اردونامہ کے بچاؤ کی تحریک


اردونامہ کی ایک زبردست آفر

اردو نامہ ایک اچھا ویب پورٹل اور فورم ہے جو اردو کی انٹرنیٹ پر ترویج کے لیے کوششاں ہے۔ اسکے منتظمین اس کو چلانے کے لیے کافی محنت کر رہے ہیں اور کافی عرصے سے اس کام میں مصروف ہیں، لیکن جیسا کہ ہمارے ہاں حکومت کے پاس ملک کو چلانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے اسی طرح دیگر فلاحی کام بھی فنڈز اور سپانسرز کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ اردو نامہ بھی اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہےاور اپنے اخراجات کے لیے سپانسرز کی تلاش میں میں ہے۔ نیچے اردو نامہ کی منتظمین کی طرف سے ایک آفر یا پیکج دیا جا رہا ہے اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو اردونامہ کو ضرور سپانسر کریں۔ انتظامیہ سے رابطہ کے لیے اس صفحہ پر جاسکتے ہیں۔

السلام علیکم

محترم اراکینِ اردونامہ آج میں آپ سب کو وہ بری خبر سنانے جا رہا ہوں جس کی وجہ سے پچھلے دو تین دنوں سے میں بے حد پریشان ہوں۔ یہ درست ہے کہ اس پریشانی کا بے حد آسان حل موجود ہے لیکن چونکہ یہ حل میرے لئے ممکن نہیں ہے اسی لئے میں پریشانی کا شکار ہوں۔ جیسا کہ آپ تمام دوستوں کو معلوم ہے کہ اردونامہ 2006 سے انٹرنیٹ پر اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، پہلے اردونامہ کو ایک فری ہوسٹنگ حاصل کر کے اس پر چلایا گیا، پھر جیسے جیسے اردونامہ پر مواد کا ذخیرہ بڑھنے لگا ویسے ویسے ہی اس کی ضروریات بھی بڑھنے لگیں، پہلے فری ہوسٹنگ میں کبھی کبھی کوئی مسئلہ آنے لگا پھر یہ مسائل ہر روز گھمبیر صورتحال اختیار کرتے چلے گئے، بلاناغہ کوئی نہ کوئی مسئلہ موجود ہوتا جس کی وجہ سے اردونامہ کی انتظامیہ کو بہت پریشانی اٹھانا پڑتی۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ فری ہوسٹنگ نے الٹی میٹم دے دیا کہ چونکہ آپ فری ہوسٹنگ کی مقررہ حد سے زیادہ بینڈ ویڈتھ استعمال کر رہے ہیں اس لئے یا تو ہوسٹنگ خریدیں ورنہ آپ کا اکاونٹ بند کر دیا جائے گا۔

پھر اردونامہ کے لئے ہوسٹنگ ڈھونڈنی شروع کی گئی، چونکہ اس وقت اردونامہ کے باقاعدہ اراکین کی تعداد بہت کم تھی اس لئے اردونامہ کے لئے ایک مہنگی ہوسٹنگ خریدنا ممکن نا تھا۔
بہت کاوشیں کیں بہت ساری سستی ہوسٹنگز کو دیکھا گیا لیکن کوئی بھی ایسی نا تھی جو اراکینِ اردونامہ کو ایک اچھا ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی، کسی کی بینڈ وتھ کم تھی تو کوئی ڈیٹابیس میں کنجوسی کرتی تھی الغرض کوئی ہوسٹنگ بھی ایسی نہ تھی جو دس سے بارہ ہزار روپے سے کم میں حاصل کی جا سکتی تھی۔ پھر اچانک اللہ تعالٰی نے مہربانی کی اور میرا ایک دوست جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے اس نے اردونامہ کے لئے اپنی ہوسٹنگ پیش کر دی جو اس نے اپنی بزنس ویب سائیٹ کے لئے حاصل کر رکھی تھی۔

اردونامہ کو بیٹھے بٹھائے ایک بہت ہی شاندار ہوسٹنگ مل گئی جس میں نہ صرف لامحدود ویب سپیس موجود تھی بلکہ لامحدود بینڈ وتھ کی حامل بھی تھی۔اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا اور اردونامہ کو اس نئی ہوسٹنگ پر منتقل کر دیا گیا ساتھ ہی ساتھ اس کے لئے ایک عدد پیارا سا ڈومین نیم urdunama.org بھی حاصل کر لیا گیا جو میں نے اپنی طرف سے خریدا یہ سارا عمل 25 فروری 2009 کو مکمل کیا جب سے اب تک اردونامہ بہت خوش اصلوبی سے اپنا سفر طے کرتا رہا اور اپنے حقیقی مقصد میں کافی حد تک کامیاب رہا ۔ اب مارچ 2010 کے اواخر میں میرے دوست کا فون موصول ہوا جس میں اس نے معذرت ظاہر کی ہے کہ چونکہ جس مقصد کے لئے اس نے یہ بزنس ویب سائیٹ بنائی تھی وہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے اس لئے وہ یہ ہوسٹنگ بند کر رہا ہے اور اب اردونامہ کی مرضی ہے چاہے تو وہ اپنی ہوسٹنگ خرید لیں چاہے یہی ہوسٹنگ اپنے نام منتقل کروا لیں یا اردونامہ کو بھی اس کی بزنس ویب سائیٹ کی طرح ہمیشہ کے لئے بند کردیں۔ کچھ بھی ہو یہ بات طے ہے کہ اردونامہ اب مزید فری ہوسٹنگ پر چل نہیں پائے گی۔ اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف اب وقت آ گیا ہے کہ اردونامہ کے لئے ذاتی ہوسٹنگ خریدی جائے یا اسے ایک دیوانے کا خواب سمجھ کر ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے۔

میرے ساتھ ساتھ باقی تمام اراکینِ اردونامہ نے اردونامہ کو اس نہج تک لے جانے کے لئے بہت انتھک محنت کی ہے اور انہیں محنتوں، محبتوں کا نتیجہ ہے کہ آج اردونامہ انٹرنیٹ کے افق ایک روشن ستارے کی ماند چمک اٹھا ہے۔ کم ازکم میرے لئے تو یہ ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے کہ میں اردونامہ کو ایسے ہی اتنی آسانی سے مر جانے دوں اور میں امید کرتا ہوں کہ اردونامہ کا ہر قاری اور اردونامہ کی انتظامیہ کا ہر رکن یہی سوچ رکھتا ہے، اب صورتحال یہ ہے کہ اردونامہ کا کوئی بھی رکن شاید اس قابل نہیں ہے کہ اردونامہ کے لئے ہوسٹنگ خرید کر وقف کر سکے، نہ صرف وقف کر سکے بلکہ اسے مستقل بنیادوں پر چلا بھی سکے کہ یہاں جو اراکین ہیں وہ سب ہی محنت مزدوری کے بیشے سے منسلک ہیں اور اپنے روز مرہ اخراجات میں سے اتنی رقم نکال نہیں سکتے ہیں کہ اردونامہ کے لئے اتنی رقم ایک ساتھ صرف کر سکیں۔

البتہ یہ ممکن ہے کہ اردونامہ کے تمام اراکینِ اور انتظامیہ ممبران مل کر اردونامہ کے لئے ایک اچھی سی ہوسٹنگ خرید لیں اور ہر سال اپنا اپنا حصہ اس کی ہوسٹنگ فیس چکانے کے لئے جمع کرتے رہیں۔ چونکہ میں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی رکن اس حصے کو اپنے لئے بوجھ محسوس کرے اس لئے میں اپنے طور پر ایک پیکج دینا چاہتا ہوں کہ شاید اس بدولت کوئی بھی رکن اپنے حصے کی رقم چکاتے ہوئے بوجھ محسوس نہ کرے گا۔ اس مقصد کے لئے میرا پلان یہ ہے کہ چونکہ ویسی ہوسٹنگ جیسی آجکل اردونامہ کے لئے چل رہی ہے ایسی ہوسٹنگ کی کم از کم سالانہ فیس 16000 روپے سالانہ ہے اور اگر ہم اس سے سستا پیکج بھی خریدی جو کہ کچھ حد تک قابلِ قبول ہو گا اس کی کم ازکم فیس 9000 روپے سالانہ ہو گی۔ جو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے کم ازکم نو افراد ایسے سامنے آئیں جو ہر سال ایک ہزار روپیہ اردونامہ کے لئےوقف کر سکیں یہ روپے کیسے جمع کیئے جائیں گے کہاں جمع کیئے جائیں گے اس کے بارے میں بھی اگر کسی کے پاس کوئی پلان ہو تو وہ بھی یہاں اپنی رائے پیش کردیں۔ جو رکن بھی اردونامہ کی فیس چکانے میں حصہ دار بنے گا اس کو اردونامہ کے ڈومین پر ایک سب ڈومین دیا جائے گا اور ساتھ ہی ایک خوبصورت سی Static ویب سائیٹ اردونامہ کی جانب سے فری بنا کر دی جائے گی، البتہ یوزر کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہو گا کہ وہ اپنی ویب سائیٹ کے لئے اپنا ذاتی ڈومین خرید سکے اور ہوسٹنگ اردونامہ کی استعمال کر لے۔

اگر دیکھا جائے تو یہ ہر گز بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا، ایک طرف تو اردونامہ اپنے ان تمام اراکین کا جو اس کام میں حصہ داری کریں گے مشکور ہو گا ساتھ ہی ساتھ ان کی ایک اپنی خوبصورت سائیٹ بھی بن جائے گی۔ اگر پاکستانی مارکیٹ کے حساب سے دیکھا جائے تو ایک عام سی ویب سائیٹ بنوانے کا اکم ازکم خرچہ 5000 روپے آتا ہے اور اس Static ویب سائیٹ کی ہوسٹنگ کا سالانہ خرچہ 3000 روپے سالانہ اور ڈومین کی فیس 1000 روپے سالانہ ہو گی اس کا مطلب ہے کہ پہلے سال آپ کو اپنی سائیٹ کے لئے 9 سے 10 ہزار کا خرچہ کرنا پڑے گا اور بعد میں ہر سال 4000 روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ اس کی بجائے اگر اردونامہ کا یہ پیکج قبول کر لیا جائے تو اس سب کا خرچہ صرف 1000 روپے سالانہ ہو گا جو میرا نہیں خیال کہ کسی بھی صورت گھاٹے کا خرچہ ہے۔

ویب سائیٹ چاہے آپ اپنی پرسنل ویب بنوالیں یا بزنس اردونامہ یہ ویب سائیٹ بالکل مفت میں بنا کر دے گا۔ اس کام کے لئے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر وں گا اور ساتھ ہی ساتھ اردونامہ کے دوسرے ایڈمن محترم شازل بھیا بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اب رہی بات کہ یہ سارا کام کب کیا جائے گا تو اس ضمن میں عرض ہے کہ 05 اپریل 2010 کو اردونامہ کی ہوسٹنگ بند ہو رہی ہے اور ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم 05 اپریل 2010 سے پہلے پہلے یہ تمام کام مکمل کر لیا جائے۔ اگرچہ میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ جو بھی رکن اس سائیٹ کے لئے اپنا حصہ ڈالے اسے فورا اس کی سائیٹ بنا کر دے دوں لیکن انشااللہ کوشش کروں گا کہ آپ کی سائیٹ ایک ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں اردونامہ کے سرور پر اپلوڈ کر دی جائے۔

تو جناب اب یہ آپ پر ہے کہ اس آفر کو ن کتنی جلدی قبول کرتا ہے او راردونامہ کے بچاؤ کے لئے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔  اس کام کے لئے یہ بالکل بھی ضروری نہیں ہے کہ اردونامہ کے لئے رقم جمع کرنے والا فرد اردونامہ کا رکن ہو کوئی بھی فرد اس ‌رقم جمع کرنے کی مہم میں حصہ لے سکتا ہے، اگر اردونامہ کے لئے رقم جمع کرنے والے افراد کی تعداد نو سے زیادہ ہو جاتی ہے تو اس رقم کی مدد سے اردونامہ مزید بہتر ہوسٹنگ خرید سکتا ہے اور اگر رقم اس سے بھی بڑھ جاتی ہے تو اردونامہ اس رقم سے ڈیڈیکٹڈ ہوسٹنگ بھی خرید سکتا ہے لیکن اس کے لئے بہت زیادہ رقم درکار ہوگی اس لئے فی الحال یہ تو بہت بعد کی سوچ ہے۔ ایک اور آفر بھی اردونامہ ان افراد کے لئے پیش کرتا ہے جو پہلے سے ہی اپنی سائیٹ چلا رہے ہیں وہ اپنی سائیٹ اردونامہ کی ہوسٹنگ پر منتقل کریں اور اس آفر کا حصہ بن جائیں آئندہ اپنی سائیٹ کی ہوسٹنگ فیس اپنے رجسٹرار کو بھی تو پےکرتے ہیں وہی رقم اردونامہ کے لئے پے کریں اور اردونامہ کے بچاؤ کی مہم کا حصہ بن جائیں۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News, Urdu and tagged , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

6 Responses to اردونامہ کے بچاؤ کی تحریک

  1. محترم یاسر صاحب اردونامہ کے بچاؤ کی مہم میں اپنا حصہ شامل کرنے پر آپ کا بہت بہت شکریہ۔

  2. The Editor says:

    Download click does not work…

    half the words in your writing are in English anyway

  3. Yasir Imran says:

    ماجد صاحب، میرے بلاگ پر خوش آمدید
    امید کرتا ہوں آپ کو کوئی اچھا سپانسر مل جائے گا۔
    آپکا شکریہ

  4. Yasir Imran says:

    Editor bro, welcome to my blog
    Which download link you are talking about. There is only one link that is leading to urdunama.org
    Well, you are right a lot of words in our daily life belong to English but now these words become common & part of our language.
    Thanks

  5. Yasir Imran says:

    اردو نامہ ٹیم سے گزارش ہے کہ پاک نیٹ کے منتظمین بھائی سے ان کے ای میل پر رابطہ کریں
    muntazmeen@pak.net

  6. شازل says:

    میرے خیال میں اب اس کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ آپ لوگوں کے تعاون سے بہت سے دوست اکھٹا ہو گئے ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s