آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں – بنیاد پرست کے بلاگ سے اقتباس


اگر چہ میں ایک پاکستانی خاتون شرمین عبید چنائے کی ایک ڈاکومینٹری فلم کو آسکر ایوارڈ ملنے کے موضوع پر خود کچھ لکھنا چاہتا تھا تاہم بنیاد پرست نامی ایک بلاگ پر تحریر پڑھنے کے بعد مجھے یہی لگا کہ جو میں کہنا چاہ رہا ہوں وہی بات اس تحریر میں کہی گئی ہے۔ بنیاد پرست صاحب لکھتے ہیں۔

آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں
مصنف: بنیاد پرست
پچھلے دو ہفتوں سے ہر طرف ایک ہی شور سن رہے ہیں کہ ایک پاکستانی عورت نے آسکر ایوارڈ جیت کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا ہے، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آسکر ایوارڈ جیتنے پر شرمین عبید چنائے کو اس کارنامے کی وجہ سے سو ل ایوارڈ دینے کا کہا ہے، سارا میڈیا رٹے لگا رہا ہے کہ یہ اعزاز ہمارے ملک و قوم کے لئے ایک بہت ہی فخر کی بات ہے ، اخبارات میں رنگین سپلیمنٹس شائع ہورہے ہیں ، میگزین اس کی تصویریں اپنے فرنٹ پیج پر لگارہے کہ اس عورت نے اپنی محنت سے پاکستان کو ایک بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے.۔


ہم انگشت بدنداں ہے کہ یاالہی اس عورت نے آخر ایسا کیا ہمالیائی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے جسکی اتنی تعریف کی جارہی ہے ؟ کیا دنیا میں دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب گرانے سے بڑا ظلم عورتوں کے ساتھ کہیں نہیں ہوا اورکیا اس ظلم پر کوئی ڈاکومینڑی موجود نہیں۔۔؟ کیا اس موضوع پر شرمین سے بڑا کارنامہ کوئی اور فلمساز آج تک نہیں سرانجام دے سکا۔ ۔ ؟ ہمارے ناقص علم کے مطابق صرف امریکہ محکمہ انصا ف کی رپورٹ ہے کہ امریکہ میں ہر پانچ منٹ میں ایک عورت کے ساتھ ریپ کی واردات ہوتی ہے، یورپ میں ہزاروں لڑکیاں ریپ کے بعد قتل کردی جاتیں ہیں، یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ فلسطین میں اسرائیلی ، کشمیر میں انڈین ، عراق اور افغانستان نیٹو فوجوں نے عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور کررہے ہیں ؟ امریکی حکومت نے پندرہ لاکھ سے ذیادہ عراقی اور افغانی معصوم شہریوں کے خون میں ہاتھ رنگے ، افغانستان اور عراق کی ہزاروں جوان لڑکیاں انہی یورپ ، امریکہ کے بازار حسن میں بک گئیں ، بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی بہنوں کے ساتھ ریپ کیے گئے، بمباری سے لاکھوں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم اور معذور ہوگئے اور ہورہے ہیں، خود اسی پاکستان میں ہزاروں بچے، عورتیں ،بوڑھے ڈرون حملوں میں جل کر راکھ ہوگئے ہیں ، ‘انسانوں کا غم رکھنے والے ان منافقوں نے یہود کے ایک ہولوکاسٹ کے واقعے پر کئی سو ڈاکو منٹریاں تو بنا لیں ان پر کوئی فلم کیوں نہیں بنائی، ویت نام پر امریکہ نے تاریخی مظالم کیے تھے اس پر کوئی ڈاکو مینٹری نہیں بنی۔ اس آسکر ایوارڈ دینے والی تنظیم کی منافقت اور تعصب سے خود انکے اپنے لوگ آگاہ ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ فلم دی گاڈ فادر کے ہیرو مارلن برانڈو نے اپنا آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا وہ جانتا تھا کہ یورپ اور امریکہ کے لوگوں نے یہاں کے اصلی باشندوں ریڈ اندین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں اور ہالی وڈ کی فلمیں الٹا انہی مظلوموں کو ظالم شو کررہی ہیں ۔ ادارکار جارج سکاٹ نے اپنی فلم پر یہ کہہ کر آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا کہ یہ انتہائی بدیانت تنظیم ہے۔دنیا کے کئی اہم موضوعات اور مظالم پر کئی حساس دل لوگوں نے دستاویزی فلمیں بنائیں ہیں ان کو آسکر ایوارڈ دینا تو دور کی بات ان کو فلموں کی لسٹ میں ہی نہیں رکھا جاتا۔خود شرمین کی فلموں پر نظرڈالیں تو کئی فلمیں ایسی ہیں جن میں انسانی کرائسز دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب گرائے جانے کے واقعہ سے بھی ذیادہ شدید ہیں ۔ اسکی ایک فلم ‘ عراق دی لاسٹ جنریشن ہے جس میں انہی آسکر ایوارڈ دینے والوں کے ملک اور انکی اتحادی فوجوں کے محض عراق کے ذخائر پر قبضہ کے لیے کئے گئے حملوں سے عراق میں آنے والے تباہی اور ساری عوام خصوصا مہاجرین کی افسوسناک حالت کو دکھایا گیا ہے , شرمین نے تو اس مغربی دہشت گردی پر ایک لفظ نہیں بولا بلکہ الٹا دفاع کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ فسادا ت کانتیجہ قرار دیا ۔ یہ چیز دیکھنے والا اپنے طور پر محسوس کرسکتا ہے کہ مغربی اتحادی فوجوں نے اس قدر درندگی کا مظاہر ہ کیا ہے کہ نہتی عوام کو بھی نہیں بخشا ۔ ایک اور فلم جس کا نام ہائی وے آف ٹئیررز ہے۔ اس میں کینڈا میں گمشدہ ہونے والی درجنوں عورتوں اور انکے گھرانوں کا تذکرہ ہے۔ آسکر ایوارڈ والوں کو دوپاکستانی مسلم عورتوں کے چہروں پر گرائےگئے تیزاب پر بننے والی ڈاکومینڑی اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے آسکر ایوارڈ کا حق دار سمجھ لیا، انہیں اسی ڈائریکٹر کی عراق میں بننے والی فلم نظر کیوں نہیں آرہی جس میں انہی کی فوجوں کی بمباری سے بچوں ، عورتوں، بوڑھوں کے صرف چہرے نہیں پورے پورے جسم جلے ، مسخ اور معذور ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور وہ مہاجر کیمپوں میں سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہےجہاں سیونگ فیس کا نہیں سیونگ لائف کا مسئلہ ہے۔ ؟ اگر ان لوگوں کو دنیا کی عورتوں کا اتنا ہی احساس ہے تو یہ کینیڈا میں اغوا ہونے والی درجنوں عورتوں پر بننے والی ڈاکومینڑی کو کیوں اگنور کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ؟ دنیا میں مختلف انتہائی اہم ٹاپک پر ہزاروں فلمیں بن چکیں ہیں ، آخر وہ فلمیں آسکر ایوارڈ کی حق دار کیوں نہیں ٹھہرتیں ۔ ۔ ؟ شرمین کی اس سیونگ فیس فلم سے پہلے 2002میں اس کی فلم ٹیررز چلڈرن پر اسے کئی بین الاقوامی ایوارڈ دیے گئے۔۔ 2003 میں اس کی دستاویزی فلم ری انوینٹنگ دی طالبان کو چار مختلف بین الاقوامی ایوارڈز ملے ۔ 2010 میں پاکستانی طالبان/ جنریشن چلڈرن آف دی طالبان پر اسے ایمی ایوارڈ دیا گیا ۔ ان تین فلموں میں کیا دکھایا گیا ہوگا وہ ان کے نام سے ہی ظاہر ہورہا ہے ۔ ۔ ۔؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ایوار ڈ کے لیے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ فلمز اور مسلم معاشرے کے منفی پہلو کو اجاگر کرنے والی ڈاکومینڑی ہی منتخب ہوتیں ہیں۔ ۔ ؟اسکا جواب یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کے کیے گئے ان انسانیت کش کارناموں پر بننے والی فلموں پر ایوارڈ دے کر دنیا کے سامنے اپنے لوگوں کو ذلیل کیوں کروائیں ۔ ۔ ؟ ان فلسطین ، عراق، افغانستان میں پر بننے والی فلموں میں تو ان مسیحاؤں کی اپنی فوجیں یہ سب کارنامے کررہی ہیں ۔ ۔۔ ؟ اس سے تو خود ان انسانی حقوق کے عالمی چیمپئنوں کے چہروں سےخوشنما نقاب اتر جائیں گے ۔ ۔ ۔ ان منافقوں کی اپنی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ ۔ ۔ اس ایوارڈ کی ذیادہ حقدار تو وہ فلمیں ہیں جن میں ظالم مسلمانوں کو شو کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایوارڈ تو انہوں نے مسلمانوں کے معاشرے کے منفی پہلو اجاگر کرنے والے اپنے پسندید ہ فلمسازوں کو دینا ہے ، جیسے انہوں نے شرمین کی چند عورتوں کے تیزاب سے جلنے والی فلم پر ایوارڈ دیا، تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ انہیں مسلمان عورتوں کی کتنی فکر ہے۔ ۔ ۔ ? وہ ظالموں کے خلاف اور ان مظلوم عورتوں کے ساتھ ہیں۔ ۔ ۔ اس سے ان کے چہرے پر شرمندگی بھی نہیں ہوگی اور انہیں دنیا میں انسانوں کا خیر خواہ بھی کہا جائے گا۔
آسکر ایوار ڈ والوں کی طرح کی یہی منافقت مغرب کے ہر شعبہ میں نظر آتی ہے۔ انکا میڈیا اپنے مسلمان ملکوں پر حملہ آور ظالم فوجیوں کو مظلوم اور شہید ہونے والے معصوم مسلمانوں کو دہشت گرد اور ظالم بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ۔ ۔ انکے نيشنل چينل پر نشر ہونے والي اسلام اور مسلمانوں كے متعلق ۸۵ فيصد خبريں مسلمانوں كے خلاف اور منفي ہوتي ہيں۔فلسطين و عراق ميں ناجائز قبضہ ، وحشيانہ حملوں اور مسلمانوں كے اپني سر زمين كے حق دفاع سے چشم پوشي كرتے ہوئے ، حملہ آور دشمنوں كے مقابلہ میں مسلمانوں كي طرف سے ہونے والي مزاحمت كے مناظر كو دہشت گردی كے عنوان سے نشر كيا جاتا ہے
غیر وں سے متعلق تو ہماری مذہبی کتابوں نے بھی پہلے سے گواہی دے رکھی تھی کہ یہ یہود ونصاری مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، ہماری انسانی حقوق کی ملکی تنظیموں کا کردار بھی ان یہودیوں سے مختلف نہیں ہے، ہماری اس نام نہاد معمار پاکستان، دخترپاکستان ، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ عورت شرمین نے تین سے زائد فلمیں طالبان کے حملوں اور انکے بچوں پر تو بنا دیں ، جن میں دکھایا گیا ہے کہ اس نے وہاں کےمہاجر کیمپوں کے دورے کیے ، وہاں کے بچوں سے انٹرویو لیے اور ایک پلاننگ کے تحت مدارس کو خود کش حملہ آوروں کی ٹریننگ کے مراکز شو کیا اور طالبان کے حملوں سے چند تباہ شدہ سکولوں کی ویڈیو دکھائیں( ملکی اخبارات میں شایع شدہ رپورٹس کے مطابق کئی جگہوں پر ٹھیکیداروں نے خود سکول تباہ کروائے تاکہ بعد میں انہیں تعمیرات کیلئے ٹینڈر مل سکیں) ۔ اسکو انہی علاقوں میں ڈرون اٹیک سے زخمی ہونے والے بچوں ، عورتوں کا انٹرویو کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا، ڈرون حملوں سے تباہ شدہ گھروں کی ویڈیو بنانے سے اسے کس نے روکا۔ ہماری نظر میں ایک مستند رپورٹ کے مطابق ان ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد 2711 ہے۔ ہلاک شدگان میں سیکڑوں عورتیں ہیں اور 178 معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ ان جل کر راکھ ہونے والے ان ہزاروں بچوں، عورتوں کے متعلق اس عورت نے یا کسی اور نے کوئی فلم کیوں نہیں بنائی ۔ ?? یہاں ان معماروں ، پاکستان کا درد رکھنے والوں کی زبانیں، قلم ، کیمرے کیوں رک جاتے ہیں ؟
جنگ کے معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب مغرب اور انکے پسند یدہ لوگوں کی اسی مخصوص مکروہ ذہنیت اور کام کے طریقہ کار کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔
ایک تاثر تو یہ ہے کہ آسکر ہو یا کوئی اور عالمی اعزاز صرف اسی صورت میں کسی پاکستانی شخصیت، ادارے، تنظیم یا این جی او کا مقدر بنتا ہے جب زیر نظر فلم، تخلیق، کارنامے یا ادب پارے میں پاکستانی معاشرے کی کوئی گھناؤنی، متعفن اور نفرت انگیز تصویر پیش کی گئی ہو۔ یوں پاکستان کی کسی شخصیت ادارے، تنظیم یا این جی او کے سینے پر ایک تمغہ سجا کر بظاہر پاکستان کو شاباش دی جاتی ہے لیکن درحقیقت پاکستان کا تیزاب زدہ مسخ چہرہ ساری دنیا کو دکھا کر ، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان، درندوں کی کمین گاہ ہے جہاں اس نوع کے بھیانک جرائم معمولات حیات کا درجہ رکھتے ہیں۔ عزتیں بانٹنے والے یہ بڑے بڑے ادارے، کسی تخلیق کو جانچنے کی اپنی کسوٹی رکھتے ہیں۔ ان کے کچھ من پسند موضوعات اور پرکشش نعرے بھی ہیں۔ لازم ہے کہ تخلیق کا نفس مضمون ان موضوعات اور ان نعروں سے ہم آہنگ ہو اور اُن وسیع تر مقاصد کی آبیاری کرتا ہو جو اعزازت کے عالمی تقسیم کاروں کے پیش نظر ہوتے ہیں۔

Oscar Award to Pakistani Film Saving Face by Sharmeen Obaid Chinoy

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

6 Responses to آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں – بنیاد پرست کے بلاگ سے اقتباس

  1. Zara says:

    Aslamualikum!

    Sochny ka muqaam hai.

  2. I think that if one point of our society is brought in front then it’s not bad, and why other blames are associated with this, i think that she did about what she was able to highlight ,,, other matters should also be addressed like this for the betterment of the society

  3. Tashfin Khan says:

    شرمين عبيد چنائے کا اسکر ايوارڈ – اور امريکی کردار

    محترم قارئین

    اسلام عليکم

    محترمہ شرمين عبید کے آسکر ایوارڈ کے حوالے سے جو مضمون بلاگ پر پوسٹ کیا گیا ہے وہ مکمل طور پر بےخبر ذاتی خیالات اورذاتی تصورات پر مبنی ہے. مصنف جان بوجھ کر آسکر ایوارڈ کو سیاسی بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اور ایوارڈ کو دينے کے حوالےسے امریکی حکومت پر جھوٹے الزام عائد کيۓ ہيں، حقيقت ميں امريکی حکومت کا اسکر ايوارڈ کا لوگوں کو دينے سے کسی قسم کا بھی تعلق نہيں ہے۔.

    مضمون برابری سے مغربی معاشروں میں تمام سماجی مسائل پر بحث کرتی ہے اور يہ دعوی کرتی ہے کہ امریکہ دنیا میں اپنی مثبت تصویر کو برقرار رکھنے کے لئے اپنےمعاشرے کے اندر اہم گھریلو مسائل کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہيں۔ یہ نہايت دلچسپ ہے کہ مصنف نے کئی ان فلموں اور ڈاکومنٹريز کے بارے ميں سنا ہی نہيں جو کہ مغربی معاشروں میں سماجی مسائل کے اوپر بنائی گئی ہيں۔ يہ اجاگر کرنا بھی ضروری کہ ان فلموں اور ڈاکومنٹريز نے مختلف قسم کے اکیڈمی فلمی ایوارڈ بھی جیت لیۓ تھے۔

    مزید برآں، مصنف نے ايک جھوٹا دعوی کیا ہے کہ وہ ڈاکومنٹريز اور فلميں جو امریکہ سرکاری پالیسیوں کو کمزور کرتی ہيں اور اس کی منفی نمائش کرتی ہيں انہيں عام طور پر نظر انداز کيا جاتا ہے۔ يہ الزام مکمل طور پر غلط ہے ۔

    میں مندرجہ ذیل فلموں اور ڈاکومنٹريز کی فہرست کيطرف ‘قارئین کی توجہ حاصل کرنا چاہوں گا جس نےامریکی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کو بہت تنقيد کا نشانہ بنايا۔ اس کے علاوہ ان تمام فلموں اور ڈاکومنٹريز کو مختلف قسم کے اکیڈمی فلمی ایوارڈ بھی ديۓ گۓ تھے۔ ‎ فلموں اور ڈاکومنٹريزنے کھل کر عراق میں امریکی پالیسی، امریکی صحت کی دیکھ بھال کے نظام، او ابوغريب جیل میں معصوم عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کے الزامات پر تنقید کی ہے.

    @ ٹيکسی ڈرائيور – چار اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد، مارٹن سکورسيسی کی طرف سے ہدایت کی گئی

    @ کمنگ ہوم – تین اکیڈمی ایوارڈ کے فاتح

    @ ڈير ہنٹر – بہترین فلم کے لیے اکیڈمی ایوارڈ سمیت پانچ اکیڈمی ایوارڈ، کے فاتح

    @ اپوکليپس نوں – دو اکیڈمی ایوارڈ کے فاتح

    @ فل ميٹل جيکٹ – ڈائريکٹر سٹنلي کبرک

    @ ہمبرگ ہل ۔ ڈائریکٹرجان اروين

    @ پلٹون – بہترین فلم کے لیے اکیڈمی ایوارڈ کے فاتح

    @ بارن ان دی فورت جولائی – دو اکیڈمی ایوارڈ کے فاتح

    @ ٹيکسی ٹو دی ڈارک سائيڈ

    @ نو انڈ ان سائيٹ

    @ آپریشن کی واپس – کمپوزیشن جنگ کے زمانے میں تجربہ

    سيکو

    ميں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے الزامات کہ امريکی حکومت اپنی خارجہ پالیسی کے فیصلوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے پوری دنیا ميں اس جيسے فلموں کو اورايسے ايوارڈز کو فروغ ديتی ہے ،يہ الزامات مکمل مضحکہ خیز اور حقائق سے مبرا ہیں ۔

    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

  4. پر کیا اب کوئی اچھی فلم ایسی نہین بن سکتی کہ جس میں پاکستانی مسائل و وسائل کی دستیابی کا ذکر ہو
    ہمارے یہاں سوائے بے ہودگی یا انڈین کلچر سے مانوس فلمیں ہیں کیوں پزیرائی حاصل کرتی ہیں؟
    کہنے کو نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے
    پر نہ تو ملک اسلامی قوانین پر ہے اور نہ ہی جمہوریت پنپ رہی ہے
    عوام ہی اسلام سے دور جا رہی ہے اور میڈیا اس پر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے
    تفریح کہ نام پر فحاشی و عریانیت مزاح کے نام پر لچر کلچر عام کیا جا رہا ہے
    کیا بنانا چاہتے ہیں ہم اپنے معاشرے کو
    جگا ہو یا گجر
    بس ہم یہیں رہین گے؟
    عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی اچی بات ہے
    عوام کو تو پتہ ہی تب چلا کہ جب آسکر جیتا گیا
    ایسی فلموں کی نمائش ہم کرناہی نہیں چاہتے
    کسی سینما پر کیوں نہ دکھائ گئی یہ فلم؟
    انڈین فلم ہی دکھانے کے لئے ہم کیوں آگے آگے رہتے ہیں؟

  5. azharnadeem says:

    Morally weak comments…………throwing acid on most beautiful creation of God on earth is not Islam…………..Rememebr our Prophet (P.B.U.H) was blessed with only daughters………..Those who are doing this are infact disgracing islam……….

    Build your chracter first instead of searching for consipracy theories………..If not convinced go through history to find out fall of Muslims…………America was not known at that time………

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s