انسانی نفسیات اور طرز فکر میں تبدیلی


موجودہ دور میں انسان کی نفسیات اور طرز فکر میں قدیم دور کے انسان کے زمانے میں بہت سی غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان میں سے اہم یہ ہیں:

  • عقل کے استعمال میں اضافہ
  • توہم پرستی میں کمی
  • قدیم فلسفے کا خاتمہ اور سائنسی طرز فکر

عقل کے استعمال میں اضافہ

قدیم دور کا انسان عقل کو کم ہی استعمال کیا کرتا تھا۔ عقل کا استعمال صرف غیر معمولی ذہین افراد کیا کرتے اور وہ بھی بہت سے معاملات میں عقل کو محدود سمجھتے ہوئے اس کے استعمال سے گریز کرتے۔ اس کی واضح مثال مذہب کا میدان ہے۔ مذہبی معاملات میں یہ فرض کر لیا گیا کہ خدا اس دنیا کو بہت سے نائبین کی مدد سے چلا رہا ہے جو بذات خود خدائی صفات کے حامل ہیں۔ ان نائبین کے بارے میں بہت سے قصے کہانیاں وضع کی گئیں اور انہیں دیوی دیوتاؤں کا مقام دے کر ان کی پرستش شروع کر دی گئی۔ یہودی، عیسائی اور مسلمان قوموں کے ہاں انبیاء کرام کی طویل تاریخ موجود ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے پیروکاروں کو عقل استعمال کرنے کی تلقین کی۔ قرآن مجید بار بار عقل کو استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پیروکاروں کی ابتدائی تاریخ میں ہر معاملے میں عقل کا واضح استعمال نظر آتا ہے۔

جب ان پیروکاروں کی بعد کی نسلیں دوسری اقوام کے فلسفے اور تصورات سے متاثر ہوئیں تو ان کے ہاں عقل ایک دوسرے درجے کی چیز بن کر رہ گئی اور اس کا استعمال برا سمجھا جانے لگا۔ بالخصوص مسلمانوں کے ہاں تنقید ایک شجر ممنوعہ قرار پایا اور تقلید کو ایک بڑی قدر کے طور پر اختیار کر لیا گیا۔ یہ رویہ صرف مذہبی معاملات تک ہی محدود نہ رہا بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی یہی روش اختیار کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ مسلمان دوسری اقوام کے مقابلے میں پیچھے ہوتے چلے گئے۔
دوسری طرف اہل مغرب نے رینی ساں اور ریفارمیشن کی تحریکوں کے نتیجے میں عقلی طرز فکر کو اختیار کر لیا۔ انہوں نے زندگی کے تمام میدانوں میں تقلید کی بجائے تحقیق کا رویہ اپنایا۔ کسی بھی رائے کو محض کسی بہت بڑے بزرگ یا عالم کی رائے ہونے کے سبب ماننے کی بجائے اس کی چھان پھٹک اور دوسری آرا سے اس کے تقابل کا طریقہ اختیار کیا۔ نیوٹن نے ارسطو اور آئن اسٹائن نے نیوٹن سے اختلاف رائے کیا جس کے نتیجے میں ان کے ہاں ترقی ہوتی چلی گئی اور وہ علمی میدان میں آگے نکلتے چلے گئے۔
جدید دور میں اہل مغرب نے جہاں مسلمانوں کو اور بہت سے میدانوں میں متاثر کیا ہے وہاں ان کی یہ تبدیلی بھی مسلمانوں کے ہاں آ رہی ہے۔ اب مسلمانوں کے ہاں بھی سوچنا سمجھنا، غور و فکر کرنا، سابق آراء اور تصورات کو تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور مذہب سمیت ہر معاملے میں ان کے ہاں عقل کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر ہم صرف برصغیر کے مسلمانوں کی سو سالہ فکری تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ معلوم ہو گا کہ ان کے اہل علم و دانش میں عقل کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عقل کے استعمال کے نتیجے ہی میں انسان شرک کے تصور سے آزاد ہوا۔ اس کے علاوہ قدیم انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو دیوی دیوتا، ان کا اوتار یا پھر غیر معمولی صفات کا حامل سمجھ کر ان کی ظاہری یا باطنی پرستش کرتا رہا۔ جدید انسان عقل کے استعمال سے آہستہ آہستہ ان پابندیوں سے آزاد ہو رہا ہے۔
بعض لوگ متصوفانہ تعلیمات کے زیر اثر عقل کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے مقابلے پر عشق و محبت کو کھڑا کر دیتے ہیں۔

بے خطر آتش نمرود میں کود پڑا عشق
عقل تھی محو تماشائے لب بام ابھی

اس شعر میں عقل کی تحقیر کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا آگ میں کودنے کا فیصلہ عشق کی بنیاد پر تھا اور عقل اس سے منع کر رہی تھی۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اپنے شوق سے آگ میں نہ کودے تھے بلکہ انہیں جبراً حق کی آواز بلند کرنے کے سبب آگ میں پھینکا گیا تھا۔ اللہ تعالی سے محبت اور اس کے حکم کے مطابق عمل کرنا اگرچہ بظاہر انسان کے لئے شارٹ ٹرم مسائل کا باعث بھی ہو تب بھی انسان کی اصل زندگی یعنی آخرت میں یہ آرام کا باعث ہو گا۔ یہ بات بجائے خود اتنی معقول ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا آگ میں کودنے کا واقعہ سراسر عقلی و منطقی تھا کیونکہ وہ اللہ تعالی کے حکم کی پیروی کر رہے تھے اور اس کے دنیاوی و اخروی نتائج سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ دقت نظر سے اگر دیکھا جائے تو عقل و محبت میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ تضاد بالعموم شاعرانہ تک بندیوں کے نتیجے میں مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا ہے ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جس طرح عقل کے استعمال سے اہل مغرب نے انسانیت کے فائدے کے لئے بہت سی چیزیں ایجاد کیں، اسی طرح ہم بھی عقل کے استعمال ہی کے ذریعے ہی نہ صرف دنیا بلکہ دینی معاملات میں ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ قرآن مجید کی پوری دعوت بلا سوچے سمجھے مان لینے کی بجائے علم و عقل کے استعمال کے ذریعے خدا اور اس کے رسول کو پہچان لینے کی دعوت ہے۔ یقین نہ آئے تو انہی آیات پر غور کر لیجیے۔

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ. الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (اٰل عمران 3:190-191)

بے شک آسمان و زمین کی تخلیق، اور رات و دن کے باری باری آنے میں ان اہل عقل کے لئے بہت سے نشانیاں ہیں جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں)، اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ فضول اور بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے (اس سے کہ تو فضول کام کرے)۔ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمّاً وَعُمْيَاناً۔ (الفرقان 25:73)

جب انہیں ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں گرتے (بلکہ غور و فکر کر کے نصیحت قبول کرتے ہیں۔)
عقل کے استعمال کے ذریعے انسان نہ صرف اپنے رب کو پہچان کر ہدایت قبول کرتا ہے بلکہ وہ ان طالع آزما سیاسی و مذہبی راہنماؤں کی چال بازیوں سے بھی بچ جاتا ہے جو اسے بے خبر رکھ کر اپنا ذہنی غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔
ہمارے نزدیک دور جدید عقل کے استعمال میں اضافہ ایک نہایت ہی مثبت تبدیلی ہے اور اس معاملے میں ہم اپنے آباء و اجداد کے مقابلے میں نسبتاً بہتر مقام پر کھڑے ہیں۔

توہم پرستی میں کمی

قدیم دور میں عوام الناس تو کجا، خواص میں بھی توہم پرستی عام تھی۔ ایسے واقعات جن میں دور کا بھی کوئی تعلق نہ ہوا کرتا تھا، لوگ اپنے توہمات کے ذریعے ان میں تعلق قائم کر لیا کرتے تھے۔ ہم اگر اپنے قدیم دیہاتی معاشرے کا جائزہ لیں تو ان توہمات کی طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر بلی کے راستہ کاٹنے سے آفات اور سورج و چاند گرہن سے بیماریوں کو وابستہ کیا جاتا ہے۔ بیٹھ کر ٹانگیں ہلانے اور ٹوٹا ہوا آئینہ دیکھنے کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سب سے درد ناک مثال یہ ہے کہ اگر شادی کے فوراً بعد کوئی سانحہ رونما ہو جائے تو اس کا قصور وار لڑکی کو ٹھہرا کر اسے منحوس قرار دیا جاتا ہے۔
دین اسلام چونکہ توہم پرستی کو پسند نہیں کرتا اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی مذمت فرمائی اور عربوں کے توہم پرستانہ خیالات پر ضرب لگائی۔ آپ کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر اتفاقا سورج گرہن ہو گیا تو لوگوں نے یہ خیال کیا کہ شاید یہ آپ کے صاحبزادے کی وفات کے باعث ہوا ہے۔ حضور نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی۔ جب مسلمانوں کو دوسری اقوام سے معاملہ پیش آیا تو انہوں نے ان کی دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ ان کے توہمات کو بھی اختیار کر لیا۔ ہمارے دیہاتی اور شہری معاشروں میں اس کی مثالیں بکثرت دیکھی جا سکتی ہیں۔
دور جدید میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، ان کے باعث توہم پرستی میں کافی کمی آ چکی ہے۔ اگرچہ اہل مغرب کے ہاں بھی بہت سے توہم پرست لوگ پائے جاتے ہیں لیکن ان کی عمومی سوچ توہم پرستی سے بڑی حد تک پاک ہو چکی ہے۔ یہی اثرات اب مسلم دنیا میں آ رہے ہیں اور مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل اپنے والدین کی نسبت کم توہم پرست ہوتی جا رہی ہے۔ہمارے نزدیک یہ بھی ایک نہایت ہی مثبت تبدیلی ہے اور ہم پر لازم ہے کہ اس کے تسلسل کو باقی رکھا جائے۔

قدیم فلسفے کا خاتمہ اور سائنسی طرز فکر

یونان کے قدیم فلسفے نے مسلمانوں کو بہت متاثر کیا۔ اس فلسفے کا طریق کار یہ تھا کہ چند تصورات (Postulates) کو بنیادی طور پر فرض کر کے انہیں مقدس اور ناقابل تنقید قرار دیا جاتا۔ اس کے بعد انہی تصورات کی بنیاد پر فلسفے کی عظیم الشان عمارت تعمیر کی جاتی۔ اس کی ایک مثال “ہیولی” کا تصور ہے جسے درس نظامی کے نصاب میں فلسفے کی ابتدائی کتب میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر فلسفے کی ایک عظیم الشان عمارت کھڑی کی گئی ہے۔ فلسفے میں ما بعد الطبیعات (Metaphysics) کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہو گئی۔
دور جدید میں سائنسی طرز فکر نے ما بعد الطبیعاتی فلسفے کی اہمیت کم کر کے عملی زندگی کے مسائل کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ فلسفے کے بنیادی تصورات (Postulates) غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئے۔ جب کسی عمارت کی بنیاد ہی کو ڈھا دیا جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتی۔ دور جدید میں سائنس کا موضوع یہ نہیں رہا کہ خدا کی صفات کیا ہیں؟ اس کے لئے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ زندگی بسر کرنے کے لئے توانائی حاصل کیسے کی جائے تا کہ دنیا میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے؟ سیاسی نظام کر فلاحی ریاست میں کیونکر بدلا جائے؟ عدل و انصاف پر مبنی معاشی نظام کیسے قائم کیا جائے؟
قدیم فلسفیانہ طریقے میں ذہن کے تخیل کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ چند باتوں کو فرض کر کے ان سے فروعات نکال کر فلسفہ بنا لیا جاتا۔ جدید سائنسی طرز فکر نے مشاہدے کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اب چیزوں کو ذہن کی تخیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ محسوس مشاہدے کی بنیاد پر پرکھا اور مانا جاتا ہے۔ ایک صاحب علم نے اسے ایک مثال کے ذریعے یوں بیان کیا ہے:
سائنسی ذہن کا مطلب حقائق کو اہمیت دینے والا ذہن ہے۔ سائنس کے انقلاب نے موجودہ زمانے میں انسانی فکر میں جو تبدیلی کی ہے وہ یہ ہے کہ جو بات کہی جائے تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر کہی جائے نہ کہ مفروضات اور قیاسات کی بنیاد پر۔ موجودہ زمانہ میں جو انقلاب آیا ہے و حقائق فطرت کے مطالعے سے آیا ہے۔ بائیسکل سے لے کر ہوائی جہاز تک اور بجلی کے لیمپ سے لے کر بڑے بڑے صنعتی کارخانوں تک ہر چیز فطری حقائق کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ یہی انقلاب موجودہ زمانے کا غالب انقلاب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام پہلوؤں پر اثر ڈالا ہے۔ اسی نے موجودہ زمانہ میں اسلوب کلام کو بھی بدل دیا ہے۔ انسان ہزاروں سال سے پراسرار عملیات کی بنیاد پر لوہے کو سونا بنانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ کامیاب نہیں ہوا۔ اب حقائق فطرت کو دریافت کر کے وہ لوہے کو مشینوں میں تبدیل کر رہا ہے جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ ایسی حالت میں بالکل قدرتی بات ہے کہ آج کا انسان حقائق فطرت کی بنیاد پر ثابت ہونے والی بات کو سب سے زیادہ باوزن سمجھے۔ آج کے انسان نے جو ترقیاں کی ہیں وہ حقائق کی بنیاد پر کی ہیں اس لئے آج کا انسان انہی باتوں کو اہمیت دیتا ہے جو حقائق کے زور پر ثابت ہوتا ہو۔

قدیم اور جدید ذہن کے فرق کو ایک سادہ مثال سے سمجھیے۔ پچاس سال پہلے اطباء کے یہاں اس قسم کے الفاظ بے حد پرکشش سمجھے جاتے تھے —– خاندانی نسخہ، پشتینی علاج، شاہی ترکیب سے بنی ہوئی دوا۔ کسی دوا یا منجن کے بارے میں یہ الفاظ بولنے کا مطلب یہ تھا کہ اس میں پراسرار خواص چھپے ہوئے ہیں۔ مگر آج ان الفاظ کے اندر کوئی قیمت نہیں۔ آج کا ڈاکٹر کسی دوا یا کسی ٹوتھ پیسٹ کی اہمیت کو بتانے کے لئے “قدیمی نسخہ” کی اصطلاح نہیں بولے گا۔ وہ کہے گا کہ یہ سائنسی طریقوں سے بنایا گیا ہے۔ سائنسی طریقہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی افادیت کو معلوم تجربات و مشاہدات کے ذریعہ جانا جا چکا ہے۔ حتی کہ اگر کوئی چاہے تو ان تجربات کو دہرا کر دوبارہ ان کے نتائج کی صحت کی تصدیق کر سکتا ہے۔ جب کہ خاندانی علاج کا مطلب یہ تھا کہ اس کے طبی خواص ہر ایک کے لئے قابل دریافت نہیں ہیں۔ دوا اور مرض کے درمیان تعلق کو متعین تجربات کے ذریعے معلوم نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت بس یہ ہے کہ وہ قدیم زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔ آج کا انسان اسی منجن کو استعمال کرنا پسند کرتا ہے جو سائنسی، بالفاظ دیگر، فطری حقیقتوں کی پیروی کرتے ہوئے بنا ہو۔ اسی طرح وہ صرف ان افکار کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے جن کا برحق ہونا فطری حقائق کے ذریعہ معلوم ہوا ہو۔ (وحید الدین خان، احیائے اسلام ص 72)
دور حاضر کی یہ تبدیلی بھی بہت مثبت ہے۔ جدید سائنس اس بات کو مان چکی ہے کہ انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی خیالی تک بندیوں سے خدا کی پہچان کر سکے۔ اس نے یہ میدان مذہب کے لئے چھوڑ دیا ہے اور خود مشاہدے اور تجربے کے ذریعے ان حقائق کی تلاش میں سرگرداں ہے جن کا تعلق محسوس واقعات سے ہے۔ اس تبدیلی کے مثبت اثرات ہم واضح طور پر اپنی زندگیوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ اب ہمارے ذہین ترین افراد کی دانش الٹے سیدھے فلسفوں کی گھتیاں سلجھانے کی بجائے زندگی کے عملی مسائل کے حل میں صرف ہو رہی ہیں جس سے پوری انسانیت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

خلاصہ بحث

انسان کے طرز فکر میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں کا جائزہ لے کر ہم بڑے اطمینان سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے طرز فکر میں بہت سی غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں جس سے جہاں تو چند نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں لیکن اس سے مثبت سمت میں بڑھنے کے نئے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔

مصنف : محمد مبشر نذیر | اخلاقیات اور مذہب – اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

9 Responses to انسانی نفسیات اور طرز فکر میں تبدیلی

  1. Pingback: Tweets that mention انسانی نفسیات اور طرز فکر میں تبدیلی « یاسر عمران مرزا -- Topsy.com

  2. پڑھنا شروع کیا تو حیرت ہوئی کہ آپ کچھ مختلف طرح سے لکھتے ہیں یہ آج کیا انقلاب آگیا مگر آخر میں پتہ چلا کہ اس کے لکھاری کوئی اور دوست ہیں ۔ اچھا مضمون ہے

    • Yasir Imran says:

      ریاض شاہد صاحب
      پسند کرنے کا شکریہ ۔ ایسے مضامین جو کسی دوسرے مصنف کے ہوں انہیں میں “جسٹ شیئرڈ ” کے ذمرے میں شائع کرتا ہوں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ مضمون کا متن اچھا ہے۔

  3. عثمان says:

    پہلی دو ہیڈینگز اچھی ہیں۔۔۔لیکن تیسری سے کچھ اختلاف ہے۔
    دور جدید میں سائنس کا مقصد حصول علم برائے علم ہے۔ اس سے حاصل کئے گئے ثمرات بڑی حد تک سائیڈ ایشوز ہیں۔
    تحریر میں مشاہدے کو جدید سائنسی طرز فکر کی بنیاد بتایا گیا ہے۔ حالانکہ مشاہدہ کئی بیادی عناصر میں سے صرف ایک بنیادی عنصر ہے۔ سائنس کی بنیاد شک اور تحقیق ہے جسے انگریزی میں Skepticism & Inquiry کہتے ہیں۔ کئی سائنسی علوم ایسے ہیں جس میں مشاہدہ کسی اور حقیقت کی نشاندہی کرتا تھا۔ لیکن شک اور تحقیق کی بنیاد پر کام کرے ہوئے کچھ اور ہی حقیقت آشکار ہوئی۔ آگے چل کر آپ نے جو مثال بیان کی ہے وہ Self Contradictory ہے۔ لکھا ہے:-
    “سائنس کے انقلاب نے موجودہ زمانے میں انسانی فکر میں جو تبدیلی کی ہے وہ یہ ہے کہ جو بات کہی جائے تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر کہی جائے نہ کہ مفروضات اور قیاسات کی بنیاد پر۔”
    یہاں یہ بات بیان کر دوں کہ مفروضہ یعنی hypothesis جو کو خود تحقیق کا ایک عنصر ہے مشاہدے سے وجود میں آتا ہے اور اس کی حقیقت تحقیق سے جانچی جاتی ہے۔ مطلب کہ یہ مفروضہ مشاہدے کی ضد نہیں۔ مصنف آگے چل کر خود کو contradict کر رہے ہیں۔ جہاں وہ قدیمی نسخے کی بارے میں بیان کرتے ہیں۔ قدیمی نسخے کی بنیاد صرف خاندانی تجربہ اور مشاہدہ تھا۔ شک اور تحقیق نہ تھی۔ یعنی موصوف جس چیز کی سائنس کی بنیاد بتارہے ہیں وہ دراصل قدیمی نسخوں کی بنیاد ہے۔ سائنس کی بنیاد مصنف نے سمجھی ہی نہیں۔
    یہ تفصیل موضوع ہے۔ وقت ملا تو اپنے بلاگ پر موضوع کلام بناؤں گا۔

    • Yasir Imran says:

      عثمان صاحب آپ بھی اپنا نقطہ نظر بیان کیجیے، مجھے آپ کی تحریر کا انتظار رہے گا۔ والسلام

  4. Md says:

    محترم جناب یاسر عمران صاحب آپ نے بہت اچھا انخاب پیش کیا ھے -میں نے بھی اس سلسلے میں کچھ لکھا ھے ھو سکے تو ایک نظر دیکھ لیجئے اور مشورے دیجئے-شکریہ- universe-zeeno.glogspot.com
    احسان مند-Md

    • Yasir Imran says:

      جناب ایم ڈی صاحب
      میرے بلاگ پر خوش آمدید، جی ضرور میں آپکی تحریر پڑھتا ہوں کچھ دیر میں۔
      باقی مشورہ یہی دے سکتا ہوں کہ اچھی بلاگنگ کیجیے اور جاری رکھیے انشاء اللہ کامیابی ہو گی۔

  5. Pingback: آپکے بلاگ پر تازہ ترین پوسٹ - صفحہ 3 - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز

  6. MOHSIN RAZA says:

    محترم مبشر صاحب آپنے جدید علم کو واضح کیا میرا آپ سے بحیثت مسلمان یہ سوال ھے کہ اللہ کی حقیقی پھچان وحی سے نازل ھوئ جو مقدس کتاب قران پاک جسپر حق الیقین رکھنا ایمان کا لاذمی جز ھے اور مرنے کے بعد روح جو اصل امر ربی ھے تمام امور جو زندگی میں انجام پاتے ھیں اسکا ثواب و عزاب بھی اسی روح پر ھی وارد ھو گا اور یہ دونوں یعنی وحی اور روح دونوں کا تعلق مابعدالطبیات سے ھی ھے اور اسپر ھی دین حق کی عمارت کھڑی ھے اور اسکا منکر دین سے خارج قرار پاتے ھیں -اور جدید سائنس اسکا منکر ھے ، میری ناقص معلومات میں اصل علم ھی انکی
    پہچان اور معرفت ھے جسکے لئے انبیاء السلام مبعوث ھوئے جسکا ذکر
    سورہ جمعہ میں آیا _ترجمعہ _ وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، بیشک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے، آیت (٢)
    گو کہ جدید علم کی اھمیت ھے لیکن کوئ نبی نے اپنا حدف اس علم کو قرار نہیں دیا ،اور میرے خیال میں چند جدید علوم کے علاوہ سارے علوم جسم انسانی کے تعئش اور آرام طلبی یا تباھی ،کمزوروں پر حکومت اور اشرف المخلوقات کو معاشرتی اونچ نیچ اور مشین کے ایک پرزے جسکا کام چھ دن گدھوں کی طرح کام اور ایک دن صرف نفس پرستی اور پھر ایک اور ھفتہ وھی مشینی حیات کیا اسکو ھم دنیا داری سے تعبیر نہیں کریں گے _
    امید ھے میر ی کم علمی کو صرف نظر کر کے میری راھ نمائی فرمائیں گے
    والسلام و طالب دعا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s