کچھ ہلکا پھلکا
October 12, 2009 at 8:14 pm (Entertainment)
Tags: begging, Cricket, Friends of Pakistan, India, loan, Pakistan, PPP, Taliban, Terrorist, فرینڈز آف پاکستان, قرضے, لشکر طیبہ, کیری لوگر, کرکٹ, کشکول, پیپلز پارٹی, پاکستان, پاکستانی عوام, Zardari, بھارت, دہشت گرد, ذرداری, طالبان
ہیلری کلنٹن کے اعترافات
August 17, 2009 at 6:39 pm (News, Regional)
Tags: India, Pakistan, Russia, Taliban, USA, ہیلری کلنٹن, پاکستان, جنگ, روس, طالبان
کس طرح امریکہ نے پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور پھر اسے تنہا چھوڑ دیا، یہ ویڈیو کلپ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن وہ کہانی بیان کر رہی ہیں جسے بہت سے تجزیہ نگار بیان کرتے ہیں مگر بہت سے پاکستانی اس پر یقین نہیں کرتے ، آج وہی کہانی امریکنوں نے خود بیان کر دی۔ایک بات تو ماننی پڑے گی، امریکی جو بھی کام کرتے ہیں دس پندرہ سالوں بعد وہ حقیقت عوام کے سامنے لے آتے ہیں، جبکہ پاکستان میں تو ایسے ایسے واقعات پر ابھی پردہ پڑا ہے جو عوام کو معلوم ہو جائے تو وہ ماتم کرنے لگ جائیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں ایک اور خبر بھی پڑھی جس میں ہیلری کلنٹن صاحبہ اس بات کو تسلیم کر رہی ہیں کہ ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے فسادات دراصل امریکہ کی مدد سے ہوے۔ اب انتظار ہے اس دن کا، جب یہ سچ بھی زبان پر آئے کہ اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ پاکستان کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنا چاہتا ہے۔
سازشوں کے جال
August 11, 2009 at 12:16 pm (Features)
Tags: Conspiracy, Enemy, India, Islam, muslim, Regional, Taliban, Urdu, مسلمان, معاشرہ, پاکستان, اردو, اسلام, اشیا کی مصنوعی قلت, بیرونی سازشیں, بھارت, بجلی, دہشت گردی, داخلی معاملات میں مداخلت, دشمنی, سازشوں کے جال, سازشیں, طالبان
فرض کریں آپ کچھ لوگوں کے ساتھ ایک راستے پر چل رہے ہیں، آپ کے دائیں بائیں دو تین منچلے بھی محو سفر ہیں،ابھی سفر کی ابتدا ہی ہوتی ہےکہ کچھ دیر بعد ایک منچلا اچانک آپ کے پیچھے آ کر آپ کی ٹانگ پر ٹھوکر مارتا ہے، آپ لڑکھڑاتے ہیں، گرنے لگتے ہیں پھر سنبھل جاتے ہیں، مگر جب اپنے پیچھےمڑکر دیکھتے ہیں تو اتنی دیر میں وہ منچلا اپنی سابقہ جگہ پر پہنچ چکا ہوتا ہے اور ویسے ہی چلنا جاری رکھتا ہے ، وہ یوں ظاہر کرتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، آپ حیرانی سے دوسرے منچلوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کے تاثرات بھی ایسے ہی پاتے ہیں، آپ ان کی آنکھوں میں اپنے لیے حمایت تلاش کرتے ہیں تو آپ کو ان کی آنکھیں بنا تاثر نظرآتی ہیں، آپ تکلیف کے باوجود پھر چلنا شروع کر دیتے ہیں، تھوڑی ہی دیر اور گزرتی ہے تو دوسرا منچلا آپ کی دوسری طرف آ کرآپ کی دوسری ٹانگ پرپیچھے سے ٹھوکر مارتا ہے، آپ درد کی شدت سے دوہرے ہوتے ہیں ،توازن کھودیتے ہیں، گر پڑتے ہیں، پھر اٹھ کر پیچھے دیکھتے ہیں تو اتنی دیر میں دوسرا منچلا بھی اپنی پہلی حالت میں واپس پہنچ کرچل رہا ہوتا ہے، آپ ایک بار پھر مدد کے لیے دوسرے منچلوں کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتے ہیں۔ آپ کے اندر شدید غصہ اٹھتا ہے لیکن ایک بار پھرآپ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔تھوڑی ہی سفر اور کٹتا ہے کہ تیسرا منچلا وہی حرکت کرتا ہے، تو رد عمل میں آپ خاموش نہیں رہ پاتے اور غصے سے پکارتے ہیں ،اوئے یہ تم کیا کر رہے ہو۔ اس پر تینوں منچلے ایک ساتھ ہو کر سختی سے آپ سے مخاطب ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے اوئے کا لفظ کیوں استعمال کیا، آپ بدتمیز ہیں، ہم آپ کے ساتھ یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے، آپ اپنا ردعمل فورا درست کریں ورنہ ہم آپ کا بائیکاٹ کر دیں گے اور دوسرے ہجوم کو بھی آپ سے تعلق توڑنے پر مجبور کر دیں گے، جب آپ کچھ دور گزرنے والے بقیہ ہجوم کی طرف دیکھتے ہیں تو اسکا ردعمل بھی منچلوں سے مختلف نہیں ہوتا۔ آپ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ سوچتے ہیں کہ یہ سب میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔






