جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں


ہم ہوا کے نرم و تیز جھونکوں کی مانند آگے بڑ ھ رہے تھے ۔ اس چلنے میں کوئی مشقت نہ تھی بلکہ لطف آ رہا تھا۔ نجانے ہم نے کتنا فاصلہ طے کیا تھا کہ صالح کہنے لگا۔

’’عرشِ الٰہی کے سائے میں مامون علاقہ شروع ہونے والا ہے ۔ وہ دیکھو! آگے فرشتوں کا ایک ہجوم نظر آ رہا ہے ۔ ان کے پیچھے ایک بلند دروازہ ہے ۔ یہی اندر داخلے کا دروازہ ہے ۔‘‘

میں نے صالح کے کہنے پر سامنے غور سے دیکھا تو واقعی فرشتے اور ان کے پیچھے ایک دروازہ نظر آیا۔ مگر یہ عجیب دروازہ تھا جو کسی دیوار کے بغیر قائم تھا۔ یا شاید دیوار غیر مرئی تھی کیونکہ دروازے کے ساتھ پیچھے کی سمت کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ گویا ایک نظر نہ آنے والا پردہ تھا جس نے دروازے کے پیچھے کے ہر منظر کو ڈھانپ رکھا تھا۔

تاہم اس کی بات سنتے ہی میرے قدم تیز ہوگئے اور فاصلہ تیزی سے گھٹنے لگا۔ دروازہ ابھی دور ہی تھا، مگر فرشتے واضح طور پر نظر آنے لگے تھے ۔ یہ انتہائی سخت گیر اور بلند قامت فرشتے تھے جن کے ہاتھ میں آگ کے کوڑ ے دیکھ کر میں گھبرا گیا۔ میں نے صالح کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اسے روکتے ہوئے کہا:

’’تم غالباً غلط سمت جا رہے ہو۔ یہ تو عذاب کے فرشتے لگتے ہیں ۔‘‘

’’چلتے رہو۔‘‘، اس نے رُکے بغیر جواب دیا۔

ناچار مجھے بھی اس کے پیچھے جانا پڑ ا۔ تاہم میں نے اتنا اہتمام کر لیا کہ اس سے دو قدم پیچھے رہ کر چلنے لگا تاکہ اگر پلٹ کر بھاگنے کی نوبت آئے تو میں اِس سے آگے ہی ہوں ۔ صالح کو میرے احساسات کا اندازہ ہو چکا تھا۔ اس نے وضاحت کرنی ضروری سمجھی:

’’یہ بے شک عذاب ہی کے فرشتے ہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘

میں نے اس کی بات درمیان سے ا چک کر کہا

’’اور یہاں اس لیے کھڑ ے ہیں کہ آگے جانے سے قبل میری ٹھکائی کر کے میرے گناہ جھاڑ یں ۔‘‘

وہ میری بات سن کر بے اختیار ہنسنے لگا اور بولا:

’’یار دیکھو اگر ٹھکائی ہونی ہے تو تمھارا بھاگنا مفید ثابت نہیں ہو گا۔ کوئی شخص ان فرشتوں کی رفتار اور طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ویسے تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ یہاں تمھارے لیے نہیں کھڑ ے ہیں ۔ بلکہ یہ اس لیے کھڑ ے ہیں کہ خدا کا کوئی مجرم اگر اس سمت آنے کی کوشش کرے ، تو اُسے اتنا ماریں کہ وہ دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت نہ کرے ۔‘‘

ہمارے قریب پہنچنے سے قبل ہی انہوں نے دو حصوں میں بٹ کر ہمارے لیے ایک راستہ بنادیا۔ ازراہِ عنایت انہوں نے یہ اہتمام بھی کیا کہ کوڑ وں کو اپنے پیچھے کر لیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ ہمیں دیکھ کر مسکرائیں گے اور اظہارِ مسرت کریں گے ، مگر کوشش کے باوجود میں ان کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ تلاش نہ کرسکا۔ صالح کہنے لگا:

’’ان کی موجودگی کا ایک مقصد تمھیں اللہ کی اس نعمت کا احساس دلانا ہے کہ کس قسم کے فرشتوں سے تمھیں بچالیا گیا۔‘‘

بے اختیار میری زبان سے کلمۂ شکر و حمد ادا ہو گیا۔

ان کے بیچ سے گزر کر ہم دروازے کے قریب پہنچے تو وہ خود بخود کھل گیا۔ اس کے کھلتے ہی میری نظروں کے سامنے ایک پرفضا مقام آ گیا۔ یہاں سے وہ علاقہ شروع ہورہا تھا جہاں عرشِ الٰہی کی رحمتیں سایہ فگن تھیں ۔ روح تک اتر جانے والی ٹھنڈی ہوائیں اور مسحورکن خوشبو مجھے آنے لگی تھی۔ ہم دورازے سے اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ دروازے کے ساتھ ہی دور تک فرشتے قطار در قطارکھڑ ے تھے ۔ ان کے چہرے بے حد دلکش تھے اور اس سے کہیں زیادہ خوبصورت مسکراہٹ ان کے چہروں پر موجود تھی۔ یہ ہاتھ باندھے مؤدب انداز میں کھڑ ے تھے ۔ ہم جیسے ہی ان کے بیچ سے گزرے ، دعا و سلام اور خوش آمدید کے الفاظ سے ہمارا خیر مقدم شروع ہو گیا۔ ان کے رویے اور الفاظ کی تاثیر میری روح کی گہرائیو ں میں اتر رہی تھی اور ان کے وجود سے اٹھنے والی خوشبوئیں میرے احساسات کو سرشار کر رہی تھیں ۔

یہاں داخل ہوتے ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اندر کوئی غیر معمولی تبدیلی آئی ہے ۔ لیکن اس وقت میری ساری توجہ فرشتوں اور یہاں کے دلکش ماحول کی طرف تھی اس لیے میں زیادہ توجہ نہیں دے سکا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے ۔ میں اس کیفیت کو بس یہاں کے ماحول کا ایک اثر سمجھا۔

چلتے چلتے مجھے کچھ خیال آیا تو میں نے صالح کے کان میں سرگوشی کی:

’’یار یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ لوگ مجھے کوئی نجات یافتہ شخص مان کر میرا استقبال کر رہے ہیں ، لیکن یہاں میری ذاتی واقفیت تو کوئی نہیں ہے ۔ کیا یہاں تمھارا کوئی واقف ہے ؟‘‘

میری بات سن کر صالح ہنستے ہوئے بولا:

’’عبد اللہ! آج ہر شخص اپنی پیشانی سے پہچانا جائے گا کہ وہ کون ہے ۔ تمھیں علم نہیں مگر تمھارا پورا پورا تعارف تمھاری پیشانی پر درج ہے ۔ تم دیکھتے جاؤ آگے کیا ہوتا ہے ۔‘‘

قطار کے اختتام پر کھڑ ا ایک وجیہ فرشتہ، جو اپنے انداز سے ان سب کا سردار معلوم ہوتا تھا، میرے پاس آیا اور میرا نام لے کر اس نے مجھے سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ بہت نرمی اور محبت سے بولا:

’’کیا آپ آئینہ دیکھنا پسند کریں گے ؟‘‘

میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے یہ بات مذاق میں کہی تھی یا سنجیدگی سے ۔ کیوں کہ اس وقت آئینہ دیکھنے کی کوئی معقول وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ تاہم اس نے میرے جواب کا انتظار نہیں کیا۔ ایک فرشتے کو اشارہ کیا اور اگلے ہی لمحے میرے سامنے ایک قدِ آدم آئینہ تھا۔ میں نے اس آئینے کو دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اس نے میرے ساتھ مذاق کیا تھا۔ کیونکہ یہ آئینہ نہیں بلکہ ایک انتہائی خوبصورت اور زندگی سے بھرپور پینٹنگ تھی جس میں ایک خوبصورت نوجوان بلکہ شہزادہ شاہانہ لباس زیب تن کیے کھڑ ا تھا۔ یہ تصویر کسی بھی اعتبار سے تصویر نہیں لگ رہی تھی بلکہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے آئینے کے سامنے کوئی انسان زندہ کھڑ ا ہوا ہے ۔

میں نے اس فرشتے کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا:

’’آپ اچھا مذاق کرتے ہیں ، مگر پینٹنگ اس سے زیادہ اچھی کرتے ہیں ۔ مصور تو آپ ہی معلوم ہوتے ہیں ، لیکن اس میں ماڈل کون ہے ؟‘‘

فرشتے نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا

’’پینٹر تو ’المصور‘ یعنی مالکِ ذوالجلال ہے ۔ البتہ ماڈل آپ ہیں ۔‘‘

اس کے بعد اس نے صالح کو اشارہ کیا۔ وہ میرے قریب آیا اور میرا سر گھما کر دوبارہ پینٹنگ کی طرف کر دیا۔ اس دفعہ پینٹنگ میں اس نوجوان کے ساتھ صالح بھی نظر آ رہا تھا۔ میں حیرت سے کبھی صالح کو دیکھتا اور کبھی اس آئینے میں کھڑ ے دوسرے شخص کو جس کے بارے میں ان دونوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ یہ میں ہی تھا۔

’’مگر یہ میں تو نہیں !‘‘، میں نے بلند آواز سے کہا۔

جواب میں صالح نے یہ مصرعہ پڑ ھ دیا:

اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

’’لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟ میں تو ایک بوڑ ھا شخص تھا اور جوانی میں بھی کم از کم ایسا نہیں تھا!‘‘

اس دفعہ میری بات کا جواب فرشتے نے دیا’’

آپ ناممکنات کی دنیا سے ممکنات کی دنیا میں آ گئے ہیں ۔ آپ انسانوں کی دنیا سے خدا کی دنیا میں آ گئے ہیں ۔ آج ہر شخص ویسا نہیں دکھائی دے گا جیسا وہ دنیا میں دوسرے انسانوں کو نظر آتا تھا۔ بلکہ آج ہر شخص ویسا نظر آئے گا جیسا وہ اپنے مالک کو نظر آتا تھا۔ اور مالک کی نظر میں انسانوں کی صورت گری ان کے گوشت پوست پر نہیں بلکہ ان کے ایمان و اخلاق اور اعمال کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ آپ اسے دنیا میں جیسے لگتے تھے ، ویسا ہی آج اس نے آپ کو بنادیا ہے ۔ ویسے یہ عارضی انتظام ہے ۔ آپ کی فیصلہ کن شخصیت اس وقت سامنے آئے گی، جب جنت میں آپ کے درجات کا فیصلہ حتمی طور پر ہو گا۔ سرِ دست تو آپ آگے جائیں ۔ بہت سے دوسرے لوگ آپ کا نتظار کر رہے ہیں ۔‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہم آگے کی سمت بڑ ھ رہے تھے ۔ مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اندر داخل ہوتے ہی مجھے جس تبدیلی کا احساس ہوا تھا وہ کیا تھی۔ میری چال میں بہت اعتماد تھا۔ شاید یہ آئینے کا اثر تھا کہ اب مجھے یقین آنے لگا تھا کہ ربِّ کعبہ نے مجھے سرفراز کر کے میرے بخت کو ہمیشہ کے لیے جگادیا ہے ۔ میری زندگی کے شب و روز اور اس میں پیش آنے والے مسائل اب میرے لیے خواب و خیال ہو چکے تھے ۔ پچھلی دنیا کی محرومیاں ، صبر اور محنتیں کبھی اس طرح بھی رنگ لائیں گی، مجھے اس کا قطعاً اندازہ نہیں تھا۔ قرآنِ کریم اور احادیث میں ا گلی دنیا کا بہت کچھ تعارف پڑ ھا تھا، مگر جو آنکھ دیکھتی، کان سنتے اور حواس محسوس کرسکتے ہیں وہ الفاظ سے شعور تک بہت کم منتقل ہوتا ہے ۔ آج جب یہ سب حقائق سامنے ہیں تو یقین نہیں آتا کہ میں ۔ ۔ ۔ مجھے یہ اندازہ تو زندگی ہی میں ہو چکا تھا کہ آخرت کی بازی میں جیت جاؤں گا۔ مگر اس جیت کا مطلب اتنا شاندار ہو گا، اس کا مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔

’’تمھیں ابھی پورا ندازہ نہیں ہوا ہے ۔‘‘، صالح پتہ نہیں کس طرح میرے خیالات پڑ ھ رہا تھا۔ اس کے جملے نے مجھے چونکادیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی:

’’اصل زندگی تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئی۔ ابھی تو تم حشر کے عارضی مرحلے میں ہو۔ اصل زندگی تو درحقیقت جنت میں شروع ہو گی۔ اُس وقت خدا کا بدلہ دیکھنا۔ اُس وقت خدا کو داد دینا۔ سرِ دست تو آگے دیکھو، ہم کہاں کھڑ ے ہیں ۔‘‘

اس کی بات سے مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے ماحول سے بالکل لاتعلق ہوکر چل رہا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ ہم اس وقت ایک وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان میں تھے ۔ آسمان پر سورج چمک رہا تھا۔ اس میں روشنی تھی پر دھوپ نہ تھی۔ آسمان پر کہیں بادل نہ تھے ، مگر زمین پر ہر جگہ سایہ تھا۔ زمین سبز تھی۔ شاید اسی کے اثر سے آسمان نیلگوں کے بجائے سبزی مائل ہورہا تھا۔ میدان کے وسط میں ایک فلک بوس پہاڑ تھا۔ محاورۃً نہیں ، حقیقتاً فلک بوس۔ کیونکہ اس کی چوٹی جہاں سے ہم کھڑ ے دیکھ رہے تھے ، آسمان میں پیوست لگ رہی تھی۔ فضا میں ہر طرف بھینی بھینی خوشبو مہک رہی تھی۔ یہ خوشبو ہر اعتبار سے بالکل نئی مگر انتہائی مسحورکن تھی۔ ہماری سماعت ہمیں ان نغموں کا احساس دلا رہی تھی جو کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی کے ساتھ چار سو بکھرے ہوئے تھے ۔ مجھے یہ لگ رہا تھا کہ یہ خوشبو اور یہ موسیقی میری ناک اور کان کے راستے سے نہیں بلکہ براہِ راست میرے اعصاب تک پہنچ رہی ہے ۔ اس کی تاثیر میں مہک و آہنگ اور سکون و سرور کے عناصر اس خوبصورت تناسب سے یکجا تھے کہ مجھے اپنا وجود تحلیل ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

میں ایک جگہ رک کر کھڑ ا ہو گیا اور آنکھیں بند کر کے اس ماحول میں گم ہو گیا۔ صالح نے میرا انہماک دیکھ کر کہا

’’اس پہاڑ کا نام اعراف ہے ۔ آؤ اس کے گرد چکر لگاتے ہیں ۔ میں ساتھ ساتھ تمھیں یہاں کی ساری تفصیلات سے آگاہ کرتا رہوں گا۔‘‘

میں جواب دیے بغیر سحر زدہ انداز میں صالح کے ساتھ ہولیا۔ ہم نے دائیں طرف سے اپنا سفر شرو ع کیا۔ ہم کچھ دور ہی چلے تھے کہ پہاڑ کے ایک حصے پر امت آدم لکھا ہوا نظر آیا۔ میں نے صالح سے پوچھا:

’’کیا یہاں آدم علیہ السلام ہیں ؟‘‘’’

نہیں ۔ سارے نبی پہاڑ کے اوپر بلند حصے پر موجود ہیں ۔ تم دیکھو گے کہ ہر تھوڑ ی دیر بعد اسی طرح کسی نہ کسی نبی اور اس کی امت کا نام لکھا ہوا نظر آئے گا۔ ہر امت کے نجات یافتہ لوگ۔ ۔ ۔ تمھاری طرح کے نجات یافتہ لوگ۔ ۔ ۔ یہاں آ کر جمع ہوں گے ۔‘‘، اس نے جواب دیا۔

’’کیا مجھے امت محمدیہ کے کیمپ میں جانا ہو گا؟‘‘، اس پر میں نے اشتیاق سے پوچھا۔

صالح نے نفی میں سر ہلایا اور بولا’’

ان مقامات پر نجات یافتہ لوگ کھڑ ے ہوں گے اور روز حشر کے اختتام پر یہیں سے جنت میں جائیں گے ۔ تمھیں پہاڑ کے اوپر جانا ہو گا۔ وہاں سارے نبی اور ان کی امتوں میں سے وہ لوگ جمع ہیں جنہوں نے نبیوں کے اتباع میں لوگوں پر حق کی شہادت دی۔ یہ لوگ یہیں سے انسانوں کے بارے میں خدا کا فیصلہ دیکھتے رہیں گے ۔اسی جگہ سے انہیں انسانوں پر گواہی دینے کے لیے بلایا جائے گا۔ ہر نامراد شخص جہنم میں اور ہر کامیاب شخص پہاڑ کے نیچے اپنے اپنے نبی کے کیمپ میں آتا جائے گا۔ پھر ہر امت گروہ در گروہ یہیں سے جنت میں جائے گی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حشر میں ہونے والے ہر فیصلے کو براہِ راست دیکھا جا سکتا ہے ۔ جنت و جہنم بھی یہاں سے نظر آتی ہیں ۔‘‘

ہم یہ گفتگو کر رہے تھے اور ایک ایک کر کے تمام نبیوں کی امت کے مقامات سے گزرتے جا رہے تھے ۔ اس وقت تک ہر جگہ بہت کم لوگ تھے ۔ میں نے صالح سے کہا:

’’شایدا بھی تمام لوگ نہیں آئے ۔‘‘

اس نے کہا:

’’نہیں یہ بات نہیں ۔ دیگر نبیوں کی امت میں سے نجات یافتہ لوگ ہیں ہی بہت کم۔ زیادہ تر لوگ بنی اسرائیل میں سے ہیں اور سب سے زیادہ امتِ محمدیہ میں سے ہیں ۔ یہ دونوں کیمپ ابھی تک نہیں آئے ۔ لیکن سرِ دست وہاں بھی زیادہ لوگ نہیں ہیں ۔ لیکن تھوڑ ی دیر میں ہوجائیں گے ۔ آؤ اب اوپر چلتے ہیں ۔ اِس پہاڑ کا چکر تو بہت طویل ہوجائے گا۔‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے بلند مقامات پر چڑ ھنے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے ۔ لیکن شاید یہ میری زندگی کی سب سے عجیب بلندی تھی۔ یہ بظاہر بہت بلند اور آسمان تک اونچی تھی۔ مگر یہاں سے ہم زمین کو اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے چند منزل ہی اوپر کھڑے ہوں ۔ نیچے سے جو جگہ ایک چوٹی لگتی تھی وہ ایک ہموار سطح مرتفع تھی۔ تاہم اس ہموار زمین پر تھوڑ ے تھوڑ ے فاصلے پر بلند و بالا قلعہ نما تعمیرات بنی ہوئی تھیں ۔ تاہم ان کے اردگرد کوئی دیوار تھی اور نہ ان میں دروازے ہی موجود تھے ۔ اس لیے باہر سے بھی اندر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ یہاں ہر طرف شاہانہ انداز کے خدم و حشم تھے ۔ عالیشان تخت پر تاج پہنے ہوئے انتہائی باوقار ہستیاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان کے اردگرد اسی شان کے لوگ شاہانہ نشستوں پر براجمان تھے ۔ میں نے صالح سے ان بلند تعمیرات کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا

’’یہ مختلف انبیا کی عارضی قیام گاہیں ہیں ۔ انھی کی بنا پر اس پہاڑ کو اعراف کہا جاتا ہے ۔ تم تو جانتے ہو کہ اعراف کا مطلب بلندیوں کا مجموعہ ہے ۔‘‘

میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بولا:

’’تخت پر بیٹھے ہوئے حضرات انبیاے کرام ہیں ۔ اور ان کے اردگرد بیٹھے لوگ ان کی امت کے شہدا اور صدیقین ہیں ۔ صدیقین وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبیوں کی زندگی میں ان کا ساتھ دیا اور شہدا وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیا کے بعد ان کی دعوت کو آگے پہنچایا۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو دنیا میں خدا کے لیے جیے اور اسی کے لیے مرے ۔ اسی کے صلے میں یہ لوگ آج اس عزت و سرفرازی سے ہمکنار ہوئے ہیں جس کا مشاہدہ تم اس وقت کر رہے ہو۔‘‘

’’کیا یہ ممکن ہے کہ انبیا علیھم السلام سے میری ملاقات ہو سکے ؟‘‘، میں نے پوچھا۔

’’سب سے ملاقات کا وقت تو نہیں لیکن کچھ سے ضرور مل سکتے ہیں ۔‘‘

اس نے جواب دیا اور پھر ایک ایک کر کے خدا کے جلیل القدر پیغمبروں سے میری ملاقات کرانی شروع کی۔ وہ پیغمبر جو میرے لیے عظمتوں کا نشان تھے ، میں ان سے مل رہا تھا۔ آدم، نوح، ہود، صالح، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور کئی پیغمبر وہ تھے جن کے نام سے میں آج پہلی دفعہ واقف ہوا تھا۔ سب نے گلے لگا کر اور میری پیشانی پر بوسہ دے کر میرا استقبال کیا۔ مجھے مبارکباد دی۔

اس دوران میں صالح نے مجھ سے کہا:’’

انبیا تو بہت ہیں اور جنت کی بستی میں ان سے ملنے کا وقت بھی بہت ہو گا، لیکن اب آخر میں ابو الانبیا سے مل لو۔ اس کے بعد ہمیں پیغمبر عربی کے حضور پیش ہونا ہو گا۔ تمھیں وہاں پہنچنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔‘‘

ہم سیدنا ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چل پڑ ے ۔ میں نے دور سے انھیں دیکھا۔ ابھی تک جتنے لوگ میں نے دیکھے تھے وہ ان میں سب سے زیادہ بلند اور اعلیٰ مقام کے مالک نظر آئے ، مگر ان کے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کی تعداد انتہائی کم تھی۔ اس کا سبب مجھے صالح سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ابو الانبیا کی نسل میں جتنے زیادہ اہل ایمان پیدا ہوئے ، آپ کے معاصرین میں آپ پر اتنے ہی کم لوگ ایمان لائے ۔

میں دھیرے دھیرے چلتا ہوا سیدنا ابراہیم کے قریب پہنچا۔ مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ وہ میرا نام لے کر بولے :

’’عبد اللہ! تمھارا آنا مبارک ہو۔‘‘

میں نے آگے بڑ ھ کر ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔ انہوں نے جواب میں میری پیشانی کا بوسہ لیا اور آخرت کی اس عظیم کامیابی پر مجھے مبارکباد دی۔ کچھ گفتگو کے بعد ہم آگے روانہ ہوگئے ، مگر مجھے دوران گفتگو یہ احساس ہوا تھا کہ سیدنا ابراہیم ایک نوعیت کے تفکر میں مبتلا ہیں ۔ راستے میں صالح سے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ بولا:

’’تمھیں نہیں معلوم اس وقت حشر کے میدان میں کیا قیامت برپا ہے ۔ اس وقت ہر نبی پریشان ہے کہ انسانیت کا کیا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان انبیا میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کی امت عذاب الٰہی کا سامنا کرے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو معاف کر دیں ۔ مگر سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں ۔ ایسی کوئی دعا کی جا سکتی ہے اور نہ اس کی اجازت ہے ۔ لوگ سیکڑ وں برس سے خوار و خراب ہورہے ہیں اور سرِدست حساب کتاب شروع ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے ۔‘‘

’’سیکڑ وں برس؟ کیا مطلب! ہمیں تو اندر آئے ہوئے بمشکل ایک دو گھنٹے گزرے ہوں گے ۔‘‘، میں نے چونک کر تعجب سے کہا۔

’’یہ تم سمجھ رہے ہو۔ آج کا دن کامیاب لوگوں کے لیے گھنٹوں کا ہے اور باہر موجود لوگوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا ایک بے حد طویل دن ہے ۔ باہر صدیاں گزر گئی ہیں ۔ مگر تم ابھی یہ بات نہیں سمجھو گے ۔‘‘، اس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا۔

میں اس کی بات کو ہضم نہیں کرسکا، مگر ظاہر ہے میں جس دنیا میں تھا وہاں سب کچھ ممکن تھا۔ اور نجانے اور کتنی تعجب انگیز باتیں میرے سامنے آنے والی تھیں ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

صحابہ کرام اور مہاجرین و انصار حلقہ بنائے ادب و احترام سے بیٹھے تھے ۔ اُمتِ محمدیہ کے اولین و آخرین کی بھی ایک بڑ ی تعداد موجود تھی۔ شمعِ رسالت کے ان پروانوں کے بیچ رسالتمآب سر جھکائے تشریف فرما تھے ۔ بظاہر ہر چیز بالکل ٹھیک تھی، مگر میں محسوس کرسکتا تھا کہ یہاں بھی اسی نوعیت کا تفکر پھیلا ہوا تھا جسے میں سیدنا ابرہیم کے چہرے پر پیچھے دیکھ کر آیا تھا۔

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بارگاہ احدیت میں دعا کر رہے ہیں ۔ ہمیں بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے ۔‘‘، صالح پچھلی نشستوں کی طرف بڑ ھتے ہوئے بولا۔

ہم پچھلی نشستوں پر براجمان ہوگئے ۔ یہاں سے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ آگے کیا ہورہا ہے ۔ میں نے صالح سے دریافت کیا:

’’یہ حساب کتاب کب شروع ہو گا؟‘‘

’’مجھے کیا معلوم۔ کسی کو بھی معلوم نہیں ۔‘‘، اس نے جواب دیا۔

اس کی بات سن کر میں خاموش ہو گیا اور نشست کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا۔ نہ جانے کتنا وقت گزرا تھا کہ صالح کی آواز میرے کان میں آئی:

’’تمھیں رسول اللہ نے طلب کیا ہے ۔‘‘

اس کی آواز اور چہرے پر قدرے حیرت کے آثار تھے ۔ میں مسکراتا ہوا اسے جواب دیے بغیر اٹھ گیا۔ لوگوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے ہم دونوں بارگاہِ رسالتمآب میں حاضر ہوئے ۔ سلام اور دست بوسی کے بعد حضور نے فرمایا:

’’مرحبا عبد اللہ! تم سے مل کر خوشی ہوئی۔ ۔ ۔ بیٹھ جاؤ۔‘‘

میں وہیں حضور کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ آپ نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور فرمایا:

’’جس وقت پروردگار عالم کے حضور میری یہ دعا قبول ہوئی کہ حساب کتاب شروع ہوجائے ، تم نے بھی ایک دعا کی تھی۔ میری دعا قبول ہوئی اور قبولیت کی اس گھڑ ی میں تمھاری دعا بھی سن لی گئی ہے ۔ تم دوبارہ حشر کے میدان میں جانا چاہتے ہو؟ جاؤ، تمھیں اجازت مل گئی ہے ۔ حساب کتاب کچھ دیر بعد شروع ہو گا۔ تم اس وقت تک لوگوں کے احوال دیکھ سکتے ہو۔‘‘

سرکار دو عالم ایک وقفے کے بعد دوبارہ گویا ہوئے :’’

لیکن دیکھو باہر بہت سخت ماحول ہے ۔ صالح گرچہ تمھارے ساتھ ہو گا، مگر پھر بھی تم یہ پیتے جاؤ۔ یہ مشروب تمھیں باہر کے آلام سے محفوظ کر دے گا۔‘‘

یہ کہہ کر حضور نے پاس رکھا سنہرے رنگ کا جگمگاتا ہوا ایک گلاس میری سمت بڑ ھادیا۔ میں نے دونوں ہاتھ آگے بڑ ھا کر یہ گلاس حضور کے ہاتھوں سے لیا اور اپنے ہونٹوں سے لگالیا۔

گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہی ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں گرچہ بالکل پیاسا نہیں تھا اور نہ کسی تکلیف اور بے چینی ہی میں تھا، مگر جو تسکین مجھے ملی وہ شاید صدیوں کے کسی پیاسے کو بھی پانی کا پہلا گھونٹ پینے پر نہیں ملتی ہو گی۔ اس مشروب کا ایک گھونٹ حلق سے اتارتے ہی لذت، سیرابی، آسودگی، مٹھاس اور ٹھنڈک کے الفاظ اپنے ایسے مفاہیم کے ساتھ مجھ پر واضح ہوئے جس کا تجربہ مجھے تو کیا، کسی دوسرے انسان کو بھی کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ اس مشروب کا ایک ایک قطرہ میری زبان سے حلق، حلق سے سینے اور سینے سے معدہ تک اترتا رہا اور میری رگ رگ کو سیرابی اور سرشاری کی کیفیت سے دوچار کرتا گیا۔ میرا دل تو چاہا کہ ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس پی جاؤں ، مگر جس ہستی کے سامنے بیٹھا تھا، اس کا ادب اس بات میں مانع ہوا۔ میں نے آہستگی سے سوال کیا:

’’یا رسول اللہ یہ کیا ہے ؟‘‘

آپ مسکراتے ہوئے گویا ہوئے :

’’یہ نئی زندگی اور نئی دنیا کا پہلا تعارف ہے ۔ یہ جام کوثر ہے ۔ اسے پینے کے بعد حشر میں گرمی اور پیاس تمھیں نہیں ستائے گی۔‘‘

یہ الفاظ سنتے ہی مجھے سمجھ میں آ گیا کہ مجھ پر اس مشروب کا یہ غیر معمولی اثر کیوں ہوا تھا؟ یہ جنت کی نہر کوثر کا پانی تھا اور بلاشبہ ان تمام خصائص کا حامل تھا جن کا ذکر میں ہمیشہ سنتا رہا تھا۔ اس لمحے مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جنت کی نعمتیں کیا ہوں گی۔ پچھلی دنیا میں کھانے پینے کی لذت دو چیزوں میں پوشیدہ تھی۔ ایک یہ کہ انسان کو شدید بھوک اور پیاس لگی ہو اور دوسرے اسے کھانے پینے کے لیے بہت لذیذ شے مل جائے ۔ مگر جنت کی ہر شے اپنی ذات میں انتہائی لذید ہونے کے ساتھ انسان کو بغیر بھوک اور پیاس کے وہ لذت اور تسکین بھی فراہم کرے گی، جو صرف ایک انتہائی بھوکے اور پیاسے شخص ہی کو مل سکتی ہے ۔ اب مجھے معلوم ہو گیا کہ جنت میں نہ بھوک ہو گی اور نہ پیاس، مگر اس کے باوجود انسان جتنا چاہے گا شوق سے کھائے گا اور اس کی کوئی سیری ایسی نہیں ہو گی جو اسے گرانی اور بھاری پن میں مبتلا کر دے۔
۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جا ری ہے
مصنف: ابو یحیی

جب زندگی شروع ہو گی دراصل ایک ناول ہے جو آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ ناوال ابویحیی صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ جس میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں محشر کے دن کا احوال بیان کر رہے ہیں۔ واقعات کس انداز میں رونما ہوں گے۔ حساب کتاب کا عمل کس انداز سے ہو گا اور نیک و کار اور گناہ گاروں کے ساتھ کس قسم کا معاملہ کیا جائے گا۔ ناول کا تعارف ابویحییٰ کی زبانی جاننے کے لیے سب سے پہلے باب کا مطالعہ کیجیے جو کہ یاسر عمران مرزا کے بلاگ پر موجود ہے۔ نیچے تمام حصوں کے روابط دیے گئے ہیں۔ والسلام

جب زندگی شروع ہو گی کے تمام ابواب

جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت
جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں
جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر
جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ
جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں
جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟
جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

11 Responses to جب زندگی شروع ہوگی دوسرا باب:عرش کے سائے میں

  1. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پہلا باب: روزِقیامت | Yasir Imran Mirza

  2. Harris Muzammil Ansari says:

    Assalaamualaikum!

    This is a great way to describe the different aspects of the Day of Judgement.

    JazakAllah.

    Am anxiously waiting for the next parts.

    Regards,
    Harris

  3. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر | Yasir Imran Mirza

  4. خرم says:

    سبحان اللہ

  5. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی ساتواں باب: حضرت عیسیٰ کی گواہی | Yasir Imran Mirza

  6. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی پانچواں باب : دو سہیلیاں | Yasir Imran Mirza

  7. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی چھٹا باب: آج بادشاہی کس کی ہے ؟ | Yasir Imran Mirza

  8. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی چوتھا باب: ناعمہ | Yasir Imran Mirza

  9. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی آٹھواں باب: حوض کوثر پر | Yasir Imran Mirza

  10. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی نواں باب: قوم نوح اور دین بدلنے والے | Yasir Imran Mirza

  11. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی دسواں باب: حساب کتاب اور اہل جہنم | Yasir Imran Mirza

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s