گوگل کی کمائی کا 97 فیصد حصہ فقط ایڈورٹائزنگ سے


گوگل آن لائن ایڈورٹائزنگ کا ایک جن Giant ہے ۔ اس کی کمائی کا 97 فیصد حصہ فقط ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ گوگل سرچ انجن، مجموع طور پر گوگل کمپنی کے کاروبار کا ایک مرکزی جزو ہے اس لیے اسی سرچ کو بہتر سے بہتر بناتے ہوے وہ دنیا بھر کے کاروبار مالکان کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ گوگل کے مرکزی صفحات پر ایڈورٹائزنگ کے لیے جگہ خریدیں۔ ایسا کرنے کے لیے کاروبار کے مالکان کو گوگل ایڈورڈز Google Adwords میں اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے۔ جس کے بعد وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے حساب سے ان کی ورڈز کے لیے گوگل کے مرکزی صفحہ پر جگہ خریدتے ہیں جو کی ورڈ ان کے کاروبار سے متعلقہ ہوتے ہیں۔

مقابلہ بازی کے تناسب سے ہر کی ورڈ کےلیے گوگل کےمرکزی صفحہ پر اشتہار کا ریٹ الگ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسی کا اشتہار گوگل سرچ کے مرکزی صفحہ پر ظاہر ہو اس لیے کاروبار کے مالکان زیادہ سے زیادہ اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اور جو سب سے زیادہ بولی لگاتا ہے اس کا اشتہار سب سے زیادہ بار مرکزی صفحے پر ظاہر ہوتا ہے۔اور جیسے ہی کوئی انٹرنیٹ صارف اسے اشتہار پر کلک کرتا ہے گوگل اپنے ایڈورٹائزر کے اکاؤنٹ سے اتنی رقم کاٹ لیتا ہے جتنی اس نے بولی لگائی ہوتی ہے۔

چونکہ دنیا بھر میں بے شمار طرز کے کاروبار اب انٹرنیٹ پر منتقل ہو چکے ہیں اس لیے گوگل کے پاس بذریعہ اشتہارات کمانے کے مواقع اسی قدر بڑھ چکے ہیں۔ ہر طرز کے کاروبار کے لیے مختلف کی ورڈ موجود ہیں جو کہ انٹرنیٹ صارفین تلاش کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ اور ان بے شمار کی ورڈز کے وزٹر حاصل کرنے کی مانگ بھی بے پناہ بڑھ چکی ہے۔ نیچے ایک ایسی فرم کی تیار کردہ شماریات موجود ہے جو گوگل ایڈورڈز Adwords سیٹ اپ کرنے میں اور اس سے بہتر طریقے سے فائدہ اٹھانے میں کاروبار مالکان کی مدد کرتی ہے۔ یہ شماریات گوگل ایڈورڈز کے بیس مہنگے ترین کی ورڈز کی ہے۔ اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گوگل کمپنی کے منافع کا 97 فیصد حصہ فقط ایڈورٹائزنگ / تشہیر / اشتہار بازی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ رقم 2010 کی تیسری سہ ماہی سے لے کر 2011 کی دوسری سہ ماہی تک 32.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اتنی بڑی رقم کا سوچ کر مجھے کسی مشہور دانشور کا وہ فقرہ یاد آ رہا ہے کہ اگر دنیا میں تمام پراڈکٹس کی مارکیٹنگ/تشہیر پر لگنے والا پیسہ روک دیا جائے تو صارفین کو پراڈکٹس اس سے آدھی قیمت پر ملیں جس موجودہ قیمت پر وہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

where-does-google-make-its-money

گوگل کے مرکزی صفحے پر اشتہار بازی کے علاوہ ، گوگل بیشتر کئی جگہوں پر اشتہارات کے لیے جگہ بھی فروخت کرتا ہے، جیسے جی میل ان باکس میں اشتہارات، یوٹیوب ویڈیوز پر اشتہارات اور عام صارفین کے بلاگز اور ویب سائٹ پر اشتہارات بذریعہ گوگل ایڈسینس Google Adsense۔ تاہم بذریعہ گوگل ایڈسینس ہونے والی آمدنی کا فقط 32 فیصد ہی گوگل تک پہنچ پاتا ہے کیوں کہ بقیہ 68 فیصد گوگل اس ویب سائٹ کے مالک کو ادا کرتا ہے جس نے بذریعہ ایڈسینس اشتہار لگائے ہوتے ہیں۔ اس پر پھر کبھی مزید بات ہو گی ان شاء اللہ۔

اس مضمون کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سب لوگ ان مہنگے کی ورڈز کو ٹرائی کرنا شروع کر دیں۔ گوگل پر high paying keywords کے نام سے سرچ کریں تو آپکو ہزاروں ایسی سائٹس مل جائیں گی جو مہنگے کی ورڈز بیان کر رہی ہوں گی۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ کتنے ہی لوگ آپ سے پہلے یہ سب جانتے ہیں۔ ظاہر ہے خود جاننے کے بعد ہی انہوں نے یہ ورڈز اپنے اپنے بلاگ پر شائع کیے ہوے ہیں۔ اگر وہ جانتے ہیں تو انہوں نے یہ کی ورڈ ٹرائی بھی ضرور کیے ہوں گے۔

دوسری بات یہ، کہ گوگل بھی ان کو ورڈز کے عام پبلک تک پہنچ جانے کو جانتا ہو گا اور اس کا مقصد اپنی ایڈورٹائزرز یعنی Google Adwords کے گاہکوں کو بہترین وزٹر پہنچانا بھی ہے نہ کہ سپیم وزٹرز، اس لیے وہ اس طرز کے مہنگے کی ورڈز کے ساتھ یقیننا کافی حساس واقع ہوا ہے۔ اس لیے اس نے یقیننا ایسے اقدامات کیے ہوں گے جن سے کوئی ان کی ورڈز کا مس یوز نہ کر سکے۔

اگر آپ بلاگ یا ویب سائٹ بنانا ہی چاہتے ہیں تو ایسے موضوع پر ویب سائٹ بنائیں جو آپکا پسندیدہ ہو، جس پر آپ لکھ سکتے ہوں، مواد مہیا کر سکتے ہوں۔ اس پر کچھ عرصہ محنت کرنے کے بعد آپ گوگل اشتہارات Google Adsense کو استعمال کریں، یقیننا آپ مایوس نہیں ہوں گے۔ لیکن اس امر کا ضرور خیال رکھیں کہ عام دنیا میں جب آپ ایک نئی دکان کھولتے ہیں تو تقریبا پہلے سال وہ آپ کو کوئی خاص منافع نہیں‌دیتی بلکہ فقط آپ سے محنت ہی کرواتی ہے۔ اور آن لائن بزنس کے اصول بھی وہی ہیں۔

گوگل ایڈسینس کے متعلقہ مزید مضامین

چودہ غلطیاں جو آپکا گوگل ایڈسینس اکاؤنٹ بند کروا سکتی ہیں

گوگل ایڈسینس کی بنیادی ٹرمز جانیے

ویب سائٹ یا بلاگ سے آمدنی

گوگل ایڈسینس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Edu, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

3 Responses to گوگل کی کمائی کا 97 فیصد حصہ فقط ایڈورٹائزنگ سے

  1. Zara says:

    السلامُ علیکم
    بہت اچھا آرٹیکل ہےیاسر بھائی۔

  2. harismughal says:

    nice information…I like ur blog very much…

  3. saulat51 says:

    Its a very useful site. I am a newbie. Could you please help me by linking to my blog.

    Thanks and regards.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s