
who killed the doll
“پشاور کے مینا بازار میں
گڑیا کو قتل کس نے کیا؟
وہ گڑیا جس نے
پہنے تھے سفید کپڑے
جو سرخ ہو گئے
اپنی سہیلی کے خؤن میں!
وہ گڑیا جس کے سونے جیسے بال
جل کر راکھ ہوئے
وہ راکھ جو اُڑتی رہی
اس شہر میں’جہاں دھماکے کے بعد
آہیں آسمان کو چھوتی رہییں
اور پوچھتی رہیں
“گڑیا کو قتل کس نے کیا؟”
کیا جواب ہے کسی وزیر کے پاس
اس شہر کے کسی امیر کے پاس
جس شہر کی غریب گڑیا
قتل ہوئی “کس جرم میں؟”
کیا جرم ہے گڑیا ہونا؟
“رنگ اور روشنی کی پڑیا ہونا!”
کیا میں بھی اس گڑیا کی طرح
“قتل ہو جاؤں گی کسی روز؟”
درد بھری انگلیوں سے
پکڑے ہوئے قلم کی معرفت
اس نے پوچھا اپنے آپ سے!
اس نے لکھا نہیں
مگر لکھنا چاہا
اگر کسی روز میں بھی قتل کی جاؤں
اس گڑیا کی طرح
تو میری قبر کے کتبے پر لکھوانا
“لکڑی جلی کوئلہ بھئی، کوئلہ جلا بھئیو راکھ
میں برہن ایسی جلی نہ کوئلہ نہ بھئی راکھ”
(لکڑی جلتی ہے تو کوئلہ کہلاتی ہے اور اور کوئلہ جل جائے تو راکھ کہلاتا ہے۔ لیکن میں تو ایسی جلی ہوں کہ نہ کوئلہ کہلا سکتی ہوں نہ راکھ)
بشکریہ روزنامہ امت کراچی







طارق راحیل said,
October 31, 2009 at 8:18 am
اللہ ان لوگوں کو عقل رحم اور سمجھ عطا کرے
اور گر یہ قابل اصلاح نہیں تو ان کو نیست و نابود کر دے
Yasir Imran said,
October 31, 2009 at 10:30 am
طارق صاحب
آمین، اور اللہ تعالی ہم سب پاکستانیوں کو سیدھا راستہ دکھائے اور ہماری منزل کا تعین کرنے میں ہماری مدد فرمائے۔ ثم آمین
شازل said,
October 31, 2009 at 4:20 pm
اس گڑیا کے قاتل وہ لوگ ہیں جو مذہب کی آڑ میں قتل کرتے پھر رہے ہیں
میرا پاکستان said,
November 1, 2009 at 2:05 pm
اس گڑیا کے قاتل وہ ہیں جو پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔
Yasir Imran said,
November 1, 2009 at 5:36 pm
شازل صاحب اور میرا پاکستان
کیا ضروری ہے کہ قتل کرنے والا ہی قاتل ہو ؟ قتل کے لیے منظوری دینے والا قاتل نہیں؟ قتل کے لیے اسلحہ دینے والا قاتل نہیں؟ قاتل کو ڈالروں کے عوض خریدنے والا قاتل نہیں؟ وہ سپاہی قاتل نہیں جس نے ناکے سے قاتل کو گزرنے دیا؟ وہ سیاستدان قاتل نہیں جس نے ڈالر قبول کر کے قتل پر خاموشی اختیار کر لی؟ وہ فوجی جرنیل قاتل نہیں جس نے اس ملک سے وفاداری کا حلف لیا، مگر ڈرون کے حملے پر چپ سادھ لی
کہیں یہ وہی سب تو نہیں جنہیں ہم آپ نے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا، ان کے پاس اختیار ہے لیکن یہ چپ ہیں ، کیا یہ قاتل نہیں ؟
شازل said,
November 2, 2009 at 2:20 pm
بے شک سب برابر کے شریک ہیں
آج کے دھماکے میں سنا ہےکہ بینک کے باہر حملہ آور نے جب لوگ تنخواہیں نکلوا رہے تھے خود کو آڑا لیا۔
کیا اب آرمی کے پاس یہ آپشن نہیں کہ وہ بھی اس شخص کے قبیلے کے لوگوں پر بے دریخ بمباری کرے،