دہشت گردی، طالبان، القاعدہ سازشیں اور پاکستان، حقیقت کیا؟


طالبان کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص مکتبہ فکر کےمدارس سے تعلق رکھتے ہیں جوکہ افغانستان اور روس کی جنگ کے سلسہ میں افغانستان گئے۔ وہاں ان لوگوں‌نے کتنا جہاد کیا اور کتنا فساد کیا یہ میرا موضوع نہیں۔وہاں کے مقامی لوگ جو کہ طالبان کے ساتھ ملے وہ افغانی طالبان اور پاکستان سے گئے ہوئے لوگ پاکستانی طالبان کہلانے لگے۔افغان جنگ کے بعد آپس کے لڑائیوں کے بعدطالبان نے افغانستان پر اقتدار سنبھالا، اور وہاں‌پر اپنے من پسن اسلامی قوانین کے نفاذ کااعلان کر دیا۔ جس سے ساری دنیا میں یہ لوگ اسلامی لہذا شدت پسند ” اسلام پر سختی سے عمل کرنے والے ” کہلانے لگے۔
غیر مسلم چونکہ ہمیشہ سے اسلام دشمن رہے ان کو اسلامی پاکستان اور وہ بھی ایک ایٹمی مسلم ملک کسی طرح پسند نہیں۔ یہاں میں آپ کو ایک بات بتانا چاہوں گا کہ یہودی اور عیسائی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بہت لمبی، صدیوں لمبی گیمز کھیلتے ہیں۔یہی معاملہ یہاں‌ بھی ہو رہا ہے، 9/11 کے واقعہ کو کروانےکا مقصد بھی انہی مقاصد میں شامل ہے، القائدہ، اسامہ بن لادن وغیرہم بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں اگر آپ میں سے کسی نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہو تو یہ ” صلیبی” لوگ القائدہ جیسی تنظیمیں بنانا توکیا، اپنی بیٹیوں تک کی عزتوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ کئ صورتوں‌میں اب بھی جاری ہے۔
پاکستان کو تباہ کرنے کے دو حل غیر مسلموں‌کے پاس تھے ایک تو یہ کہ پاکستان پر کسی بہانے براہ راست حملہ کیا جائے یا پھر دوسرا حل یہ کہ پاکستان میں کسی طرح اندرونی تباہی برپا کی جائے ، المختصر 9/11 کراونے اور القائدہ سے بیانات دلوانے کے بعد افغانستان پر چڑھائی کا ارادہ کیا گیا پاکستان سے اس سلسلے میں امداد طلب کی گئی بصورت دیگر پاکستان کو سخت نتائج کے سامنے کی دھمکیاں دی گئیں، اس صورت حال کے پیش نظر ملکی مفاد کے پیش نظرحکومت پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کو اپنے تعاون کا یقین دلایا، اس طرح پہلا حل تو نہیں ہوا مگر دوسرے تباہی کے حل کی راہ ہموار ہوگئی، بہر حال اس میں بذات خود خاص طور پر امریکہ کو کافی نقصان اٹھانا پڑا اپنی ساری اور عربوں‌ کی لی ہوئی دولت بھی جنگ و جدل میں لٹا دی حتی کہ عالمی معیشت تک کو شدید دھچکہ لگا، افغانستان میں بہت زیادہ نقصان کی اصل وجہ کافی ساری ہیں جو کہ یہاں‌ بتانا ممکن نہیں۔
المختصر طالبان نے پاکستان کا رخ کرنا شروع کر دیا، اب اگلی گیم سٹارٹ ہو گئی،
طالبان پاکستان آنا شروع ہوگئے ان کے ساتھ غیر ممالک کی ایجنسیز کے لوگ بھی پاکستان آنا شروع ہو گئے ان لوگوں نے پاکستان میں آتے ہی اپنی گیم پلان سٹارٹ کردی۔اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے۔۔
1۔ بلوچستان میں کچھ خاص لوگوں کو بلوچستان کی محرومیوں کا احساس دلا کر پاکستان کے خلاف ابھارنا شروع کر دیا۔ان لوگوں نے بلوچستان کے لیے شور مچانا شروع کر دیا،حالانکہ جب یہ لوگ پاکستان کے MNAاور MPA اور وزیر اعلی رہے تو اس وقت ان کو بلوچستان کی ترقی کا خیال بلکل نہ آیا، ” میرا یہاں مقصد بلوچستان کی ترقی کے خلاف بولنا نہیں صرف ان غیر ممالک کی کاروائیوں اور ان کے زیر اثر لوگوں کا پاکستان کے خلاف شازشوں کا تذکرہ کرنا ہے”، ان لوگوں کو پاکستان اور آرمی کے خلاف اکسایا گیا یہاں تک کہ ان لوگوں کو اسلحہ اور ڈالرز بھی فراہم کئے جانے لگے، پھر جگہ جگہ تباہکاریوں کا سلسلہ شروع کروایا گیا، گوکہ یہ کام امریکہ کے افغانستان میں آنے سے پہلے ‌بھی کچھ نہ کچھ جاری تھا مگر امریکہ کے افعانستان میں آنے کے بعد اس کو مزید فروغ ملا۔
2۔ افغانستان سے آئے ہوئے طالبان کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا، بیرونی ایجنٹوں نے اپنے آپ کو مسلمان اور اسلام کا ہمدرد ظاہر کر کے طالبان کو استعمال کرنے کا پروگرام بنایا۔ایک تو طالبان کو یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں ان کی حکومت کو ختم کروایا۔ دوسرا چونکہ طالبان اپنے من پسند اسلامی قوانین میں شدت پسند تھے لہذا ان کی اس ہی کمزوری کو استعمال کیا گیا،ان کی نظر میں پاکستان کو غیر اسلامی مملکت کے طور پر ابھارنے کی کوشش کی گئی، اور یہ ذہن دیا گیا کہ غیر مسلم سے مقابلے کے لیے اپنی اسلامی مملکت کا ہونا ضروری ہے جس میں اپنی مرضی سے کام کیا جا سکے، اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی غیر اسلامی مملکت کو اپنی من پسنداسلامی مملکت بنایا جائے، اور اس کے اٹیمی اسلحہ کو حاصل کیا جائے تا کہ کافروں کا مقابلہ کیا جاسکے،اس کے لیے فی الوقت اگر کسی دوسرے ملک کی امداد بھی حاصل کی جائے تو بھی غلط نہ ہوگا،کیونکہ ہمارا اولین مقصد اپنی مملکت بنانا ہے،اس کے لیے اولین کام پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے جو کہ ہمارے اسلامی قوانین کے مطابق ہو،جو کہ ممکن نہیں لہذا پھر پاکستان کی حکومت اور فوج کے خلاف کاروائیاں کی جائیں تا کہ ہم مملکت کے حصول کی طرف آگے بڑھ سکیں، کیونکہ پاکستانی فوج حکومت کے انڈر ہے لہذا یہ مسلمانوں کی اسلامی فوج نہیں ان پر حملے کرنا جائز ہے۔
میں یہاں یہ بتا دوں کے طالبان کو ان تمام باتوں پر اکسانے کا مقصد نفاذ شریعت نہیں بلکہ ان کو پاکستان میں تباہی کے لیے استعمال کرنا تھا۔شروع میں تو اس میں ایک دو ممالک تھے مگر بعد میں مزید ممالک جن میں‌کچھ آستین کے سانپ بھی شامل ہوگئے،
شروع میں تو بلوچستان میں تخریبی کاروائیاں کی گئیں جو کہ پاکستان کے لیے خطرہ کا باعث تھیں حکومت پاکستان نے خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے بلوچستان میں ایف سی کی خدمات حاصل کیں اور اس مقصد کے تحت فوجی چھاؤنی بنانے کا پروگرام بنایا،مگر ملک دشمن سرداروں نے جو کہ غیر ملکی ہاتھوں کھیل رہے تھے اس کی مخالفت کی،
یوں آہستہ آہستہ بلوچستان کے حالات مزید خراب ہونا شروع ہوگئے، طالبان نے “جو کہ غیر ملکی ہاتھوں کھیل رہے ہیں جس کا شاید ان کو احساس ضرور ہوگا،اور غیر ملکی ایجنسیز نے” بلوچستان میں مزید کاروائیاں شروع کیں، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امریکہ نے پاکستان سے طالبان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تا کہ طالبان کو پاکستانی حکومت کے مزیدخلاف کیا جا سکے اور طالبان کو فوج کے خلاف امداد دے کر لڑایا جائے اس طرح دونوں‌کو کمزور کیا جائےتا کہ وقت مناسب پر ان میں سے کوئی بھی ہمارے خلاف مزاحمت کی سکت نہ رکھے،گو کہ کافی طالبان ایسے بھی تھے جو کہ امریکہ کے خلاف برسر پیرکار تھے، مگر پاکستان کوامریکہ سے قطع نظر اپنی سلامتی کے پیش نظر بھی طالبان کی پاکستان مخالف کاروائیوں کی وجہ سے طالبان کے خلاف کاروائیاں کرنی پڑی،
صلیبیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے طالبان کو بہت ہی عمدہ انداز سے استعمال کیا ہے۔
طالبان جن کوغیر ممالک کی امداد حاصل ہے نے سرحد میں بھی پنجے گاڑے ، سوات میں تباہی پھلائی گئی اس تباہی کو امن معاہدے کے لیے استعمال کیا گیا ” اس امن معاہدے کے پیچھے دشمن کے بہت ہی خطرناک اور پاکستان کو تباہ کرنے کے منصوبے تھے، جن کو اللہ تعالی نے ناکام بنایا، اگر سوات آپریشن نہ کیا جاتا تو شاید کچھ عرصہ بعد یا اب ہی پاکستان کی حالت یہ ہوتی جیسے شب برات،
کئی بار حکومت اور طالبان کے معاہدے ہوئے مگر سب فیل ہوئے کیونکہ طالبان کے پیچھے غیرملکی ہاتھ موجود ہیں، جن کے مطابق یا تو معاہدے ان کے مفاد کے ہوں ورنہ ہوں تو ٹوٹ جائیں، بلوچستان اور سوات میں امن معاہدے سے پہلے یا بعدکاروائیوں میں جو دہشت گرد ہلاک ہوئے ان میں‌ سے ایسے طالبان بھی تھے جو کہ اہم شماروں میں تھے جب ان کی مکمل چیکنگ کے لیے ان کے لباس اتارے گئے تو وہ غیر مسلم تھے، اس طرح کی خبریں تو اخباروں میں بھی چھپتی رہی ہیں،دوسری جانب طالبان کو ایک اور ذریعے سے بھی تباہی کے لیے استعمال کیا گیا اور وہ ہے اپنے مخالف عقائد کے لوگوں کے علماء ، مزارات، مساجد ، امام بارگاہوں کو نشانہ بنانا جو کہ اب طالبان اور ایجنسیز ملکر کر رہے ہیں، اور یہی شریعت طالبانی ہے، جس کا اسلام سے تعلق واسطہ نہیں، طالبان کے اسی فرقہ وارانہ ذہن کو ایران کے خلاف بھی استعمال کیا جائے گا ٬ پاکستان سے طالبان کے ذریعے “ان کوشیعہ مسلک کے خلاف بھڑکا کر” ایران کے اندرتباہی کا انتظام کیاجا سکتا ہے جس سے پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب ہو نگے دشمن ایجنسیز کا مقصدتباہی پھیلانا ہے اس لیے طالبان کا اسلامی لہذا سے شدت پسند ہونا ان کے لیے بہت فائدہ ماند ثابت ہو رہا ہے، جس سے دوسرے مخالف فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنانا خاص طور پرکسی ملک میں فسادات کا کام کرتا ہے ، اب ان طالبان اور ایجنسیز کے ساتھ پاکستان میں موجود ان کی ہم مسلک کالعدم تنظیمیں بھی شامل ہو گئی ہیں، ان سب+ طالبان کو جدید تربیت اور جدیداسلحہ پاکستان دشمن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فراہم کر رہے ہیں طالبان کو جھوٹے سپنے دکھا کر۔
ایک طرف تو امریکہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ پاکستان سے طالبان ختم ہوں کیونکہ اس طرح اس کا پاکستان میں کاروائی کا کوئی جواز نہیں رہےگا اس لیے وہ اسرائیل بھارت و کو ان کی امداد سے نہیں روکتا،مگر دوسری جانب وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار طالبان یا طالبان کو چلانے والوں کے ہاتھ لگ جائیں کیونکہ طالبان کو چلانے والوں میں اب وہ ممالک بھی شامل ہو گئے ہیں جن کی امریکہ سے سرد جنگ ہے، جبکہ دیگر ممالک خاص طور پر انڈیا کے منہ میں پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے پانی آ رہا ہے، غیر مسلم اس وقت طالبان کے ساتھ وہی کچھ کرنے جا رہے ہیں جو کہ امریکہ پہلے ان کے ساتھ جنگ افغانستان سے لے کرآج تک کر رہا ہے، طالبان کو چلانے والے غیر مسلم غیر ملکی ایجنٹس اپنے آپ کو بہت پکے سچے مسلمان کے طور پر طالبان کے سامنے پیش کر کے اور ان کوبہت ہی خوبصورت انداز میں پاکستان کو اپنی ” طالبان کی” نام نہاد اسلامی مملکت اور پھر یہاں سے دنیا بھر میں جہاد کا جھانسا دے کر امداد ، اسلحہ اور بہت کچھ دے کر اپنے چنگل میں لے آئے ہیں، جہاں سے اب خود طالبان کا نکلنابھی مشکل ہے۔
میرا خیال ہے کہ میری اس مختصر گفتگو سے آپ اصل حقیقت کو سمجھ گئے ہونگے مگر یہ بات پکی ہے کہ خدانخواسطہ اگر پاکستان کو کچھ ہوا تو ملنا طالبان کو کچھ بھی نہیں سب ان لوگوں کے ہاتھ ہوگا جو آج ان کو چلا رہے ہیں،، مگر ان شآ اللہ پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔ پاکستان کی ایجنسیزاس وقت بہت کام کر رہی ہیں مگر وہ بیچاری کریں تو کیا کریں خود ایجنسیز میں دشمن کے لوگ، طالبان الگ فتنہ، غیر ممالک کی ایجنسیز الگ مسلہ، دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والے مدارس الگ پریشانی، ہر طرف سے اس وقت پاکستان آرمی اور ایجنسیز سخت مشکالات کا شکار ہیں،اگر صرف طالبان کی بات ہوتی تو پاکستان آرمی ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ان کا قیمہ بنا کر رکھ دیتی، مگر طالبان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے والے ان کو سپورٹ،امداد، جدیداسلحہ، جدیدکمیونیکشن نظام،تربیت وغیرہم فراہم کرنے والے اصل پرابلم ہیں مگر ان شآ اللہ عزوجل ایک دن پاکستان کے دشمن منہ کی کھائیں گے۔
جب اپنے ہی جسم کا کوئی حصہ اتنا خراب ہو جائے کہ اس سے دوسرا حصہ بھی متاثر ہونا شروع ہو جائے تو پھر اس اپنے ہی حصے کو کاٹنا پڑتا ہے اسی طرح طالبان کو آپریشن کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایس ایس جی کمانڈو

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared, Urdu and tagged , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

7 Responses to دہشت گردی، طالبان، القاعدہ سازشیں اور پاکستان، حقیقت کیا؟

  1. arifkarim says:

    ہر طرف سازشوں کے جال ہے۔ جسنے بچنا ہے بچ لے۔

  2. قوموں کے ساتھ اسطرح کے مسائل ہوتے رہتے ہیں۔ جو قومیں ثابت قدم رہتی ہیں وہ اپنے مسائل پہ کشش سے قابو پالیتی ہیں اور ہر قسم کے بحران سے زندہ بڑامد ہوتی ہیں۔ جو نہیں ہوتیں وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    ضورت اس امر کی ہے کہ کسی طریقے سے اچھی قیادت سامنے آئے۔اچھی اور دیانتدار قیادت کی کمی ایک ایسا” جُز” ہے جو پاکستان کے “کُل” کا فیصلہ کرے گا۔

  3. Yasir Imran says:

    عارف صاحب اور جاوید صاحب
    بہت شکریہ رائے دینے کا

  4. حسن ہاشمی says:

    السلام علیکم ورحتمہ اللہ
    معلوم نہیں کس نا سمجھ انسان نے یہ تجزیہ کیا ہے؟

    انتہائی سطحی اور یک رخا۔

  5. Shuja says:

    ye tajziya jiss nay bhi kya hay wo iss baat ka haq-dar hai k uss ki bay-waqoofi per dil khol ker dad di jaey

    jhoot ko jitna bhi saja sanwaar ker pesh karo uss ki haqeeqat nahi badal sakti.
    pakistani awam yaad rakhein k agar taliban bhi taghooti ,shetani aur kafir mumalik k hathoon mein khail rehey hein(jaisa k inn tajziya nigar jaisay danish-waroon ka khiyal hai ) to phir qiyamat tak ummat ki janib say saleebioon k muqalay leay apna sab kuch nichawar karnay wala koi garooh nahi aaey ga.

  6. Iqbal Jehangir says:

    یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ ہمارے پیارا پاکستان ابھی تک دہشت گردوں سے پاک نہیں ہو پا رہا۔ بنوں میں طالبان کی حالیہ دہشت گردی کی وجہ سے ۲۰ افراد جان سے ہاتھ دہو بیٹھے۔ اسلام امن کا دین ہے اور سلامتی کا درس دیتا ہے اور دہشت گردی سے اس کا دور کا واسطہ نہ ہے۔
    چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔ الللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ تعالہ فرماتے ہین:
    ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(
    کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
    وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
    تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
    ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”
    مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
    ” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”
    مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
    جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)
    تمام اہل دانش اور علمائے کرام کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں طالبان اور القائدہ کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔
    ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے اپنے ملک کو جلتا اور تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آ گے بڑہ کر مردانہ وار اسلام اور ملک کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

  7. Iqbal Jehangir says:

    پاکستان اس وقت بدامنی اور دہشت گردی کی ایک لہر کی لپیٹ میں ہے جس پر پاکستان سے محبت رکھنے والا ہر دل پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے اب خود پاکستان بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ناسور پنپ رہا ہے اور اب وہ اسے سمجھنے بھی لگا ہے اور اس کا علاج بھی تلاش کر رہا ہے۔ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملوں نے ایک مرتبہ پھر ملک کی سلامتی اور بقاءکو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ شاید حالات کی سنگینی کا احساس ارباب اقتدارکو بھی ہوا ہو۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے صف اول کا کردار ادا کرکے اپنی فوج اور عوام کے خون کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان سیاسی, معاشرتی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا ہے اور اس جنگ میں پاکستان نے اکتیس ہزار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندے ہیں ‘ ان کا نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ ایسے درندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت ۱۵۱)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔
    قرآن کریم میں مفسد فی الارض اور محارب جو کہ دوسروں کی جان اور مال کو خطرہ میں ڈالتے ہیں ،کے لئے بہت سخت احکام بیان ہوئے ہیں ، اسی بات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام ہمیشہ دہشت گردی سے پرہیز کرتا ہے اور اسلام کے عظیم قوانین پر عمل کرنے سے معاشرہ کو دہشت گردی سے چھٹکارا ملتا ہے۔مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ اٴَوْفَسادٍفِی الْاٴَرْضِفَکَاٴَنَّماقَتَلَالنَّاسَجَمیعاًوَمَنْاٴَحْیاہافَکَاٴَنَّمااٴَحْیَاالنَّاسَجَمیعا(سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) ۔ جو شخص کسی نفس کو …. کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ جواسلام اور قرآن کے نام پر دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں وہ جائز نہیں ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s