پچھلے کچھ دنوں میں بے حد ذہنی کوفت اور تکلیف اٹھانی پڑی۔ کمپنی والوں سے چھٹی کی درخواست کی جس پرکافی بحث و مباحثہ تکرار اور لڑائی کرنی پڑی اور لکھنے لکھانے کو بھی وقت نہ دے سکا۔ یوں تو لمبے عرصے سے پردیس میں ہوں اور ہر گزرتے لمحے سے پردیس کی ان مشکلات کا احساس ہوتا ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے۔ ایک وہم جو میرے دماغ میں تھا کہ کچھ ادارے یا کاروبار کے مالکان اپنے ملازمین کی بہتری کا کوئی پہلو بھی سوچتے ہیں وہ ختم ہو گیا۔ کاروباری افراد چاہے پاکستان کے ہوں یا سعودی عرب کے وہ اپنے ایک سینٹ، ایک ہلالے یا ایک پیسے تک کے لیے ملازمین کے مفاد کو لات مار دیتے ہیں۔ شوگر ملوں کے مالکان پاکستانی ہوں یا سعودی سب ہی عوام کی کھال اتارنے میں لگے ہوے ہیں، اللہ تعالی دولت ، حیثیت یا اقتدار تو بہت سے افراد کو دے دیتے ہیں لیکن ظرف کسی کسی کو دیتے ہیں۔ ایسے بہت سے صاحبان ہیں جو یہ نعمتیں حاصل کرنے کے بعد غرور میںمبتلا ہو جاتے ہیں، حالانکہ زیادہ نعمتیں حاصل کر لینے کے بعد تو عاجزی سے انسان کو اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے پر وہ اکڑ میں آ جاتا ہے۔
سعودی عرب میں رہنے کے دوران اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ نہ صرف سعودی حکومت اس غرور میں مبتلا ہے بلکہ یہاں کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد بھی خود کو عجمیوں یعنی غیر سعودیوں سے اونچا سمجتھی ہے۔ حکومت نے ایسے ایسے قوانین دے ہیں کہ معاش کے سلسلے میں آئے ہوے افراد کی حیثیت ایک غلام سے بڑھ کر نہیں۔
سعودی عرب میں آنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو کسی مقامی باشندے کی غلامی قبول کرنی ہو گی جسے دوسرے لفظوں میں کفالت یا سپانسرشپ کہتے ہیں، اگر وہ چاہے تو آپ کو یہاں کام کرنے دے، وہ چاہے تو ایک منٹ میں آپ کو یہاں سے بے دخل کر دے۔ چاہے آپ یہاں اپنے خاندان کے ساتھ آباد ہو چکے ہوں۔ کسی ایک شہر سے دوسرے شہر کام کی غرض سے جانا ہو تو اپنے کفیل سے تحریری اجازت نامہ درکار ہے۔ گاڑی بیچنی ہو، خریدنی ہو، کاروبار کرنا ہو ہر چیز میں کفیل کی اجازت ضروری ہے، تاہم ان قوانین میں کچھ عرصہ سے کمی کی جا رہی ہے۔ ترقی کے لیے ایک جگہ سے نوکری چھوڑ کر کسی دوسرے جگہ نوکری کرنی ہے تو اپنے کفیل سے اجازت لینی ضروری ہے۔ اگر وہ اجازت نہ دے تو آپ چاہے لاکھ سر پٹخ لیں لیکن آپ کچھ نہیں کر سکیں گے۔
چھٹی پر جانے کے لیے آپ کو مکمل طور پر کمپنی کے قواعد کے تحت کام کرنا ہو گا، اور اگر آپ سمجھیں کہ آپ کا چھٹی جانا آپ کی نوکری سے زیادہ ضروری ہے تو سوائے سعودی عرب چھوڑ دینے کے آپ کے پاس کوئی اور حل نہیں، اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں نے کمپنی سے زیادہ لمبی چھٹی کے لیے اصرار کیا تو انہوں نے مجھے گھر بجھوا دینے کی دھمکی دے دی، حالانکہ میرے بڑے بھائی صاحب نے 4 لاکھ پاکستانی روپے جیب سے ادا کر کے میرا ویزا خریدا تھا، لیکن کمپنی میں سپانسر شپ منتقل ہونے کے بعدمیرا سعودی عرب رہنا، نہ رہنا کمپنی کے اختیار میں چلا گیا۔ واہ کیا کہنے۔۔۔۔
اپنے کنبہ کے لیے ویزہ لینا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے اقامہ پر اپنا پروفیشن تبدیل کرائیں۔ اس کے لیے ڈگری کو سعودی ایمیسی آف پاکستان سے اٹیسٹ کرائیں، اٹیسٹ کرانے کے لیے جس کمپنی میں کام کرتے ہیں اس سے ایک تحریری اجازت نامہ لے کر آئیں، اقامہ کی کاپی، پاسپورٹ کی کاپی لائیں، اور ایمبیسی خود نہ آئیں، ایجنٹ کے ذریعے بجھوائیں، ایجنٹ کا پتہ پوچھیں تو بتاتے ہیں ہمیںنہیں معلوم، ہم نے مقرر کر رکھے ہیں اسلام آباد کی مارکیٹ میں ڈھونڈ لیں، ویب سائٹ پر کوئی مکمل معلوماتی مواد موجود نہیں، پھر بیوی کے شناختی کارڈ سے اسکے والد کا نام ہٹوا کر شوہر کانام لکھوائیں۔اور مت پوچھیے کی کتنا خجل خوار کرتے ہیں۔
خیر ان ساری مشکلات کا تذکرہ تو نہیںکر سکوں گا کیوںکہ اس کے لیے بہت وقت درکار ہو گا۔ لیکن اکثر اوقات پاکستان کے اس نام نہاد برادر ملک سعودی عرب کے قانون کے متعلق سوچ کر بہت تکلیف ہوتی ہے جہاں ایک نامحسوس انداز میں تمام غیر ملکیوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا گیا ہے۔ بے شک سعودی حکومت کے پاکستانی حکومت پر بہت سارے احسانات ہیں لیکن ان احسانات کا ایک عام پاکستانی کو کیا فائدہ ؟ روپیہ پیسہ ،ریالات، قرض معافیاں، مفت تیل سے تو سیاستدانوں کی جیبیں بھرتی ہیں۔ سچ تو یہی ہے کہ ڈکٹیٹروں نے اپنی برادری یعنی ڈکٹیٹروں سے تعلقات رکھے ہیں، کون پاکستان اور کہاں کے پاکستانی۔







میرا پاکستان said,
October 29, 2009 at 8:51 pm
واقعی زیادتی ہے آپ کیساتھ۔ یہی زندگی ہے اور اچھے برے کی تمیز تب ہی معلوم ہوتی ہے جب اس سے واسطہ پڑتا ہے وگرنہ دور سے عربی لباس پہنے ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر کوئی حاجی ہی نظر آتا ہے۔ مزہ آئے گا جب تیل ختم ہو جائے گا اور یہ عربیوں کو پھر سے خیموں میں جانا پڑے گا۔
Yasir Imran said,
October 29, 2009 at 9:48 pm
بہت شکریہ، کم ازکم اب آپ مجھے مورد الزام نہیں ٹھرائیں گے
عمار عاصی said,
October 30, 2009 at 9:18 am
سعودی عرب میں کفالت کا نظام دور جاہلیت کی غلامی کی یادگار ہے۔ یہ لوگ آج بھی عرب ہونے کے غرور میں مبتلا ہیں اور عجمیوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔
البتہ اِن کا یہ رویہ صرف تیسری دنیا کے ممالک کی عوام کے ساتھ ہے۔ کوئی یورپی یا امریکی ان کے یہاں آ جائے تو اس کے آگے بچھے چلے جاتے ہیں۔
Yasir Imran said,
October 30, 2009 at 2:15 pm
عمار عاصی صاحب میں یہاں سعودی عرب میں موجود ہوں اور آپ کی بات پر اتفاق کا انگوٹھا لگاتا ہوں، میں یہ سب کچھ ہوتے ہوے دیکھتا ہوں اپنی آنکھوں کے سامنے، جتنی خوشامد یا خدمت سعودی گوری چمڑی والوں کی کرتے ہیں شاید ان کے اپنے ملک میں بھی ان کی اتنی آؤ بھگت نہیں ہوتی ہو گی
راشد کامران said,
October 30, 2009 at 9:03 pm
یاسر صاحب حال ہی میں دبئ جانے کا اتفاق ہوا تو پاکستانیوں اور بھارتی باشندوں کے لیے تو آئ اسکینگ اور فنگر پرنٹنگ لازمی ہے اور ویزا فیس بھی ضرورت سے زیاد ہے ۔ یہاں تک ے خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا جبکہ امریکی ایر پورٹ پر انتہاءی ذلت آمیز رجسٹریشن پراسیس سے کم از کم خواتین اور بزرگوں کو چھوٹ دی گءی ہے اور الیٹرانک ویزا کا ایک پرنٹ آؤٹ نکالنے کے 20 درہم علحیدہ سے۔ لیکن امریکی پاسپورٹ پر بلا معاوضہ تیس دن کی انٹری بغیر کسی کاغز کی جانچ پڑتا کے۔ اور آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ کم از کم سیاحت کے لیے آنے والوں کوتو ایک نظر سے دیکھو۔ اور اس کو نا چاہتے ہوئے بھی انسان صرف نسلی تعصب کہہ سکتا ہے۔
Yasir Imran said,
October 31, 2009 at 10:29 am
راشد صاحب
درست فرما رہے ہیں، یہ رحجان دیگر ممالک میں دبئی سے بھی کچھ زیادہ ہی ہے۔
دبئی تو پھر بھی دیگر عرب ممالک سے کچھ آزاد خیال ہے لیکن اندر سے تو وہی عرب ہیں نا۔ یہ عرب لوگ شدید خوف میں مبتلا ہیں کہ دیگر ممالک کے افراد کو اگر آزادی سے نقل وحمل یا کاروبار کی اجازت دی گئی تو یہ ان کے اثاثہ جات اور تیل کے مالک بن بیٹھیں گے۔ جب کہ ان کے تیل کا سارا نظام، قیمتیں اور نکالی جانے والی مقدار کا تعین مغرب اور امریکہ کے ہاتھوں میں ہے۔