محمد مبشر نذیر ایک خوفناک حادثے میں شدید زخمی


mubashir-nazir


محمد مبشر نذیر ایک اسلامی مصنف اور آن لائن اسلامک سٹڈیز پروگرام کے سربراہ ہیں۔ ایک طویل عرصے سے وہ لکھنے لکھانے کے ساتھ منسلک ہیں اور کامیابی سے دو عمدہ ویب سائٹس چلا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ملاقات کا تفصیلی احوال میں پہلے بھی اپنے بلاگ پر لکھ چکا ہوں۔

انیس دسمبر 2013 کو وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر سے کچھ ہی دور ایک میڈیکل سٹور سے کچھ دوائیاں لانے کے لیے نکلے، اگر چہ یہ ان کی روٹین کا حصہ نہیں تھا وہ باقاعدگی سے الاھلی کلب جدہ میں سکواش کھیلتے تھے تاہم اس شام انہوں نے سوچا کہ تھوڑی سی چہل قدمی بھی ہو جائے گی اور باہر کی ہوا بھی کھا لیں گے۔ وہ اپنی گھر سے چند ہی منٹوں کی مسافت پر سڑک کی ایک طرف اپنی اہلیہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے انہیں ٹکر مار کر سڑک پر اچھال دیا، اس زور دار ٹکر کے نیتجے میں وہ اچھل کر دور جا گرے جب کہ ان کی اہلیہ دوسری طرف جا گریں۔ گاڑی چلانے والا کوئی عرب جوان تھا جو ڈر کر یا اپنا جرم چھپانے کی خاطر موقع سے بھاگ نکلا۔ یہ سڑک چونکہ ایک ذیلی سڑک تھی چنانچہ یہاں عام راہ گیر یا دیگر گاڑیاں بہت کم تھیں۔

مبشر بھائی کی اہلیہ اس شدید ٹکر کے باوجود ہوش میں تھیں اور انہوں نے بچی کھچی توانائی جمع کر کے اپنے گھریلو ملازم کو فون پر کال کی اور حادثہ کے بارے میں اطلاع دی جو چند ہی منٹوں میں گاڑی بھگاتا جائے حادثہ پر پہنچ گیا

وہاں سے بذریعہ ایمبولینس دونوں زخمی افراد کو ایک قریبی ہسپتال، مستشفی جدعانی میں لایا گیا جو شارع امیر متعب پر واقع ہے۔ حادثہ کا وقت رات آٹھ بجے کا تھا اور ہسپتال پہنچتے پہنچتے تقریبا ساڑھے آٹھ بج گئے۔ مبشر نزیر کے سر میں اور ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئی تھیں جب کہ ان کی اہلیہ قدرے محفوظ رہیں جنہیں ایک مختصر سرجری کے بعد تین ماہ کے آرام کی تاکید کرتے ہوے ڈاکٹروں نے وارڈ میں منتقل کر دیا۔ تاہم ان کے لیے اب بھی چلنا پھرنا ممکن نہیں جب تک وہ تین ماہ تک ٹھیک نہیں ہو جاتیں۔

مبشر بھائی سر پر لگنے والے شدید چوٹوں کے باعث ہوش میں نہیں تھے جس پر انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا اور ڈاکٹر مسلسل ان کی ذہنی حالت کا جائزہ لیتے رہے ۔ لیکن صبح تک بھی ان کی دماغی حالت بہتر نہیں ہوئی جس پر ڈاکٹر نے کہا کہ ان کے بچنے کے چانس فقط 10 فیصد ہیں تاہم اگر ان کے دماغ کا آپریشن کیا جائے تو چانس 30 فیصد تک ہو سکتے ہیں لیکن ان کو ایک شیدد دماغی جھٹکا لگ چکا ہے اور ہو سکتا ہے ان کی یاداشت نہ کرے یا پھر جسم کا کوئی حصہ کام نہ کرے۔ بہر حال مبشر بھائی کے گھر والوں نے آپریشن کی اجازت دے دی جس کے بعد 20 دسمبر کو دن 2 بجے مبشر بھائی کا آپریشن شروع ہوا جو رات 8 بجے تک جاری رہا۔ جس کے بعد ڈاکٹروں نے پھر انہیں آئی سی یو میں ہی منتقل کیا۔

بعد ازاں ڈاکٹروں سے بات ہونے پر پتا چلا کہ وہ ایک ہفتے تک مبشر بھائی کے ہوش میں آنے کا انتظار کریں گے اور ضرورت پڑی تو پھر آپریشن کریں گے۔ اور ان کے گھر والے اپنے آپ کو کسی بھی ممکنہ صورت حال کے لیے تیار کر لیں۔ کیوں کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور مبشر بھائی کو دعائوں کی شدید ضرورت ہے۔ ایک معجزہ ہی انہیں عام زندگی کی طرف واپس لا سکتا ہے اور باری تعالی کے لیے کیا ممکن نہیں ہے۔ وہ ہر قسم کے معجزے کی قدرت رکھتا ہے۔

جو عرب جوان اس حادثہ کا ذمہ دار تھا اسے گھر پہنچنے پر اس کے والد نے لے جا کر پولیس کے حوالے کر دیا اور خود ہسپتال میں کافی دیر تک موجود رہا۔ پھر وہ اپنا نام پتہ اور تفاصیل بتا کر واپس چلا گیا۔

یہ سبھی باتیں مجھے کل ہسپتال میں رکنے کے دوران پتہ چلیں، جیسا کے وہاں موجود مبشر بھائی کے کولیگ اور قریبی دوست تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ کچھ باتیں میری اہلیہ کو مبشر بھائی کی اہلیہ سے بھی پتہ چلیں، حادثہ کی کچھ تفصیلات میں اختلاف بھی تھا جو کہ مبشر بھائی کی اہلیہ کے بیان کردہ واقعات اور باہر مردوں کی بیٹھک کے بیان کردہ واقعات میں تھا۔ لیکن سبھی باتیں بعد میں کلیئر ہو جائیں گی۔ سب سے اہم بات تو مبشر بھائی کی صحت اور تندرستی ہے۔ تمام قارئین سے التماس ہے کہ ہمارے عزیز دوست اور نیک صفت انسان مبشر نذیر کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالی ان کو جلد صحت عطا کرے آمین


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Urdu and tagged , , , , . Bookmark the permalink.

8 Responses to محمد مبشر نذیر ایک خوفناک حادثے میں شدید زخمی

  1. Yasir Imran says:

    Update: 21 Dec 2012 9:35 PM

    السلام علیکم
    میرے ایک دوست کے دوست جو ریڈیالوجسٹ ہیں یعنی
    An expert who employs the use of imaging to both diagnose and treat disease visualized within the human body
    انھوں نے ابھی مبشر اور بھابی دونوں کو وزٹ کیا تھا۔ سارے اسکیکنز کو انھوں نے خود دیکھا ہے۔ نیورو سرجن سے بات کی ہے اور پوری صورتحال کا خود جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مبشر کا اصل مرکزی دماغ الحمدللہ پوری طرح محفوظ ہے۔ یعنی سانس اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت محفوظ ہے۔ اگر کوئی کمپلیکیشن نہیں آتی ہے تو موجودہ اسکینز کے مطابق ان کی ریکوری کا امکان الحمد للہ ستر فیصد ہے۔ انھوں نے تفصیل تو بہت کچھ بتائی ہے مگر اس کا خلاصہ یہی ہے۔ اگلے تین چار دن اہم ہیں جن میں دعا کریں کہ کوئی کمپلیکیشن نہ آئے۔مثلاً دماغ میں بلیڈنگ نہ ہو، پریشر دوبارہ نہ پیدا ہوجائے وغیرہ۔ اس کے بعد انشا ءاللہ ریکوری شروع ہوجائے گی۔
    ریحان احمد یوسفی

  2. nadeem raza says:

    May Allah (SWT) bless him with complete health

    Nadeem

  3. اللہ پاک مبشر بھائی کو صحت کاملہ و عاجلہ عطاء فرمائے۔ اللہ پاک اپنی جوار رحمت سے ان کی زندگی میں برکت فرمائے۔ آمین ثم آمین

  4. Kamran Khan says:

    Allah Tala un ko Sahat e Kamla atafrmaye.

  5. Yasir Imran says:

    السلام علیکم
    کل جمعہ کی شام میں مبشر بھائی کی عیادت کے لیے ہسپتال گیا، وہاں علی سے ملاقات ہوئی جو مبشر بھائی کے لیے کام کرتا ہے، چونکہ مبشر بھائی کا کوئی قریبی عزیز یہاں موجود نہیں ہے اس لیے ساری بھاگ دوڑ علی ہی کر رہا ہے۔ وہ مبشر بھائی کی بیٹیوں کو گھر لے جاتا ہے اور صبح واپس لے آتا ہے۔ اور دیگر ضروریات زندگی، کھانا پینا وغیرہ بھی وہی لے آتا ہے۔میری اہلیہ کی ملاقات مبشر بھائی کی اہلیہ سے بھی ہوئی ، وہ اب کافی سنبھلی ہوئی تھیں اور ڈاکٹر نے انہیں ان کے خاوند کو آئی سی یو میں دیکھنے کی اجازت بھی دی ہوئی ہے۔ 6 بجے سے 7 بجے تک محدود پیمانے پر ملاقاتیوں کو آئی سی یو میں داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ چنانچہ میں بھی آئی سی یو میں گیا اور مبشر بھائی کی حالت کا جائزہ لیا۔ ایک اچھی خبر یہ کہی جا سکتی ہے کہ مبشر بھائی کے ہاتھ پیر اور آنکھوں میں واضح حرکت دیکھی جا سکتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ چند لمحوں بعد ہوش میں آنے والے ہیں تاہم دیگر لوگ جو وہاں موجود تھے ان کا کہنا ہے کہ مبشر بھائی اسی پوزیشن میں پچھلے چند روز سے ہیں۔ ایک اور واضح علامت یہ کہ شناسا چہروں کو دیکھنے کے بعد مبشر بھائی کی دھڑکن تیز ہونا اور جسم کی حرکت میں قدرے اضافہ ہونا بھی شامل ہیں۔ ان کی اہلیہ نے بھی یہ کنفرم کیا کہ پکارنے پر ان کے جسم کی حرکات میں شدت آتی ہے۔لیکن ابھی بھی وہ مکمل طور پر ہوش میں نہیں آ سکے۔ مبشر بھائی کا ایسا ریسپانس عیادت کرنے والوں کا ایک وہم ہے یا واقعی حقیقت یہ ڈاکٹر ہی کنفرم کر سکتا ہے۔
    والسلام

  6. Sarwat AJ says:

    اللہ انہیں صحت دے اور آپ کا شکریہ کہ آپ نے اُن کے حادثے کے متعلق بتا کر بہت سی دعائیں اُن تک پہنچائیں-

  7. Yasir Imran says:

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    ابھی پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے بھابھی یعنی مبشر بھائی کی اہلیہ کا فون آیا اور انہوں نے مبشر بھائی کے بارے میں ایک اچھی خبر سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ آج مبشر کو بغیر آکسیجن کے رکھا گیا اور انہوں نے سانس لی ہے۔ گوکہ سانس میں وہ روانی نہیں تھی البتہ وہ کوشش کررہے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں ہلکا پھلکا ہوش بھی آیا اور وہ نیم غنودگی کے عالم میں تھے اور کچھ بات چیت کرکےاپنی خیریت سے آگاہ بھی کیا۔ چونکہ ابھی وہ بے ہوشی کی دوا کے زیر اثر ہیں اس لئے وہ مکمل طور پر ہوش میں نہیں آئے ہیں۔ ان کے سر پر بندھی پٹی بھی اتر گئی ہے۔ ڈاکٹروں نے کافی امید دلائی ہے کہ وہ انشاءاللہ صحت یاب ہوجائیں گے۔
    ہمیں چاہئے کہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اتنے عرصے بعد ایک اچھی خبر سننے کو ملی ہے۔ الحمد للہ رب العٰلمین۔ ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بہت رحمان ، رحیم، شفیق اور مہربان ہیں ۔ البتہ ان کی کچھ حکمتیں ہوتی ہیں جنہیں وہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ بس ہمارا کام اللہ کی قضا پر رضا اختیار کرنا اور بھروسے ، امید اور اچھی توقعات وابستہ کرکے تنہا اسی کو پکارنا، اسی سے مدد مانگنا اور اسی کی جانب رجوع کرنا ہے۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ مبشر بھائی کے لئے دعا کرتے رہیں کیونکہ دعا بذات خود ایک بندگی کا اظہار ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے۔ آئیے ان الفاظ میں اللہ سے دعا کرتے ہیں:
    “بے شک شکر کا اصل سزاوار اللہ ہی ہے ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں،اسی پر ایمان لاتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کے شر سے اللہ ہی کی پناہ میں آتے ہیں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اسی کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ ”
    ایک صحابی کا اثر بھی دعا کے حوالے سے موجود ہے۔
    ” زید بن اسلم سے روایت ہے وہ کہتے تھے جو شخص دعا کرتا ہے تو اس کی دعا تین حال سے خالی نہیں ہوتی یا قبول ہو جاتی ہے یا رکھ لی جاتی ہے قیامت کے دن پر یا گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے ۔:(موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 453 حدیث مقطوع)
    چنانچہ آپ لوگ دعائیں جاری رکھئیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دوست، بھائی ، استاد اور مربی کو صحت کاملہ ، عاجلہ ، دائمہ ، مستمرہ عطا فرمائیں۔ آمین

    بشکریہ پروفیسر عقیل صاحب

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s