Social Media’s Protest against Race2 Movie Poster

Social Media Protest against Race2 Movie Poster

Social Media Protest against Race2 Movie Poster

Social Media is so angry about using Quranic Verse in Indian Movie Race2 ‘s poster. While seeing multiple posters I found that actually the Poster designer has used Any Mosque’s picture as a background which has Islamic Calligraphy and Quran Verses on its walls decoration. A lot of people on Pakistani Social Media scene think that putting Quran verse beside a partially nude model is blasphemy (of Quranic Verse) so they are protesting to ban Race2 Movie and its publicity.

I don’t know a Mosque’s background was used in the movie poster intentionally or unintentionally, is that planned or a small mistake of Graphic Designer and I don’t even know how Muslims should react on this.

However such examples are commonly found in our society. Another example of such an act is; Quran Verses are printed occasionally in Pakistani newspapers and pictures of many actress/models are printed either on the same page or another fold of the newspaper. After expiration these newspapers are used for serving Snacks and Samosas country-wide. These pieces of newspapers are thrown away into streets under people’s feet or kept in-between bricks of building walls. Which is also an insult to Quran. Then why don’t we raise objections on Newspapers + Our Society for blasphemy.

Few years back, I have seen a TV report on Torn papers from Quran found in mud of Lahore canal and only one man from society is gathering these papers with Quran verse and handling them with respect.

One friend of mine Bilal Khan at Social Media has a different opinion, “Social media raises such posts only to get more Likes, more visitors and more attention, nothing else”. Another friend Abbas Bashir said that “Protest is our right and we must do it when somebody will do the blasphemy act, Protest is the right approach to stop such acts in future”.

Mehran Fida, another buddy added into conversation “Agree with yasir bhai….Some times a shared SERVER company keep both porn and Islamic sites and contents together ……lets not stick on these things make ur self according to Islam …act on Islamic golden rules…..make ur self powerful and then go for revenge”

Famous TV Actor Asad Malik, who also like to join such debates has a unique opinion. “As for me as a Muslim, verses of The Gita are only words, in the same way Quran Verses in Islamic Calligraphy is only a decoration for non-Muslims. How can someone declare it a blasphemy act ? It is us who do blasphemy acts regularly in our daily life. Even after understanding teaching of Quran, We keep repeating actions which are forbidden in Islam.”

He said,

“Does it really matter at all yasir ??? Meray liye geeta ke ashlok sirf aik “likhaayi” hain, so un logon ke liye bhi ye aik sajaawat ki cheez hai…

Iss main aayat ki bay hurmatee kesay ho gaee???

Tauheen to me karta hoon in aayaat ki dailay basis par, jo samajh kar bhi wohi karta chalaa jaata hoon jis se ye aayaat rok rahi hain”

The purpose of writing this post is how long we keep protesting against such small issues, such protests are just like hurting ourselves, hurting our society, hurting our country, Such protests cannot stop negative people to repeat such actions and destroying world peace and relations between Muslims and non-Muslims. Instead of protesting we should develop a clear policy country-wide or world-wide upon which the whole world agrees. It could be a mutual agreement between Muslims and non-Muslims. “We will respect your (non-Muslims) believes and you will respect ours”

Political platform at a Global level could be a right place for it, not our streets and parks.

No offence to anyone.

Posted in Islam | Tagged , , , , , , , , , , , , , | Leave a comment

پاکستانیوں کے نظریاتی کمزوری اور نااتفاقی

محمد علی جناح نے جس ایک مضبوط نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا تھا اور قوم کو ایک نظریے پر اکٹھا کیا تھا آج وہی قوم نظریاتی طور پر شدید ٹوٹ پھوٹ اور اختلافات کا شکار بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ نا اہل لوگوں کو اس قوم پر حکمرانی کا موقع ملتا ہے، نہ صرف موقع بلکہ نا اہل حکومت چلتی بھی رہتی ہے، پاکستان کے بڑھتے ہوے مسائل کا سبب جہاں حکمران ہیں وہیں عوام بھی برابر ذمہ دار ہے، نظریاتی اختلاف، نفرتیں اور اتفاق رائے کی کمی جہاں نااہل لوگوں کو مسند اقتدار پر قبضے کا موقع فراہم کرتی ہے وہیں ہر شعبے، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی، دریائوں کے پانی کی تقسیم اور انتظامی امور کی پسماندگی کا باعث بھی بنتی ہے، ہمارے ملک کے یہ سب شعبے اسی لیے ترقی نہیں کر پائے کیوں کہ ہماری قوم نظریاتی طور پر کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پر آپ پاکستانی معاشرے کا کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں آپ کو اختلافات کی ایک جنگ ملے گی۔ سیاست ، مذہب، ادب، حکومتی ادارے، عدالتیں، وکلا، صحافی، ٹی وی چینلز، کسی بھی شعبے میں آپ کو نظریے کی بنیاد پر یک جہتی نظر نہیں آئے گی۔ اسی نا اتفاقی کا فائدہ ہر دشمن اٹھا رہا ہے۔ یہ میری ایک سوچ ہے، سوشل سٹڈیز کے ماہرین اس پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔

Posted in Pakistani Politics, Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , | Leave a comment

پاکستانیوں کو نظام دیں، بھیک نہیں

zardari-scheme

صدر زرداری گزارا الاونس سکیم کا آغاز کرتے ہوے


ابھی ابھی فیس بک پر ایک خبر دیکھی، پاکستان کے صدر زرداری نے گزارہ الائونس سکیم  کا افتتاح کیا ہے جس کا مقصد غریب عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہے، ادھر شہباز شریف جو کہ پنجاب کے وزیر اعلی اور پتہ نہیں کیا کیا ہیں  طلبا کو سولر لیمپ دے رہے ہیں، اس سے پہلے پی پی پی بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت عوام میں پیسے تقسیم کرتی رہی اورپنجاب میں ن لیگ سستی روٹی سکیم کے تحت ایک روپے کی روٹی دیتی رہی جو کہ کچھ عرصہ بعد ایک فلاپ سکیم ثابت ہوئی، میری پاکستانی حکمرانوں سے گزارش ہے کہ پاکستانی عوام کو پیسوں اور چیزوں کی مدد دے دے کر بھکاری نہ بنائیں، ان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دیں، ان کو بھیک نہ دیں، ان کو بہتر نظام دیں جہاں ہر کسی کو نوکری ملے، انڈسٹری ترقی کرے، علم و ہنر کی قدر ہو، ہر کوئی اپنی محنت کے پیسے سے خود سولر لیمپ اور لیپ ٹاپ خرید سکے، پاکستانی سیاستدانوں کا ہمیشہ سے یہی شیوا ہے کہ وہ عوام کو خیرات اور بھیک دیتے ہیں کبھی بھی انہوں نے نظام کو جڑ سے بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | 3 Comments

مسلم لیگ ن بمقابلہ تحریک انصاف – ایک سیاسی تجزیہ

 nawaz-sharif

ملک ارشد اعوان جو کہ فیس بک پر میرے احباب میں سے ایک ہیں، ملکی سیاست پر کچھ ایسا نقطہ نظر رکھتے ہیں  انہوں نے پارٹی کی مقبولیت یا صلاحیت سے ان کو نمبرشمار بھی دے دیا ہے، ان کے مطابق ن لیگ پہلے، پی پی پی دوسرے اور فضل الرحمن کی پارٹی تیسرے نمبر پر رہے گی، پہلے اسے پڑھیے پھر نیچے میں اپنا نقطہ نظر پیش کروں گا۔

جمہوریت بدنام ہوئی زارداری تیرے لیے

اج اگر پاکستان میں جمہوریت قائم و دائم ہے تو اس کے پیچھے پاکستان مسلم لیگ ن کے سربرا ہ نواز شریف کا بھی بہت بڑا کردار ہے گو کہ اس راہ میں ان پر نوراکشتی فرینڈلی اپوزیشن اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگے مگر وہ ثابت قدم رہے اور کسی تنقید کی پرواہ نہیں کی وہ دراصل جمہوریت کو تو سپورٹ کر ہی رہے تھے مگر فائدہ زرداری اٹھاتا رہا نواز شریف نے ایسا کیوں کیا اس کی کئ وجوہات ہو سکتی ہیں مگر جو سب سے بڑی وجہ سمجھ میں اتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری ادروں کے ساتھ جو سلوک ملٹری ڈکٹیٹر کرتے رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے اور نواز شریف نے جلاوطنی سے بہت کچھ سیکھا تھا اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو پھر جمہوریت کے طعنے سہنہ پڑتے اور ان کو دوبارملٹری کے اتحادی کا طعنہ دیا جاتا بہر حال ائی ار ائی کے تازہ سروے نے لوگوں نے ان کےاس موقف پر مہر تصدیق ثب کردی ہے اب وہ کہہ سکتے ہیں عمران تو حمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی خاطر ان پر تنقعید کرتا تھا. جس کے موقف کو لوگ اب اہستہ اہستہ مسترد کرنے لگے ہیں وہ سمجھتے ہیں عمران دراصل یہ ساری گیم زرداری کو فایدہ پہچحانے کی خاطر کر رہاتھا تاکہ زرداری اگلے پانچ سال بھی حکومت میں رہ سکے ۔ بہرحال اب اس بات میں ابہام اب ختم ہو گیا ہے کہ اگر زرداری کو اگلے پانچ حکومت میں انے روکنا ہے تو نوازشریف کا ساتھ دینا ہوگا یعنی لوگ اب عمران کے بجاے ن لیگ کو زرداری کا اصل حریف سمجھتے ہیں اسکی کئ وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ عمران کی دوغلی سیاست ہے اور اس کے بعد نوازشریف کی زات پر اٹیک کرنا اور بد تمیزی سے لوگوں کے نام لینا جیسے ڈینگی برادران گنجے وغیرہ لوگ ایسی جیزیں پسند نہیں کرتے الٹا اگلے بندے سے ہمدردی کے جزبات میں اضافہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے تحریک انصاف کے کئ سپورٹر نے ن لیگ کی حمایت کا فیصلہ کیا اور عمران کی سیاست سے نفرت کا اظہار کیا ہے عمران کو اب ان سروے کے مندرجات کو غور سے پڑھ کر ایک ایک چیز کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہے اور ایسے لوگوں کو پارٹی پالیسی سے دور رکھنا چاہیے جو اس کی پالیسوں کو الٹا کر کے لاگو کرتے ہیں عمران کو چاہے کہ وہ نواز شریف پر تنقید کے بجاے زرداری کو اپنے نشانے پر رکھ لے تو پھر کچھ بہتری اسکتی ہے اور اگر اپ پاکستان کی سیاست کو سمجھتے ہوں تو اپ کو ایک بار پھر بتا دوں کہ اگلے الیکشن میں عمران کی تحریک انصاف شاید 2سے4 قومی کی سیٹیں لے سکے وہ بھی سرادار آصف احمد علی کے جیسے لوگوں کی صورت میں اس وقت تحریک انصاف کے پاس صرف 10کےقریب الیکٹ ایبلز ہیں ان میں شاہ محمود قریشی اور عمران تو اپنی سیٹیں ہار سکتے ہیں اگر کسی کو شک ہو تو ان کے حلقوں میں جا کر لوگوں سے پوچھ سکتا ہے وہ اس دفعہ ن لیگ پورے ملک سے اکثریت لیکر اقتدار میں ا سکتی ہے اور اپوزیشن پھر پی پی کے پاس اجاے گی اور تیسرا نمبر مولوی فضل الرحمان کا ہو گا تحریک انصاف تو ق لیگ سے پہلے ہی ہو سکتی ہے۔

ملک ارشد اعوان

imran-khan-pti (8)

پیسے کی طاقت یا اللہ کی طاقت

ہم زرداری پر بات نہیں کر سکتے،  کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، سبھی جانتے ہیں کہ وہ کس طرح منتخب ہوا، اور کس طرح ہر کسی کو کرپشن کی کھلی چھوٹ دے کر، اور مجرمین کے سیاسی مقدمات ختم کرا کر اس نے اپنی حکومت جاری رکھی، وہ عوام دوستی کا دعوی کرتا ہی نہیں، اس کی تقریر کا موضوع بھی شہید بی بی، پارٹی جیالے اور مظلوم سندھی وڈیرے ہی ہوتے ہیں، تاہم نواز شریف جسے عوام نے اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے منتخب کیا اس نے جمہوریت بچاتے بچاتے عوام کا کباڑا کر دیا، نواز نے زرداری کو جمہوریت بچانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی باری کے لیے سپورٹ کیا، نواز شریف کی طاقت ، پیسے سے خریدے جانے والے وہ افراد ہیں جو اپنے علاقے میں اثر و رسوخ کی وجہ سے ہمیشہ الیکشن جیت جاتے ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا، پیسے کے لیے یہ لوگ کسی بھی وقت بک جاتے ہیں، بلاشبہ پاکستانی ووٹر کی ذہنیت کے مطابق ایسے لوگ ہی جیتیں گے، لیکن ان کے جیتنے سے ان کے حلقے کے لوگوں کو کبھی فائدہ نہیں ہو گا، بلکہ یہ لوگ لٹیرے ہی رہیں گے، اور مستقبل میں یہ نواز شریف کو بھی چھوڑ کر جا سکتے ہیں، نواز شریف کو انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے ہر وقت ہڈی کھلاتے رہنا پڑے گا، ان کی کرپشن کو اگنور کر کے مزید کرپشن کے لیے فری ہینڈ دینا پڑے گا، نتیجہ کیا ہو گا ؟ مزید کرپشن، مزید تاریکی، ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف کی مقبولیت پاکستان میں دس فیصد سے زیادہ نہیں، نواز شریف ان خریدے ہوے اثر و رسوخ والے بندوں کے بغیر کچھ بھی نہیں، انہیں لوگوں کا زیادہ ریٹ لگا کر کل پی پی پی بھی انہیں خرید سکتی ہے، ایم کیو ایم بھی خرید سکتی ہے، نواز شریف پیسے سے خریدے ہوے سارے ممبر ایک طرف رکھ دے تو وہ اس قابل بھی نہیں رہ جائے گا کہ قومی اسمبلی کی پانچ سیٹیں جیت سکے۔

حقیقت پسندی یہی ہے ، نواز شریف کے لیے بھی اور عمران خان کے لیے بھی، اس ملک کے باشندے سوچ سمجھ کر ووٹ نہیں دیتے بلکہ اپنے اپنے علاقے کے طاقتور افراد کو ووٹ دیتے ہیں، جن سے یہ چند چھوٹے چھوٹے فائدے حاصل کر سکیں، مثلا اپنا بندہ پولیس یا کسی دوسرے سرکاری محکمے میں لگوا لیا، کسی ناجائز قبضے کو جائز میں بدل لیا، اور اپنے کم میرٹ والے بیٹے کو اچھے کالج میں داخل کروا لیا، ان چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لیے عوام اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں، اجتماعی فائدے کی بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں، نواز شریف پاکستانی ووٹر کی ذہنیت سمجھ چکا ہے اس لیے وہ دھڑا دھڑ طاقتور اور بارسوخ الیکٹ ایبل افراد خرید رہا ہے، عمران خان بے ایمانی اور دھوکے سے شدید نفرت کرتا ہے، وہ سیدھے رستے پر چل کر کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے پیسے کی طاقت پر یقین کی بجائے اللہ کی طاقت پر یقین ہے، اور اب اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس نے پاکستانی قوم کے لیے کیا منتخب کر رکھا ہے ، بہتری یا وہی پرانا طرز زندگی، اس کا انتخاب عوام نے خود کرنا ہے، ایک اصول پسند اور سچا انسان، ایک بے اصول شیر سے کئی گنا طاقتور ہوتا ہے۔

یاسر عمران مرزا

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , | Leave a comment

لڑکیاں – اردو ادب سے لی گئی ایک تحریر

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﻮﺍ ۔۔۔ ﺩﻭ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺘﻮﺡ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺯﺍﺭ ﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﻻﺗﮯ ﮨﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﻧﺎ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺠﻦ ﮐﺎ ﮨُﮉ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﻏﺶ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮐﺎﺭﺑﻮﺭﯾﮍ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﮉﯼ ﺍﯾﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺳﭙﯿﻠﻨﮓ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ! ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﺎ ﭨﺎﺋﺮ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔؟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ! ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ !

ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺲِ ﻣﺰﺍﺡ ﮐﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﻨﺎﻧﻮﯾﮟ ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻄﯿﻔﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟُﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﺍﺡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ﺛﻤﯿﻨﮧ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮦ ﮦ ﮦ ﮦ ﮦ ﮦ ! ﻣﯿﮟ ﺗﺎﯾﺎ ﺟﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ) ﺍﺏ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺛﻤﯿﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ( ﺟﻮﻧﮩﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﯾﮏ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮐﺘﺎ ﺁﮔﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ۔۔۔ ﮨﺎﮨﺎﮨﺎ ۔۔۔ ﮨﺎﮨﺎﮨﺎ ۔۔۔ ! ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺣﺎﺿﺮ ﻧﺎﻇﺮ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟

ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺸﻐﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻟﮩﻦ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺤﺾ ” ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﮨﯿﮟ ” ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺲ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﮔﮭﺮ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﭘﮭﺮ ﭘﮭﺮﺍ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺷﺘﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ” ﭨﻮﺭ ” ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ۔۔۔۔ !

ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻂ ﭘﺮﻭﭘﯿﮕﻨﮉﺍ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ ! ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺘﻔﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﺤﺾ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﻮ ﭼﭗ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﮈﯾﮍﮪ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺑﻮﻝ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻮ ﭼُﭗ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺩﻭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻮﻝ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑُﺮﺍﺋﯽ ﮨﮯ، ﺑﮭﻼ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ؟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﭼﭗ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣِﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻋﻘﻞ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔ !

ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺭﻭ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩُﮐﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ، ﺩﺭﺍﺻﻞ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮑﺴﺮﺳﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﮐﮫ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﻧﮑﺎﻝ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩِﻝ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﻠﯽ ﭼﻨﮕﯽ۔۔۔ ! ﺟﯿﺴﮯ ﮐُﭽﮫ ﮨُﻮﺍ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺟﺒﮑﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﺑﯿﭽﺎﺭﮮ ﻏﻢ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﻠﮕﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯽ

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , | 1 Comment

حرمت والے مقامات کی تعظیم

حرم مکہ میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد جب میں واپسی کے لیے باہر آنے لگا تو اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری پیٹھ کعبہ کی طرف ہے اور میں باہر نکل رہا ہوں، پہلے تو مجھے لگا کہ کہیں یہ گستاخی تو نہیں، پھر میں نے دیکھا کے بقیہ سبھی لوگ بھی کعبہ کی مخالف سمت میں منہ کر کے ہی باہر جا رہے ہیں، اور اس سے قبل ہر دفعہ ہم اسی ڈائریکشن میں باہر نکلتے ہیں، پھر مجھے انٹرنیٹ کی ایک ویڈیو یاد آئی جس میں کسی پاکستانی علاقے کے کئی لوگ گھٹنوں کے بل پیچھے کو چلتے ہوے ایک پیر کے مزار سے باہر نکل رہے ہیں، ان کا منہ بدستور مزار کی طرف ہی رہتا ہے اور ان کے نزدیک اگر مزار کی طرف پیٹھ ہو گئی تو یہ مزار کی بے حرمتی ہو گی، پھر میں سوچنے لگ گیا اگر اللہ تعالی نے اپنے گھر کی تعظیم کے لیے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تو پاکستان میں ایسا کونسا مزار پیدا ہو گیا جس کی حرمت نعوذ بااللہ ، اللہ کے گھر سے بھی زیادہ ہے ؟

کئی مزاروں پر جاہلانہ عمل ہو رہے ہیں جن کو دین کے لبادے میں لپیٹ کر کچھ لوگوں نے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے

میں نے اپنے علاقے سے قریب ایک گائوں میں بھی یہ منظر دیکھا ہے کہ لوگ مزار پر موجود قبر کے پتھروں کو ہاتھ لگا کر برکت حاصل کر رہے ہیں، پتھروں کو ہونٹوں سے لگا رہے ہیں ،آنکھوں سے لگا رہے ہیں، اور بعد میں وہاں موجود گدی نشین کو سو کا نوٹ دیتے ہیں جو وہ اپنے ٹاٹ کے نیچے رکھ لیتا ہے، اسی طرح شہدولہ پیر کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں لوگ اپنی اولادوں کو دان کر لیتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ یہ اولاد اللہ تعالی نے نہیں دی بلکہ اس میں شہدولہ پیر کا کوئی کمال ہے، اور دربار پر ان بچوں سے بھیک منگوانے کا کام لیا جاتا ہے، یہ سب اسی لیے ہوا، کہ ایک یا دو بندوں کی عقیدت کے لیے دین میں ایک اضافہ ایجاد کیا گیا اور رفتہ رفتہ یہ اضافہ ایک انمٹ روایت میں بدل گیا، سوال تو یہ ہے کہ ان نقلی پیروں اور اللہ تعالی کے نیک برگزیدہ بندوں میں فرق کیسے کیا جائے اور یہ فرق عوام کو کس طرح بتایا جائے ؟؟؟

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندہ گر کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

اقبال

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , , , , , , | Leave a comment

Is Facebook a new Internet ?

When Internet was introduced in past, it was used for 1. Chatting and voice chatting with MSN and Yahoo messenger, 2. Sending/Receiving email on Yahoo or Hotmail  3. Reading news on news portals. Now we can see that all these features are available in a single thing called Facebook. We can send messages, do chats and see latest updates on news, so can we say that Facebook itself is a unique entity and it is a newer version of internet, can we call it Internet-2 ????

 

Posted in Technology | Tagged , , , , , , , , , , , | Leave a comment

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اقتباس

قافلہ ابھی شہر سے تھوڑا پیچھے تھا کہ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اونٹوں پر لدا ہوا سامان تجارت جو کہ کھجوروں اور اناج پر مشتمل تھا بھیگنے لگا . بارش سے محفوظ جگہ پر پہنچتے پہنچتے آدھا مال بھیگ چکا تھا. منڈی میں پہنچ کر تاجروں نے مال اتارنا شروع کیا ان تاجروں میں ایک بہت معصوم چہرے والا انتہائی خوش شکل نوجوان تاجر بھی موجود تھا. اس نوجوان تاجر نے جب اپنا مال اتارا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا. خشک کھجوریں اور خشک اناج ایک طرف رکھ دیا اور بھیگی کھجوریں اور اناج علیحدہ کر کے رکھ دیا. جب خرید و فروخت شروع ہوئی تو نوجوان تاجر کے پاس جو خریدار آتا وہ اسے بھیگے مال کا بھاؤ کم بتاتے جب کہ خشک مال کا بھاؤ پورا بتاتے گاھک پوچھتا کہ ایک جیسے مال کا الگ الگ بھاؤ کیوں تو وہ بتاتے کہ مال بھیگنے سے اس کا وزن زیادہ ہوگیا ہے خشک ہونے کے بعد وزن کم ہوجائے گا یہ بددیانتی ہوتی . لوگوں کیلئے یہ نئی بات تھی تھوڑی ہی دیر میں پوری منڈی میں ان کی دیانتداری کا چرچا ہوگیا. لوگ جوق در جوق معصوم صورت والے تاجر کے گرد جمع ہونے لگے. اتنی چھوٹی سی بددیانتی ان کے لئے معمولی بات تھی لیکن جنہوں نے تاجدار انبیا علیہ السلام بننا تھا ان کے لئے یہ بات معمولی کیسے ہوسکتی تھی.

میں اپنے اردگرد لوٹ مار اور نفسا نفسی دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کیا ہم سب اسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جو اتنی معمولی سی بات کو بھی بددیانتی سمجھتے تھے . آج تو ہم خود وزن زیادہ کرنے کیلئے مال میں مٹی اور پتھر تک ملانے سے گریز نہیں کرتے . کس منہ سے قیامت کے دن ان کے حضور پیش ہونگے کیا کبھی سوچا ہم نے ؟

بشکریہ اردو نامہ

Posted in Urdu | Tagged , , , , , , , , | Leave a comment