جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ


ہم چلتے چلتے اس دروازے کے قریب آ گئے جہاں سے حشر کا راستہ تھا۔ میں نے صالح سے دریافت کیا

’’کیا اب ہمیں واپس میدان حشر جانا ہو گا؟‘‘

’’کیوں کیا وہاں جانے کا شوق ختم ہو گیا؟‘‘، اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

’’نہیں ایسی بات نہیں ۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہاں آ گیا ہوں تو اپنے گھر والوں سے مل لوں ۔ جب ہم شروع میں یہاں آئے تھے تو تم مجھے براہ راست اوپر لے گئے تھے ۔ اب تو میرے گھر والے امت محمدیہ کے کیمپ میں پہنچ چکے ہوں گے ؟‘‘

صالح نے میری بات پرہنستے ہوئے تبصرہ کیا

’’تم انسان اپنے جذبوں کو تہذیب کے لفافے میں ڈال کر دوسروں تک منتقل کرنے کے عادی ہوتے ہو۔ کھل کر کیوں نہیں کہتے کہ اپنی گھر والی کے پاس جانا چاہتے ہو۔ یہ بار بار گھر والوں کے الفاظ کیوں بول رہے ہو؟‘‘

صالح کی بات سن کر میں جھینپ گیا۔ وہ مسکرا کر بولا

’’شرماؤ نہیں یار۔ ہم وہیں چلتے ہیں ۔ یہ خادم تمھاری ہر خواہش پوری کرنے پر مامور ہے ۔‘‘

ہم جس دنیا میں تھے وہاں راستے ، وقت اور مقامات سب کے معنی اور مفہوم بالکل بدل چکے تھے ۔ اس لیے صالح کا جملہ ختم ہونے کے ساتھ ہی ہم اسی پہاڑ کے قریب پہنچ گئے جس کے اردگرد تمام نبیوں اور ان کی امتوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے ۔

’’شاید میں نے تمھیں پہلی دفعہ یہاں آتے وقت یہ بتایا تھا کہ اس پہاڑ کا نام ’اعراف‘ ہے ۔ اسی کی بلندی پر تم گئے تھے۔ اور یہ دیکھو امتِ محمدیہ کا کیمپ قریب آ گیا ہے ۔‘‘

ہم پہاڑ کے جس حصے میں تھے وہاں اس کا دامن بہت دراز تھا۔ ا س لیے وہاں بہت گنجائش تھی، مگر وہ پورا مقام اس وقت ان گنت لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ پہاڑ کے اردگرد اس قدر رش شاید کسی اور جگہ نہیں تھا۔

میں نے صالح سے مخاطب ہوکر کہا

’’لگتا ہے سارے مسلمان یہاں آ گئے ہیں ۔‘‘

’’نہیں بہت کم آئے ہیں ۔ امت محمدیہ کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس لیے اس کے مقربین اور صالحین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔ وگرنہ بیشتر مسلمان تو ابھی میدان حشر ہی میں پریشان گھوم رہے ہیں ۔‘‘

’’تو میرے زمانے کے مسلمان بھی یہاں ہوں گے ۔‘‘

’’بدقسمتی سے تمھارے معاصرین میں سے بہت کم لوگ یہاں ہیں ۔ رسول اللہ کی امت کے ابتدائی حصے کے لوگوں کی بہت بڑ ی تعداد یہاں موجود ہے ۔ آخری زمانے کے البتہ کم ہی لوگ یہاں آ سکے ہیں ۔

تمھارے زمانے میں تو زیادہ تر مسلمان دنیا پرست تھے یا فرقہ پرست۔ یہ دونوں طرح کے لوگ فی الوقت میدان حشرکی سیر کر رہے ہیں ۔ اس لیے تمھارے جاننے والے یہاں کم ہوں گے ۔ جو ہوں گے ان سے تم جنت میں داخلے کے بعد دربار میں مل لینا۔ یہاں تو ہم صرف تمھارے ’گھر والوں ‘ سے ملا کر تمھاری آنکھیں ٹھنڈی کریں گے اور فوراً واپس لوٹیں گے ۔ خبر نہیں کس وقت حساب کتاب شروع ہوجائے ۔‘‘

’’یہ دربار کیا ہے ؟‘‘

صالح کی گفتگو میں جو چیز ناقابل فہم تھی میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔

’’حساب کتاب کے بعدجب تمام اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک نشست ہو گی۔ اس کا نام دربار ہے ۔ اس نشست میں تمام اہل جنت کو ان کے مناصب اور مقامات رسمی طور پر تفویض کیے جائیں گے ۔ یہ لوگوں کی ان کے رب کے ساتھ ملاقات بھی ہو گی اور مقربین کی عزت افزائی کا موقع بھی ہو گا۔‘‘

میں اس سے مزید کچھ اور دریافت کرنا چاہتا تھا، مگر گفتگو کرتے ہوئے ہم کیمپ کے کافی نزدیک پہنچ چکے تھے ۔ یہ خیموں پر مشتمل ایک وسیع و عریض بستی تھی۔ اس بستی میں لوگوں کے کیمپ مختلف زمانوں کے اعتبار سے تقسیم تھے ۔ بعض خیموں کے باہر ان کے مالکان کھڑ ے ہوئے گفتگو کر رہے تھے ۔ یہیں مجھے اپنے بہت سے ساتھی اور رفقا نظر آئے جنہو ں نے دین کی دعوت میں میرا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ان کو دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی جوانیاں ، اپنے کیرئیر، اپنے خاندان اور اپنی خواہشات کو کبھی سر پر سوار نہیں ہونے دیا تھا۔ ان سب کو ایک حد تک رکھ کر اپنا باقی وقت، صلاحیت، پیسہ اور جذبہ خدا کے دین کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اسی کا بدلہ تھا کہ آج یہ لوگ اس ابدی کامیابی کو سب سے پہلے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کا وعدہ دنیا میں ان سے کیا گیا تھا۔

یہیں ہمیں امت مسلمہ کی تاریخ کی بہت سی معروف ہستیاں نظر آئیں ۔ ہم جہاں سے گزرتے لوگوں کو سلام کرتے جاتے ۔ ہر شخص نے ہمیں اپنے خیمے میں آ کر بیٹھنے اور کچھ کھانے پینے کی دعوت دی، جسے صالح شکریہ کے ساتھ رد کرتا چلا گیا۔ البتہ میں نے ہر شخص سے بعد میں ملنے کا وعدہ کیا۔

راستے میں صالح کہنے لگا

’’ان میں سے ہر شخص اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ بیٹھا جائے ۔ تم اچھا کر رہے ہو کہ ان سے ابھی ملاقات طے کر رہے ہو۔ ان میں سے بہت سے لوگوں سے بعد میں وقت لینا بھی آسان نہیں ہو گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور محبت آمیز نظروں سے میری طرف دیکھ کر کر بولا

’’وقت لینا تو تم سے بھی آسان نہیں ہو گا عبداللہ! تمھیں ابھی پوری طرح اندازہ نہیں ۔ اس نئی دنیا میں تم خود ایک بہت بڑ ی حیثیت کے مالک ہو گے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم پروردگار عالم کے معیار پر ہمیشہ سے ایک بہت بڑ ی حیثیت کے آدمی تھے ۔‘‘

یہ کہتے ہوئے صالح رکا اور مجھے گلے لگالیا ۔ پھر آہستگی سے وہ میرے کان میں بولا

’’عبد اللہ! تمھارے ساتھ رہنا میرے لیے بڑ ے اعزاز کی بات ہے ۔‘‘

میں نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف بلند کیں اور دھیرے سے جواب دیا

’’اعزاز کی بات تو خدا کی بندگی کرنا ہے ۔ اس کے بندوں کو بندگی کی دعوت دینا ہے ۔ یہ میرا اعزاز ہے کہ خدا نے ریت کے ایک بے وقعت ذرے کو اس خدمت کا موقع دیا۔‘‘

یہ کہتے ہوئے احسان مندی کے جذبات سے میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔

’’ہاں یہی بات ٹھیک ہے ۔ خدا ہی ہے جو ذرۂ ریگ کو طلوع آفتاب دیتا ہے ۔ تم سورج کی طرح اگر چمکے تو یہ خدا کی عنایت تھی۔ مگر یہ عنایت خدا پرستوں پر ہوتی ہے ، سرکشوں ، مفسدوں اور غافلوں پر نہیں ۔‘‘

ہم ایک دفعہ پھر چلنے لگے اور چلتے چلتے ہم ایک بہت ہی خوبصورت اور نفیس خیمے کے پاس پہنچ گئے ۔ میرے دل کی دھڑ کن کچھ تیز ہوگئی۔ صالح میری طرف دیکھتے ہوئے بولا

’’ناعمہ نام ہے نا تمھاری بیوی کا؟‘‘

میں نے اثبات میں گردن ہلادی۔ صالح نے انگلی سے اشارہ کر کے کہا

’’یہ والا خیمہ ہے ۔‘‘

’’کیا اسے معلوم ہے کہ میں یہاں آ رہا ہوں ؟‘‘، میں نے دھڑ کتے دل کے ساتھ پوچھا۔

’’نہیں ۔‘‘، صالح نے جواب دیا۔ پھر ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا

’’یہ ہے تمھاری منزل۔‘‘

میں ہولے ہولے چلتا ہوا خیمے کے قریب پہنچا اور سلام کر کے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی۔ اندر سے ایک آواز آئی جسے سنتے ہی میرے دل کی دھڑ کن تیز تر ہوگئی۔

’’آپ کون ہیں ؟‘‘

’’عبدا للہ۔ ۔ ۔ ‘‘

میری زبان سے عبد اللہ کا نام نکلتے ہی پردہ اٹھا اور ساری دنیا میں اندھیرا چھا گیا۔ اگر روشنی تھی تو صرف اسی ایک چہرے میں جو میرے سامنے تھا۔ وقت، زمانہ، صدیاں اور لمحے سب اپنی جگہ ٹھہرگئے ۔ میں خاموش کھڑ ا ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتا رہا۔ ناعمہ کا مطلب روشن ہوتا ہے ۔ مگر روشنی کا مطلب یہ ہوتا ہے یہ مجھے آج پہلی دفعہ معلوم ہوا تھا۔

ہم جب آخری دفعہ ملے تھے تو زندگی بھر کا ساتھ بڑ ھاپے کی رفاقت میں ڈھل چکا تھا۔ جب محبت؛ حسن اور جوانی کی محتاج نہیں رہتی۔ مگر ناعمہ نے اپنی جوانی کے تمام ارمانوں اور خوابوں کو میری نذر کر دیا تھا۔ اس نے جوانی کے دنوں میں بھی اس وقت میرا ساتھ دیا تھا جب میں نے آسان زندگی چھوڑ کر اپنے لیے کانٹوں بھرے راستے چن لیے تھے ۔ اس کے بعد بھی زندگی کے ہر سرد و گرم اور اچھے برے حال میں اس نے پوری طاقت سے میرا ساتھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ موت ہم دونوں کے بیچ حائل ہوگئی۔ مگر آج موت کا یہ عارضی پردہ اٹھا تو میرے سامنے چاند کا نور، تاروں کی چمک، سورج کی روشنی، پھولوں کی مہک، کلیوں کی نازکی، شبنم کی تازگی، صبح کا اجالا اور شام کی شفق سب ایک ساتھ ایک ہی چہرے میں جلوہ گر ہوگئے تھے ۔ برسوں کی اس رفاقت کو میں چند لمحوں میں سمیٹ کر دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ناعمہ کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی جو اس کے رخساروں پر بہنے لگی۔ میں نے ہاتھ بڑ ھا کر اس کے رخساروں سے نمی پونچھی اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا

’’میں نے کہا تھا نا۔ تھوڑ ا سا انتظار تھوڑ ا سا صبر۔ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے ۔‘‘

’’میں نے کب آپ کی بات کا یقین نہیں کیا تھا۔ اور اب تو میرا یقین حقیقت میں بدل چکا ہے ۔۔ مجھے تو بس ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کچھ دیر کے لیے گھر سے باہر گئے تھے اور پھر آ گئے ۔ ہم نے تھوڑ ا سا صبر کیا اور بہت بڑ ی جنگ جیت لی۔‘‘

’’ہمیں جیتنا ہی تھا ناعمہ۔ اللہ نہیں ہارتا۔ اللہ والے بھی نہیں ہارتے ۔ وہ دنیا میں پیچھے رہ سکتے ہیں ، مگر آخرت میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتے ہیں ۔‘‘

’’اور اب؟‘‘، ناعمہ نے سوال کرتے ہوئے آنکھیں کھول لیں ۔ شاید وہ تصور کی آنکھ سے جنت کی اس دنیا کا تصور کر رہی تھی جو اب شروع ہونے والی تھی۔

’’ہم نے خدا کا پیغام عام کرنے کے لیے اپنی فانی زندگی لگادی اور اب بدلے میں خدا جنت کی ابدی زندگی کی کامیابی ہمیں دے گا۔‘‘

یہ کہتے ہوئے میں نے بھی آنکھیں بند کر لیں ۔ میرے سامنے اپنی پر مشقت اور جدو جہد سے بھرپور زندگی کا ایک ایک لمحہ آ رہا تھا۔ میں نے اپنی نوجوانی اور جوانی کے بہترین سال خدا کے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیے تھے ۔ اپنی ادھیڑ عمر کی صلاحیتیں اور بڑ ھاپے کی آخری توانائیاں تک اسی راہ میں جھونک دی تھیں ۔ میں ایک غیر معمولی باصلاحیت اور ذہین شخص تھا جو اگر دنیا کی زندگی کو مقصود بنالیتا تو ترقی اور کامیابی کے اعلیٰ مقامات تک باآسانی پہنچ جاتا۔ مگر میں نے سوچ لیا تھا کہ کیرئیر، جائیداد، مقام و مرتبہ اور عزت و شہرت اگر کہیں حاصل کرنی ہے تو آخرت ہی میں حاصل کرنی ہے ۔ میں نے زندگی میں خواہشات کے میدان ہی میں خود سے جنگ نہیں کی تھی بلکہ تعصبات اور جذبات سے بھی لڑ تا رہا تھا۔ فرقہ واریت، اکابر پرستی اور تعصب سے میں نے کبھی اپنا دامن آلودہ نہیں ہونے دیا۔ خدا کے دین کو ہمیشہ ایمانداری اور عقل سے سمجھا اور اخلاص اور صدق دل سے اس پر عمل کیا۔ اس کے دین کو دنیا بھر میں پھیلایا اور کبھی اس راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کی۔ اس سفر میں خدا نے جو سب سے بڑ ا سہارا مجھے دیا وہ ناعمہ کی محبت اور رفاقت تھی جس نے ہر طرح کے حالات میں مجھے لڑ نے کا حوصلہ بخشا۔ اور اب ہم دونوں شیطان کے خلاف اپنی جنگ جیت چکے تھے ۔ مشقت ختم ہو چکی تھی اور جشن کا وقت تھا۔ ہم اسی حال میں تھے کہ صالح نے کھنکار کر ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور بولا

’’آپ لوگ تفصیل سے بعد میں ملیے گا۔ ابھی چلنا ہو گا۔‘‘

اس کے ان الفاظ پر میں واپس اس دنیا میں لوٹ آیا۔ میں نے صالح کا ناعمہ سے تعارف کرایا

’’یہ صالح ہیں ۔‘‘، پھر ہنستے ہوئے میں نے اپنی بات میں اضافہ کیا

’’یہ کسی بھی وقت مجھے تنہا چھوڑ نے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔‘‘

ناعمہ نے صالح کو دیکھتے ہوئے کہا

’’میں انہیں جانتی ہوں ۔ مجھے یہاں پر یہی چھوڑ کر گئے تھے اور اسی وقت آپ کے بارے میں بتادیا تھا۔ وگرنہ میں بہت پریشان رہتی۔‘‘

میں نے صالح کی طرف مڑ تے ہوئے کہا

’’تم مجھ سے الگ ہی کب ہوئے ہو جو ناعمہ کو یہاں چھوڑ نے آ گئے تھے ۔‘‘

’’تمھیں غالباً یاد نہیں جس وقت تم اوپر بیٹھے پروردگار کے حضور حشر کے میدان میں گھومنے پھرنے کا پروانہ لے رہے تھے اس وقت میں تمھارے برابر سے اٹھ گیا تھا۔ عبد اللہ! یہ تمھاری کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی کہ جب تم خدا کے ساتھ ہوتے ہو تو تمھیں اردگرد کا ہوش نہیں ہوتا۔‘‘

’’ہوش تو مجھے تھوڑ ی دیر پہلے بھی نہیں تھا، مگر اس وقت تو تم ٹلے نہیں ۔‘‘

’’ہاں میں اگر ٹل جاتا تو پھر تم سے اگلی ملاقات یوم حشر کے بعد ہی ہوتی۔ ویسے تم انسان بڑ ے ناشکرے ہو اور بھلکڑ بھی۔ بھول گئے تمھیں کہاں جانا ہے ؟‘‘

’’اوہو، ناعمہ! ہمیں چلنا ہو گا۔ تم یہیں رکو میں کچھ دیر میں آتا ہوں ۔‘‘

’’مگر ہمارے بچے ؟‘‘

’’وہ بھی ٹھیک ہیں ۔ تم انہیں یہاں تلاش کرو۔ قریب میں کہیں مل جائیں گے ۔ وگرنہ میں تھوڑ ی دیر میں سب کو لے کر خود آجاؤں گا۔ ابھی مجھے فوراً میدان حشر میں لوٹنا ہے ۔ ملنا ملانا اس کے بعد عمر بھر ہوتا رہے گا۔‘‘

اس آخری سوال کے بعد یہاں میرے رکنے کی گنجائش ختم ہو چکی تھی۔ کیونکہ مجھے جواب میں ان دو بچوں کے بارے میں بھی بتانا پڑ تا جو یہاں نہیں تھے اور یہ ایک بہت تکلیف دہ کام تھا۔

ناعمہ نے کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں گردن ہلادی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

واپسی پر میں نے صالح سے کہا

’’یہاں کی زندگی میں تو خاندانوں میں بڑ ی ٹوٹ پھوٹ ہوجائے گی۔ کسی کی بیوی رہ گئی اور کسی کا شوہر رہ گیا۔‘‘

’’ہاں یہ سب تو ہو گا۔ آگے بڑ ھنے کا موقع تو وہ دنیا تھی جو گزرگئی۔ یہاں تو جو پیچھے رہ گیا سو رہ گیا۔ لیکن یہاں کوئی تنہا نہیں ہو گا۔ رہ جانے والوں کے انتظار میں کوئی نہیں رکے گا۔ نئے رشتے ناطے وجود میں آجائیں گے ۔ نئے جوڑ ے بن جائیں گے ۔ نئی شادیاں ہوجائیں گی۔‘‘

’’مگر یہاں ویسے خاندان تو نہیں ہوں گے جیسے دنیا میں ہوتے تھے ۔‘‘

’’تم ٹھیک سمجھے ہو۔ دنیا میں خاندان کا ادارہ انسانوں کی بعض کمزوریوں کی بنا پر بنایا گیا تھا۔ بچوں کی پرورش اور بوڑ ھوں کی نگہداشت اس ادارے کا بنیادی مقصد تھا۔ خاندان کی مضبوطی اور استحکام کے لیے مردوں کو خاندان کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اسی خاندان کو جوڑ ے رکھنے کے لیے عورتوں کو بہت سے معاملات میں مردوں سے کمزور بنایا گیا تھا، جبکہ مردوں کو جبلی طور پر عورتوں کا محتاج کر دیا گیا تھا۔ وہ مردوں کے لیے ایک نعمت بھی تھیں اور ضرورت بھی۔ اس کے بغیر دنیا کا نظم چل نہیں سکتا تھا۔ مگر اب یہاں معاملات جدا ہوں گے ۔ عورتیں مردوں کے لیے ایک نعمت تو رہیں گی، مگر خود ان کی محتاج نہیں ہوں گی۔ اسی لیے ان کی قدر و قیمت بہت بڑ ھ جائے گی اور ان کا نخرہ بھی۔‘‘

’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں عورت ہونا زیادہ فائدے کی بات ہے ۔ عورت جب چاہے گی مرد کی توجہ حاصل کر لے گی، مگر مرد کا عورتوں پر کوئی اختیار نہیں ہو گا حالانکہ وہ ان کے ضروت مند ہوں گے ۔‘‘

’’ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے ۔‘‘

’’تو ہم مرد توپھر نقصان میں رہے ۔‘‘

’’ہاں نقصان میں تو تم لوگ رہو گے ۔‘‘

’’یہ تو بڑ ا مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے کا کوئی حل ہے ؟‘‘

’’جنت کی نئی دنیا میں ہر چیز کا حل ہوتا ہے ۔ حوریں اسی مسئلے کا حل ہیں ۔‘‘

’’مگر ان سے تو خواتین کو جیلیسی محسوس ہو گی۔‘‘

’’نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ حوریں اپنے اسٹیٹس اور خوبصورتی میں کبھی جنت کی خواتین کے برابر نہیں آ سکتیں ۔ اس لیے وہ جنتی خواتین کے لیے کبھی رشک و حسد کا باعث نہیں بنیں گی۔ جنت کی خواتین اپنے اعمال کی وجہ سے حوروں سے کہیں زیادہ خوبصورت اور بہت بڑ ے اسٹیٹس کی مالک ہوں گی۔ انہیں اس کی پروا نہیں ہو گی کہ ان کے شوہر کی اور دلچسپیاں کیا ہیں ۔ ویسے بھی جنت انسانوں کی نہیں خدا کی دنیا ہے ۔ تم جانتے ہو کہ انسانوں اور خدا کی دنیا میں کیا فرق ہوتا ہے ؟‘‘

میں خاموشی سے سوالیہ نگا ہوں سے اسے دیکھتا رہا۔ اس نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا

’’انسانوں کی دنیا میں رقیب سے حسد کی جاتی ہے ۔ مگر خدا کی دنیا میں رقیب بھی محبوب ہی ہوتا ہے ۔‘‘

’’یہ بات تو لاجواب ہے ۔ مگر اس کا فیصلہ ناعمہ ہی کرے گی۔‘‘

’’جنت پاکیزہ لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے ۔ ان کی پاکیزگی خدا کی مہربانی سے کسی منفی جذبے کو ان کے پاس پھٹکنے نہیں دے گی۔‘‘، صالح نے میری بات کا براہ راست جواب دینے کے بجائے ایک اصولی بات بیان کی اور پھر اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا

’’اصل میں تم ابھی تک انسانی دنیا کے اثرات سے نہیں نکلے ہو۔ پچھلی دنیا آزمائش کی دنیا تھی۔ اس لیے وہاں مثبت جذبوں کے ساتھ منفی جذبے بھی رکھ دیے گئے تھے ۔ یہ منفی جذبے انسانی شخصیت کے اندر سے اٹھتے تھے ۔ ہر مومن مرد و عورت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ہر طرح کے منفی حالات اور ماحول میں رہنے کے باوجود اپنے اندر پیدا ہونے والے منفی جذبات پر قابو پائے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پسینہ، بول و براز، پیشاب اور پاخانہ وغیرہ انسانی جسم سے نکلنے والی گندگیاں تھیں ۔ مگر حکم تھا کہ ہر گندگی سے اپنے وجود کو پاک رکھو تو تم لوگ پانی سے غسل و طہارت کرتے تھے ۔ اسی طرح منفی جذبے بھی اندر سے پیدا ہونے والی گندگیاں تھیں ۔ غصہ، نفرت، جھوٹ، حسد، تکبر، کینہ، ظلم اور ان جیسی تمام گندگیوں کے بارے میں حکم تھا کہ صبر کے پانی سے انہیں دھو ڈالو۔ مومن مرد و عورت زندگی بھر یہ مشقت اٹھاتے رہے ۔ مگر آج کے دن انہیں ہر ایسی مشقت سے پاک کر دیا جائے گا۔‘‘

’’یعنی؟‘‘

’’مطلب یہ کہ اب نہ ان کے جسم سے گندگیاں نکلیں گی اور نہ ہی ان کے ذہن میں منفی جذبے اور خیالات پیدا ہوں گے ۔ جنت خوبصورت لوگوں کے رہنے کی ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں کوئی بدصورت جذبہ باقی نہیں رہے گا۔‘‘

’’لیکن میرے خیال میں اس بحث میں اصل بات یہ سامنے آئی کہ حوریں جنت کی خواتین سے کمتر ہیں اور بس گزارے کے قابل ہیں ۔ تبھی وہ ان سے حسد نہیں کریں گی۔‘‘، پھر میں نے ہنستے ہوئے اپنی بات میں اضافہ کیا

’’مسلمان خوامخواہ حوروں کے حسن کا چرچا سن کر ان کے دیوانے بنے اور بلاوجہ سیکولر مزاج لوگوں کے طعنے سنتے رہے ۔‘‘

میرے مذاق کے جواب میں صالح نے سنجیدگی سے کہا

’’یہ دونوں تمھاری غلط فہمیاں ہیں ۔ بات یہ ہے کہ جنت میں تم مرد، عورتوں کے لیے کوئی ایسا قیمتی اثاثہ نہیں رہو گے جس کی وجہ سے وہ کسی سے حسد کریں ۔ رہی حوریں تو ان کی اتنی تحقیر مت کرو کہ ان کے لیے ’کم تر‘ اور ’گزارے کے قابل‘ کے الفاظ بولو۔ وہ جنتی خواتین جیسی تو نہیں ، مگر بہرحال ایسی بھی نہیں ہیں کہ تم ان کو کم تر سمجھو۔‘‘

’’اچھا تو وہ کیسی ہیں ؟‘‘

’’میں بتاتا ہوں وہ کیسی ہیں ۔ وہ حوریں نسوانی جمال کا آخری نمونہ اور جسمانی خوبصوتی کا آخری شاہکار ہیں ۔ ان کا بے مثال حسن اور باکمال روپ، زیب و زینت کے بازار، سرخی پاؤڈر کے سنگھار، گجروں کے تار اور موتیوں کے ہار کا محتاج نہیں ہوتا۔ ان کے وجود کی تشکیل کے لیے کائنات اپنا ہر حسن مستعار دیتی ہے ۔ پھول اپنے رنگ، ہوا اپنی لطافت، دریا اپنا بہاؤ، زمین اپنا ٹھہراؤ، تارے اپنی چمک، کلیاں اپنی مہک، چاند اپنی روشنی، سورج اپنی کرنیں ، آسمان اپنا توازن، چوٹیاں اپنی بلندی اور وادیاں اپنے نشیب جب جمع کر دیتے ہیں تو ایک حور وجود میں آتی ہے ۔

ان کا حسن خوبصورتی کے ہر معیار پر آخری درجہ میں پورا اترتا ہے ۔ ان کا قد لمبا اور رنگ زردی مائل گورا ہے ۔ پورے جسم کی جلد بے داغ اور شفاف ہے ۔ آنکھیں بڑ ی بڑ ی اور گہری سیاہ ہیں ، مگر ہر لباس کی مناسبت سے اس کے رنگ میں ڈھل سکتی ہیں ۔ ان کی بھنویں ہموار اور پلکیں دراز ہیں ۔ ان کی نظر عام طور پر جھکی رہتی ہے ، مگر جب اٹھتی ہے تو تیر کی طرح دل تک جاپہنچتی ہے ۔ ان کا چہرہ کتابی، پیشانی کشادہ، رخسار سرخی مائل، ناک ستواں ، زبان شیریں اور ہونٹ گلاب کی طرح نازک اور دانت موتیوں کی طرح چمکدار ہیں ۔ ان کے بال ریشم کی طرح نرم اور چمکدار اور ان کے سفید رنگ کے برعکس گہرے سیاہ اور پنڈلیوں تک لمبے ہیں ۔ ان کی آواز سریلے نغمے کی طرح کان میں رس گھولتی، باتوں سے موتی جھڑ تے اور مسکراہٹ سے رُت حسین ہوجاتی ہے ۔ ان کے وجود میں حیا کا عطر اور سانسوں میں خوشبوؤں کی مہک ہے ۔ ان کے لہجے میں نرمی، چلنے کے انداز میں دلربائی اور بولنے کے طریقے میں شان و وقار ہے ۔ ان کے معطر وجود پر مخملی لباس اور چمکتے زیور بادلوں سے چھپتے کھلتے بدرِ کامل کا منظر پیش کرتے ہیں ۔‘‘

’’تم نے حوروں کو دیکھا ہے ؟‘‘

’’نہیں! انہیں کسی نے نہیں دیکھا۔ صرف ان کا احوال سنا ہے ۔ وہی تمھیں سنا رہا ہوں ۔‘‘، یہ کہتے ہوئے اس نے سلسلہ بیان جاری رکھا لیکن اس دفعہ اشعار میں اپنے مدعا بیان کرنے لگا

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑ تے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہے اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے

سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں

مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی

اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

صالح بے تکان بول رہا تھا اور میں خاموشی سے اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔ اس نے جب اشعار پڑ ھے تو میں نے کہا

’’تمھاری باتیں واقعی مبالغہ، کہانیاں اور خواب لگ رہی ہیں ۔ لیکن یہ اگر خواب ہے تو بہت دلکش خواب ہے ۔‘‘

’’یہ خواب ابھی ختم نہیں ہوا۔ سنو! ایک حور کا وجود بل کھاتی ندی کی طرح ڈھلتا ہے جو آسمان کی سیاہ گھٹاؤں سے برف کی صورت اپنے سفر کا آغاز کرتی، چوٹیوں پر ڈیرہ ڈالتی، جھرنوں اور آبشاروں کی صورت نکلتی، ڈھلانوں میں اترتی، میدانوں میں ٹھہرتی، بلندیوں کو چھوتی، نشیب کی طرف بڑ ھتی، ٹیلوں کو عبور کرتی ہوئی وادیوں تک پہنچتی ہے اور آخر کار نیکی، پارسائی اور تقوی کے اس سمندر پر اپنا وجود نچھاور کر دیتی ہے جس نے زندگی صبر اور تقویٰ کے ساتھ گزاری۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ یہ ندی اپنے پورے سفر میں کسی نجاست، کسی آلودگی کا شکار نہیں ہوتی۔ ہر نامحرم نگاہ کو اپنی دید اور لمس سے دور رکھتی ہے ۔ یہ ہزاروں میل کا سفر پاکدامنی کے ساتھ طے کرتی ہے اس لیے پاکدامن سے کم کسی شخص کو قبول نہیں کرتی۔ اور آخر کار سیلِشباب کی چڑ ھتی گھٹتی موج کا سا ان کا وجود اپنے سمندر میں ہمیشہ کے لیے ضم ہوجاتا ہے ۔‘‘

’’مجھے سمجھ ہی نہیں آتا کہ تعریف حوروں کی کروں یا تمھارے بیان کی۔‘‘

’’تعریف تو صرف اللہ کی ہونی چاہیے ۔‘‘

’’اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تعریف و توصیف تو صرف اللہ ہی کی ہونی چاہیے ۔ مگر یہ بتاؤ کہ کیا یہ انسان ہوں گی؟‘‘

’’ہاں یہ بھی انسان ہیں ۔ اسی طرح اہل جنت کے وہ خدام جنہیں غلمان کہا جاتا ہے ، وہ بھی انسان ہی ہیں ۔ یہ وہ لڑ کے ہیں جو ہمیشہ لڑ کے ہی رہیں گے ۔‘‘

’’یہ لڑ کے کیوں رہیں گے ، ملازم اور خادم تو وہ بہتر ہوتا ہے جو زیادہ عمر کا ہو اور زیادہ سمجھ رکھتا ہو؟‘‘، میں نے ذہن میں آنے والا ایک اعتراض جڑ دیا۔

’’نہیں ایسا نہیں ہے ۔ یہ کم عمر ہونے کے باوجود بلا کے مزاج شناس ہوں گے ۔ اہل جنت کی مجلسوں میں جب کسی جنتی کا مشروب ختم ہو گا تو یہ اس کی نظر دیکھیں گے اور بلا کچھ کہے سنے اس کے گلاس میں مطلوبہ شراب اتنی ہی مقدار میں ڈالیں گے جتنی اسے ضرورت ہو گی۔ اس لیے ان کی سمجھ بوجھ اور مزاج شناسی کی تو کوئی حد نہیں ہو گی البتہ انہیں لڑ کوں کی شکل میں اس لیے رکھا جائے گا کہ جسمانی طور پر مستعد رہیں اور لمحہ بھر میں ہر خدمت بجالائیں ۔ ان کا لباس، شکل اور حلیہ انہیں ایسا بنادے گا گویا محفل میں قیمتی موتی بکھرے ہوئے ہیں ۔ ان کے ابدی طور پر کم عمر لڑ کے بنائے جانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو کبھی ازدواجی تعلق کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ حوریں مکمل شباب کی عمر کو پہنچی ہوئی لڑ کیاں ہوں گی اور اہل جنت کی بیویاں ہوں گی۔‘‘

’’کیا حوریں اور غلمان اہل جنت کے لیے خاص طور پر تخلیق کیے جائیں گے ؟‘‘

’’یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔‘‘

’’ہمارے پاس وقت کی کون سی کمی ہے ۔ یہ لمبی کہانی بھی سناتے جاؤ۔‘‘

’’سنو! آج کا دن انسانوں کا پہلا محشر نہیں ہے ۔‘‘

’’کیا مطلب! کیا قیامت پہلے بھی آ چکی ہے ؟‘‘

’’قیامت تو پہلے نہیں آئی البتہ اول تا آخر سارے انسان ایک دفعہ پہلے بھی پیدا کیے جا چکے ہیں ۔‘‘

’’یہ کب ہوا تھا؟‘‘

’’یہ تو تم اللہ تعالیٰ سے جنت میں جا کر خود پوچھنا۔ مجھے تو صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ ہوا تھا۔ دراصل جس آزمائش میں انسان کو ڈالا گیا تھا، یہ پہلا محشر اس کہانی کا دوسرا واقعہ ہے ۔ پہلا واقعہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے سامنے یہ موقع رکھا تھا کہ وہ جنت میں اللہ تعالیٰ کی ابدی رفاقت کا شرف حاصل کر لیں ۔ لیکن اس کے لیے انہیں دنیا میں کچھ وقت ایسے گزارنا ہو گا کہ خدا ان کے سامنے نہیں ہو گا۔ صرف اس کے احکام ان کے سامنے آئیں گے اور انہیں بن دیکھے رب کی عبادت اور اطاعت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ زمین کی بادشاہی عارضی طور پر امانتاً اس مخلوق کو دے دی جائے گی اور اپنی بادشاہی کے زمانے میں اس مخلوق کو اپنے بارے میں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ صاحب اختیار بادشاہ ہونے کے باوجود بن دیکھے خد اکی اطاعت کے لیے تیار ہے ۔ جس کسی نے اقتدار اور اختیار کی اس امانت کا درست استعمال کیا اس کا بدلہ جنت میں خدا کی ابدی رفاقت ہو گی اور ناکامی کی صورت میں جہنم کا عذاب۔‘‘

’’تو پھر کیا ہوا؟‘‘

’’یہ ہوا کہ ساری مخلوقات ڈر کے پیچھے ہٹ گئیں ۔ اس لیے کہ جنت جتنی حسین ہے ، جہنم اتنی ہی بھیانک جگہ ہے ۔ حشر کی سختی کو تو ابھی تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ اس کے بعد کون عقل مند اس امتحان میں کودنے کی کوشش کرتا۔‘‘

’’اور غالباً ہم جذباتی انسان اس امتحان میں کود پڑ ے ۔‘‘، میں نے لقمہ دیا۔

’’ہاں یہی ہوا تھا۔ لیکن خدائی امانت اٹھانے کا یہ عزم روح انسانی نے اجتماعی طور پر کیا تھا۔ اس لیے خد اکے عدل کا تقاضا یہ تھا کہ ہر ہر انسان کوپیدا کر کے براہ راست اس سے یہ معلوم کیا جائے کہ وہ کس حد تک اس امتحان میں اترنے کے لیے تیار ہے ۔

عبد اللہ! یہ اس لیے ہوا کہ تمھارا رب کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ سو اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ سب کے سامنے اپنے پورے منصوبے کو رکھا۔ ظاہر ہے انسانوں کی اکثریت پہلے ہی اس مقصد کے لیے تیار تھی۔ اسی لیے وہ پورے شعور کے ساتھ اس امتحان میں کودنے کے لیے تیار ہوگئے ۔ البتہ جن لوگوں نے یہ خطرہ مول لینے سے انکار کر دیا، ان سب کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ انسانی گھروں میں جو بچے پیدا ہوتے اور بلوغت سے پہلے ہی مرجاتے ہیں ، ان لوگوں کو یہی کردار سونپ دیا جائے ۔ اور یہی بچے بچیاں جنت کی بستی میں حور و غلمان بنادیے جائیں گے ۔‘‘

’’اور باقی لوگ اس کڑ ے امتحان میں اترنے کے لیے تیار ہوگئے ؟‘‘

’’اس میں بھی خدا کی کریم ہستی نے کمال عنایت کا مظاہرہ کیا تھا۔ تم جانتے ہو کہ دنیا میں سب کا امتحان یکساں نہیں ہوتا۔ یہ امتحان بھی اس روز ہر شخص نے اپنی مرضی سے چن لیا تھا۔ جو بہت زیادہ حوصلہ مند لوگ تھے انہوں نے نبیوں کا زمانہ چن لیا۔ ان لوگوں کا امتحان یہ تھا کہ ہر سو پھیلی گمراہی کے دور میں انبیا کی تصدیق کر کے ان کا ساتھ دیں ۔ ان کی کامیابی کے لیے اصل شرط یہ تھی کہ بدترین مخالفت میں بھی ثابت قدم رہیں ، اس راہ میں ہر مشکل کو برداشت کریں اور انبیا کا پیغام آگے پہنچائیں ۔ اس لیے ان کا اجر بھی بڑ ا رکھا گیا، مگر انہیں انبیا کی براہ راست رہنمائی کی سہولت کی بنا پر کفر و انکار کی صورت میں عذاب بھی اتنا ہی شدید ہوتا۔ انہی لوگوں میں ایک طرف حضرت ابوبکر ؓ جیسے لوگ تھے اور دوسری طرف ابولہب جیسے دشمنانِ حق۔

آزمائش کی دوسری سطح وہ تھی جس میں لوگوں نے امت مسلمہ اور نبیوں کے بعد ان کی امت میں شامل ہونے کا پرچۂ امتحان چنا۔ ان لوگوں کا امتحان یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والی گمراہیوں ، فرقہ واریت، بدعت اور غفلت سے بچ کر شریعت کے تقاضوں کو ہر حال میں نبھاتے رہیں اور معاشرے کے خیر و شر سے لاتعلق ہونے کے بجائے لوگوں میں نیکی کو پھیلائیں اور انہیں برائی سے روکیں ۔ یہ ذمہ داریاں ان پر اس لیے عائد کی گئیں کہ ان کے پاس انبیا کی تعلیمات تھیں اور وہ پیدائشی مسلمان تھے جنھیں قبول اسلام کے لیے کسی کڑ ی آزمائش سے نہیں گزرنا پڑ ا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عام انسانوں کے مقابلے میں ان کی رہنمائی زیادہ کی گئی، انھیں زیادہ اجر کمانے کے مواقع دیے گئے ، لیکن غفلت کی صورت میں ان کا حساب کتاب اتنا ہی سخت ہونا طے پایا۔‘‘

’’میرا اور دیگر مسلمانوں کا تعلق اسی گروہ سے تھا نا؟‘‘

’’ہاں تم ٹھیک سمجھے ۔ تیسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے اپنا پرچۂ امتحان بہت سادہ رکھا۔ یہ سارے لوگ نبیوں کی براہ راست رہنمائی کے بغیر پیدا کیے گئے اور ان کا پرچۂ امتحان فطرت میں موجود ربانی ہدایت تھی۔ یعنی توحید اور اخلاق کا امتحان۔ انہیں عام مسلمانوں کی طرح نہ شریعت کے امتحان میں ڈالا گیا نہ نبیوں کی رفاقت کے کڑ ے امتحان میں ۔ ظاہر ہے کہ ان کا حساب کتاب سب سے ہلکا ہو گا، ان کے لیے شدید عذاب کا اندیشہ بھی کم ہے اور اجر کے مواقع بھی اسی تناسب سے کم ہیں ۔‘‘

’’اور انبیا کا معاملہ کیا تھا؟‘‘

’’انہوں نے امتحان کا سب سے سخت پرچہ چنا۔ اس لیے ان کی رہنمائی براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی گئی اور اسی لیے ا ن کے احتساب کا معیار بھی سب سے زیادہ سخت تھا۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ حضرت یونس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ صرف ایک اجتہاد تھا ۔ لیکن دیکھو ان کو کس طرح اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں بند کر دیا۔‘‘

پھر اس نے اس طویل گفتگو کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا

’’اصل اصول جوتمام اقسام کے گروہوں میں کام کر رہا ہے وہ ایک ہی ہے ۔ زیادہ رہنمائی، زیادہ سخت حساب کتاب اور زیادہ بڑ ی سزا جزا۔ کم رہنمائی، ہلکا حساب کتاب، کم سزا جزا۔ مگر کسی انسان کا تعلق کس گروہ سے ہے اس کا انتخاب انسانوں نے خود کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے نہیں ۔‘‘

’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر دنیا میں میری رہنمائی بہت زیادہ کی گئی تویہ دراصل میری اپنی درخواست کے نتیجے میں کی گئی تھی۔‘‘

’’ہاں بالکل ایسا ہی ہے ۔ اسی وجہ سے تم آج اتنا اونچا درجہ پانے میں کامیاب ہوگئے ۔ اگر تم اس رہنمائی کی قدر نہ کرتے تو تمھیں اتنا ہی شدید عذاب دیا جاتا۔‘‘

’’یار میں نے کتنا بڑ ا رسک لے لیا تھا۔‘‘

’’یہی تمھاری دنیا کا اصول تھا۔ No Risk No Gain‘‘

مجھے اس لمحے میں احساس ہوا کہ میں نے کیا پالیا ہے اور کس خطرے سے نکل گیا ہوں ۔ میں بے اختیار سجدے میں گرگیا۔ دیر تک میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا رہا جس نے مجھے اس عظیم امتحان میں سرخرو کر دیا تھا۔ اتنے میں صالح نے میری پیٹھ تھپکتے ہوئے مجھ سے کہا

’’عبد اللہ! اٹھو۔‘‘

میں اٹھ کر کھڑ ا ہوا اور صالح کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بولا

’’صالح اب میں کبھی نہیں مروں گا۔ میری زندگی میں کبھی کوئی بیماری، بڑ ھاپا، خوف، غم، حزن، اداسی اور مایوسی نہیں آئے گی۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اچھلوں ، کودوں ، ناچوں ، قہقہے لگاؤں اور پوری دنیا کوچیخ چیخ کر بتاؤں کہ لوگو! میں کامیاب ہو گیا۔ لوگو! میں کامیاب ہو گیا۔ آج سے میری بادشاہت شروع ہوتی ہے ۔ آج سے میری زندگی شروع ہوتی ہے ۔‘‘

صالح خاموشی سے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھتا رہا۔ میرے خاموش ہونے پر وہ بولا

’’زندگی تو ابھی شروع ہو گی۔ ابھی تو ہمیں واپس حشر میں لوٹنا ہے ۔ بہت سے احوال دیکھنے ہیں ۔ خدا نے تمھیں بڑ ا غیر معمولی موقع دیا ہے ۔ آؤ میدان حشر میں چلتے ہیں ۔‘‘

جا ری ہے
مصنف: ابو یحیی

جب زندگی شروع ہو گی دراصل ایک ناول ہے جو آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ ناوال ابویحیی صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ جس میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں محشر کے دن کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ واقعات کس انداز میں رونما ہوں گے۔ حساب کتاب کا عمل کس انداز سے ہو گا اور نیک و کار اور گناہ گاروں کے ساتھ کس قسم کا معاملہ کیا جائے گا۔ ناول کا تعارف ابویحییٰ کی زبانی جاننے کے لیے سب سے پہلے باب کا مطالعہ کیجیے جو کہ یاسر عمران مرزا کے بلاگ پر موجود ہے۔ نیچے تمام حصوں کے روابط دیے گئے ہیں۔ والسلام

جب زندگی شروع ہو گی کے تمام ابواب

جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت
جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں
جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر
جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ
جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں
جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟
جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

11 Responses to جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ

  1. Ridwan says:

    Great story

  2. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ | The Pakistan Blog

  3. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی | Yasir Imran Mirza

  4. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت | Yasir Imran Mirza

  5. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں | Yasir Imran Mirza

  6. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر | Yasir Imran Mirza

  7. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں | Yasir Imran Mirza

  8. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟ | Yasir Imran Mirza

  9. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی آٹھواں باب: حوض کوثر پر | Yasir Imran Mirza

  10. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی نواں باب: قوم نوح اور دین بدلنے والے | Yasir Imran Mirza

  11. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی دسواں باب: حساب کتاب اور اہل جہنم | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s