رویے میرے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ازامیر حمزہ


تحریک حرمت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پاکستان کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ کی طرف سے مغربی ممالک کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے جواب میں لکھی گئی کتاب ”رویے میرے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے “ کا انگریزی ایڈیشن

Mannerisms of My Sire (PBUH)

کے نام سے شائع ہو گیا ہے جسے عوامی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا پہلا ایڈیشن چھپ کر مارکیٹ میں آتے ہی ختم ہو چکاہے مولاناامیر حمزہ نے اس کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے والوں کے اعتراضات کے انتہائی احسن انداز میں جوابات دیئے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عیسائیوں ،مشرکوں، عورتوں ، بچوں اور جانوروں سے رحم دلانہ سلوک کے ایمان افروز واقعات اور اقتباسات نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ اگر ایسی شخصیت دنیا میں نہ ہوتی تو یہ معاشرہ جانوروں کا معاشرہ ہوتا۔ کتاب میں صحاح ستہ کی احادیث کے حوالہ جات دیے گئے ہیں اور خوبصورت انداز میں دلائل وبراہین سے ثابت کیا گیا ہے کہ آج دنیا کے جس مذہب میں بھی خیر اور بھلائی کی بات نظر آتی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات سے اخذ کی گئی ہے ۔ امیر حمزہ لکھتے ہیں۔

جس سائنسدان نے ایٹم بم بنایا، یقینا وہ بڑا سائنسدان ہے، اسے دنیا کا نمبر ون سائنسدان کہا جاتا ہے۔ اس کا نام آئن سٹائن ہے…. اتنا بڑا سائنسدان ہونے کے باوجود اس کی ازدواجی گھریلو زندگی مشکلات کا شکار رہی، اسی طرح آج کے دور کا جو سب سے بڑا سائنسدان ہے۔ نظریاتی فزکس کے اعتبار سے اس کا ہم پلہ کوئی نہیں، اس کا نام اسٹیفن ہاکنگ ہے۔ یہ برطانیہ کا رہنے والا معذور سائنسدان ہے۔ جسم فالج زدہ ہے، بول بھی نہیں سکتا مگر دماغ بڑا تیز ہے۔ اس سائنسدان کی کوئی کتاب مارکیٹ میں آتی ہے تو کروڑوں کی تعداد میں شائع ہوتی ہے۔ نوبل انعام یافتہ ہے مگر اس کی ذاتی اور ازدواجی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہے۔ جوانی میں اس نے بیوی کو طلاق دے دی۔ ایک بیٹا ہے اور اب وہ اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے پریشان ہے۔

اس بڑے سائنسدان سے 15 نومبر کے ہفت روزہ ٹائم میں دس سوالوں کے جوابات شائع کئے گئے۔ یہ سوالات دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کئے۔ ان میں سوسن لیسلے کا تعلق امریکہ کے شہر بوسٹن سے ہے، اس نے بھی ایک سوال کیا۔ سوال یہ تھا…. انسان کی زندگی ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور موجودہ دور میں اس کی پیچیدگی اور مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے تو کیا سائنس اس قابل ہے کہ اس کی تمام مشکلات کو حل کر دے؟
سٹیفن ہاکنگ نے جواب دیا…. میں یقینی طور پر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پوری زندگی کی مشکلات کے جوابات میرے پاس نہیں ہیں، جہاں تک فزکس اور ریاضی کا معاملہ ہے، وہ یہ تو بتلاتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کا آغاز ہوا ہے لیکن انسانی رویے (HUMAN BEHAVIOR) کے بارے وہ کچھ نہیں بتلا سکتے۔ ان رویوں کو سمجھنا اور حل کرنا تو بڑی دور کی بات ہے۔ قائین کرام! موجودہ دور کے دو بڑے سائنسدان بے بس ہو گئے…. ان میں سے پہلا یہودی ہے اور دوسرا عیسائی ہے۔ دونوں الحاد اور دہریت کے بھی قریب ہیں۔ پریشان ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک دنیا سے جا چکا ہے اور دوسرا دنیا سے جانے والا ہے۔

آئیے! اب آپ کو ایک تیسرا منظر بھی دکھلاتا ہوں، یہ منظر موجودہ دور کی بہت بڑی اسکالرہ اور دانشورہ کا ہے۔ مغرب کی اس خاتون کا نام کیرن ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام HISTORY OF GODہے…. اس کتاب کو لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے اردو ترجمہ کے ساتھ ”خدا کی تاریخ“ کے عنوان سے شائع کیا…. اس کتاب میں مصنفہ لکھتی ہے۔ ”خدا کہیں“ موجود نہیں یہ صرف انسان کے ذہن کی پیداوار ہے…. پھر کیا ہوا مغرب نے میرے حضور نبی کریمﷺ کے خاکے بنانے شروع کر دیئے۔ توہین آمیزیوں کا آغاز کیا۔ اب اسی خاتون نے میرے حضورﷺ کی سیرت کو پڑھنا شروع کر دیا کہ دیکھوں محمدﷺ کون ہیں؟ کیا کہتے ہیں؟ ان کی زندگی کیسی ہے؟ انسانی رویوں اور مشکلات کا حل بھی کوئی بتلاتے ہیں یا نہیں؟…. جی ہاں! اس نے پڑھنا شروع کیا اور پڑھتی چلی گئی۔ جوں جوں پڑھتی چلی گئی، اس کے دل کی گہرائیوں میں پاک محمد کریمﷺ کی عظمت اجاگر ہوتی چلی گئی۔ حضورﷺ کے رویوں کی دھاک بیٹھتی چلی گئی۔ آخر کار وہ میرے حضورﷺ کی پاک زندگی کی ایسی والا وشیدا بن گئی کہ اس نے اس اللہ کو ماننے کا فیصلہ کر لیا جس اللہ نے محمد کریمﷺ جیسی عظیم شخصیت کو پیغمبر بنا کربھیجا۔ جس اللہ نے قرآن میں ”لَعَم ±رُکَ“ کہہ کر اپنے مصطفی کی زندگی کی قسم کھائی۔ جس اللہ نے اپنے مجتبیٰﷺ کی زندگی کے ہر پہلو، ہر زاویے اور ہر رویے کو انسانیت کے لئے ”اسوة حسنة“ خوبصورت ترین نمونہ قرار دیا…. ہاں ہاں! کیرن کے دل یں میرے حضورﷺ کے رب تعالیٰ کی محبت کی کرنیں جگ مگ جگ مگ کرنے لگیں اور پھر اس نے توحید و رسالت کے اقرار کا اعلان کر دیا…. اب وہ مسلمہ خاتون بن گئی۔

کیرن کے دل میں میرے حضورﷺ کی والہانہ محبت و وارفتگی کی ایسی کرنیں اور ضیاپاشیاں نور ہدایت کا ایسا سماں باندھنے لگیں کہ کیرن نے ایک کتاب لکھ دی۔ اس کا کتاب کا نام رکھا ہے۔ MOHAMMAD PROPHET FOR OUR TIME
محمدﷺ ہمارے دور کے رسول ہیں۔ کیرن اپنی اس کتاب میں لکھتی ہے، جتنی ضرورت 14 سو سال پہلے کے انسان کو محمد کریمﷺ کی تھی اتنی ہی ضرورت آج کے انسان کو محمد کریمﷺ کی ہے۔ جی ہاں! یہ ضرورت قیامت تک رہے گی۔ جو بھی میرے حضورﷺ کے رویوں کو دیکھے گا، اس کی زندگی پھول بن جائے گی، مشکلات سے نکل جائے گی۔ دنیا میں رہتے ہوئے، جنت کا نمونہ بن جائے گی۔

قارئین کرام! مغرب کی اس دنیا کے لئے ہم نے اپنے پیارے حضورﷺ کے رویوں کو انگریزی میں ڈھال دیا ہے اور “MANNERISMS OF MY SIRE” کے نام سے پیش کیا ہے۔ میں مبارکباد دیتا ہوں۔ محمد بلال، ملک طارق اور عبدالرحمان جیسے تمام احباب گرامی کو جو اس کتاب کو یورپ و امریکہ میں پہنچا رہے ہیں۔ اپنے دوستوں اور عزیزوں کو بیرون ملک پہنچا رہے ہیں۔ وہ وہاں اپنے جاننے والے غیر مسلموں کو تحفہ دے رہے ہیں…. یہ کام اگر اسی طرح جاری رہا…. اور ان شاءاللہ جاری رہے گا تو مجھے اپنے اللہ سے امید ہے کہ عنقریب بے شمار کیرنوں کے دلوں میں میرے پیارے حضورﷺ کی پاک زندگی کی نورانی کرنیں جگمگائیں گی…. نظر آ رہا ہے کہ گستاخوں نے جس قدر میرے حضورﷺ کی توہین کی ہے…. انہوں نے اپنے آپ ہی کو انسانیت کے دائرے سے خارج کیا ہے جبکہ میرے حضورﷺ کے پاک اور نورانی دائرے میں داخل ہونے والوں کا تانتا بندھنے والا ہے۔ اے اللہ! ہمیں اس جدوجہد میں شامل فرما لے۔ (آمین

یہ کتاب یہاں پر ڈائون لوڈ کے لیے مہیا کی گئی ہے۔
http://www.thrpk.org/data1/books/MannerismOfMySire.pdf

اس سے ملتی جلتی تحاریر

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

چند مشہور و معروف لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا

سب خواتین و حضرات ایک بار درود شریف پڑھیں

 

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Islam, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

4 Responses to رویے میرے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ازامیر حمزہ

  1. saeedbabar says:

    “The punishment of those who wage war against Allah and His Messenger, and strive with might for mischief through the land is: execution, or crucifixion, or the cutting off of hands and feet from opposite sides, or exile from the land: that is their disgrace in this world, and a heavy punishment is theirs in the Hereafter;” [Surah Al-Maidah 5:33].

    When it is said to them: “Make not mischief on the earth” they say: “Why we only want to make peace!” Of a surety they are the ones who make mischief but they realize (it) not. [Surah Al-Baqarah 2:11-12

    Perish the hands of the Father of Flame! Perish he! No profit to him from all his wealth and all his gains! Burnt soon will he be in a Fire of blazing Flame! His wife shall carry the (crackling) wood as fuel! A twisted rope of palm-leaf fibre round her (own) neck! [Surah Al-Lahab]

    This surah was revealed as a counter-attack against their hostile compaigns, Allah had taken over the command of the battle. May the hands of Abu Lahab perish, doomed he is. The humiliating picture of Abu Lahab and his wife has been recorded to last forever in this eternal book, the Qur’an, to show Allah’s anger with them for their animosity to His Messenger and the ideas he was advocating. All those who choose to take a similar attitude towards Islam, therefore, shall meet with the same disgrace calamity and frustration, both in this life and in the Hereafter, as fitting punishment and reward!

  2. TariqRaheel says:

    Thanks ………….

  3. Pingback: Yasir Imran Mirza

  4. Pingback: پاکستان کی آواز میگزین برائے فروری 2011 | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s