نکاح کے ساتھ مذاق


گیسٹ پوسٹ از صائمہ۔

نکاح ایک بہت ہی پاک رشتہ اور کائنات کا اہم ترین رشتہ ہے۔ جس کا مقصد روح انسانی کی تشکیل اور گناھوں سے بچنا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے نے اس پاک رشتے کو بھی مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے ارد گرد رہنے والے لوگ، ہمارا معاشرہ اجتماعی طور پر اور بعض اوقات میڈیا بھی اس رشتے کو غلط انداز دیتا ہے۔ کچھ ماہ پہلے کی بات ہے ہمارے ہمسایوں میں ایک لڑکی کواسے کے خاوند نے طلاق دے دی۔ طلاق کے متعلق سن کر بہت دکھ ہوا۔ اس لڑکی کی شادی کو کچھ عرصہ بیت چکا تھا اور اس کے تین بچے بھی تھے۔طلاق دینے کے بعد اس لڑکی کے خاوند نے دوسری شادی کر لی۔خیر اس لڑکی نے عدالت سے نان نفقے کے لیے رجوع کیا اور عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا، یوں اسے نان نفقہ یعنی بچوں کا خرچ ملنے لگا۔ لیکن بعد میں ایک عجیب بات دیکھنے میں آئی ، اس لڑکی کے والدین نے اس کے سابقہ خاوند کے ساتھ بات چیت کر کے صلح کے لیے معاملات طے کر لیے، اور وہ کسی نام نہاد مولوی سے فتوی لے آئے کہ تین طلاقیں واقع ہو جانے کے ایک سال بعد اگر دوبارہ نکاح کر لیا جائے تو حلالہ کے بغیر ایسا نکاح ہو سکتا ہے۔ اور طلاق شدہ لڑکی ایک بار پھر اپنے خاوند کے ساتھ رہنے لگی۔

اس مسئلے کی وجہ سے ارد گرد کے لوگوں نے باتیں کرنی شروع کر دیں کہ یہ گناہ کر رہے ہیں۔ تین طلاقوں کے بعد اسی خاوند سے حلالہ کیے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ بات سب کو پتہ تھی کہ تین طلاق واقع ہو چکی ہیں اور وہ لڑکی دس ماہ سے خرچ بھی لے رہی تھی۔ اس معاملے کا دفاع کرنے والے کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے حلالہ کر کے ہی دوبارہ نکاح کیا ہے۔ جواب میں اکثر لوگ یہ کہہ رہے تھے اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو سب کے سامنے پیش کیوں نہیں کر رہے۔
اسی طرح کی ایک اور مثال بھی ہے۔ ایک لڑکی کے نکاح ایک ایسے لڑکے کے ساتھ طے پا گیا جو کسی دوسرے ملک میں قیام پزیر تھا اور اسکا فوری آنا ممکن نہیں تھا ۔ یوں ٹیلی فون پر نکاح ہونا قرار پایا۔

لیکن ہوا یوں کہ عین نکاح کے وقت ٹیلی فون لائنز اس قدر مصروف ہو گئیں کہ رابطہ ہی ممکن نہ ہو سکا۔ تو وہاں پر موجود مولوی صاحب نے لڑکی کا نکاح لڑکے کے چھوٹے بھائی سے کر دیا اور اسے کہا کہ تم یہ نکاح اپنے بڑے بھائی کو ملک کر دو۔(ملک سے مراد قرآن کا پڑھا ہوا ایسا حصہ ہوتا ہے جو ثواب کے لیے ایک انسان دوسرے کے حوالے کر دے)

اب اگر دیکھا جائے تو ایسی چیزوں کا قصور وار کون بنتا ہے۔اسلام کی روح سے نابلد مولوی حضرات یا ایسے مولوی حضرات کی تقلید کرنے والے معاشرے کے عام لوگ۔
ٹی وی پر اکثر ڈراموں میں بھی اس چیز کو غلط پیش کیا جاتا ہے۔ کہ طلاق کے بعد کسی دوسرے انسان سے نکاح کر لینے سے حلالہ ہو جاتا ہے اور بعد میں طلاق لے کر دوبارہ پہلے خاوند سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔حالانکہ اسلامی قانون میں یہ بات بہت واضح ہے کہ حلالہ تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک مابین زوجین ازدواجی تعلقات نہ قائم ہو جائیں۔اور فقط حلالہ کی نیت سے دوسرا نکاح بھی سنت کے مطابق پسند نہیں کیا گیا۔کہ نکاح کرنے سے پہلے یہ ارادہ ہو کہ بعد میں طلاق دے دینی ہے، بلکہ حلالہ تب ہوسکتا ہے جب مرد اور عورت دونوں نے نیک نیتی سے شادی کی ہو لیکن بعد میں ناموافق حالات کی وجہ سے انکی علیحدگی ہو جائے۔ تو پہلے جس خاوند نے تین طلاقیں دیں اس سے نکاح جائز ہو گا۔

سوال یہ ہے کہ نکاح جیسے پاک رشتے کو معاشرہ کیوں مذاق میں تبدیل کر رہا ہے۔ اور ناتجربہ کار، دین سے نابلد حضرات کو کیوں مولوی یا عالم کے درجے پر فائز کر دیا گیا ہے جو اپنی مرضی سے اسلامی شریعت میں تبدیلی کر لیتے ہیں۔براہ کرم اس چیز کو روکنےکے لیے اسکے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کیجیے۔
والسلام

اس سے ملتی جلتی تحاریر

انسانی زندگی کے مختلف ادور اور والدین کے نامناسب رویے
علوم اسلامیہ سیکھنے کی جانب ایک قدم
اسلامی علوم کے متعلق معاشرے کا رویہ
بہترمعاشرہ قائم کرنے کے لیے پاکستانیوں کی ذمہ داریاں


About Saudi Prices Blog

I am a Pakistani housewife and professionally a lawyer.
This entry was posted in Islam, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

17 Responses to نکاح کے ساتھ مذاق

  1. I am not surprised to read this story because nowadays we people have no knowledge about Islam and Shariah, and try to follow only those traditions which are up to our will,a and never feel ashamed while changing Islam according to our desires. First Jews and Christians are the ones who change their books according to their desire for the sake of money and now these things start happening in our culture, but the main question is WHY THESE THINGS HAPPENS ONLY IN OUR SOCIETY? I am talking about Pakistani society…I never heard these things are happening in any other Muslim country…did you?

    • Saima says:

      Yes you pointed the right thing about Christians, that was a tradition they used to do & still they are doing it. If we see the whole Muslim societies they are gone far away from Islam and Islamic law, every Muslim country/society is adopting different set of laws than rest of Islamic countries, I can’t comment much about that but I can only give one example.
      Iraqi president Saddam Hussein did about 38 marriages that is absolutely wrong as per Islamic law, he managed to do that because he was an emperor and got full control over the people who are maintaining Islamic law in his country.

      And same situation in rest of the gulf, Kings, small kings, princes doing whatever they like.

  2. md says:

    السلام علیکم – محترم مذھب اسلام میں انہیں مذہب کے تھیکیداروں نے اتنے سارے فرقے بناڈالے ھیں – انہیں لوگوں نے اسلام کا حقیقی چہرہ اتنا مسخ کردالا ہے کہ وہ پہچانا نہیں جا رہا ہے – اب ہر فرقہ دوسرے کو کافر قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ حقیقی اسلام اسکے پاس ہے – نئی نسل پریشان ہوجاتی کہ ایک اسلام اتنے سارے فرقے -آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ حضور ص نے جسطرح نماز پڑھی صاحبہ کرام نے بھی اسی طرح پڑھی – دن میں پانچ بار مسجد میں اسی طرح نماز کی ادائیگی ہوتی رہی – پھر نماز میں اتنے سارے (فرق ) کہاں سے آگئے ؟ جسکی ادائیگی مسجد میں اجتمائی طورپر دن میں پانچ بار مسلسل ہو رہی ہو اُس میں فرق کیسے آسکتا ہے ؟ بلوچستان میں مسلمانوں کا ذکری فرقہ رہتا ہے جو دو سجدوں کی جگہ ایک سجدہ کرتا ہے -استدلال یہ دیتا ہے کہ خالق کائنات ایک ہے اسلئے حضور ص نے بھی ایک سجدہ کیا تھا اسلئے دوسرا سجدہ شرک ہے – آپ اُس فرقے کے بارے میں کچھ کہیں وہ تو اپنے آپ کو حقیقی مسلمان کہتا ہے ھمیشہ خالق کائنات کے ذکر میں مشغول رہتا ہے اسی لئے ذکری کہلاتا ہے – — آپ کا شکوہ بجا ہے یہ انہیں مذھب کے ٹھکیداروں کا پھیلایا ہوا شر ہے کہ آج مسجدوں میں،امام بارگاہوں میں ،بزرگوں کے مزاروں میں بم دھماکے ہورھے ہیں یہ وھی لوگ کرہے ھیں جو اپنے آپکو حقیقی مسلمان کہتے ھیں -بہت شکریہ

    • Saima says:

      بہت خوفناک بات بتائی آپ نے ، جو پہلے کبھی سنی نہیں- اسی طرح کے بگڑے عقائد والے اور کئی فرقے ہوں گے جو خود غلط کرتے ہیں اور دوسرے جو ان کے طرح نہیں کرتے انہیں کافر اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے ہیں۔
      شکریہ

  3. Rizwan Khan says:

    The problem is due to the disputed way of talaq in Islamic fiqhs. I know a person who gave his wife three times talaq , then he repented and went to Ahle Hadees Fiqh molvi, he said u can go bak to ur wife as ur talaq is not complete, he said talaq does not happen at one instance. But that person was not satisfied. So the wife married some person for the purpose of halala , but he cheated her took all her jewelery, some money and flew the very next morning without saying any thing. All his references were fake, adresses were fake , even the NIC card was wrong. Her first husband did not come back to her after this incident. Now she is living miserably with three kids to take care of.
    I think that all the ulema of all the fiqhs should sit together and remove the problems in this system. I think the strictness about the niyyat should be explained to people. If halala is done with the niyyat of remarrying the first husband, It is haram and both the parties are committing adultery, after remarrying the first husband again the status of this nikah is also doubtful. So the involved persons are living their whole lives in doing haram, which is quite a serious matter.

    • Saima says:

      That’s very sad story you quoted. But it is not a single story in our society. Many people got deceived by others like this way.
      If Ulma could solve these matters they could have done this a long time ago, unfortunately they are the one reasons of such troubles and firqa in Muslims. I’ll try to explain this issue later in another post.

  4. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    یاسربھائی، واقعی میں یہ اسلام کےساتھـ مذاق والی بات ہے۔جبکہ نکاح ایک ایسابندھن جسکی تشہیرکاکہاگیاہےلیکن نعوذباللہ جوحلالہ ہوتاہےوہ رات کی تاریکی میں چوری چھپےکیاجاتاہے۔دراصل انسان بہت ہی جھگڑالواورجلدبازواقع ہواہےغصہ میں ایساکام کرلیتاہےلیکن جب بعدمیں جب اسکی حقیقت کھلتی ہےتوپھرسوائےندامت کےکچھـ نہیں ملتا۔اللہ تعالی سےدعاہےکہ ہمیں دین اسلام کی صحیح سمجھـ بوجھـ عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    • Saima says:

      وعلیکم السلام
      اگر میاں بیوی بالکل ہی ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور طلاق تک بات آ گئی ہے تو انہیں چاہیے طلاق کے لیے باقاعدہ اسلامی طریقے پر عمل کریں۔ جس میں ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کی ممانعت ہے۔ اس موضوع پر پھر کبھی لکھا جا سکتا ہے۔ انشاء اللہ
      بہت شکریہ

  5. معاشرتی مسائل پر اچھی تحریر ھے۔

  6. میرے ایک اُستاد محترم کہا کرتے تھے کہ اس معاشرے کو خراب کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اُستاد اور مولویوں کا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اچھے لوگ ہر شعبے میں موجود ہیں جیسا کہ آج بھی بہت اچھے اور قابل احترام اور پڑھے لکھے علماءکرام موجود ہیں لیکن شائید تعداد میں ان ان پڑھ مولویوں سے کم ہیں۔ ہمیں ان دو شعبوں کو سنوارنا ہے۔

  7. Pingback: جب زندگی شروع ہوگی تیسرا باب: میدان حشر | Yasir Imran Mirza

  8. Pingback: ہندو مت چار ذاتیں اور ہم | Yasir Imran Mirza

  9. moon malik says:

    good

  10. آج ہم دینی مسئلہ اور مسائل کس کو سمجھائیں سمجھنا ہی نہیں چاہاتا کوئی

  11. Sufyan says:

    حلالہ یہ کہ ایک مرد کے ساتھ عورت کانکاح مدت مقررہ تک کے لیے کر دیا جاتا ہے پھر وہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پھر پہلا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کر لیتا ہے ۔ یہ قطعاً جائز نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ۖ نے لعنت فرمائی ہے :]لعن اللہ المُحَلِّل والمُحَلَّل لہ [ حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان دونوں اللہ کی لعنت ہو۔]أبوداود کتاب النکاح باب فی التحلیل (٢٠٧٦)،ترمذی أبواب النکاح باب ماجاء فی المحل والمحلل لہ (١١١٩) [
    لغت حدیث کی معروف کتاب النہایة فی غریب الأثر والحدیث لابن أثیر ١/٤٣١میں حلالہ کی تعریف یوں کی گئی ہے (ہو أن یطلق رجل امرأتہ ثلاثا فیتزوجہا رجل آخر علی شریطة أن یطلقہا بعد وطئہا لتحل لزوجہا الأول )وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس عورت کے ساتھ دوسرا آدمی اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت سے جماع کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لے حلال ہوجائے۔
    احناف کی فقہی اصطلاح پر لکھی گئی کتاب القاموس الفقہیکے صفحہ ١٠٠ پر مُحَلِّل (حلالہ کرنیوالا)کی یہ تعریف درج ہے:المُحَلِّلُ:ہو المتزوج ثلاثا لتحل للزوج الأوّل وفی الحدیث الشریف لعن اللہ المحلِّل والمحلَّل لہ ۔
    (ترجمہ)محلِّل سے مراد وہ آدمی ہے جو تین دفعہ طلاق شدہ عورت سے شادی کرتا ہے تاکہ اس عورت کو پہلے خاوند کے لیے حلال کر دے اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے دونوں پر لعنت کرے ۔لہذا حلالہ کا مروجہ طریقہ کار بالکل حرام ہے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s