اسلام کی طرف واپسی


پچھلی دفعہ چھٹیوں میں پاکستان گیا تو واپسی پر گلوبل سائنس میگزین کے کچھ پرانے کچھ نئے نسخے خرید لایا۔ لیکن طویل عرصہ تک ان نسخوں پر نظر ڈالنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ کل سوٹ کیس میں سے سامان ڈھونڈتے ہوے وہ میگزین نظر آئے تو ان میں سے چند ایک نکال کر پڑھنا شروع کر دیا۔ علیم احمد صاحب میگزین کے مدیر اعلی ہیں اور ان کی تحاریر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قابل انسان ہیں۔ میگزین میں ویسے تو قرآنی آیات کا حوالہ نہیں دیا جاتا لیکن ایک شمارے میں قرآنی آیات سے حوالہ دے کر اس موضوع پر بحث کی گئی تھی کہ کس طرح اللہ تعالی نے اس دنیا کے راز قرآن میں بیان کیے ہیں۔

اوپر والی آیات یہ بیان کرتی ہیں کہ سینکڑوں سال پہلے اللہ تعالی نے ہی اپنی قدرت سے ہری بھری گھاس پھوس اگائی اور بعد میں اسے سیاہی مائل کوڑے میں تبدیل کر دیا ۔ اس سیاہی سے مراد معدنی تیل ہے ۔ آج دور جدید میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معدنی تیل دراصل نباتات کے زمین میں دب جانے اور سینکڑوں سال دبے رہنے سے وجود میں آیا ہے۔ گلوبل سائنس کے اگلے کچھ صفحات پلٹے تو دنیا کے بہترین سائنس دانوں کی تحقیات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ نوبل پرائز پانے والے ایسے سائنس دان جنہوں نے چھوٹی چھوٹی حقیقتوں کو جاننے کے لیے سالوں سال صرف کر دیے۔ پھر ان میں سے کچھ تحقیاست ایسی بھی تھیں جن کو ایک فرد اپنی پوری سائنسی زندگی صرف کرنے کے باوجود مکمل نہیں کر پایا تواس کے مرنے کسی دوسرے نے اس کے لکھے ہوے مواد پر مزید تحقیق کر کے ایک قدرتی راز سے پردہ اٹھایا۔ رنگ برنگی روشنیاں خارج کرنے والی جیلی فش ہوں جن کے اندر سے پروٹین رنگوں میں تبدیلی کرتا ہے یا بگ بینگ پر تحقیق کی بات ، مادہ اور ضد مادہ پر بحث ہو یا تشاکل یعنی سیمٹری کا ٹوٹنا اور ایسی کئی مزید تحقیقات۔

لیکن جب عرصہ دراز تک وقت کھپانے کے بعد کسی سائنسدان پر سچ کا انکشاف ہوا تو وہ وہی سچ تھا جو دنیا کے خالق و مالک اور کائنات کے سب سے بڑے سائنسدان نے ۱۴۰۰ سال پہلے اپنی عظیم کتاب میں لکھ دیا تھا۔ معدنی تیل کی یہی سچائی درجنوں سائنس دانوں کی محنت کے بعد ہمارے علم میں آئی۔

دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں کا ذکر، جن کے نام بھی ہم نہیں جانتے اورانہی کی مسلسل محنت سے آج کل زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ممکن ہوئی۔ نہ صرف کمپیوٹر سائنس، بلکہ شعبہ طب ، طبیعات، کیمیا، کائنات کے راز، ریاضی کے کلیات اور پتہ نہیں کیاکیا۔

آج کل کے دور میں پیدا ہونے والا ہر بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو وہ اپنے ارد گرد موبائل، کمپیوٹر ، گھریلو کام کاج میں مدد دینے والی اشیاء فریج ، گرینڈر مشین، سفر کے لیے گاڑیاں، ہوائی جہاز موجود پاتا ہے۔ اسے یہ پتہ ہی نہیں کے ارتقاء کے کن کن ادوار سے گزرنے کے بعد انسان نے ان اشیاء کے حصول کو ممکن بنایا۔

افسوس کہ ارتقا کے ان ادور میں مسلمانوں کے حصہ بہت کم ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور مسلمانوں نے خواب غفلت سے جاگنے کی کوشش ہی نہیں کی۔جب کہ مسلمانوں کو دین اسلام کی صورت میں ایک مکمل اصول زندگی عطا کر دیا گیا۔کائنات بھر کی سچائیوں سے پُر بہترین کتاب قرآن کریم کا تحفہ عطا کیا گیا۔ اور اس میں بار بار حکم دیا گیا کہ پڑھو، علم حاصل کرو، غور وفکر کرو، تمھیں ہر چیز کی حقیقت کی نشانیاں اس کتاب میں ملیں گی۔ دین اور تحقیق کا رشتہ قائم رکھو۔ حضرت ابن عباسؓ جنہیں تفسیر قرآن کی تعلیم خود سرکار دوعالم ﷺ نے فرمائی تھی، فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا اونٹ صحرا میں گُم ہوجائے تو میں قرآن سے اس کا اونٹ ڈھونڈ نکالوں۔ قرآن میں خالق کائنات خود فرماتا ہے
وَلَا حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلّاَ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ (الانعام:59)
“زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی ایسی خشک و تر چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو۔”

اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ انسان کو اس دنیا میں ترقی کے لئے جتنے بھی علوم و فنون کی ضرورت ہے وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ہمیں غور کرنے کا حکم دیا گیا لیکن افسوس ہم سوئے رہے۔آج ہماری دین سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ہمیں مسجد سے بھاگنے کی اس قدر جلدی ہوتی ہے جب مسجد میں نماز جمعہ کے بعد امام صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے ہیں تو مسلمانوں کا ایک پاؤں مسلے پر ہوتا ہے دوسرا اپنے جوتے میں۔ اسی لیے آج دنیا بھر میں مسلمان جس تنزلی اور کسمپرسی کا شکار ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے ہی کرتوتوں کا نتیجہ پا رہے ہیں اور ان کی اپنی اصل یعنی دین اسلام کی طرف واپسی ہی ان کو اس تنزلی سے نکال سکتی ہے۔
آیات کے حوالہ جات کے لیے شکریہ برائے بلاگ -آؤ سنواریں پاکستان


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Islam, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

3 Responses to اسلام کی طرف واپسی

  1. Md says:

    جناب یاسر صاحب- میں نے یہی بات اپنے بلاگ ” قُرآن اور انسان” میں کہی ھے کہ جو شخص یا جو قوم بھی کائنات میں موجود اشیاء( جوکہ اللہ تعلیٰ کی نشانیاں ھین) پر غوروفکر کرے گا وہ کائنات کے راز پا جائے گا- اور دُنیا کی حکمرانی اُسی کے ھاتھ میں ھوگی-پورا قرآن غوروفکر کی دعوت ھے اسی لئے حُکم ھے کہ قُرآن کو ٹہر ٹہر کر پڑھا جائے تاکہ آیات میں پوشیدہ مطالب آپ پر واضع ھوجائیں-ھم کیا کررھے ہین ٹہر ٹہر کر پڑھنے کے بجائے ھم تیز تیز پڑھنے کا مقابلہ کررھے ھیں-اس طرح قُرآن جو کہ حکمت کی کتاب ھے اُسکی حکمت کو ھم کیسے پہنچ سکتے ہیں نتیجہ ھم سب سے پیچھے ھیں- ھمیں صرف فرنٹ لائن اسٹیٹ کے نام سے بہلایا جاتا ھے-میرے بلاگ پر تشریف لائیں ” شیرنی کی آپ بیتی ” آپ کا انظار کر رہی ھے – شُکریہ

  2. یہ بات میں نے خاص طور پر یہاں سعودی عرب میں نوٹ کی، نماز ختم ہونے کے فورا بعد لوگ ایسے باہری گیٹ کی جانب دوڑتے ہیں جیسے وہاں کوئی نیاز بٹنے لگی ہو۔ اچھی اور توجہ دلانے والی تحریر ہے۔شکریہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s