جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر


ہم دونوں ایک دفعہ پھر تیزی سے چل رہے تھے ۔ عرش کی حدود سے نکلتے ہی ایک انتہائی گرم اور حبس زدہ ماحول سے واسطہ پڑا۔ لگتا تھا کہ سورج نو کروڑ میل سے سوا میل کے فاصلے پر آ کر دہکنے لگاہے ۔ ہوا بالکل بند تھی۔ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ مجھ پر جام کوثر کا اثر تھا وگرنہ اس ماحول میں تو ایک لمحہ گزارنا ناممکن تھا۔ مگر میں دیکھ رہا تھا کہ ان گنت لوگ اسی ماحول میں بدحال گھوم رہے تھے ۔ چہروں پر وحشت، آنکھوں میں خوف، بال خاک آلود، جسم پسینے سے شرابور، وجود مٹی سے اٹا ہوا، پاؤں میں چھالے اور ان چھالوں سے رستا ہوا خون اور پانی۔ یاس و ہراس کا یہ منظر میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ہر طرف افراتفری چھائی ہوئی تھی۔ ہر کسی کو اپنی پڑ ی ہوئی تھی۔ میری نظریں کسی ایسے شخص کو تلاش کر رہی تھیں جسے میں جانتا ہوں ۔ پہلی شخصیت جو مجھے نظر آئی وہ میرے اپنے استاد فرحان احمد کی تھی۔ انہوں نے دور سے مجھے دیکھا اور تیزی کے ساتھ میری نگا ہوں سے اوجھل ہونے کی کوشش کرنے لگے ۔ میں نے صالح سے کہا:

’’انھیں روکو! یہ میرے استاد ہیں ۔ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘

مگر اس نے مجھے ان کی طرف بڑ ھنے سے روک دیا اورتاسف آمیز لہجے میں بولا:

’’دیکھو عبد اللہ! اپنے استاد کی رسوائی میں اور اضافہ مت کرو۔ اس وقت یہاں کوئی شخص اگر خوار و خراب ہورہا ہے تو سمجھ لو اس کے ساتھ عدل ہو چکا ہے ۔ وہ خدائی کسوٹی پر کھوٹا سکہ نکلا، اسی لیے اس حال میں ہے ۔‘‘

میں تڑ پ کر بولا:

’’مگر ہم نے تو خداپرستی اور آخرت کی سوچ اور اخلاق کی ساری باتیں انہی سے سیکھی تھیں ۔‘‘

’’سیکھی ہوں گی‘‘، صالح نے بے پروائی سے جواب دیا۔

’’مگر ان کا علم ان کی شخصیت نہیں بن سکا۔ دیکھو! خدا کے حضور کسی شخص کا فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کے عمل، سیرت اور شخصیت کی بنیادی حیثیت ہوتی ہے ۔ علم صرف اس لیے ہوتا ہے کہ شخصیت درست بنیادوں پر تعمیر ہو سکے ۔ جب تعمیر ہی غلط ہو تو یہ علم نہیں سانپ ہے :

علم را برتن زنی مارے بود

علم را بر من زنی یارے بود

(علم ظاہر تک رہے تو سانپ ہے اور اندر اترجائے تو دوست بن جاتا ہے )

یہی تمھارے استاد کے ساتھ ہوا ہے ۔ وہ ایک اچھے مصنف تھے ۔ باتیں بھی اچھی کرتے تھے ۔ مگر ان کی سیرت و کردار ان کی باتوں کے مطابق نہ تھی۔ درحقیقت تمھارے استاد سانپ پال رہے تھے ۔ آج علم کے ان سانپوں نے انہیں ڈس لیا ہے ۔ آج یہاں جب تم لوگوں کو دیکھو گے تو انہیں ان کے ظاہر اور ان کی باتوں کے مطابق نہیں پاؤ گے ، بلکہ ان کی شخصیت ٹھیک ویسے ہی نظر آئے گی جیسا کہ وہ اندر سے تھے ۔ یاد رکھو! خدا لوگوں کو ان کے ظاہر اور ان کی باتوں پر نہیں پرکھتا۔ وہ عمل اور شخصیت کو دیکھتا ہے ۔ خاص کر اہل علم کا احتساب آج کے دن بہت سخت ہو گا۔ جو باتیں دوسرے لوگوں کے لیے عذر بن جائیں گی، عالم کے لیے نہیں بن سکیں گی۔‘‘

’’مگر انہوں نے بڑ ی قربانیاں دی تھیں ۔‘‘، میں نے ہار نہ مانتے ہوئے کہا۔

’’ہاں مگر ان کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔‘‘، صالح نے جواب دیا۔

’’علم کی غلطیاں معاف ہو سکتی ہیں ، مگر شخصیت اور عمل کی کمزوری آج کے دن اسی حال میں پہنچائے گی جس میں تمھارے استاد مبتلا ہوئے ہیں ۔ خیر ابھی تو یہ دن شروع ہوا ہے ، دیکھو آخر تک کیا ہوتا ہے ۔‘‘

میں صدمے کی حالت میں دیر تک گم سم کھڑ ا رہا۔ میں ایک یتیم شخص تھا جس کا کوئی رشتہ ناطہ نہ تھا۔ میرے لیے جو کچھ تھے وہ میرے استاد تھے ۔ انہوں نے میری سرپرستی کی، مجھے علم سکھایا، میری شادی کروائی، اور زندگی میں ایک مقصد دیا۔ جو شخص میرے لیے باپ سے زیادہ مقدم تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے ایک شاک (Shock) لگا تھا۔ میں اس کیفیت میں اپنے ماحول سے قطعاً لا تعلق ہو گیا۔

میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے ، دوڑ تے ، گرتے پڑ تے چلے جا رہے تھے ۔ فضا میں شعلوں کے دہکنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے ، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے ، گالیاں دے رہے تھے ، لڑ جھگڑ رہے تھے ، الزام تراشی کر رہے تھے ، آپس میں گتھم گتھا تھے ۔

کوئی سر پکڑ کے بیٹھا تھا۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا تھا۔ کوئی چہرہ چھپا رہا تھا۔ کوئی شرمندگی اٹھا رہا تھا۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرا رہا تھا۔ کوئی سینہ کوبی کر رہا تھا۔ کوئی خود کو کوس رہا تھا۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں ، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر برس رہا تھا۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی تھا۔ قیامت کا دن آ گیا اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں ، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں ، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار تھا۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا۔ جس کے بعد حساب کتاب شروع ہونا تھا اور پورے عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ کر دیا جانا تھا۔

مگر میں اس سب سے بے خبر نجانے کتنی دیر تک اسی طرح گم سم کھڑ ا رہا۔ یکایک میرے بالکل قریب ایک آدمی چلایا:

’’ہائے ۔ ۔ ۔ اس سے تو موت اچھی تھی۔ اس سے تو قبر کا گڑ ھا اچھا تھا۔‘‘

یہ چیخ نما آواز مجھے واپس اپنے ماحول میں لے آئی۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتد ا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں نے گردن گھما کر صالح کی طرف دیکھا۔ اس کا چہر ہ ہر قسم کے تأثر سے عاری تھا اور وہ مستقل مجھے دیکھے جا رہا تھا۔ میری توجہ اپنی طرف مبذول پا کر وہ بولا:

’’عبد اللہ! تم میدان حشر کے احوال جاننے کے شوق میں اپنی جگہ چھوڑ کر یہاں آئے ہو تو ایسے بہت سے مناظر ابھی تمھیں اور دیکھنے ہوں گے ۔ میں تمھیں مزید صدمات سے بچانے کے لیے ابھی سے یہ بات بتا رہا ہوں کہ تمھاری بیوی، تین بیٹیوں اور دو بیٹوں میں سے تمھاری ایک بیٹی لیلیٰ اور ایک بیٹا جمشید اسی میدان میں خوار و پریشان موجود ہیں ۔‘‘

صالح کی یہ بات سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ مجھے چکر سا آیا اور میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ صالح میرے ساتھ ہی زمین پر خاموش بیٹھ گیا۔

میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے ۔ مگر یہاں کسی کو کسی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ کوئی کیوں بیٹھا ہے ؟ کیوں کھڑ ا ہے ؟ کیوں لیٹا ہے ؟ کوئی کیوں رو رہا ہے ؟ کیوں چیخ رہا ہے ؟ کیوں ماتم کر رہا ہے ؟ یہ کسی کا مسئلہ نہیں تھا۔ آج سب کو اپنی ہی پڑ ی تھی۔ ایسے میں کوئی رک کر مجھ سے میرا غم کیوں پوچھتا؟ لوگ ہمارے پاس سے بھی بے نیازی سے گزرتے چلے جا رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد میں نے صالح سے پوچھا:

’’اب کیا ہو گا؟‘‘

’’ظاہر ہے حساب کتاب ہو گا۔ پھر اس کے بعد ہی کوئی حتمی بات سامنے آئے گی۔‘‘

اس کا جواب دوٹوک تھا۔ پھر وہ اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بولا:

’’جن لوگوں نے آج کے دن کی حاضری کو اپنا مسئلہ بنالیا تھا اور وہ اسی کے لیے جیے ، چاہے وہ ایمان و اخلاق کے تقاضے پورے کرنے والے صالحین ہوں یا خدا کے دین کی نصرت کو اپنا مسئلہ بنانے والے اہل ایمان، سب کے سب اس طرح اٹھائے گئے ہیں کہ ان کی نجات کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ ان لوگوں نے زندگی میں صرف نیکیاں کمائی تھیں ۔ خالق و مخلوق کے حقوق پورے کیے تھے ۔ چنانچہ ان کی موت ہی ان کا پروانہ نجات بن کر سامنے آئی تھی اور حشر کے دن انہیں شروع ہی سے عافیت نصیب ہوگئی۔‘‘

’’مگر گناہ تو سب کرتے ہیں ۔ تو کیا ان لوگوں نے گناہ نہیں کیے تھے ؟‘‘، میں نے پوچھا۔

’’ہاں گناہ انہوں نے بھی کیے تھے ، مگر ان کے چھوٹے موٹے گناہ ان کی نیکیوں نے ختم کر دیے اور اگر کبھی کسی بڑ ے گناہ سے دامن آلودہ ہوا تو انھوں نے فوراً توبہ کے آنسوؤں سے ان داغوں کو دھودیا تھا۔ ایسے تمام صاف ستھرے پاکیزہ لوگ اس وقت عرش کے سائے کے نیچے موجود ہیں ۔ ان لوگوں کا رسمی حساب کتاب ہو گا جس کے بعد ان کی کامیابی کا اعلان کر دیا جائے گا۔

اس کے برعکس جن لوگوں کے نامہ اعمال میں کوئی ایسا بڑ ا جرم ہوا جو ایمان ہی کو غیر مؤثر کر دے جیسے کفر، شرک، منافقت، قتل، زنا، زنابالجبر ، ارتداد، یتیموں کا مال کھانا، اللہ کی حدود کو پامال کرنا اور اسی نوعیت کے دیگر جرائم وغیرہ، تو میزان عدل میں ایسے لوگوں کے گنا ہوں کا پلڑ ا بھاری ہو گا اور انہیں جہنم کی سزا سنادی جائے گی۔‘‘، صالح نے قانون کی تفصیلی وضاحت کی۔

’’لیکن انسان تو ان دو انتہاؤں کے درمیان بھی ہوتے ہیں ۔ ان کا کیا ہو گا؟‘‘، میں نے سوال کیاتو صالح نے جواب دیا

:

’’ہاں ان دو انتہاؤں کے درمیان وہ لوگ ہیں جن کے پاس ایمان اور کچھ نہ کچھ عمل صالح کا سرمایہ بھی ہے ، مگر وہ دنیا میں گناہ بھی کرتے رہے اور توبہ بھی نہیں کی۔ ایسے لوگوں کو اپنے گنا ہوں کی پاداش میں حشر کے دن کی سختی جھیلنی ہو گی، اس کے بعد نجات کا کوئی امکان پیدا ہو گا۔ آج جو لوگ میدان حشر میں پھنسے ہوئے ہیں وہ یا تو مجرمین ہیں جنہیں آخر کار جہنم میں پھینکا جائے گا یا پھر وہ اہل ایمان ہیں جن کا دامن گنا ہوں سے داغدار ہے ۔ سو جس کے گناہ جتنے زیادہ اور جتنے بڑ ے ہوں گے آج کے دن اسے اتنا ہی خوار و خراب ہونا ہو گا۔ کم گناہ والوں کو حساب کتاب کے آغاز پر ہی نجات مل جائے گی۔ مگر جیسا کہ میں نے بتایا کہ دنیا کی زندگی کے سیکڑ وں برس تو گزرچکے ہیں ۔ ان لوگوں کو ابتدا میں نجات بھی ملی تو یہ حشر کی سختی دنیا کی پچاس سالہ زندگی کے گنا ہوں کا نشہ ہرن کرنے کے لیے بہت ہے ۔ جبکہ جن کے گناہ زیادہ ہیں ان کو تو نجانے ابھی کتنے ہزار یا لاکھ سال تک اس سخت ترین ماحول کی شدت، سختی اور ہول جھیلنا ہو گا۔

صالح کی بات سن کر میں نے دل میں سوچا کہ دنیا میں گناہ کتنے معمولی لگا کرتے تھے ، مگر آج یہ کس طرح مصیبت میں ڈھل گئے ہیں ۔ کاش لوگ اپنے گنا ہوں کو چھوٹا نہ سمجھتے اور مستقل توبہ کو اپنا معمول بنالیتے ۔ وہ غیبت، چغل خوری، اسراف، نمود و نمائش، الزام و بہتان وغیرہ کو معمولی چیز نہ سمجھتے ۔ اللہ اور بندوں کے حقوق کی پامالی کو چھوٹا نہ خیال کرتے ، اللہ کی نافرمانی سے بچتے اور رسولِ کریم کی پیروی کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑ تا جہاں ایک گناہ کی تھوڑ ی سی لذت سیکڑ وں برس کی خواری میں بدل چکی ہے ۔‘‘

پھر میں نے اس سے دریافت کیا:

’’کیا اس وقت کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس کی نجات ہو گی یا نہیں اور ہو گی تو کس طرح ہو گی؟‘‘

صالح نے جواب دیا:

’’یہی اصل مصیبت ہے ۔ یہاں کسی کو یہ نہیں معلوم کہ اس کا مستقبل کیا ہے ۔ نجات کی کوئی امید ہے یا نہیں ؟ یہ کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے ۔ اسی لیے رسول اللہ اور دیگر انبیا مسلسل یہ دعا کر رہے تھے کہ حساب کتاب شروع ہوجائے ۔ اس کے نتیجے میں اہل ایمان کو یہ فائدہ ہو گا کہ وہ مجرمین سے الگ ہوکر حساب کتاب کے بعد نجات پاجائیں گے ۔ تم جانتے ہو آج کے دن انفرادی طور پر نہ کسی کے لیے زبان سے کوئی حرف نکالا جا سکتا ہے اور نہ اس کی کوئی گنجائش ہے ۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ کی یہ دعا قبول ہو چکی ہے ۔ یہ بات رسول اللہ نے تمھیں خود بتائی تھی۔‘‘

’’مگر ابھی تک حساب کتاب تو شروع ہوتا نظر نہیں آتا۔‘‘، میں نے حیرت سے پوچھا تو صالح بولا:

’’دعا قبول ہوئی ہے ، مگر اس پر عملدرآمد اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے تحت ہی کریں گے ۔ ہو سکتا ہے کہ ابھی تک پوری دنیا سے لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد یہاں پہنچے ہی نہ ہوں ۔‘‘

’’کیا مطلب لوگ اتنے برسوں میں بھی یہاں تک نہیں آئے ؟‘‘

’’تمھارا کیا خیال ہے کہ آج لوگ ہوائی جہاز، ریلوں ، بسوں ، اور موٹروں میں بیٹھ کر یہاں تک آئیں گے ؟ آج سب پیدل دوڑ تے آ رہے ہیں ۔ اسرافیل کے صور نے لوگوں کو اسی سمت آنے کے لیے مجبور کر دیا تھا۔ آج سمندر پاٹ دیے گئے ہیں اور پہاڑ ڈھادیے گئے ہیں ۔ اس لیے لوگ سیدھا یہاں آ رہے ہیں ، مگر ظاہر ہے پیدل آتے ہوئے وقت تو لگے گا۔ البتہ صالحین کے ساتھ فرشتے تھے جو انہیں فوراً یہاں لے آئے ۔ بہرحال جب تک حساب کتاب شروع نہیں ہوتا، ہم یہاں موجود لوگوں کے احوال دیکھھ لیتے ہیں ۔ ویسے شاید تم اسی مقصد کے لیے یہاں آئے تھے ۔

‘‘

صالح نے یہ الفاظ کہے اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر میرا ہاتھ تھامے آگے بڑ ھنے لگا۔ اس وقت شدید گرمی سے چہرے تپ رہے تھے ۔ ہر طرف دھول و غبار اڑ رہا تھا۔ لوگ گروہوں کی شکل میں اور تنہا اِدھر سے اُدھر پریشان گھوم رہے تھے ۔ میری نظریں اپنے کسی شناسا کو تلاش کر رہی تھیں ، مگر ابھی تک کوئی شناسا صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ اچانک ایک طرف سے ایک لڑ کی نمودار ہوئی اور قبل اس کے کہ میں اس کی شکل دیکھ پاتا وہ میرے قدموں پر گرکر بے بسی سے رونے لگی۔ میں نے قدرے پریشانی سے صالح کی سمت دیکھا۔

اس نے سپاٹ لہجے میں لڑ کی سے کہا:

’’کھڑ ی ہوجاؤ!‘‘

اس کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ میری ریڑ ھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ لڑ کی بھی سہم کر کھڑ ی ہوگئی۔ میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ یہ چہرہ خوف، اندیشے اور غم کے سایوں سے سیاہ پڑ چکا تھا۔ چہرے اور بالوں پر مٹی پڑ ی ہوئی تھی۔ پیاس کے مارے ہونٹوں پر پپڑ یاں جمی ہوئی تھیں اور وحشت زدہ آنکھوں میں خوف و دہشت کا رنگ چھایا ہوا تھا۔

کرب کی ایک لہر میرے وجود کے اندر اترگئی۔ میں نے اس چہرے کو جب پہلی دفعہ دیکھا تھا تو بے ساختہ چشم بد دور کہا تھا۔ میدہ شہاب گورا رنگ۔ کھڑ ا کھڑ ا ناک نقشہ۔ کتابی چہرہ۔ گلابی ہونٹ، نیلی آنکھیں اور گہرے سیاہ بال۔ خدا نے اس چہرے کو قدرتی حسن سے اس طرح نوازا تھا کہ زیب و زینت کی اسے حاجت نہ تھی۔ مگر آج یہ چہرہ بالکل بدل چکا تھا۔ ماضی کا جمال روزِ حشر کے حزن و ملال کی تہہ میں کہیں دفن ہو چکا تھا۔ سراپا حسرت، سراپا وحشت، سراپا اذیت اور مجسم ندامت یہ وجود کسی اور کا نہیں میرے چہیتے بیٹے جمشید کی بیوی اور اپنی بڑ ی بہو ھما کا تھا جو حسرت و یاس کی ایک زندہ تصویر بن کر میرے سامنے کھڑ ی تھی۔

’’ابو جی مجھے بچالیجے ! میں بہت تکلیف میں ہوں ۔ یہاں کا ماحول مجھے مار ڈالے گا۔ میں نے ساری زندگی کوئی تکلیف نہیں دیکھی، مگر لگتا ہے کہ اب میری زندگی میں کوئی آسانی نہیں آئے گی۔ اللہ کے واسطے مجھ پر رحم کیجیے ۔ آپ اللہ کے بہت محبوب بندے ہیں ۔ مجھے بچالیجیے ۔ ۔ ۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے ھما ہچکیاں لے کر رونے لگی۔

’’جمشید کہاں ہے ؟‘‘، میں نے ڈوبے ہوئے لہجے میں دریافت کیا۔

’’وہ یہیں تھے ۔ وہ بھی آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔ مگر یہ اتنی بڑ ی جگہ ہے اور اتنے سارے لوگ ہیں کہ کسی کو ڈھونڈنا ناممکن ہے ۔ ان کا حال بھی بہت برا ہے ۔

وہ مجھھ سے بہت ناراض تھے ۔ انہوں نے ملتے ہی مجھے تھپڑ مار کر کہا تھا کہ تمھاری وجہ سے میں برباد ہو گیا۔ ابو میں بہت بری ہوں ۔ میں خود بھی تباہ ہوگئی اور اپنے خاندان کو بھی برباد کر دیا۔ پلیز مجھے معاف کر دیں اور مجھے بچالیں ۔ اللہ کا عذاب بہت خوفناک ہے ۔ میں اسے برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘

ھما فریاد کر رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑ یاں بہہ رہی تھیں ۔ میرے دل میں پدری محبت کا جذبہ جوش مارنے لگا۔ وہ بہرحال میری بہو تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، صالح اسی سپاٹ لہجے میں بولا:

’’یہ بات تمھیں دنیا میں سوچنی چاہیے تھی ھما بی بی۔ آج تمھاری عقل ٹھکانے آ گئی ہے ۔ مگر یاد ہے دنیا میں تم کیا تھیں ؟ تمھیں شاید یاد نہ آئے ۔ ۔ ۔ میں یاد دلاتا ہوں ۔‘‘

یہ کہتے ہوئے صالح نے اشارہ کیا اور یکلخت ایک منظر سامنے نظر آنے لگا۔ یہ جمشید اور ھما کا کمرہ تھا۔ مجھے لگا کہ میرے اردگرد کا ماحول غائب ہو چکا ہے اور میں اسی کمرے میں ان دونوں کے ہمراہ موجود ہوں اور براہ راست سب کچھ دیکھھ اور سن رہا ہوں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

’’جمشید اب میں اس ملک میں نہیں رہ سکتی۔ اب ہمیں کسی ویسٹرن کنٹری میں شفٹ ہوجانا چاہیے ۔‘‘

ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہوئی ھما نے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو برش کرتے ہوئے کہا۔ جمشید بیڈ پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

’’تم نے سنا جمشید میں نے کیا کہا؟‘‘

’’یس میں نے سن لیا۔ لیکن میرا پورا خاندان یہاں ہے ۔ میں انھیں چھوڑ کر کیسے جاؤں ؟‘‘

’’بالکل ویسے ہی جیسے تم ان کا گھر چھوڑ کر میرے ساتھ الگ ہو چکے ہو۔‘‘

’’یہاں کی بات اور ہے ۔ میں ہفتے میں ایک دفعہ جا کر ان سے مل تو لیتا ہوں ۔ دوسرا یہ کہ فارن ٹرپ تو ہم ہر سال کر ہی لیتے ہیں ۔ پھر ہمیں باہر شفٹ ہونے کی کیا ضرورت۔‘‘

’’نہیں اب بچے بڑ ے ہورہے ہیں ۔ میں چاہتی ہوں کہ ان کی پرورش باہر ہی ہو۔‘‘

’’لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے بچے میرے ماں باپ کی صحبت کا فائدہ اٹھائیں ۔ میں تو اپنے ماں باپ کی نیکی کا کوئی حصہ نہیں پا سکا، لیکن کم از کم میری اولاد تو نیک ہو۔‘‘

’’انہی کی صحبت سے تو میں اپنی اولاد کو بچانا چاہتی ہوں ۔ میرے ایک بچے کو بھی اپنی ددھیال کی ہوا لگ گئی تو اس کی زندگی خراب ہوجائے گی۔‘‘

اس کے ساتھ ہی فون کی گھنٹی بجی۔ جمشید نے فون اٹھایا۔ دوسری طرف سے کچھ کہا گیا۔ جمشید نے اچھا کہہ کر ریسیور نیچے رکھ دیا اور ھما کو مخاطب کر کے کہا:

’’تمھارے پاپا ہمیں نیچے بلا رہے ہیں ۔‘‘، پھر ھما کی بات کا جواب دیتے ہوئے بولا:

’’تم آخر میرے ماں باپ کے بارے میں اتنی نیگیٹو کیوں ہو؟ انہوں نے میری خوشی کی خاطر تمھیں بہو کے طور پر قبول کیا۔ حالانکہ تمھارے انداز و اطوار انھیں بالکل پسند نہ تھے ۔ تم مجھے لے کر الگ ہوگئیں تب بھی انہوں نے برا نہیں مانا۔ ۔ ۔ ‘‘

’’بس بس رہنے دو۔‘‘، ھما تنک کر بولی۔

’’انھیں میرے انداز و اطوار ناپسند تھے ۔ مگر تم میرے عشق میں دیوانے ہورہے تھے ۔ اس لیے انھوں نے مجبوراً تمھیں مجھھ سے شادی کی اجازت دی۔ تم ان سے الگ ہوکر یہاں زیادہ اچھی زندگی گزار رہے ہو۔ پاپا کے بزنس میں شریک ہو۔ کروڑ وں میں کھیلتے ہو۔ جمشید مجھھ سے شادی کر کے تم سراسر فائدے میں رہے ہو۔ تم نے کوئی نقصان نہیں اٹھایا۔‘‘

’’پتہ نہیں کیوں تمھاری باتیں سن کر کبھی کبھی ابو کی یاد آ جاتی ہے کہ نفع نقصان کا فیصلہ آخرت کے دن ہو گا۔‘‘

’’یار یہ فضول مذہبی باتیں ختم کرو۔ مجھے ان سے چڑ آتی ہے ۔ کوئی قیامت وغیرہ نہیں آنی۔ لاکھوں برس سے دنیا کا سسٹم ایسے ہی چل رہا ہے ۔

If you are smart, powerful and wealthy you are the winner. All the others are loosers and idiots. And you know this judgment day is nothing but a rabbish.

’’ویسے فار یور کائنڈ انفارمیشن، میرے پاپا نے اپنے پیر صاحب سے یہ گارنٹی لے رکھی ہے کہ قیامت میں وہ انہیں بخشوادیں گے ۔ ان کو بہت پیسہ دیتے ہیں میرے پاپا۔‘‘

’’ہاں ہم جس طرح ناجائز منافع خوری، قانون کی خلاف ورزی اور دیگرحرام ذرائع سے پیسہ کماتے ہیں ، اس کو کہیں تو پاک کرنا ہو گا۔ مجھے سب معلوم ہے ۔ تمھارے پاپا اور چودھری مختار صاحب کئی بزنس میں پارٹنر ہیں اور دو نمبر کے ہتھکنڈوں سے پیسہ کماتے ہیں ۔‘‘

’’اچھا۔ ۔ ۔ اتنا ہی حلال حرام کا خیال ہے تو چھوڑ دو پاپا کا بزنس۔‘‘

’’بزنس تو چھوڑ دوں ، مگر تمھیں کیسے چھوڑ وں ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کے بعد جاب کرنے سے نہ تمھارے خرچے پورے ہوں گے اور نہ میں تمھارا لیونگ اسٹینڈرڈ مینٹین کرسکوں گا۔ تمھارے عشق نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑ ا۔ وگرنہ میں جس خاندان سے ہوں وہاں حلال اور حرام ہی سب کچھھ ہے ۔

‘‘

’’اسی لیے اتنی مڈل کلاس زندگی گزار رہے ہیں وہ لوگ۔ اچھا ہوا تم میرے ساتھ آ گئے وگرنہ اپنے بھائیوں کی طرح موٹر سائیکل پر گھومتے یا 800 سی سی گاڑ ی چلاتے اور کسی فلیٹ میں سڑ ی ہوئی زندگی گزار کر مرجاتے ۔‘‘

’’زندگی اچھی گزاریں یا بری، مرنا تو ہمیں ہے ۔ پتہ نہیں آخرت میں ہمارے ساتھ کیا ہو گا؟‘‘

’’بے فکر رہو کچھھ نہیں ہو گا۔ وہاں بھی ہم ٹھاٹ سے رہیں گے ۔ میرے پاپا کے پیر صاحب کے سامنے تو تمھارے اللہ میاں بھی کچھ نہیں بول سکتے ۔‘‘

’’کلمۂ کفر تو مت بکو۔ اور اللہ میرا کہاں رہا ہے ۔ جب میں اللہ کا نہیں رہا تو وہ میرا کیسے رہے گا۔‘‘

یہ جملہ کہتے ہوئے جمشید کا لہجہ بھرا گیا اور اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ مگر ھما اس کے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نہیں دیکھ سکی۔ اس کا سارا دھیان آئینے کی طرف تھا۔ اب وہ اپنے میک اپ سے فارغ ہو چکی تھی، اس لیے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے اٹھتے ہوئے بولی:

’’اچھا چھوڑ و یہ فضول باتیں ! نیچے چلو، پاپا انتظار کرہے ہوں گے ۔‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

صالح نے دوبارہ اشارہ کیا اور منظر ختم ہو گیا۔ لیکن ساتھ ہی ھما کی ہر امید کو بھی ختم کرگیا۔ صالح نے اسی سفاک اور قاتل لہجے میں سختی کے ساتھ کہا:

۔۔’’تم نے دیکھا! تمھاری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ریکارڈ کر لیا گیا ہے ۔ تو جاؤ ھما بی بی اپنے پیر صاحب کو ڈھونڈو جو تمھیں بخشوا سکتے ہیں اور جن کے سامنے اللہ تعالیٰ بھی۔ ۔ ۔

‘‘

صالح نے جملہ تو ادھورا چھوڑ دیا، مگر ھما کے الفاظ دہراتے وقت اس کے لہجے میں جو غضب آ گیا تھا، اس سے میں خود دہل کر رہ گیا۔ ھما بھی بری طرح خوف زدہ ہوگئی۔ اس سے پہلے کہ صالح کچھھ اور کہتا وہ روتی چیختی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی۔

اس منظر میں جمشید کو دیکھ کر میری حالت پھر ڈانوا ڈول ہو چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ ھما کی طرح وہ بھی اس سختیوں بھرے میدان میں پریشان حال پھر رہا ہو گا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جمشید اسی حال میں میرے سامنے آ گیا تو میں کیا کروں گا۔ میں اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ صالح نے میری کمر تھپتھپا کر کہا:

’’آؤ چلتے ہیں ۔‘‘

نجانے اس تھپکی میں کیا بات تھی کہ میں نے محسوس کیا کہ میرے اوپر طاری ہونے والی پریشانی کی کیفیت بہت ہلکی ہوگئی ہے ۔ میں قدرے بشاشت سے اس کے ساتھ چلنے لگا۔ اردگرد پھر وہی پریشان اور وحشت زدہ لوگوں کی ہلچل تھی۔ ہم کچھھ ہی دور آگے چلے تھے کہ سامنے سے چودھری مختار صاحب آتے نظر آئے ۔ انہوں نے شاید مجھے دیکھھ لیا تھا اور میری ہی طرف آ رہے تھے ۔ چودھری صاحب میرے بیٹے جمشید کے سسر کے بزنس پارٹنر تھے ۔ اس حیثیت میں میری ان سے رسمی واقفیت تھی۔ میرے قریب آتے ہی انہوں نے مجھ سے گلے ملنے کی کوشش کی جسے صالح نے ہاتھ آگے بڑ ھا کر یہ کہتے ہوئے ناکام بنادیا کہ:

’’دور رہ کر بات کرو۔‘‘

اس کا لب و لہجہ اتنا درشت تھا کہ مجھے بھی اس سے اجنبیت محسوس ہونے لگی۔ اپنی اس رسوائی کے باوجود چودھری صاحب کے جوش میں کمی نہ آئی۔ وہ کہنے لگے :

’’مجھے یقین تھا عبد اللہ صاحب! آپ مجھے ڈھونڈتے ہوئے ضرور آئیں گے ۔ آپ کو یاد ہے عبداللہ صاحب! میں نے ایک مسجد تعمیر کرائی تھی جس میں آپ بھی نماز پڑ ھا کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ بھی میں غریبوں مسکینوں کی مدد کیا کرتا تھا۔‘‘

’’مجھے یاد ہے چودھری صاحب۔‘‘، میں نے دھیرے سے انہیں جواب دیا۔

’’بس تو اب آپ میری سفارش کر دیجیے ۔ میں بہت دیر سے پریشان گھوم رہا ہوں ۔ یہاں تو جس کو دیکھو اپنی ہی پڑ ی ہے۔ نہ کوئی کچھ بتاتا ہے نہ سیدھے منہ بات کرتا ہے ۔‘‘

یہ آخری بات کہتے ہوئے انہوں نے بے اختیار صالح کی طرف دیکھا۔ میں نے بھی گردن گھما کر صالح کی طرف دیکھا۔ اس نے لمحے بھر کے لیے مجھے دیکھا اور پھر چودھری صاحب کے چہرے پر نظریں گاڑ تے ہوئے بولا

:

’’آپ نے مسجد ضرور بنوائی تھی، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بلکہ اپنی نیک نامی کے لیے ۔ جب پیسے اللہ کو دیے جاتے ہیں تو گردن جھکی ہوتی ہے ، ہاتھ بندھے ہوتے ہیں ، لہجہ پست ہوتا ہے اور دل میں عاجزی اور خوف ہوتا ہے ۔ مگر آپ کے معاملے میں ایسا نہیں تھا۔ آپ اپنا نام چاہتے تھے ۔ سو دنیا میں نام ہو گیا۔ اب تو آپ کو حساب دینا ہو گا کہ یہ پیسہ کمایا کس طرح تھا۔

اور ہاں ۔ ۔ ۔ اچھے کاموں پر تو آپ کبھی کبھار ہی پیسے خرچ کیا کرتے تھے ۔ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ملک کی ایک مشہور اداکارہ کا قرب خریدنے کے لیے آپ نے کروڑ وں روپے خرچ کر دیے تھے ۔ آپ کے کھاتے میں زنا کا گناہ ہے ۔ ایک دفعہ کا نہیں بلکہ بار بار کا گناہ۔ الگ الگ عورتوں کے ساتھ زنا کا گناہ۔ ملک کی مشہور اداکاراؤں اور فیشن ماڈلز کے ساتھ آپ کے تعلقات تھے ۔ خرچ کو تو چھوڑ یے آپ کی تو آمدنی میں بھی رزق حرام کی وافر ملاوٹ تھی۔ آپ ملاوٹ کرتے تھے ۔ ذخیرہ اندوزی کرتے تھے ۔ لوگوں کو حد سے زیادہ منافع لے کر چیزیں فروخت کرتے تھے ۔ بجلی چوری، دھوکہ دہی، ملازمین کے حقوق میں ڈنڈی مارنا، یہ آپ کے کاروبار کے بنیادی اصول تھے ۔ اپنی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر آپ نے ایک میڈیا گروپ بنالیا تھا جس کے ایک ٹی وی چینل پر آپ لوگوں کو خوش کرنے والے مذہبی پروگرام دکھاتے اور دوسرے پر آرٹ اور انٹر ٹینمنٹ کے نام پر معاشرے میں حیا باختہ رویے عام کرتے تھے ۔ آپ جانتے تھے کہ دنیا میں کامیابی کا راز لوگوں کو خوش کرنا ہے ۔ کاش آپ یہ جان لیتے کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز لوگوں کو نہیں خدا کو خوش کرنا ہے ۔‘‘

صالح بے تکان بول رہا تھا اور الفاظ اس کی زبان سے تیر بن کر نکل رہے تھے ۔ ان کا سامنا کرنا چودھری صاحب کے لیے ممکن نہ تھا، مگر ان کے لیے کوئی جائے فرار نہ تھی۔ وہ گردن جھکائے سنتے رہے ۔ صالح کے لب و لہجے کی سختی نے چودھری صاحب کے چہرے پر تاریکی پھیلادی تھی۔ مگر اس نے اسی پر بس نہیں کیا اور کہنے لگا:

’’ذرا پیچھے دیکھیے چودھری صاحب آپ کے پیچھے آپ کی محبوبہ بھی کھڑ ی ہے ۔‘‘

چودھری صاحب گھبرا کر پیچھے پلٹے ۔ میں نے بھی نظر اٹھا کر چودھری صاحب کے پیچھے دیکھا۔ سامنے ایک انتہائی مکروہ شکل و صورت کی بوڑ ھی عورت کھڑ ی تھی جس کے جسم سے بدبو کے بھپکے اٹھ رہے تھے ۔ صالح نے میری پشت پر ہاتھ رکھا جس کے بعد مجھے یہ ناقابل برداشت بدبو آنا بند ہوگئی، لیکن چودھری صاحب کے لیے یہ بدبو ابھی تک باقی تھی۔ وہ بدشکل بڑ ھیا چودھری چودھری کہتے ہوئے آگے بڑ ھی۔ اس بڑ ھیا کے قرب سے خوفزدہ ہوکر چودھری صاحب پیچھے ہٹنے لگے اور پھر بے اختیار بھاگنے لگے ۔ وہ عورت یا بلا جو کچھھ بھی تھی ان کے پیچھے ہاتھ پھیلا کر دوڑ نے لگی۔

’’یہ عورت کون تھی؟‘‘، ان کے دور جانے کے بعد میں نے صالح سے پوچھا۔

’’ یہ چودھری صاحب کی وہ داشتہ اور تمھارے زمانے کی مشہور اداکارہ، رقاصہ اور ماڈل چمپا تھی۔‘‘، صالح نے اس بدشکل عورت کا تعارف کرایا تو میں نے حیرت سے کہا:

’’چمپا؟ مگر وہ تو بہت خوبصورت تھی اور لوگ اُس کے حسن کی مثالیں دیا کرتے تھے ۔‘‘

’’ہاں مثالیں دینے کے علاوہ اسے اپنا آئیڈیل بھی بناتے تھے ۔ اب دیکھھ لو لوگوں کے اس آئیڈیل کی شکل کیسی ہو چکی ہے ۔ یہ عورت اپنے بھڑ کیلے اور نیم عریاں رقصوں سے معاشرے میں فحاشی پھیلاتی تھی۔ اب خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ جن دلوں پر راج کرتی تھی، جہنم میں انہی لوگوں پر اسے عذاب بنا کر مسلط کر دیا جائے ۔‘‘، صالح نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

میں دل میں سوچنے لگا کہ میرے زمانے میں فحاشی شاید انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ بڑ ھ چکی تھی۔ ٹیلوژن نے گھر گھر اس طرح کی اداکاراؤں کے جلوے بکھیردیے تھے ۔ اس دور کے تمام معاشروں نے فحاشی اور عریانی پھیلانے والی ایسی خواتین کو عزت کے بلند ترین مقام پر بٹھادیا تھا۔ فلمی اداروں اور ٹی وی چینلز کے مالکان کے نزدیک وہ عورتیں مال کمانے کا سب سے سستا اور آسان ذریعہ تھیں جن کے فحش رقصوں ، دلربا اداؤں اور کم لباسی کو بیچ کر یہ لوگ اپنی دولت میں اضافہ کیا کرتے تھے ۔ نوجوان ان کے دیوانے تھے اور اپنی ہونے والی بیویوں میں ان کی صورتیں اور نخرے تلاش کرتے تھے ۔ لڑ کیاں انہی کے انداز و لباس کی کاپی کر کے خود کو سنوارا کرتی تھیں ۔ انہی کی وجہ سے شریف مگر عام شکل و صورت والی کتنی ہی لڑ کیاں معاشرے میں بے وقعت ہوگئی تھیں ۔ ان میں سے کتنی تھیں جو اپنے آنگن میں بہاروں کی راہ تکتے تکتے سفید بالوں کی خزاں رت تک جاپہنچتیں اور کتنی تھیں جو معاشرے کی ناقدری کے داغ کو اپنی شرافت کی چادر میں چھپائے دنیا سے رخصت ہوجاتی تھیں ۔

میرے چہرے پر دکھھ کے آثار واضح تھے ۔ یہ آثار صالح نے پڑ ھ لیے تھے ۔ وہ میرا ہاتھ تھامے خاموشی سے ایک طرف بڑ ھنے لگا۔ پھر کچھھ دیر بعدایک جگہ ٹھہر کر بولا:

’’ خدا نے تمھارے دکھوں کو دور کرنے کا ایک انتظام کیا ہے ، مگر بہتر ہو گا کہ اسے دیکھنے سے قبل گزری ہوئی دنیا کا یہ منظر بھی دیکھ لو۔‘‘

اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ میرے سامنے ایک منظر فلم ا سکرین کی طرح چلنے لگا۔ مجھے لگا کہ میں اس منظر کا ایک حصہ ہوں اور بیان ہوئے بغیر بھی ہر حقیقت سمجھ رہا ہوں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

صبح کی روشنی کھڑ کی پر پڑ ے پردوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہونے لگی تھی۔ کالج جانے کا وقت ہورہا تھا، مگر شائستہ کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ اس سردی میں بستر سے نکلے اور کالج جانے کی تیاری کرے ۔ وہ عام طور پر فجر کی نماز پڑ ھ کر کچھھ دیر مطالعہ کرتی تھی اور پھر کالج کی تیاری، مگر آج وہ نماز پڑ ھ کر دوبارہ بستر میں لیٹ گئی تھی۔ کل رات ہی سے اس کی طبیعت ناساز تھی۔

’’نہیں ! مجھے کالج جانا ہو گا۔ ورنہ اسٹوڈنٹس کا بہت نقصان ہو گا۔ ۔ ۔ اور پھر امی ابو کے لیے ناشتہ بھی تو بنانا ہے ۔‘‘

اس نے دل میں سوچا اور ہمت کر کے بستر سے اٹھ گئی۔ دھیرے سے چلتے ہوئے وہ برابر والے کمرے کی طرف گئی جو اس کے والدین کا تھا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھول کر دیکھا۔ وہ دونوں گہری نیند سورہے تھے ۔ اس کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ آ گئی۔

شائستہ نے اپنی ساری زندگی اپنے گھرانے کے نام کر دی تھی۔ اس کے والد اس کے بچپن ہی میں معذور ہوگئے تھے ۔ وہ تین بہنوں میں سب سے بڑ ی تھی۔ والدہ نے سلائی کر کے بمشکل تمام انہیں پڑ ھایا تھا۔ تعلیم مکمل کر کے اس نے پہلے ا سکول اور پھر ایک پرائیوٹ کالج میں پڑ ھانا شروع کر دیا۔ وہ اس کے خواب دیکھنے کے دن تھے ۔ وہ بہت خوبصورت تو نہیں تھی، لیکن نوجوانی خود ایک حسن ہوتی ہے ۔ مگر اس کی زندگی میں نوجوانی کا مفہوم بس ایک ذمہ داری تھا جس میں خوابوں اور خواہشوں کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ گھر کا خرچہ، والد کا علاج، مکان کا کرایہ اور چھوٹی بہنوں کی تعلیم۔ دونوں چھوٹی بہنیں خوش شکل تھیں ۔ بڑ ی ہوئیں تو آنے والے ہر رشتے کا رخ انہی کی طرف تھا۔ شائستہ راہ کی دیوار نہیں بنی اور خوشی خوشی بہنوں کو ان کے گھر آباد کر دیا۔ یہ ذمہ داریاں پوری کرتے کرتے اس کی جوانی ڈھلتی چلی گئی۔ اور اب وہ اپنے بوڑ ھے والدین کا بوجھ اٹھانے کے لیے تنہا رہ گئی تھی۔

ان حالات میں اس کا سہارا خدا کی ذات تھی۔ اسے خدا سے بہت شدید محبت تھی۔ اتنی محبت کہ زندگی کی کسی محرومی نے اس کے اندر تلخی نہیں آنے دی۔ وہ نماز روزہ کی پابند تو بچپن سے تھی، مگر خدا کی محبت کی یہ مٹھاس اسے اس کے روحانی استاد عبداللہ صاحب کی کتابیں پڑ ھ کر ملی تھی۔ ۔ ۔ اور اب یہ اس کی زندگی کا مشن تھا کہ وہ خدا کی بندگی اور محبت کی یہ مٹھاس اپنے نوجوان طلبا تک منتقل کرے ۔ وہ ایک بہترین استاد تھی اور اس کے طلبا اس کی بہت عزت کرتے تھے ۔ اسی لیے وہ اس کی باتیں ہمیشہ توجہ سے سنتے اور شائستہ شوق سے انھیں پڑ ھاتی تھی۔

مگر آج نجانے کیوں اس کا دل بہت اداس تھا۔ شاید طبیعت کی خرابی کا اثر تھا کہ وہ ڈپریشن کی کیفیت میں تھی۔ ناشتے سے فارغ ہوکر وہ آئینے کے سامنے کھڑ ی کالج جانے کے لیے تیار ہورہی تھی۔ اس نے اپنے چہرے کو غور سے دیکھا۔ ڈھلتی جوانی کے سارے اثرات اب ظاہر ہورہے تھے ۔ وہ ایک کرب کے ساتھ مسکرائی اور خود کو مخاطب کر کے دھیرے سے بڑ بڑ ائی:

’’شائستہ! تم ہار گئی۔ تمھارے حصے میں تنہائیوں کے سوا کچھ نہیں آیا؟‘‘

یہ کہتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔ شاید یہ اس کا اعتراف شکست تھا۔ مگر اسی لمحے استاد عبداللہ کی ایک بات اس کے کانوں میں گونجنے لگی:

’’جو خدا سے سودا کرتا ہے وہ کبھی نقصان نہیں اٹھاتا۔‘‘

ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس نے آنکھیں کھولیں اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی:

’’دیکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ دیکھ لیں گے ۔ ۔ ۔ اب وقت ہی کتنا بچاہے ۔‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

منظر ختم ہو گیا۔ میں نے صالح کی سمت دیکھھ کر کہا:

’’میں تو اس لڑ کی کو نہیں جانتا۔‘‘

’’اب جان لو گے ۔ ویسے تم جو کچھ لکھتے تھے ، وہ بہت دور تک جاتا تھا۔‘‘

صالح نے جواب دیا اور ساتھ ہی میرا ہاتھ تھامے ایک سمت آگے بڑ ھنے لگا۔ تھوڑ ی دیر بعد ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں ویسے ہی سخت گیر فرشتے نظر آئے جیسے عرش کی سمت عام لوگوں کو بڑ ھنے سے روکنے کے لیے کھڑ ے تھے ۔ مگر صالح کو دیکھ کر انہوں نے ہمارا راستہ چھوڑ دیا۔ ذرا دور چل کر ہمارے سامنے ایک دروازہ آ گیا۔ صالح نے دروازہ کھولا اور میرا ہاتھ تھامے اندر داخل ہو گیا۔ یہ دروازہ ایک دوسری دنیا کا دروازہ تھا۔ کیونکہ اس کے دوسری طرف حشر کے پریشان کن ماحول کے برعکس منظر پھیلا ہوا تھا۔ میں بے اختیار بولا:

’’صالح! ہم واپس نبیوں کے کیمپوں کی طرف تو نہیں آ گئے ؟‘‘

اس نے مسکرا کر کہا:

’’ہاں ۔ ۔ ۔ تمھار ا دکھھ تو یہیں آ کر دور ہو سکتا ہے ۔‘‘

ہم چلتے ہوئے ایک شاندار خیمے کے قریب پہنچے ۔ اس کے دروازے پر ایک انتہائی باوقار اور پرنور چہرے والے ایک صاحب کھڑ ے تھے ۔ یہ میرے لیے بالکل اجنبی تھے ۔ قریب پہنچ کر صالح نے ان سے میرا تعارف کرایا:

’’یہ عبد اللہ ہیں ۔ محمد رسول اللہ کی امت کے آخری دور کے امتی۔ یرمیاہ آپ انہی سے ملنا چاہ رہے تھے نا؟‘‘ ، یہ آخری جملہ اس عظیم ہستی سے میرا تعارف بھی تھا اور یہ وضاحت بھی کہ میں یہاں کیوں موجود ہوں ۔

’’آپ یرمیاہ ہیں ؟ مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ لیکن آپ مجھے کیسے جانتے ہیں ؟‘‘، میں نے پرجوش لہجے میں کہا اور ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔

’’آپ کے حالات اور زندگی میں میرے لیے ہمیشہ بڑ ی رہنمائی رہی۔‘‘

یہ کہتے ہوئے میرے ذہن میں بنی اسرائیل کے اس عظیم پیغمبر کی زندگی گھوم رہی تھی۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بنی اسرائیل بدترین اخلاقی انحراف کا شکار تھے اور اسی بنا پر اپنے زمانے کی سپر پاور عراق کے حکمران بخت نصرکے ہاتھوں سیاسی مغلوبیت کے خدائی عذاب میں مبتلا ہو چکے تھے ۔ مگر ان کے لیڈروں نے قوم کی اصلاح کرنے کے بجائے ان کے ہاں سیاسی غلبے کی سوچ عام کر دی۔ یرمیاہ نے بنی اسرائیل کو ان کی اخلاقی اور ایمانی گمراہیوں پر متنبہ کیا اور انھیں سمجھایا کہ وقت کی سپر پاور سے ٹکرانے کے بجائے اپنی اصلاح کریں ۔ قوم کو تباہی سے بچانے کے لیے انھوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر شادی بھی نہ کی۔ مگر ان کی قوم نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے انہیں کنویں میں الٹا لٹکادیا اور پھر بخت نصر کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس کے بعد بخت نصر عذاب الٰہی بن کر نازل ہوا اور اس نے یروشلم (بیت المقدس) کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ چھھ لاکھ یہودی قتل ہوئے اور چھھ لاکھ کو وہ غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گیا۔

میں اسی سوچ میں تھا کہ انھوں نے میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہا:

’’اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں آپ کی قوم کے اعمال اور رویے بالکل میری قوم جیسے تھے ۔‘‘

’’لیکن آپ ایک نبی تھے اور میں ایک عام آدمی تھا۔‘‘

’’یہی قوموں کا اصل المیہ ہوتا ہے ۔‘‘، انھوں نے میری بات کے جواب میں کہا۔

’’ہر قوم کو اپنے زمانے کا بڑ ے سے بڑ ا آدمی، چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، ایک عام اور معمولی سا آدمی لگتا ہے ۔ وہ اس کی تکذیب کر دیتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اگلی نسلیں اس نبی یا مصلح کو تقدس کے اس آسمان پر بٹھادیتی ہیں ، جہاں وہ خدا سے بھی زیادہ محترم ہوجاتا ہے ۔‘‘

’’اقوام کی نفسیات کا کتنا خوبصورت تجزیہ کیا ہے آپ نے ۔ مگر آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ مجھے کیسے جانتے ہیں اور مجھ سے کیو ں ملنا چاہ رہے تھے ؟‘‘

میری اس بات کے جواب میں وہ مسکراتے ہوئے بولے :

’’آپ سے میں اپنی ہونے والی بیگم کے رشتے سے ملنا چاہتا تھا۔ آپ سے ملانے کے لیے انہوں نے مجھے اعراف سے یہاں نیچے بلوالیا ہے ۔ وہ آپ سے ملنے کی بے حد خواہشمند ہیں ۔‘‘

یہ کہتے ہوئے انہوں نے خیمے کی طرف رخ کر کے کسی کو آواز دی:

’’ذرا باہر آنا! دیکھو تو تم سے کون ملنے آیا ہے ؟‘‘

میں نے پرجوش انداز میں ان سے مصافحہ کیا اور پھر اس لڑ کی کو دیکھنے لگا جو خیمے سے نکل کر ان کے برابر آکھڑ ی ہوئی تھی۔ یہ لڑ کی اپنے حلیے سے کوئی شہزادی اور شکل و صورت میں پرستان کی کوئی پری لگ رہی تھی۔ اس لڑ کی نے گردن جھکا کر مجھے سلام کیا اور مجھے مخاطب کر کے کہا:

’’آپ مجھے نہیں جانتے ۔ مگر میرے لیے آپ میرے استاد ہیں اور اس رشتے سے میں آپ کی روحانی اولاد ہوں ۔ میرا نام شائستہ ہے ۔ گمراہی کے اندھیروں میں خدا کے سچے دین کی روشنی میں نے آپ کے ذریعے سے پائی تھی۔ خدا سے میرا تعارف آپ نے کرایا تھا۔ خدا کے ساتھ انسان کا اصل تعلق کیا ہونا چاہیے ، یہ میں نے آپ ہی سے سیکھا تھا۔ آج دیکھیے ! خدا نے مجھ پر احسان کیا اور اب میں ایک نبی کی بیوی بننے جا رہی ہوں ۔‘‘

تھوڑ ی دیر قبل صالح نے اسی لڑ کی کو مجھے دکھایا تھا۔ مگر اب اس کی حالت میں جو انقلاب آ چکا تھا اسے دیکھھ کر میں دنگ رہ گیا۔ لیکن اسے اس طرح دیکھھ کر مجھے جتنی خوشی ہوئی، اس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے شائستہ سے کہا:

’’میری طرف سے آپ دونوں دلی مبارکباد قبول کیجیے ۔ امید ہے کہ آپ مجھے اپنی شادی میں بھی یاد رکھیں گی۔‘‘

’’کیوں نہیں ۔ آپ کو تو بلانے کا مقصد ہی یرمیاہ کو یہ بتانا تھا کہ میرے میکے والے کوئی معمولی لوگ نہیں ہیں ۔‘‘، اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

’’پھر تو آپ نے غلط شخص کا انتخاب کیا ہے ۔‘‘

میں نے فوراً جواب دیا۔ پھر اپنا رخ یرمیاہ نبی کی طرف کرتے ہوئے کہا:

’’ لیکن شائستہ کی بات بالکل درست ہے ۔ ان کے میکے کے لوگ معمولی نہیں ۔ اور ہوبھی کیسے سکتے ہیں ۔ شائستہ امت محمدیہ میں سے ہیں ۔ نبی عربی کی نسبت کے بعد ان کا میکہ معمولی نہیں رہا۔‘‘

یرمیاہ نے بھی اس بحث میں شکست نہ کھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ کہنے لگے :

’’مگر وہ تو نبی ہونے کی حیثیت میں میرے بھائی ہوئے ۔ وہ آپ کی طرف سے کیسے آ سکتے ہیں ؟ البتہ شائستہ کی بات ٹھیک ہے ۔ ان کے میکے کے لوگ واقعی معمولی نہیں ہیں ۔‘‘

اس موقع پر صالح نے مداخلت کی اور کہا:

’’آپ لوگوں کی مرتبہ و منصب کی اس بحث کا فیصلہ بعد میں ہوتا رہے گا۔ سر دست مجھے عبداللہ کو واپس لے کر جانا ہے ۔ اس لیے ہمیں اجازت دیجیے ۔‘‘، اس کے ساتھ ہم دونوں وہاں سے رخصت ہوگئے ۔واپسی پر صالح مجھ سے بولا:

’’ہو گیا نا تمھارے دکھھ کا مداوا؟

‘‘

میں نے خدا کی اپنے بندوں پر عنایات کا جو مشاہدہ ابھی کیا تھا اس نے میری قوت گویائی سلب کر لی تھی۔میں خاموش رہا ۔ صالح نے اپنی بات جاری رکھی:

’’ یہ لڑ کی اپنے صبر کی وجہ سے اس مقام تک پہنچی ہے ۔ خدا نے اس لڑ کی کو سخت حالات اور معمولی شکل و صورت کے ساتھ آزمایا تھا۔ مگر اس نے محروم ہونے کے باوجود صبر، شکر اور سچی خدا پرستی کی راہ اختیار کی تھی۔ اور آج تم نے دیکھھ لیا کہ جو پچھلی دنیا میں پانے سے محروم رہ گئے ، ان کا صبر آج انھیں کس بدلے کا مستحق بنا رہا ہے ۔‘‘

میں چلتے چلتے رکا۔ اپنی نظریں اٹھا کر آسمان کو دیکھا، آسمان والے کو دیکھا اور پھر اپنی گردن جھکا دی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جا ری ہے
مصنف: ابو یحیی

جب زندگی شروع ہو گی دراصل ایک ناول ہے جو آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ ناوال ابویحیی صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ جس میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں محشر کے دن کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ واقعات کس انداز میں رونما ہوں گے۔ حساب کتاب کا عمل کس انداز سے ہو گا اور نیک و کار اور گناہ گاروں کے ساتھ کس قسم کا معاملہ کیا جائے گا۔ ناول کا تعارف ابویحییٰ کی زبانی جاننے کے لیے سب سے پہلے باب کا مطالعہ کیجیے جو کہ یاسر عمران مرزا کے بلاگ پر موجود ہے۔ نیچے تمام حصوں کے روابط دیے گئے ہیں۔ والسلام

جب زندگی شروع ہو گی کے تمام ابواب

جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت
جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں
جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر
جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ
جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں
جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟
جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

10 Responses to جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر

  1. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی | Yasir Imran Mirza

  2. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت | Yasir Imran Mirza

  3. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں | Yasir Imran Mirza

  4. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں | Yasir Imran Mirza

  5. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟ | Yasir Imran Mirza

  6. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ | Yasir Imran Mirza

  7. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی آٹھواں باب: حوض کوثر پر | Yasir Imran Mirza

  8. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی نواں باب: قوم نوح اور دین بدلنے والے | Yasir Imran Mirza

  9. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی دسواں باب: حساب کتاب اور اہل جہنم | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s