ہونے کی بھی خبر ہے اور یہ آج کی بات نہیں ، مشرف دور حکومت سے اب تک ایسے لاتعداد حملے ہو چکے ہیں جن میں اموات کی تعداد ہزاروں میں ہو چکی ہے، وہ عالمی میڈیا اور ان پاکستانیوں کو نظر کیوں نہیں آتے جو اس واقع کو اچھال رہے ہیں

یہ ویڈیو سوات کی نہیں، طالبان کے نمائندے نے اس بات کی تردید کر دی ہے ،اور میرے خیال میں طالبان جو کرتے ہیں وہ قبول بھی کر لیتے ہیں، یہ طالبان اور اسلامی نظام سزا جو کہ کوڑے مارنا ہے کو مغرب اور دنیا میں بدنام کرنے کی سازش ہے گزارش ہے کہ یہ خبر بھی ملاحظہ فرما لیں جو اردو پوئنٹ پر آج چھپی ہے

گزشتہ روز جاری ہونے والی ویڈیو سوات کے طالبان کی نہیں، حاجی مسلم خان

سوات(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔4اپریل۔2009ء)تحریک طالبان سوات کے ترجمان حاجی مسلم خان نے کہا ہے کہ گزشتہ روز جاری ہونے والی ویڈیو سوات کے طالبان کی نہیں ہے ، بلکہ جعلی ویڈیو دکھا کر سوات کے طالبان کو بدنام کرنے ا ور امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی سازش کی گئی ہے ۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے ایک دوسرے واقعہ میں خاتون کو سزا دینے والے چار نو عمر لڑکوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا،اور کہا کہ چار باغ کے علاقے ۔ دکوڑک۔ میں خاتون کو ان لڑکوں نے کوڑے لگائے تھے ۔ادھرتحریک نفاذ شریعت محمدی کے ترجمان امیر عزت خان کے مطابق مولانا صوفی محمد نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے ، جو جلد تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی۔سوات میں گزشتہ روز جاری ہونے والی ویڈیو میں جس لڑکی کوکوڑے مارتے دکھایاگیا ہے ۔وہ تحصیل کبل کے علاقے کالا کلے کے رہائشی رحیم گل کی بیٹی چاند بی بی ہے ۔ جس کو چار ماہ قبل مقامی طالبان نے مبینہ طور پر بدکاری کے الزام میں تیس کوڑوں کی سزا دی تھی۔اس کے ساتھ عدالت خان نامی لڑکے کو بھی تیس کوڑے لگائے گئے تھے ۔جس کے بعدمقامی طالبان نے دونوں کانکاح پڑھوادیا تھا۔

 

اس کے علاوہ اجمل صاحب کے بلاگ پر اس سلسلے میں کچھ اور مواد بھی موجود ہے وہ بھی ملاحظہ کر لیں، اور مجھے یہ بھی بتا دیں کہ کیا ایک لڑکی کو سزا دینا یا اگر آپ اسے تشدد بھی سمجھتے ہیں تو کیا وہ ان سب اموات سے بڑھ کر ہے جو امریکہ کے ہاتھوں مسلمانوں کی ہو رہی ہیں، اور جو تشدد پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی پر ہوا جس کی کوئی ویڈیو بھی نہیں جاری کی گئی وہ اس تشدد سے بڑھ کر ہے، تو پھر آپ جا کر امریکہ کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے، امریکہ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اخلاقی اقدار کیا ہیں

چند مشہور و معروف لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا

دنیا کے چند مشہور لوگ جو دوسرے مذاھب سے مشرف بہ اسلام ہوے - ان لوگوں نے گواھی دی ک اللہ کے سوا کوئی معبود نہں اور محمد عربی   صلی علی والہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں

میلکوم ایکس – الحاج ملک الشہباز 1964

میشل وولف

محمد علی باکسر – کیشیس کلے 1965

کریم عبد الجبار – فردیند لیوس 1971

یوسف اسلام – کیٹ سٹیونز1973 

محمد مرمدکی پکٹھل – ولیم پکٹھل 1971

ارٹ بلیکی – عبد اللہ ابن بھینہ

ملکہ نور – نور الحسین 1978

جان کولٹرین

میٹ فرینکلین – میتھیو سعد محمد

دیوائٹ بریکسٹون – دیوائٹ محمد کاوی

ایڈی گریگوری – ایڈی مصطفی

مصطفی ہمشو

آمنہ اسلمی

پامیلا ٹیلور

میمہ ابو جمال 1982

یونی رڈلی

جرمین جیکسن – مائکل جیکسن کا بھائی

تفاصیل اس ویڈیو میں دیکھیں -پس پردہ موسیقی میں سمی یوسف قصیدہ برد شریف پڑھ رہے ہیں

یہ ان ھزاروں میں سے کچھ لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کی روشنی کو اپنے سینے سے لگا لیا

اسلام امریکہ میں سب سے تیزی سے مقبولیت پانے والا واحد مذھب ہے، ایک ایسا ستون جو سچائی اور بھلائی کی عمارت کھڑی کیے ہوے ہے

سب خواتین و حضرات ایک بار درود شریف پڑھیں


کوئی بھی مسلمان جب درود شریف پڑھتا ہے تو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی علی والہ وسلم خود وہ درود سنتے اور قبول فرماتے ہیں اس لیے سب خواتین و حضرات  سے گزارش ہے کہ ایک درود شریف آپ  صلی علی والہ وسلم کی خدمت میں پیش کریں

 

اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی اِبراھیم وعلٰی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید ہ

اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی اِبراھیم وعلٰی آل اِبراھیم انک حمید مجید ہ

Mohammad (PBUH), the greatest personality of mankind

 

Muhammad ibn ‘Abdullāh’ is the central human figure of the religion of Islam and is regarded by Muslims as a messenger and prophet of God ( الله‎ : Allāh), the last and the greatest law-bearer in a series of prophets of Islam. Muslims consider him the restorer of the uncorrupted original monotheistic faith (islām) of Adam, Abraham, Moses, Noah, Jesus and other prophets of Islam. He was also active as a diplomat, merchant, philosopher, orator, legislator, reformer, military general, and, according to Muslim belief, an agent of divine action.

Born in 570 CE in the Arabian city of Mecca, he was orphaned at a young age and brought up under the care of his uncle. He later worked mostly as a merchant, as well as a shepherd, and was first married by age 25. Discontented with life in Mecca, he retreated to a cave in the surrounding mountains for meditation and reflection. According to Islamic beliefs it was here, at age 40, in the month of Ramadan, where he received his first revelation from God. Three years after this event Muhammad started preaching these revelations publicly, proclaiming that “God is One”, that complete “surrender” to Him (lit. islām) is the only way acceptable to God, and that he himself was a prophet and messenger of God, in the same vein as other Islamic prophets.

Read the rest of this entry »

PIG FAT By Dr. M. Amjad Khan

(Dear Readers, don't only rely on the article. Please check the comments where very important 
information is provided by some nice people, and Allah knows the best)

In nearly all the western countries including Europe, the PRIMARY choice for meat is PIG. There are a lot of farms in these countries to breed this animal. In France alone, Pig Farms account for more than 42,000. PIGS have the highest quantity of FAT in their body than any other animal. But Europeans and Americans try to avoid fats.

Thus, where does the FAT from these PIGS go? All pigs are cut inslaughter houses under the control of the department of food and it was the headache of the department of food to dispose of the fat removed from these pigs. Formally, it was burnt (about 60 years ago). Then they thought of utilizing it. First, they experimented it in the making of SOAPS and it worked.

Read the rest of this entry »

Happy Ending of Ramadan – Eid Mubarak

Happy Ending of Ramadan – Eid Mubarak

Alhamdulillah Ramadan has come to a happy and peaceful ending in Saudi Arabia and other Gulf Countries and Eid-ul-Fitar is just next morning on Tuesday, 30th September 2008.

We all muslims are happy after the tired schedule of Ramadan, because mostly in work places you have to go in two shifts however no doubt Ramadan brought endless blessings for us and a peaceful night Lailt-ul-Qadar.

Tomorrow morning we will get up early to join the Eid prayer, in Saudi Arabia I didn’t find a big size mosque for eid prayer, normally what they do is, organize the prayer in a big ground, where they place carpets for prayer.

In Pakistan my parents, brothers will celebrate eid with-in next few days. Off course I’ll miss all of them. It is very hard to stay in abroad.

Whatever, thanks to Allah who gave us a nice life and blessings and wisdom and given us chances to celebrate our time. :-)

The weight of Imaan

Allah (swt) says in the Qur’an:

Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers – never  would the [whole] capacity of the earth in gold be accepted from one of  them if he would [seek to] ransom himself with it. For those there will be  a painful punishment, and they will have no helpers. [Ale Imran: 91]

The word used for the capacity of the earth in this ayah is Mil al-Ard.
Mil‘ is used for the quantity that a vessel holds when it is filled; hence Mil al Ard refers to the quantity/volume/mass/fill of the earth.

Those who die while they are disbelievers, shall have no good deed ever accepted from them, even if they spent the earth’s fill of gold as ransom. How much gold would that amount to? The earth’s fill.

Volume of the earth:

1,083,206,246,123,080,894,852 m3

Read the rest of this entry »