ایک پردیسی کی کہانی


جاپان میں رہنے والے بلاگر خاور صاحب نے باہر کی کمائی پر ایک تحریر لکھی۔ یہ تحریر بھی اسی موضوع پر ہے۔ جو کہ ایک پردیسی اور اس کے گھر والوں کے مابین خطوط کی شکل میں ہے۔ شاید کچھ لمبی تحریر ہے لیکن پڑھیں گے تو اچھی لگے گی۔

پیارے ابو جان اور امی جان
مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارداہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں
آپکا پیارا – جمال


پیارے بیٹے جمال
تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔


پیارے ابو جان اور امی جان
میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔
آپکا پیارا – جمال


پیارے بیٹے جمال
تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔


پیارے ابو جان اور امی جان
آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔
آپکا پیارا – جمال


پیارے بیٹے جمال
بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔
(بیوی ) پیارے جانو جمال
میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
آپکی پیاری جان۔ زہرہ


پیاری شریک حیات زہرہ
انیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار درہم ہے جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔
تمھارا شریک سفر – جمال


پیارے جانو جمال
آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،
آپکے جواب کی منتطر ، آپکی پیاری جان۔ زہرہ


اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Urdu and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

39 Responses to ایک پردیسی کی کہانی

  1. خدا کا واسطہ ہے یار
    نہ کیا کرو ایسی پوسٹیں

  2. Abubakar says:

    chaa gaye o janab
    boht achi story hai magar end par sad

  3. Yasir Imran says:

    ڈفر – DuFFeR :

    خدا کا واسطہ ہے یار
    نہ کیا کرو ایسی پوسٹیں

    ہا ہا ہا۔ یار مینوں ھنسی آ گئی ایس کمنٹ تے۔۔۔
    ویسے تواڈا بل آوندا اے ایسیاں پوسٹان نال

  4. Yasir Imran says:

    Abubakar :

    chaa gaye o janab
    boht achi story hai magar end par sad

    ابو بکر صاحب میرے بلاگ پر خوش آمدید اور پسند کرنے کا بہت شکریہ

  5. خاور says:

    ہم زمانے میں کچھ ایسے بھٹکے
    که اب تو ” ان ” کی بھی گلی یاد نهیں
    وھ ایک قدیم مکالمه ہے
    ایک سوال
    وھ اندھیری راھوں میں کیوں مارے گئے؟
    ایک اواز
    ان کے باپوں نے ان سے جھوٹ بولا تھا

    • Yasir Imran says:

      بہت خوب خاور صاحب ۔ بلاگ پر خوش آمدید
      وہ اندھیری راہوں میں اسی لیے مارے گئے کہ وہ اپنوں کے دامن میں اجالے بھر رہے تھے۔
      تبصرہ کرنے کا شکریہ

  6. Bohat Aala tahreer hey aur yakinan 99 % pardaysiyoun ka yahi haal hota hey. aisi post par kar to depression aur barh jata hey kiyoun kay nawishta-e-deewar saaf nazar aa raha hota hey.

    • Yasir Imran says:

      توارش صاحب۔ میرے بلاگ پر خوش آمدید
      یہ تو ایک تلخ حقیقت ہے اسی طرح کی جس طرح کہ پاکستان میں غریبوں کا آٹے لینے کے لیے لائنوں‌میں لگنا۔ اس کہانی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ اس لیے سمجھداری اسی میں ہے کہ انسان اپنی چادر میں گزارا کرنا سیکھے اور اس کے اپنے گھر والے جو نفسانی خواہشوں کے غلام ہو چکے ہیں انہیں بھی سادگی کی عادت ڈالے۔

  7. عثمان says:

    مرزا صاحب!

    امید ہے کہ آپ سعودی عرب اپنی فیملی کے ساتھ ہی مقعم ہوں گے۔ اللہ ایساوقت کسی پر نہ لائے۔

    • Yasir Imran says:

      عثمان صاحب ، بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ
      اللہ کا شکر ہے اچھی گزر رہی ہے۔ اور آپ کی دعا پر آمین کہہ کر مجھے اچھا لگے گا۔

  8. کافی سبق آموز تحریر تھی
    پر اب معاشی مجبوری نہیں حالات ہی پاکستان کے ایسے ہو گئے ہیں
    کہ ہر ایک باہر جانے کیس سوچ رہا ہے
    ہر جگہ قتل فساد مہنگائی افراتفریح بم دھماکے
    کیا کرین حکمرانوں کو کچھ اپنے سے فرصت ملے تو کچھ کریں وہ ملک کا بھلا

    • Yasir Imran says:

      طارق صاحب، پسند کرنے کا شکریہ
      اگر پاکستان کے حالات میں فرق آیا ہے تو دیگر دنیا کے حالات میں بھی فرق پڑا ہے۔ سفید پوش انسان کا جینا ہر جگہ مشکل کر دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے آبا و اجداد نے کس طرح کی زندگی بسر کی ہے ۔ ہاں قتل و غارت والی بات واقعی افسوس ناک ہے۔
      تبصرہ کرنے کا شکریہ

  9. فیصل says:

    کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس پہلے خط میں کیا تھا؟

    • Yasir Imran says:

      فیصل صاحب۔ بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ
      آپ آخری فقرہ سمجھ نہیں پائے۔ اصل میں یہ گھر والوں کی طرف سے آخری خط تھا اور شاید اس میں بھی مزید فرمائشیں یا مسائل کے لیے پیسوں کا تقاضا کیا گیا ہو گا۔ لیکن پہلی بار ایسا ہوا کہ اس نے خط کھولا ہی نہیں۔
      شکریہ

  10. فیصل :
    کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس پہلے خط میں کیا تھا؟

    ایک بار پڑھنے سے مجھے بھی یہی لگا تھا کہ اس کی جیب میں جو ان کھلا خط ہے یہ وہ والا ہے جو اس کو ستائیس سال پہلے پردیس آنے کے بعد گھر سے سب سے پہلی بار موصول ہوا تھا۔ سو یہ سوال بھی ذہن میں فلیش ہوا کہ ربع صدی سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی وہ خط ہنوز اس کی جیب میں پڑا ہے۔ آخر اتنے سالوں میں قمیص دھلی تو ہو گی ۔ اور یہ بھی کہ آخر میں گھر کو لوٹتے وقت اس نے اسقدر قدیم قمیص زیب تن کیوں کرنا چاہی وغیرہ۔

    لیکن ازسر نو غور کرنے پہ آشکار ہوا کہ پہلا خط سے مراد آج تک پردیس میں ملنے والے تمام خطوط میں سے وہ خط ہے جس کو اس نے کھول کر پڑھنا نہیں چاہا جبکہ اس سے پہلے والے تمام خطوط وہ پڑھ لیتا رہا تھا۔

    یاسر، اوپر ابوبکر نے صحیح کہا ہے۔۔۔آج تو چھا گئے ہو بھائی آپ۔ کمال جگر سوز تحریر شائع کر دی ہے۔

    • Yasir Imran says:

      بہت بہت شکریہ احمد بھائی۔ تاخیر سے جواب دینے پر معذرت چاہوں گا ۔ چلیے اچھا ہوا آپ کو سمجھ تو آ گئی، آخری فقرہ شاید کچھ پیچیدہ لکھا تھا اس لیے قارئین کو سمجھنے میں کچھ پریشانی ہوئی ہو۔
      والسلام

    • یاسر بھائے آپ آخری فقرے کو یوں بھی لکھ سکتے تھے۔
      یہ وہ واحد خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔
      اسی بارے ایک نظم،
      شائد الطاف گوہر صاحب کی ہے

      گھر واپس جب آؤ گے تم کون تمہیں پہچھانے گا
      کون کہے گا تم بن ساجن یہ نگری سنسان

      بن دستک دروازہ گم سم بن آہٹ دہلیز
      سُونے چاند کو تکے تکے راہیں پڑ گئی ماند
      کون کہے گا تم بن ساجن یہ نگری سنسان

      کون کہے گا تم بن ساجن کیسے کٹے دن رات
      ساون کے سو رنگ گھولے اور ڈوب گئی برسات
      کون کہے گا تم بن ساجن یہ نگری سنسان

      پل جیسے پتھر بن جائے گھڑیاں جیسے ناگ
      دن نکلے تو شام نہ آئے آئے تو کُہرام
      کون کہے گا تم بن ساجن یہ نگری سنسان

      گھر واپس جب آؤ گے تم کیا دیکھو گے کیا پاؤ گے
      یاد نگار وہ سنگی ساتھی مدبھری آنکھیں اکھیاں جن کی
      بجھ گئے سارے لوگ وہ پیارے رہ گئی کچھ لڑیاں
      تم بن ساجن یہ نگری سنسان
      تم بن ساجن یہ نگری سنسان

    • Yasir Imran says:

      جی آخری لائن کچھ اچھی طرح آسان الفاظ میں بیان نہیں ہو پائی، آپکا شکریہ، اور نظم بہت اچھی ہے۔

  11. Pingback: ایک پردیسی کی کہانی (via Yasir Imran Mirza) « PIECEMEAL

  12. Pingback: ایک پردیسی کی کہانی (via Yasir Imran Mirza) « AHKath's Blog

  13. Mohammed Danish says:

    hmm…………..strange…..ghar wale kia iss tarah ke bhi hote hein….aik insaan apno ke liye bahir gaya per apno ne usko apna ATM samj liya…..i beg all of u agar app ke ghar se koi bahir gaya hai tu usko plz itna forced mat karein ke woh zindagi bhar apne ghar walon ko dekhne ke liye tarasta rahe.

    • Yasir Imran says:

      گھر والے پہلے تو ایسے نہیں ہوتے۔ لیکن مسلسل ریالوں یا ڈالروں کی بارش بڑے بڑوں کو تبدیل کر دیتی ہے۔ ویسے بھی جو بندہ دور ہو جاتا ہے اس کی محبت بھی دور ہو جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ اس کے نہ ہونے کی عادت سے ہو جاتی ہے۔ مگر نوٹوں کی عادت ضرور ہو جاتی ہے۔

  14. samina.akram says:

    hallo dil duk gaia he sab kuch sach ham pardes mein rete hein je dard hum se beter kon jan sakta he tenks

  15. Pingback: پتھر کا انتظار | Yasir Imran Mirza

  16. pearl4who says:

    بہت خوب حالانکہ اس موضوع پر بہت لکھا جا چکا ہے پھر بھی پڑھ کر عجیب سے احساسات ہو گئے کہ کوئی اس طرح بھی کرتا ہے اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں اور دنیا ایک اسٹیج ہے ہر کوئی اپنا کردار نبھا رہا ہے لیکن یہاں جو ساتی دکھی ہیں انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ اس سے مختلف سوچ رکھنے والے بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں یہ تربیت ہے جو زندگی کے ہر ہر پہلو میں نظر آتی ہے قناعت ختم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے آپکو مزید مشکلات میں ڈالتا چلا جا رہا ہے اور انجام آخر کار وہی ملنا تو مٹی میں ہی ہے۔

    • Yasir Imran says:

      قناعت ختم ہوتی جا رہی ہے

      اس بات سے مکمل اتفاق کروں گا۔ اور زندگی میں آسائشیں حاصل کرنے کی دوڑ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔

      تبصرہ کرنے کے لیے شکریہ

  17. چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالب نہیں بھولے تھا وطن ذھن میں اپنے، کوئی زندان تو نہیں تھا۔

  18. NOOR says:

    SALAM YASIR BHAI…

    BHUT KHUB . . . . . MAAF KARNA AAP KI IJAZAT KE BAGEAIR KUCH AZIZON KO YE MAIN NE EMAIL KAR DIYA HAI . . . . . UMMID HAI NARAAZ NAA HONGE….
    WAISE AAP KE BLOG PER PAHLI MARTABA TASHREEF AAWARI HUYI HAI.. BHUT ACCHA LAGA . . INSHA-ALLAH HAZIRI HOTI RAHEGI..

    JAZAKALLAH

  19. ما شاء اللہ آپ کی تحریر کی تاریخ تو وہی ہے جس دن پاکستان نے ایٹمی قوت ہونے کا مظاہرہ کیا تھا ۔
    اٹھائیس مئی کا دن مسلمانوں کے لئے ایک اور لحاظ سے بھی اہم ہے ، اس دن دوپہر کے وقت سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوتا ہے ۔ آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں اورموسم صاف ہو ، اس وقت زمین پر کوئی لکڑی یا سلاخ، سیدھی ٹھوک دیں اور اس کے سائے کی سمت سے خانہ کعبہ کی درست سمت معلوم کر سکتے ہیں ۔
    اصل وقت کا تعین ایک دو دن قبل کے اخبارات میں شائع ہوتا ہے ۔

    شائد اسی دن اللہ نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا ،، بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان کا قیام رمضان کے آخری عشرے کی طاق رات کو ہوا ۔

    اللہ پاکستان کی حفاظت کرے ۔۔ آمین۔

    پردیس میں ایک شعر اکثر یاد آتا ہے ، کسی نامعلوم شاعر کا ہے ۔

    محفل برخاست ہوئی تو سبھی اٹھ کے گھر کو چلے،
    وہ بھی اٹھ کے چلا ، جس کا کوئی گھر نہ تھا ۔

  20. khalid bashir says:

    janab perdeas main her dosaray banday ki yahi kahani hai.bas itna lamba arsa bahar rehna her kisi k bas ki baat nahi

  21. Syed Rafaqat says:

    Janab story tou achi hai but yeh sab insan ki majborian hoti hai Pakistan mein kia hai jo tha aur jo hai sab ka sab hmaray Politicians kha gay hain ghareeb k liye tou kuch nai Allah en sab Politicians ko gharak kry kab tak yeh khain ge aik din tou faislay ka ay ga un k liye dunia he sahee ghareeb k liye aakhirat hai

  22. sami mufti says:

    سلام بہت اچھی پوسٹ ہے اور حقیقت حال کو بیان کر رہی ہے
    لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان رہتے ہوئے بھی ایک آدمی کا حال شاید اس سے مختلف نہیں ہوتا- وہ بھی اپنی مرضی کے خلاف اپنے بیوی بچوں اور والدینن کی خدمت کیا کرتا ہے- اس کا دل بھی بہت چاہتا ہے کہ وہ دن آئے جب وہ آرام اور سکوں کی زندگی بسر کرتے لیکن ذمہ داریاں اسے اپنی مرضی پر جلاتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے وطن کی طرف نہیں بلکہ ابنے آخری سفر ‘پر رخضت ہو جاتا ہے

  23. یہ ایک کہانی نہیں بلکہ ہم لوگوں کیلیئے ایک سبق ہے ۔ پردیسی لوگ جب اپنی زندگی کی جمع پونجی یعنی اپنی جوانی اور طاقت خرچ کرکے واپس آتے ہیں تو اس بیوی اور ان بچوں کو برے لگتے ہیں جن کی خاطر پردیسی لوگ اپنا سب کچھ لٹادیتے ہیں اپنی جوانی ، اپنی امنگیں، اپنی خوشیاں اور ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا ہم لوگ اگر اپنے آس پاس نظر دہرائیں تو اس طرح کی کئی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔

  24. یاسر بھائی، اوپر کے تمام تبصروں میں سے مجھے ڈفر کا یہ تبصرہ بہت بھلا لگا کہ یار مت کیا کرو ایسی پوسٹیں، بہت رلاتی ہیں یہ

  25. oh meri pichli comment main galat link copy paste ho gaya.

    main kehna chahta tha: میں تو اپنا ویزا لگوانے کا سوچ رھا تھا

  26. kauserbaig says:

    پڑھکر دل بہت دکھی ہوگیا ۔ میں بھاء میں رہنے جب ایک بنگلا دیش کے لڑکے کو جانتی تھی جس نے اپنے بیٹے کو چار سال کا ہونے پر بھی نہیں دیکھا تھا اورایک دن اس کے اسکول کے پہلے دن کی تصویر سب کو بتا بتا کر خوش ہورہا تھا اس دن بھی مجھے دل بہت بھاری لگا تھا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s