فریاداں میریاں از محمد یاسرعلی


پہلے تو فقط پردیسی شوہر ہی بیگم کے ظلم سے پریشان نظر آتے تھے مگر اب یاسر علی کی یہ نظم پڑھ کر لگ رہا ہے کہ دیسی شوہر بھی محفوظ نہیں۔ محمد یاسر علی کی یہ ایک مزاحیہ نظم پیش کر رہا ہوں۔ جو کہ دراصل ایک مظلوم شوہر کی فریاد ہی کہی جا سکتی ہے۔ عرض کیا ہے

ہر اچھی بات میں میکے کی مثال دیتی ہے
ہر گند کا الزام سسرال پہ ڈال دیتی ہے

اپنی ہر فرمائش جوتے کے زور پہ منوائے
ہم کچھ کہیں تو ہس کے ٹال دیتی ہے

کیا مجال میری جو مزاجِ یار کے خلاف بولوں
کہ القابات بھی وہ چن کے کمال دیتی ہے

القابات جو کم پڑ جائیں تو نہ پوچھو یارو
دو چار جوتے بھی پھر وہ نال دیتی ہے

دے کے جاتا ہوں پیسے مرغِ مصلم کے
گھر لوٹتا ہوں تو چھو لو کی دال دیتی ہے

کبھی سر تال ہوتے تھے ہماری روح کی غذا
اب بیگم کی کھپ کھپ جان گال دیتی ہے

پوچھ بیٹھوں جو غلطی سے کوئی بات اس سے
آگے سے تو کر وہ لاکھوں سوال دیتی ہے

مہماں ہواگر سسرال سے تو سر باندھ لیتی ہے
ہو میکے سے تو پھر اتارمیری بھی کھال دیتی ہے

سٹار پلس سے سیکھی ہیں کیا خوب مہارتیں
ہر بات میں چل کوئی نہ کوئی چال دیتی ہے

سن لے یا رب ہن تے فریاداں میریاں
تیری ذات مصیبت سے سب کونکال دیتی ہے

جہاں کوئی مطلب کی چیز نظر آتی ہے یاسر
خود غرض دنیا وہاں ڈال اپنا جال دیتی ہے


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Poetry, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

6 Responses to فریاداں میریاں از محمد یاسرعلی

  1. یاسر بھائی پہلے تو اپنے بلاگ پہ میری نظم لگانے پہ میں آپ کا بہت بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو اپنے بلاگ کی زینت بنایا یاسر بھائی یہ لائن کاٹ دیں
    محمد یاسر علی ایک نوجوان شاعر ہیں اور بہت خوب شاعری کرتے ہیں۔

    بھائی اس میں کافی غلطیاں ہوں گی اس لیے لوگ مذاق اڑاہیں گے

    یاسر بھائی میرے بلاگ پہ جا کے ایک دفعہ چیک کر کے بتاہیں کے میں نے ہر پوسٹ کے ساتھ جو تصاویر لگائی ہوں ہیں کیا وہ ٹھیک نہیں ہیں
    واسلام بھائی ایک دفعہ پھر شکریہ

    • Yasir Imran says:

      علی بھائی، میرے بلاگ پر خوش آمدید

      جی میں آپکی خواہش پر وہ والی لائن ہٹا دیتا ہوں۔ اور ان شاء اللہ بہت جلد آپکا بلاگ چیک کرتا ہوں۔

  2. Azam Javed says:

    Very Nice….:)

    Al-Khobar, KSA

  3. بہت بہت شکریہ بھائی

  4. syed raza says:

    Yasir bhai …SALAM ALAIKUM… nazam padhi, mashallah bahout khoob likha hai aapne, is nazam ko parh kar ek purane dakni shayer ka shair yad agaya..(meri ariz ko sharmana kise boltey so nai maloom>>>>usey khawind ka ghum khana kise boltey so nai maloom)….ek dakni aurat shauher ke mazar par( roz ladh ladh ko jan kha kha ko>>>kaisa jangal mein sogaye aako>>>mondi kati ko pahle marna tha>>>ghar mein beti jawan baithi hai>>>> jeena marna tumhara kharze ka>>> aaj phoolan udhar layi houn>>>ek ahsan humpo karna tha>>>tankha lene ke bad marna tha…yeh bhi shair dakhni shayer janab suleman khateeb ke hain….take care.. SYED RAZA.

  5. NOOR says:

    بہت خوب بھائ . . . مگر یہ گھر کے اندر سنانے کی جراءت نہ کرنا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s